اوریا صاحب کذب ریا

عبیداللہ عبید

ss1

میڈیا مجاہدین کے درمیان دوڑ پہلے اپنے آپ کومجاہدین اسلام کی نظروں میں قابل قبول بنانے کے لیے جاری تھی وہ معر کہ کامیابی سے سر کرنے کے بعد اب وہ بانی پاکستان کو بھی ان کی نظروں میں قابلِ قبو ل بنانے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لینے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاعا ت کے مطابق اس دوڑ میں سب پر سبقت لینے کا اعزازاوریا مقبول جان کو حاصل ہے ۔ اوریا مقبول جان پہلے صرف’’ مقبول ‘‘تھے اب مقبولِ جان بھی ہوگئے۔ موصوف کی تحقیق ہنوز جاری ہے۔ فی الحال صرف اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ مملکت خداد میں بانی پاکستان کی پچھلے چھ دہائیوں سے متنازعہ گیارہ اگست والی تقریر جناح صا حب کی تھی ہی نہیں وہ تولادینیت کے پرستاروں کی ایک سازش تھی جو مو صوف کے زورِ تحقیق سے ناکام بنادی گئی ۔وہ تقریر کس کی تھی؟ یہ معلوم ہونا ابھی باقی ہے لیکن اب تک اس حوالے سے جتنا کچھ سا منے آیا ہے’ غنیمت‘ ہے۔

جناح کے پاکستان میں حساب برابر ہوگیا۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا۔مجاہدین اسلام کے ترجمانوں نے بلآخر ثابت کر ہی دیا کہ بانی پاکستان کس قسم کا پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ موجودہ پاکستان ہی تو بانی پاکستان کا اصل پا کستان ہے اس لیے ہمیں مملکت خداد ادکے حوالے سے اب مزید کسی چنتا کی ضرورت نہیں ۔ طالبان ہیں نا مملکت خداد کے حفاطت کے لیے ۔یا دوسرے لفظوں میں طالبان جا نیں اور پاکستان جانے۔ چونکہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اس لیے اس کے حفاظت کے لیے مجاہدین اسلام کی ہر ممکنہ مدد ، سر پرستی اور حوصلہ افزائی کرنا سب پرلازم ہے خواہ اس’ نیک مقصد‘ کے خاطر بانی پاکستان کی ایک تقریر سے انکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔’نیک مقصد‘ کی خاطر جھوٹ بولنا گناہ نہیں ثوب کا کام ہے۔

اس لیے اوریا مقبول جان نے’ نیک مقصد ‘کے خاطر جھوٹ بول کر گناہ نہیں ثواب کا کام کیا ہے۔ لیکن جو رازہمارے کہنہ مشق کالم نویس پر شبانہ روز تحقیق کے بعد کھلااس کا پردہ تو ’نیا زمانہ‘ کے ہونہار صاحبِ قلم خان زمان کا کڑ بہت پہلے چاک کر چکے ہیں۔ ’’جناح کے پا کستان میں کو ئی ہندو ہندو،عیسائی عیسائی اور نہ ہی کو ئی مسلمان مسلمان رہا۔ سب بے توقیر ہوئے ۔‘‘ پس ثابت ہوگیا کہ بانی پا کستان بھی یہی چاہتے تھے کہ پاکستان میں کوئی ہندو، ہندو، عیسائی عیسائی اور مسلمان مسلمان نہ رہے۔ جناح کی آرزو پوری ہوئی اور ہمیں مملکت خداد مل گیا ۔ جہاں بقولِ فیض چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے ، سگ جہاں آزاد اور سنگ مقید ہیں جہاں اور دین جہاں اور دین نام ہے جہاں پیروی کذب و ریاکا۔جگ جگ جیے میرا پیارہ وطن لب پہ دعا ہے دل میں لگن۔

یہ دنیامکافات عمل کی دنیا ہے اور یہاں ہر ایک کو جلد یا بدیر، قبل یابعد از موت اپنے کیے کا حساب دینا پڑتا ہے۔ جناح کو کس نے کہا تھا کہ پہلے اسلام کے نام پر ملک بناؤ ا ور پھر کہو کہ مذہبی نہیں سیاسی حوالے سے وقت کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا اور ساتھ یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ ہند ووں اور مسلمانوں کو اپنے اپنے عبادت خانوں میں جانے کی یکساں آزادی ہوگی ۔ کیا اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے مملکت میں ایسا ہونااسلامی تعلیمات سے روگردانی نہیں؟ کہنا ہی تھا تو کہتا کہ صرف مسجدوں میں جانے اور مندروں کو بموں سے اڑانے کی آزادی ہوگی ۔ آخر یہ’ ارض پاک ‘میں’ ناپاکوں‘ کے حقوق کی بات کہاں سے آن پڑی؟ مسجدوں کے ملک میں مندروں اور کلیساؤں کا ذکر کہاں سے آیا؟ وائے حسرت! مرحوم کو اپنے سب سے قیمتی سرمائے یعنی گیارہ اگست کی تقریرسے اپنے ہی بنائے گئے ملک میں محروم ہونا پڑا ہے۔ جناح کی سیاسی زندگی سے گیارہ اگست کی تقریر نکالنے کے بعد آخر مرحوم کے پاس سوائے منافرت پر مبنی سیاست کے اور رہ ہی کیا جاتاہے۔۔ یہ ہے اصل میں مذہب کے مقدس نام پر سیاست کرنے کے’ مقدس ‘نتائج۔

پاکستان کی نظریاتی اساس کے بارے میں بانی پاکستان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان اس وقت وجود میں آیاتھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہواتھا ‘‘۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کا ہندووں کے ساتھ گزرا نہیں ہوسکتا جب تک کے اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہ ہو ورنہ بصورت دیگراسلام خطرے میں رہے گا ۔ یا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کاصرف مسلمانوں کیساتھ گزارا ہوسکتاہے، انسانوں کے ساتھ نہیں۔ انسانوں کے ساتھ تو نہیں ہوسکتا تھا کیا اب مسلمانوں کا مسلمانوں کے ساتھ گزارا ہوسکتا ہے؟ پاکستان بننے کے بعد فرمایاکہ مذہب ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے یعنی مذہب کا سیاسی معا ملات میں کوئی عمل د خل نہیں ہوگا اور مزید یہ کہ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جائیں یا اپنے مسجدوں یا اپنے گرجاگھروں میں۔ جس ملک کی بنیاد ہندو دشمنی پرہو وہاں مندروں اور گرجا گھروں کو اڑانے کی آزادی تو ہوسکتی ہے جانے کی نہیں ۔
اس تضاد بیانی پرسٹنلے والپرٹ کا تبصرہ بر محل ہے۔ وہ لکھتے ہیں’’کہ کیا گیارہ اگست کے دن جناح کو معلوم تھا کہ وہ کیا ارشادفرمارہے ہے؟کیا وہ یہ بالکل ہی فراموش کر چکے تھے کہ اب وہ کہاں ہے؟ کیا گردش واقعات نے اسے اتنا مخبوط الحواس کردیا تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں چل رہاتھا کہ وہ حزبِ مخالف کے حق میں دلائل دے رہے ہیں؟ کیا وہ قیامِ پاکستان کے موقعہ پر متحدہ ہندوستان کا مقدمہ لڑ رہے تھے جس سے پہلے ہزاروں خوف زدہ معصوم انسانوں کو ذبح کر دیا گیا، جس کے لیے انھیں اپنے گھر بار، اپنے کھیتوں اور اپنے آبائی گاؤں سے بھی محروم کر دیاگیا او ر جس کے لیے انھیں ایک ایسے اجنبی ملک کی طرف کوچ کرنا پڑا جہاں یا تو ان کامستقبل ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگنے والا تھا یا انھیں پناہ گزین بننا تھا؟

لیکن بانی پاکستان کی اس تقریر پر سب سے بہتر تبصرہ ایچ ڈی شرما نے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ جناح جان چکے تھے کہ عنقریب وہ دنیا سے پردہ فرمانے والے ہیں اس لیے اس تقریر کے ذریعے وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے تھے۔لیکن اوریا مقبول جان کہتے ہیں کہ یہ تقریر تو جناح کی تھی ہی نہیں۔ مطلب بانی پاکستان اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کئے بغیر ہی دنیا سے رحلت فرما گئے۔ پست نظر دوستوں کی مہربانیوں سے اللہ بچا ئے ! اوریا مقبول جان کی طرح صفدر محمود کی بھی ساری توانیاں جناح کو بڑا آدمی یا پرہیزگار مسلمان یا ہندو دشمن ثابت کرنے میں صرف ہورہی ہیں۔

یہ جناح کو جتنا بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اتنا ہی چھوٹا دکھائی دینے لگتے ہیں ۔صفدر محمودثابت کر کے کہتے ہے کہ جناح ہندوستان کے ساتھ کبھی بھی خوشگوار تعلقات کے خواہشمند نہیں تھے بلکہ وہ تو ہندوستان کو پاکستان کا ابدی دشمن سمجھتے تھے ۔ یعنی محافظ پاکستان حافظ سعید کی طرح جناح بھی جہادی تھے۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے نظریاتی دانشوروں اور مجاہدین اسلام کا تصور اسلام اور تصور پاکستان ایک ہی ہے۔ کیا صفدر محمود اوریا مقبول جان وغیرہ کا اور مولوی فضل اللہ اور حافظ سعید وغیرہ کا تصور اسلام اور تصورپاکستان ایک نہیں ہے؟ کیا ہمارے قلمی اور عملی مجاہدین اسلا م کی تمنا اور آرزو ایک نہیں؟ کیا ان سب میں اس بات پر اتفاق نہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس لیے یہاں اسلامی نظام نا فذ ہونا چاہیے ۔کیا جناح ک گیارہ اگست کے تقریر کے بارے میں ان کی سوچ ایک جیسی نہیں؟ کیا دونوں کے نزدیک سیکولرزم کفر اور الحاد نہیں؟ کیا ہندو دشمنی کے علاوہ بھی انکے پاس کو ئی نظریہ یافکر ہے؟ *

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *