جرمنی ميں مہاجرين کے خلاف مظاہرہ

0,,18777879_303,00

جرمنی ميں مہاجرين کی تعداد ميں اضافے کے ساتھ ساتھ اس پيش رفت کی مخالفت بھی دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ روز مشرقی جرمنی کے شہر ڈريسڈن ميں ہزارہا افراد نے جرمنی ميں مہاجرين کی مسلسل آمد کے خلاف مظاہرہ کيا۔

نيوز ايجنسی ڈی پی اے کی ڈريسڈن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق استغاثہ کی جانب سے کہا گيا ہے کہ اسلام مخالف تنظيم پيگِيڈا کی طرف سے گزشتہ روز نکالی جانے والی مہاجرين مخالف ريلی کے دوران ايک متنازعہ عمل کی تحقيقات جاری ہيں۔ ريلی کے دوران ’گيلوز‘ يعنی پھانسی کا پھندہ يا تختہ دار کے ايک چھوٹے ماڈل پر چانسلر انگيلا ميرکل اور نائب چانسلر زيگمار گابريل کا نام درج تھا۔ يہ تحقيقات امن و امان خراب کرنے کی کوشش اور جرائم پيشہ عوامل کے الزامات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف جاری ہيں۔ وکلائے استغاثہ کے مطابق الزامات ثابت ہونے پر مجرمان کو پانچ برس تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

قانون سازوں نے اس پيش رفت پر گہری تشويش کا اظہار کيا ہے۔ سياسی جماعت ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز نیل اینر نے ايک مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب جمہوری انداز ميں چنے گئے نمائندگان کو موت کی دھمکی دی جائے، خواہ وہ محض علامتی ہی کيوں نہ ہو، تو اس کے خلاف کوئی کارروائی ہونی چاہيے۔ جرمن پوليس يونين کے سربراہ رائنر وينڈٹ نے بھی کہا ہے کہ سکيورٹی فورسز کو دائيں بازو کی جانب سے ممکنہ منظم جرائم سے بچنے کے ليے پيگِيڈا پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔

مہاجرين کے خلاف سرگرم گروپ پيگِيڈا کی طرف سے نکالی جانے والی اس ريلی ميں قريب 9,000 افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر مہاجرين کے خلاف باتيں لکھی ہوئی تھيں اور وہ نعرے بھی لگا رہے تھے۔

يہ امر اہم ہے کہ پيگِيڈا نامی يہ گروپ جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی مشرق وسطٰی کے ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کو جرمنی ميں پناہ فرہم کرنے کی پاليسی کے خلاف ہے۔

پير 12 اکتوبر کی رات نکالی جانے والی اس ريلی کی مخالفت ميں بھی قريب ڈھائی سو افراد نے مظاہرہ کيا، جو مہاجرين کے حق ميں تھے۔ پوليس نے کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کے خدشے کی وجہ سے دونوں گروپوں کو منقسم رکھا۔ اس دوران ايک پوليس اہلکار کے ساتھ بلند آواز ميں تلخ کلامی پر پيگِيڈا کے ايک رکن کو حراست ميں بھی لے ليا گيا۔ ڈريسڈن کے علاوہ کيمنٹس اور لائپزگ ميں بھی مہاجرين کی مخالفت ميں مظاہرے کيے گئے ليکن مظاہرين کی تعداد کے اعتبار سے يہ کافی چھوٹے تھے۔

مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں جرمنی ميں چانسلر ميرکل کی مقبوليت ميں مسلسل کمی رونما ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کرائے گئے رائے عامہ کے ايک جائزے کے مطابق اب ان کی مقبوليت کی شرح 39 فيصد تک پہنچ گئی ہے۔

دريں اثناء جرمنی پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی اندازوں کے تحت سال رواں کے اواخر تک يہاں پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ايک ملين تک پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب جرمنی ميں موجود مہاجرين کے کيمپوں ميں تشدد کے واقعات کی رپورٹوں ميں بھی بدستور اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

ڈوئچے ویلے

Comments are closed.