وہ ایک مشتِ خاک کہ صحراکہیں جسے

جاویداختربھٹی
javed-bhatti1

۔۔۔مجاہدین اور طالبان کے آخری فکری سرپرست،باقیاتِ ضیاء الحق حمیدگل بھی اپنا مشن نامکمل چھوڑکر جہانِ فانی سے چلے گئے۔
۔۔۔شجاع خانزادہ وزیرداخلہ پنجاب دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہوگئے۔
۔۔۔عابدشیرعلی کے والد شیرعلی نے رانا ثناء اﷲکو 22 نوجوانوں کا قاتل قراردیاہے۔
۔۔۔ایم کیوایم کے رشیدگوڈیل پر قاتلانہ حملہ ہوا،ابھی ان کی زندگی خطرے میں ہے۔
۔۔۔سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کا انتخاب (حلقہ این اے 122 )کالعدم اور ری پولنگ کا حکم۔
۔۔۔پاک بھارت مذاکرات کے امکانات ختم،سرتاج عزیزکا دورہ منسوخ ہوگیا ہے۔

بہ ظاہر اِن ایشوزکا آپس میں کوئی تعلق نظرنہیں آتا۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔حمیدگل کی وفات کے بعد پاکستان میں طالبان کی آواز کمزور پڑگئی۔حمیدگل واحدشخصیت تھے کہ کوئی انہیں بولنے سے منع نہیں کرسکتا تھا۔وہ آخری وقت تک بنیاد پرستی کے موقف پر قائم رہے۔اور انہیں لڑنے کا حوصلہ دیتے رہے۔یادرہے کہ یہ حوصلہ افزائی پاکستان کے خلاف تھی۔لیکن کہا کرتے تھے کہ میں جب تک زندہ ہوں پاکستان کا دفاع کرتا رہوں گا۔

گزشتہ دنوں ایک پولیس مقابلہ ہوا۔اس میں لشکرجھنگوی کے 16 مجاہد کام آئے۔ان میں ملک اسحق اور غلام رسول شاہ بین الاقوامی شہرت رکھتے تھے۔اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ وزیرداخلہ شجاع خانزادہ کو ایک خودکش حملے میں شہیدکردیاگیا۔کہا جاتا ہے کہ لشکرجھنگوی نے اپنے شہیدوں کا بدلہ لیا ہے۔

حمیدگل نے غالباًایک لمحے کے لئے یہ سوچنے کی زحمت گوارانہیں کی کہ جن لوگوں کی وہ حمایت کررہے ہیں۔انہوں نے پاک فوج کے کتنے جوان شہید کئے ہیں۔یہ وہی فوج ہے جس میں انہوں نے برسوں خدمات سرانجام دیں۔

رانا ثناء اﷲ پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ پنجابی طالبان اور لشکرجھنگوی کے ساتھ ان کے گہرے مراسم ہیں۔ملک اسحق کی موت نے جہاں لشکرجھنگوی کی کمرتوڑی ہے وہاں رانا ثناء اﷲکو بھی کمزورکیا ہے۔ایسے وقت میں فیصل آباد میں شیرعلی کا منظرعام پر آنااور رانا ثناء اﷲکو22 نوجوانوں کا قاتل قراردینا،معمولی واقعہ نہیں ہے ۔میرا خیال ہے کہ اب مسلم لیگ کو رانا ثناء اﷲکی ضرورت نہیں رہی انہیں فارغ کردیاجائے گا۔

اُدھرمولوی فضل الرحمن کو ایم کیو ایم کے دفتر کی طرف روانہ کیاگیا۔اِدھر ایم کیو ایم کے رہنما کے جسم میں چھ گولیاں اتاردی گئیں۔اب ایم کیو ایم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے استعفیٰ پر بضدرہے اور اسمبلی سے نکل جائے لیکن الطاف حسین کو عقل نہیں آئی وہ اپنی پرانی روش پر قائم ہیں۔حالات تبدیل ہوگئے ہیں کراچی سے جرائم پیشہ افراد کا انخلا یا خاتمہ ضروری ہے۔اس بات کو ایم کیو ایم کی مقامی قیادت تو سمجھ رہی ہے لیکن ان کے دادابھائی نہیں سمجھ رہے۔وہ آج بھی سوچ رہے ہیں کہ ان کے ایک حکم پر کراچی کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔بچارے رشیدگوڈیل کہ جن کی موت پر طوفا ن کھڑاہونا تھاان کے زندہ رہنے پر طوفان بھی پریشان ہوگیا ۔ایم کیو ایم نے دہشت گردی کی بنیادپر کراچی میں حکمرانی کی ہے۔ لیکن اب اس کی گنجائش نہیں رہی۔

ایازصادق کے انتخاب کے کالعدم ہونے سے عمران خان ایک بار پھرطاقتور ہوگئے ہیں۔اور ان کی جو ساکھ خراب ہوئی تھی وہ کسی حدتک بحال ہوگئی ہے۔اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں عمران خان کی ضرورت محسوس کی جائے گی۔کیوں؟اور کون؟پر ابھی بحث نہیں ہو سکتی۔دوسرا ایازصادق مسلم لیگ کے لئے زیادہ ضروری نہیں ہے کوئی اور سپیکر آجائے گا۔میاں صاحب جب بھی اقتدارمیں آتے ہیں اس خوش فہمی کا شکارہوجاتے ہیں کہ وہ بہت طاقتور ہیں۔یہی بات ان کے زوال کا باعث بنتی ہے۔اس وقت بھی طاقتور نوازشریف اپنے روایتی زوال کی طرف جارہے ہیں۔عام آدمی کی چالاکی توجہ حاصل نہیں کرتی جب کہ وزیراعظم کی چالاکی چھپ نہیں سکتی۔نوازشریف کا خیال ہے کہ ان کی چالاکی ان کی مسکراہٹ میں چھپ جاتی ہے۔

پاک بھارت تعلقات میں خرابی کا ذمے دار ہندوستا ن کا بنیادپرست وزیراعظم مودی ہے۔یہ مذاکرات اس وقت بھی ناکام ہوئے ۔پہلے کامیاب نہیں ہوا کرتے تھے۔اب ہوئے ہی نہیں تو کامیاب کیا ہوں گے؟ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ جب تک مودی بھارت کا وزیراعظم ہے یہ مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔مودی کی بھارت وہی طاقت ہے جو کسی زمانے میں پاکستان میں ضیاء الحق کی تھی۔ضیاء الحق مسلم مذہبی طاقت کا نمائندہ تھااور مودی ہندو مذہبی طاقت کا نمائندہ ہے۔گجرات میں مودی نے جو کچھ کیا ہے اسے آج تک فراموش نہیں کیاگیا۔ہمارا خیال تھا کہ وزیراعظم بننے کے بعد اس شخص میں کوئی تبدیلی آئے گی لیکن نہیں آئی۔سرحدوں پر تصادم کی فضا موجود ہے۔روزانہ کی گولہ باری اور فائرنگ ہمیں جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔خدا نہ کرے کہ یہ جنگ ہو،اگر ہوئی تو اس کے نتائج بہت خوفناک ہوں گے۔

اب یہ بحث بھی فضول ہے ،یہ جو کچھ ہورہا ہے اس کے پیچھے کون ہے۔؟ آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں۔کہ یہ سب ہمارے لوگوں کے ہاتھوں سے ہو رہا ہے ۔ملک کا عدم استحکام ہی انارکی کو جنم دیتا ہے۔ہمارا ملک بھی اس طرف جارہا ہے اور بہت تیزی سے جارہا ہے۔اب جو خطرناک دہشت گردپکڑے جا رہے ہیں وہ یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے ہیں وہ عام جہادی مولوی نہیں ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جو پاکستان کو ترقی دے سکتے ہیں لیکن جب پڑھے لکھے لوگوں کو رشوت کے بغیر نوکری نہیں ملے گی اور بے روزگاری کا شکار ہوں گے تو پھر وہ کسی کے لئے بھی کا م کر سکتے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ نوجوان نسل پر رحم کریں ان سے کام لیں ان کے لئے روزگار کا انتظام کریں ورنہ یہ تخریب کاری اور دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوگی ورنہ یہ شہید،یہ جاں بحق اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ اپنے خون سے ایک بڑا سوالیہ نشان بنا دیں گے۔

معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ، تیغِ ستم، آئینۂ تصویر نما ہے

Comments are closed.