تنظیمات خیریہ

خالد تھتھال

12002041_1633628650241187_754182825082942724_n

 پہلی جنگ عظیم  میں ترکی نے جرمنی  کا ساتھ دیا۔  ہندوستان  کے مسلمانوں نے  جنگ میں انگریزوں  کا ساتھ دینے کے لیے وزیراعظم  برطانیہ  لائیڈ جارج سے وعدہ لیا تھا کہ  جنگ میں انگریزوں کی فتح کی صورت میں نہ ہی مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی  ہو گی اور نہ مسلمانوں کی خلافت کے ادارے کو چھیڑا جائے گا۔

لیکن جنگ جیتنے  کے بعد انگریزوں نے اپنے تمام وعدے فراموش کر دیئے۔  اس بدعہدی کے نتیجہ میں ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے  اپنا وفد نہ صرف برطانیہ بھیجا بلکہ بہت  شدت سے تحریک خلافت کا آغاز کر دیا۔ تحریک کے اہم ترین مقاصد یہ تھے،  ترکی کی خلافت بحال رہے۔ مقامات مقدسہ( مکہ مکرمہ  ، مدینہ منورہ  ترکی  کی تحویل میں رہیں۔ ترکی سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔

تحریک خلافت بہت زور پکڑتی ہے، نتیجتاََ تحریک کے اہم رہنما مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جیل بھیج دئے جاتے ہیں، اور پھر ان کی ماں آبادی بانو بیگم سے منسوب نعرہ  زبان زد عام ہو جاتا ہے۔ بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو ۔ تحریک کے کچھ علما ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر ہجرت کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہزاروں مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر افغانستان کی راہ لیتے ہیں اور لٹ لٹا کر واپس آ جاتے ہے، تحریک  اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ شریف مکہ ترکی سے بغاوت کر کے حجاز کی حکومت قائم کرتا ہے، مصطفی کمال پاشا اتاترک موجودہ ترکی کے علاقے آزاد کروا کر جمہوریہ کے قیام اور اپنی صدارت کا اعلان کر دیا اور ترکی میں خلافت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

 ہم دیسی مسلمانوں کا خلافت کے لفظ سے  سخت قسم کا رومانس اب بھی قائم و دائم ہے کیونکہ خلافت  کے ساتھ وہ سچی یا جھوٹی کہانیاں وابستہ ہیں جن کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ تھے تو وہ  رات کے وقت گندم کی بوری اپنی کمر پر اٹھائے  بھوکے بچوں کی ایک ماں کو دے کر آئے۔ ان وقتوں میں مدینہ میں کوئی خیرات لینے والا نہیں ملتا تھا۔ دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والا کتا بھی حضرت عمر کی ذمہ داری تھا۔

ہمیں یہ جاننے سے کوئی غرض نہیں ہے کہ  ایک انتہائی غریب ریگستانی علاقے میں ایکدم سے اس قدر خوشحالی کیسے آ گئی، ہمیں غرض ہے اس تو صرف اس بات سے کہ بس خلافت آئے جس سے ہمارے زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں اور ہم دنیا کی تمام قوموں پر حاوی ہو جائیں۔ اور اسی وجہ سے ہم آج بھی خلافت عثمانیہ کے خواب سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے۔    

خلافت عثمانیہ جسے ترکی میں دولت عثمانیہ کہا جاتا ہے  یہ مسلمانوں کی چوتھی خلافت تھی۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ اور خلافت بنو عباس اس کی پیشرو تھیں۔ عثمانی خلافت انسانی تاریخ  کا طویل ترین سلسلہ حکومت ہے۔ ان کا  دور حکومت چھ صدیوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ اور اپنے عروج کے زمانے میں اس کا دائرہ اقتدار براعظم یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ 

خلافت عثمانیہ کی بنیاد عثمان اول نے 1299ء میں ڈالی اور اس سلسلے کا آخری خلیفہ عبدالمجید دوم تھا جس کی خلافت 1924ء میں ختم کر نے کے بعد اسے اپنے پیشرو خلیفہ محمد وحید الدین کی طرح جلا وطن کر دیا گیا۔

خلافت عثمانیہ کے متعلق عموماََ یہ تاثر  ہے کہ چونکہ یہ خلافت تھی اس لئے یہ شرعی اصولوں کے تحت حکومت کرتی تھی۔ جب کہ حقائق سے اس دعوے یا سوچ سے قطعی مختلف ہیں۔  عثمانی خلافت دینی کی بجائے ایک دنیاوی حکومت تھی جس کیلئے اسلام کی بجائےعثمانی سلطنت کی بقا زیادہ تھی۔ اسی وجہ سے دولت عثمانیہ میں سترھویں صدی سے ہی سیکولر نوعیت کی اصلاحات کا آغاز ہو گیا تھا جن کا نقطہ عروج 1839ء سے لے کر 1876ء میں تنظیمات خیریہ نامی اصلاحات کی صورت میں نظر آیا۔

تنظیمات سے روایتی مذہبی قوانین کو یا تو ختم کر دیا گیا یا ان کو تبدیل کر کے سیکولر قوانین کو لاگو کیا گیا اور خلافت کے تمام باشندوں کو قانون کے سامنے یکساں حیثیت دی گئی۔

 چھ صدیوں سے زائد عرصہ تک ایک کروڑ ترک 25 کروڑ لوگوں پر اس لئے حکومت کر پائے کہ انہوں نے اپنے مفتوحہ علاقے کے باشندوں  کو ملت نامی انتظامی ڈھانچے کے تحت بہت زیادہ مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔ ہر مذہبی گروہ کی اپنی آزاد عدالتیں تھیں جو ان کے اپنے مذہبی قوانین کے تحت فیصلے سناتی تھیں۔ یہ اسی مذہبی رواداری کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے یہودیوں سے صدا بہار نفرت کے باوجود جب یہودیوں کو ان کے عقائد کی وجہ سے سپین نے 1492 میں ملک بدر کیا تو بایزید دوم نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ ان کو ملک کے دوسرے شہریوں جتنے حقوق سے نوازا۔

  تنظیمات خیریہ 1839 سے 1886 کے درمیان ہونے والی سلسلہ وار اصلاحات کو کہتے ہیں جن کا بنیادی مقصد خلافت کی حالت بہتر بنانا تھی جو اپنے کئی مقبوضات سے ہاتھ دھونے کے علاوہ داخلی خلفشار کا بھی شکار تھی۔ اندرونی طور پر  خاص الخاص  پیادہ فوج کے ان دستوں کی خود سری اور من مانیاں عروج پر  تھیں جنہیں تاریخ ینی چری کے نام سے جانتی ہے۔ سلطان سلیم سوم  نے نظام جدت کے نام سے جب ترک  فوج کو یورپی خطوط پر تشکیل دینے کی کوشش  کی۔ تو ا سے  ینی چری کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ین چری نے سلیم کو معزول کر کے اس کے بھائی مصطفیٰ کو تخت پر بٹھایا۔ لیکن سلیم کے ساتھیوں نے شدید جدوجہد کے بعد مصطفیٰ کو ہٹا کر سلیم کے بھتیجے محمود دوم کو تخت نشین کروایا۔ محمود نے اپنے چچا کی اصلاحات کو جاری رکھا اور روایتی قانون عثمانی کی بجائے یورپی قانون کا نفاذ  شروع کر دیا۔ 

 تنظیمات کے تحت 1940ء میں کاغذی نوٹ جاری ہونے کے علاوہ ڈاکخانے کا قیام، معاشی نظام کی تنظیم نو اور شہری حقوق و جرائم کے قوانین مرتب کیئے گئے۔ 1841ء میں مجلس معارف امت کا قیام عمل میں آیا جو 1876ء کی پہلی ترک پارلیمنٹ کی پیشرو تھی۔ 1843ء میں باقاعدہ فوج رکھنے، بھرتی کا نظام اور مدت ملازمت طے پائیں۔ 1844ء میں ترکی کا قومی ترانہ اور قومی جھنڈا تشکیل پانے کے علاوہ مردم شماری کی گئی جو صرف مردوں تک ہی محدود تھی۔

اسی سال شناختی کارڈ کا اجرا ہوا جسے مجیدیہ شناختی دستاویز کا نام دیا گیا۔ 1847ء میں غلامی اور غلاموں کی خرید و فروخت ختم کر دی گئی۔ 1848ء میں دارلافنون نام سے پہلی یونیورسٹی اور اساتذہ کی تربیت کیلئے دارلامعلمین قائم ہوا۔ 1851ء میں انجمن دانش کے نام سائنس کی درسگاہ کا قیام عمل میں آیا۔ اسی سال شرکت خیریہ کے نام سے دخانی کشتیاں چلائی گئیں۔

ان اصلاحات کے خلاف ینی چری نے بغاوت کر دی اور محمود پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں محمود بچ گیا۔ سلطان کی فوج جو بہتر رائفلوں سے مسلح تھی اس نے ین چری دستوں کی بغاوت کو  کچل دینے کے بعد  فوج سے ینی چری کو خارج کر دیا۔

  اصلاحات کا عمل سلطان محمود کی وفات اس کے بیٹے سلطان عبدالمجید دوم نے جاری رکھا۔ تنظیمات اصلاحات کے سلسلہ میں 1856ء کا سال بہت اہم ہے۔ سلطان عبدالمجید دوم نے اپنے دستخط سے شاہی فرمان جاری کیا، جسے خطِ شریف، خط ِہمایوں ( شاہی خط) فرمانِ گل خانہ اور فرمانِ تنظیمات جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ان اصلاحات کو فرمانِ گل خانہ کہنےکی وجہ یہ ہے کہ ان اصلاحات کا اعلان گل خانہ نامی محل میں کیا گیا تھا۔ ترکی میں گل خانہ کا مطلب گلابوں کا گھر ہے۔  فرمانِ گل خانہ کی اہم دفعات یوں تھیں۔

10431456_1643013179302734_4274801485245868750_n
سلطان عبدالمجید اور فرمان گل خانہ

ا: تمام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ

ب: ایک نئے ضابطہ قانون کا اجرا جس کے تحت مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی قانون کے سامنے یکساں حیثیت۔

ج: ٹیکس کے ایک نئے نظام کا نفاذ۔

د: شہریوں کو بری و بحری فوج میں بھرتی کرنے کیلئے ایک منصفانہ نظام کا نفاذ

ر: تمام مردوں کیلئے چار سالہ لازمی فوجی ملازمت

فرمان گل خانہ کا اصل خالق  مصطفیٰ رشید پاشا تھا جو فرانس اور برطانیہ میں ترکی کا سفیر رہ چکنے کے علاوہ سلطنت کا صدر اعظم بھی تھا۔ فرمان گل خانہ سے فوجی  بھرتی کیلئے سلطان مراد اوّل کے چودہویں صدی میں شروع کردہ  دیوشیرمے طریقہ کار  خاتمہ کر دیا گیا جس کے تحت  بلقان اور ایشائے کوچک کے علاقوں سے کمسن عیسائی اور یہودی بچوں کو اغوا کیا جاتا تھا اور انہیں  اسلام قبول کروا نے کے فوج میں بھرتی کیا جاتا تھا،  یہ وہ پیادہ فوج تھی جنہیں ترکی زبان میں ینی چری اور انگریزی میں جانیثری کہا جاتا ہے۔ 

12107914_1642871662650219_1323037462989227224_nمصطفیٰ رشید پاشا

ترکی کا عدالتی نظام فرانسیسی طرز پر بنایا گیا۔ جس میں بنیادی عدالت اور اعلیٰ عدالت تھی، جہاں اپیل کا حق بھی موجود تھا۔ تمام شہریوں کے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے پچھلے پانچ سو سال سے رائج شرعی نظام کو خاتمہ کر دیا گیا، اور اس سلسلہ میں اجتہاد کیلئے سلطنت کے شیخ الاسلام سید وہاب آفندی اور مصطفیٰ عاصم کی مدد لی گئی۔ فرمانِ گل خانہ سے  مختلف نسلی گروہوں میں عثمانیتاجاگر کرنے کی خاطر نسل و مذہب سے بالاتر ہو کر خلافت کے ہر باشندے کو برابری کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ جس سے عیسائی، یہودی اور دیگر اقلیتوں کو بھی برابری کے حقوق عطا کیے گئے۔ ذمی کا تصور مٹاتے ہوئےتمام شہریوں کی حیثیت برابر قرار دی گئی۔ غیر مسلموں  سے جزیہ کی وصولی ختم کر کے کر ان کا درجہ مسلمانوں کے برابر کر کے انہیں فوج میں بھرتی کے یکساں مواقع مہیا کئے گئے۔

لیکن اس فرمان  کا وہ حصہ زیادہ دلچسپ ہے جس کے مطابق  1858ء میں ہم جنس پرستی  جرم کی فہرست میں شامل نہ رہی۔ شرعی سزاؤں کا بھی خاتمہ کر دیا گیا۔ زنا کی سزا سنگساری پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کے پورے دور میں سنگساری کا واحد واقعہ 1680ء میں پیش آنے کا ذکر ملتا ہے۔ 1844 میں ہی ارتداد کی سزا موت کا خاتمہ کر دیا جا چکا تھا،اسی وجہ سے بہائی مذہب کے بانی بہا اللہ نے جب پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا  اور پیغمبر اسلام  اور قرآن کی تعلیمات کا مزید سودمند نہ رہنے کا بیان دیا، تو اسے  قتل کرنے کی بجائے عمر قید دی گئی تھی۔ 

اس فرمان کے نتیجے میں غیر مسلموں کی جبری مذہبی تبدیلی کو روکنے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس سے پہلے ترکوں کے نزدیک مذہبی آزادی سے مراد ان کے اپنے مذہب اسلام کا دفاع تھی۔ عثمانی دورحکومت میں شرعی قوانین جزیرہ نما عرب میں بھی نافذ نہ تھے، یہ قوانین ترکی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سعودی حکومت نے نافذ کئے۔ اگر چہ شرعی عدالتیں بھی موجود رہیں لیکن ان کا دائرہ کار صرف شہروں تک ہی محدود تھا، اور وہ واحد عدالتیں نہیں تھیں۔ دیہات کا اپنا نظام تھا اور غیر مسلم ملت نظام کے تحت اپنے مذہبی اور معاشرتی قوانین کے تحت فیصلے کرتے تھے۔

  تنظیمات اصلاحات کے سلسلہ میں سلطان عبدالمجید دوم، مصطفیٰ رشید پاشا، سلطان عبدالعزیز کے علاوہ علی پاشا اور فواد پاشا کا نام سر فہرست ہے. اگر چہ تنظیمات اصلاحات اتنی زیادہ کامیاب نہ ہوئیں جتنی عثمانی سلاطین کو امید تھی، لیکن یہ پھر بھی غیر مسلموں اور تعلیمی نظام کی حالت بہتر کرنے میں کامیاب ہوئی،کہا جاتا ہے کہ اگر عثمانی خلافت برقرار رہتی اور مصطفیٰ کمال پاشا کے ہاتھوں اس کا خاتمہ نہ بھی ہوتا تو پھر بھی ترکی معاشرہ اپنا ارتقائی سفر طے کرتے ہوئے آج اتنا ہی سیکولر ہوتا جتنا کہ اب ہے۔

Comments are closed.