دیت کے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ

11

پاکستان دیت کے اسلامی قانون میں اصلاحات کرنا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے دولت مند قاتل، مقتول کے ورثاء کو خون بہا کی رقم ادا کرتے ہوئے قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے بھی دیت کے قانون کا استعمال کیا تھا۔

پاکستان کے ایک سینئیر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حکومت قصاص اور دیت کے قانون میں اصلاحات متعارف کروانے والی ہے۔ یہ قانون پاکستان میں1990 میں منظور کیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طاقتور اور دولت مند افراد یہ قانون کو استعمال کرتے ہوئے قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں۔ مقتول کے ورثاء پر اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے یا تو انہیں معاف کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے یا پھر انہیں اس قدر بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے کہ وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہیں کرتے۔

پاکستان میں قصاص اور دیت کا معاملہ سب سے زیادہ اس وقت متازعہ بنا تھا جب امریکی خفیہ ایجنسی کے کنٹریکٹر، ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو مردوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سفارتی سطح اور مقامی سطح پر ہل چل مچ گئی تھی جب کہ ریمنڈ ڈیوس کو چند دن جیل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مقتول افراد کے اہل خانہ کو دو عشاریہ چار ملین ڈالر کی رقم دیت کے طور پر ادا کی گئی تھی۔

اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ کراچی کے بیس سالہ طالب علم شاہ زیب خان کا قتل تھا جو پاکستانی اخباروں کی زینت بنا تھا۔ شاہ زیب کو قتل کرنے والے دونوں نوجوان قاتلوں کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی ملک بھر میں احتجاج کیا گیا تھا لیکن بعدازاں مقتول کے والدین نے قاتلوں کے لیے معافی کا اعلان کر دیا تھا۔ مبینہ طور پر مقتول کے والدین کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قانونی امور، اشتر اوصاف علی کا کہنا تھا کہ اس قانون میں تبدیلی کے بعد ورثاء کو صرف اسی وقت مقتول کو معاف کرنے کی اجازت ہوگی، جب مجرم کو سزا سنائی جا چکی ہو گی اور ایک سزا یافتہ قاتل کو کم از کم سات سال جیل میں گزارنے ہوں گے ، چاہے مقتول کے ورثاء مجرم کو معاف کیوں نہ کر دیں۔

اشتر اوصاف علی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ بااثر اور دولت مند افراد کو یقین ہے کہ وہ قتل کے بعد بھی محفوظ رہیں گے۔‘‘

دیت کے قانون میں نئی اصلاحات کے تحت مقدمے کی سماعت کے آغاز پر قاتل کو اقرار جرم کرنا ہوگا تاکہ بعد ازاں مقتول کے ورثاء اسے معاف کر سکیں۔ اوصاف علی کے مطابق اب جیل سے بچنے کے لیے صرف معافی حاصل کر لینا کافی نہیں ہوگا، ’’کسی شخص کو معاف کر دینا، یہ اللہ کا معاملہ ہے۔ لیکن کسی شخص کی حفاظت کو یقینی بنانا یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘‘

کرمنل لا کے ماہر طاہر واسطی کا کہنا ہے کہ 1990 میں قتل کے الزام میں سزا ہونے والوں کی تعداد 29فیصد تھی جبکہ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد سال 2000 میں اس کی تعداد12فیصد رہ گئی تھی۔

جب 1990میں اس قانون کو پاس کیا گیا تو انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کی سخت مخالفت کی اور مذہبی رہنماوں نے اس کی حمایت کی تھی اب بتایا گیا ہے کہ دیت کا قانون اصلاحات کے لیے آئندہ ماہ پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا جب کہ ملک کے اعلیٰ مذہبی رہنماؤں نے بھی اس کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

AFP, DW

Comments are closed.