داعش اور مُسلم ساکنانِ مغرب

sibte hasanسبط حسن گیلانی۔ لندن


داعش کے نام سے پوری دنیا اب آگاہ ہے۔لیکن بہت کم ہیں جو جانتے ہیں یہ بلا اصل میں ہے کیا؟۔اس کو گہرائی سے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ عرب میں بیسویں صدی کے اوائل میں اٹھنے والی وہابی تحریک کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کے بغیر اس کے خط و خال شاید پوری طرح واضح نہ ہو سکیں۔لیکن ایک کالم اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

داعش کو وجود میں لانے والی دو قوتیں تھیں۔ ایک خطے کا بڑا عرب ملک اور دوسری عالمی طاقت امریکہ۔امریکہ کے مقاصد سیاسی و معاشی تھے اور برادر اسلامی ملک کے فرقہ وارانہ۔بنیادی طور پر ظاہر بظاہر ہدف شام اور حزب اللہ تھے۔ امریکہ حزب اللہ کو شکست دے کر اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا تھا۔اور برادر اسلامی ملک کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ داعش اب کم ازکم اتنی طاقت بن چکی ہے کہ القائدہ اس کے سامنے طفل مکتب لگتی ہے۔

مثلاً القائدہ نے ایک مفلوک الحال ریاست افغانستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔اور داعش نے اپنی قوت بازو سے ایک جیتی جاگتی ریاست تشکیل دے ڈالی ہے۔اس تحریک نے ریاست تخلیق کرنے کے بعد وہاں تیل کے ذخائر کی بلیک مارکیٹ میں فروخت سے بڑی کثیر دولت اکٹھی کر لی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے۔ خطے میں اس کے وجود سے براہ راست کسی کو فائدہ ہوا ہے تو وہ اسرائیل ہے۔

فرانس پر حملے کو بعض دانش ور اس تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ کہ فرانس عنقریب فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے والا تھا۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا داعش کو شکست دینا امریکہ کی ترجیحات میں اول ترجیح ہے؟۔میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔ کل تک تو مغربی ممالک بھی شائد ایسا نہیں سوچ رہے تھے۔لیکن آج وہ یقیناًایسا سوچ رہے ہیں۔ لیکن فیصلہ کن کردار تو امریکہ کا ہو گا۔ کیا فرانس کے حملے کے بعد وہ دل سے چاہے گا کہ جلد از جلد داعش کو فیصلہ کن شکست سے ہمکنار کیا جائے؟۔کیا اس نے خطے میں شدت پسندوں کو اسلحے کی ترسیل بند کر دی ہے؟۔

ترکی داعش سے تیل خرید رہا ہے۔ یاد رہے ترکی واحد مسلم ریاست ہے جو نیٹو کا ممبر ہے۔ کیا نیٹو اس سے بے خبر ہے؟داعش کی افرادی قوت عراق کے وہ فوجی ہیں جو امریکی حملے کے وقت تتر بتر ہو گئے تھے۔ عراق کی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدے دار اب داعش میں اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔خطے میں ترکی سمیت عرب ممالک تذبذب کا شکار ہیں جس کا براہ راست فائدہ داعش اٹھا رہی ہے۔داعش کے بالمقابل اگر کوئی میدان میں ہے تو وہ شامی افواج اور حزب اللہ ہیں۔ اور ان کی پشت پر ایران اور روس ہیں۔اگر مستقبل قریب میں داعش کو فیصلہ کن شکست ہوتی ہے تو اس کا سہرا بھی انہی قوتوں کے سر جائے گا۔

داعش اب عراق سے شام اور لبیا تک اپنے پر پھیلا چکی ہے۔ اور پوری دنیا میں اس کا وجود محسوس کیا جا رہا ہے۔ہمارے پڑوسی افغانستان میں تو باقاعدہ اس کی شاخ قائم ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اس کے وجود سے انکار کرنے والی حکومت کی شاید بصارت اور بصیرت دونوں بہت کمزور ہو چکی ہیں۔ جو دارلحکومت میں اپنی ناک کے عین نیچے داعش کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے واشگاف اظہار سے بے خبر نظر آتی ہے۔

عالمی مذاکرات کار جناب محمد فیصل کا کہنا ہے ۔میں ایک سال سے خبردار کر رہا ہوں کہ جامع حفظہ اور لال مسجد کو داعش کا مرکز بننے سے روکا جائے ۔ لیکن حکومت اور مقتدرہ کوئی اقدامات کرتے نظر نہیں آتے۔ داعش کے وجود اور اس میں پے درپے شمولیت کرنے والے مغربی معاشروں کے انتہا پسندنوجوانوں کے شاخسانے کے بعد اب حالیہ فرانس کے حملوں نے پورے یورپ اور برطانیہ میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ اس کا براہ راست نشانہ اب یہاں بسنے والے مسلمان بنیں گے۔اس لیے نہیں کہ وہ مسلمان کیوں ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ہمیشہ پوری شدت کے ساتھ ان جیسے حملوں کی مذمت کرنے سے قاصر کیوں رہتے ہیں؟۔

فرانس یورپ میں واحد ایسا ملک ہے جہاں مسلمان پچاس لاکھ کے قریب بستے ہیں۔ ابھی حال ہی میں شامی مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کے ریلوں کا رخ جرمنی کے بعد فرانس ہی رہا تھا۔ ایلان کردی کی ننھی سی لاش کے دریا کنارے دریافت ہونے پر جس خطے میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ وہ مسلم دنیا نہیں بلکہ یہی مغربی دنیا تھی۔جس کا اسے یہ صِلہ ملا۔ فرانس کے حملوں کے بعد برطانیہ اور یورپ میں بسنے والے مسلمانون کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔اس حد تک کہ ایک دوسرے سے نظریں ملاتے ہوے بھی ججھک محسوس ہوتی ہے۔ اگر یہ معاشرے جمہوری نہ ہوتے تو آج ہر مسلمان گھر کے سامنے ایک لاش پڑی ہوتی۔ اور مسلمانوں کا وہ حال ہوتا جو دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں یہودیوں کا ہوا تھا۔

کچھ مبصرین کے مطابق حالات گو سست رفتاری سے سہی مگر اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔ اب مغربی ممالک کو شدت سے اس کا احساس ہو چلا ہے کہ مسلمانوں کو جو مذہبی آزادیاں دی گئی تھیں اس کی آڑ میں شدت پسندوں نے اپنا ایجنڈا آگے بڑھایا ہے۔ حکومتیں جو کچھ کریں گی وہ تو کریں گی ہی لیکن مسلمان دبے پاوں بڑھتے اس خطرے کو کتنا محسوس کر رہے ہیں؟۔

One Comment