کیا میں عربی ہوں

ندیم ایف پراچہ

nadeem

سنہ 1973 میں، میرے دادا اور دادی اپنا پہلا حج کرنے مکّہ گئے ان کے ساتھ میری دادی کی دو بہنیں اور ان کے خاوند بھی تھے۔جدّہ پہنچنے پر انہوں نے ایک ٹیکسی لی اور اپنے ہوٹل کے لئے روانہ ہو گئی۔ ٹیکسی کا ڈرائیور ایک سوڈانی تھا۔ جب میرے دادا دادی اور دادی کی بہنیں ٹیکسی میں بیٹھ گئی تو ٹیکسی ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئی، اسی دوران ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی ٹیکسی کے جاپانی کیسٹ پلیئر میں عربی گانوں کی کیسٹ لگائی۔

میرے دادا نے جو آگے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے تھے، یہ نوٹس کیا کہ ڈرائیور بار بار عقبی شیشے میں دیکھتا ہے اور جب بھی وہ ایسا کرتا ہے اس کی ایک ابرو اوپر اٹھ جاتی ہے۔میرے دادا کو تجسس ہوا اور انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ آخر پیچھے بیٹھی خواتین میں ایسی کیا بات ہے جو ٹیکسی ڈرائیور کو محظوظ کر رہی ہے۔انہوں نے دیکھا کہ میری دادی کی ذرا آنکھ لگ گئی تھی، ان کی بہن بھی آنکھیں بند کیے آرام کر رہی تھیں، لیکن ان کا سر عربی موسیقی کی لے پر ہلکے ہلکے دائیں سے بائیں ہل رہا تھا، اور وہ روحانی وجد میں سبحان اللہ، سبحان اللہ کہے جا رہی تھیں۔

دادا جان کو اتنی عربی آتی تھی کہ وہ یہ جان سکیں کہ جس گیت پر دادی کی بہن جھوم رہی تھیں اور اللہ کی حمد و ثنا کر رہی تھیں وہ در اصل ایک مصری عاشق کی فریاد تھی جو وہ اپنی ماضی کی جھوٹی محبتوں کے لئے کر رہا تھا۔ڈرائیور کا چور نظروں سے جائزہ لیتے ہوئے آیا کہ وہ پنجابی جانتا ہے یا نہیں، میرے دادا نے دادی کی بہن سے پوچھا ’’مجھے اندازہ نہیں تھا آپ کو موسیقی سے اتنا لگاؤ ہے‘‘۔

اللہ کی تعریف کی جارہی ہے، کیا یہ قابل تعریف نہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔

باتوں سے میری دادی بھی جاگ گئیں اور انہوں نے پوچھا کیا حیرت انگیز ہے؟ ان کی ہمشیرہ نے پیچھے سٹیریو سپیکر کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا :یہ کتنا روحانی اور پر سکون ہے‘‘۔

میرے دادا کے منہ سے اچانک، لیکن جھینپی ہوئی دبی دبی ہنسی نکل گئی۔ ‘بہن’ دادا نے کہا، یہ گلوکار کوئی مقدس آیت نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنے رومانوی ماضی کے بارے میں گیت گا رہا ہے۔میری دادی بھی ساتھ میں ہنسنے لگیں، ان کی بہن کی روحانی مسکراہٹ فور اً الجھی ہوئی ہکا بکا شکل میں بدل گئی: ’’کیا؟‘‘

میرے دادا نے سمجھایا، ‘‘بہن، عرب ہر جگہ مقدس آیتیں نہیں پڑھتے پھرتے، آپ کو کیا لگتا ہے وہ جب پھل خریدنے بازار جاتے ہوں گے یا ٹوتھ پیسٹ خریدنا چاہتے ہوں گے تو قرآنی آیات پڑھتے ہونگے؟مجھے یقین ہے کہ دادی کی بہن یہ نقطہ سمجھ گئی ہوں گی، عرب میں تمام چیزیں مقدس نہیں ہوتیں۔حالاں کہ میں اس وقت کافی چھوٹا تھا لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے، دادا یہ واقعہ مزے لے لے کر سناتے تھے۔ حالانکہ میرے دادا کافی قدامت پسند اور مذہبی انسان تھے، انہوں نے دو حج بھی ادا کیے، لیکن کبھی داڑھی نہیں رکھی، اور نہ ہی وہ عربوں کے زیادہ مداح تھے ( خصوصاً شاہی قسم کے )۔ انہیں اس بات پر فخر تھا کہ وہ شمالی پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے، جو 1947 سے پہلے انڈیا کا حصّہ تھا۔

انیس سو اسی کے اوائل میں جب سعودی پیسے اور اثر و رسوخ نے پاکستانی ثقافت اور سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنی شروع کی تو بہت سے ایسے خاندان (خصوصاً پنجابی) تھے جنہوں نے اپنی تاریخ دوبارہ لکھنی شروع کر دی۔مثلاً وہ خاندان یا برادریاں جوجنوب ایشیائی علاقوں میں وجود میں آئی تھیں، یہ دعویٰ کرنے لگے کہ ان کے آباؤ اجداد درحقیقت عرب سے آئے تھے۔کچھ ایسا ہی واقعہ پراچہ برادری میں بھی ہوا۔ 1982 میں میرے دادا کے بہت سے کزنز میں سے کسی ایک نے، ایک کتاب تصنیف کی۔ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پراچہ برادری کا تعلق یمن سے تھا اور رسول اللہ کے زمانے میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

تاہم حقیقت یہ تھی کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح پراچہ بھی یا تو ہندو تھے یا پھر بدھ مت کے ماننے والے جنہوں نے گیارہویں اور پندھرویں صدی کے بیچ صوفی درویشوں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔جب کزن نے میرے دادا کو وہ کتاب تحفتاً پیش کی تو دادا نے یہ دعویٰ لغو قرار دیا اور انہیں بتایا کہ اس کتاب سے سعودی ریال تو حاصل کے جا سکتے ہیں لیکن اسکی کوئی تاریخی حیثیت نہیں۔لیکن تاریخی درستگی اور ساکھ، پاکستان جیسے غیر محفوظ ملک کے ساتھ نہیں چل سکتی، جہاں کی ریاست اور لوگوں کو، ساٹھ سال گزر جانے کے باوجود، ابھی بھی یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ ان کی قومی اور ثقافتی شناخت ہے کیا۔

انیسویں صدی میں مغل سلطنت کے مکمل زوال سے لے کر 1960 کی دہائی کے آخر تک پاکستانی (1947کے بعد) اپنے آپ کو علاقے کی دیگر مذہبی کمیونٹیز سے الگ کرنے کی کوشش کرتے رہے، اس کے لئے انہوں نے فارسی ثقافتی پہلوؤں کا سہارا لیا، خصوصاً مغل دور حکومت میں، انڈیا کے مسلمان دربار شاہی میں رائج رہے۔تاہم، سنہ 1971 کے مشرقی پاکستان سانحہ کے بعد، ریاست نے قدامت پسند مورخوں اور علماء کی مدد سے پاکستانی تاریخ کو اس کے ہندو اور فارسی ماضی سے الگ کرنے کی ایک شعوری کوشش کی، اور اس تاریخ کا عرب کے ساتھ ایک فرضی اور سطحی رشتہ جوڑنے کے لئے ایک پروجیکٹ کا آغاز کیا۔

اس منصوبے میں 1980 کے بعد بہت زیادہ تیزی آگئی۔ تیل کی دولت سے مالامال بادشاہت سے ملنے والے پیٹرو ڈالر اور اپنے عرب آقاؤں سے ان ممالک میں پاکستانیوں کے بڑھتے ہوے مراسم نے پاکستان کی تاریخی شناخت کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا۔دوسرے لفظوں میں، بجائے اس کے کہ تاریخی طور پر درست، علاقے کے مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی پس منظر میں گہرائی تک پھیلی ہوئی قومی شناخت کے لئے دانشوارانہ وسائل میں سرمایہ کاری کی جاتی، ایک ردعمل کے طور پر ‘ ثقافتی سامراج’ کی ایک قسم کو ہٹا کر دوسری کو گود لے لیا گیا۔مثال کے طور پر، پاکستانی سوسائٹی میں سے ‘ہندو اور مغربی ثقافتی اثرات’ کو ہٹانے کی کوشش کی گئی اور عربی ثقافتی برتری کو اپنایا گیا جو شرط اول کے طور پر عربی پیٹرو ڈالر کے ساتھ آئی تھی۔

بات یہ ہے کہ، مختلف نسلی اور مذہبی ثقافتوں کے عمدہ پہلوؤں کو لے کر جس پر ہماری تاریخ مشتمل ہے اور ایک زیادہ یقین بخش اور بنیادی قوم پرستی اور ثقافتی تشخص کی تشکیل کے لئے ان کو ترتیب دینے کی بجائے، ہم نے اپنے مختلف اور کثیر وجودی ماضی کو مسترد کر دیا اور اس کے بجائے ایسے لوگوں کی ثقافت اپنا لی جو، بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ، اب بھی پاکستانیوں جیسے غیرعربوں کو دوسرے درجے کا مسلمان سمجھتے ہیں۔بشکریہ ڈان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *