جہادی جذبہ ہماری رگوں میں رچابساہے

لیا قت علی ایڈوکیٹ
liaq

پاکستان میں یہ فیشن بن چکا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کو ہر خرابی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ۔ تاریخی طور پر یہ درست نہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں پاکستان کی نئی حکومت نے محمد علی جناح کی قیادت میں جہاد کا آغاز کر دیا تھا اور کشمیر کو بزور شمشیر حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ یاد رہے کہ کشمیر اس وقت تک بھارت کا حصہ نہیں تھا۔ کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جہا د خان عبدالقیوم خان نے شروع کیا تھا ۔ خان عبدالقیوم خان کو صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ) کا نیا وزیرا علیٰ اس وقت مقرر کیا گیا جب گورنرجنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے اس صوبے میں ڈاکٹر خان صاحب کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا تھا۔

بہرحال ہم پہلے جہاد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس جہاد نے کشمیری خواتین اور بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اس کا ذکر کتابوں میں موجود ہے۔ اس جہاد کی ناکامی کے بعد کچھ جرنیلوں اور فوج کے نچلے درجے کے افسروں اور کچھ دانشوروں نے مل کر وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ ا س گروپ میں فوجی حضرات جہاد کو جاری رکھنا چاہتے تھے جو ناکام ہو چکا تھا جبکہ ہمارے دانشور اور ان کے ساتھی سماجی انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔

سنہ 1965 میں سیکرٹری خارجہ عزیز احمد ، وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور مری کے جی او سی میجر جنرل اختر ملک نے ایک بار پھر جہاد کا منصوبہ بنایا تاکہ کشمیر کو ہتھیایا جا سکے۔ اس جہادی منصوبے کا نام آپریشن جبرالٹر رکھا گیا ۔ یہ جہاد بھی بری طرح ناکام ہو ا۔ بھارتی کشمیر کے لوگوں نے جہادیوں کے ساتھ کرنے کی بجائے ان کی سرگرمیوں کی اطلاع بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں کو دے دی ۔ اس جہاد کی ناکامی کا خمیازہ ستمبر میں پاک بھار ت جنگ کی صورت میں نکلا۔جس میں پاکستان کو ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بھٹو نے بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔ اپنی پوری انتخابی مہم میں اس نے بھارت کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کیے۔ پنجاب میں 1947 میں ہونے والے فسادات اور 65کی جنگ کی تلخ یادیں تازہ تھیں۔ بھٹو نے ان کے جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پنجاب سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔

ہمارے جرنیلوں نے بھٹو کے ساتھ مل کر طے کیا کہ عوامی لیگ کو اقتدار نہ سونپا جائے جس نے 1970 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان( بنگلہ دیش) بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ مغربی پاکستان کی تمام سول سوسائٹی ( سوائے چند مستثنیات کے) اور میڈیا بنگالی عوام کے خلاف جہاد کی حمایت کر رہا تھا۔حتیٰ کہ ہمارے عظیم شاعر فیض احمد فیض نے بھی مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے حق میں پریس کانفرنس کی تھی جس کی تفصیلات اس وقت کے اخبارات میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ جہاد پاک بھارت جنگ میں تبدیل ہوگئی جس میں ہماری پاک فوج کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بھٹو نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے اپنا جہادی جذبہ جاری رکھا اور گل بدین حکمت یار اور اس کے ساتھیوں کو پاکستان بلایا ، انہیں جہاد کے لیے تیارکیا، فنڈز مہیا کیے اور افغانستان میں سردار داؤد کے خلاف خفیہ جہاد شروع کر دیا۔

تحریک پاکستان کی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے جہادی جذبہ پاکستان کی رگوں میں رچا بسا ہے ۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *