منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

منیر سامی۔ ٹورنٹو

image3377

ہم پاکستانی اور مسلمان جو اپنے ملکوں میں پولیس اور بندوق برداروں کی زیادتیوں ، اُن سے ہمیشہ خوفزدہ رہنے، اور اُن کے ظلم پر ٹُک ٹُک دیدم ، دم نہ کشیدم کے عادی ہیں۔ اپنی یہ عادتیں اُن ملکوں میں بھی لے آئے ہیں جہاں شہریوں کو ہر طرح کی آزادی ہے اور جہاں انصاف طلب کرنے کے امکانات ہمارے سابقہ وطنوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثال ہماری وہ خاموشی ہے جو ہم نے اب سے تقریباً تین سال پہلے ، ٹورنٹو پولیس کے ہاتھوں ایک اٹھارہ سال نوجوان، سامی یتیم ؔ کے بہیمانہ قتل کے بعد سے اس کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد تک اختیار کر رکھی ہے۔ایسا ہم جب بھی کرتے ہیں جب پولیس کے ہاتھوں غیر سفید فام ہلاک ہوتے ہیں، اور جب بھی کہ جب ہمارے اپنے ہی لوگ اپنی بیٹیوں کو مغرب میں بھی عزت کے نام پر قتل کرتے ہیں۔ ہم امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیاہ فاموں، اور غیر سفید فاموں کے ہاتھوں ہلاک ہونے پر بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں میں امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مشہور واقعات میں ، پولیس کے اہلکاروں پر مقدمات یا تو قائم نہیں ہوتے، یا اگر ہوتے بھی ہیں تو پولس کے اراکین عام طور پر بری کر دیئے جاتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق کینیڈا میں ہر سال تقریباً پچیس افراد پولس کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور تقریباً پچاس افراد حراست کے دوران ہلاک ہوتے ہیں۔ کینیڈا میں پولس کا نظام عام طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ تقریباً ہر صوبہ میں ایک ایسا شہری ادارہ قائم ہے جس کی ذمہ داری ہر اس واقعہ کی تحقیقات کرنا ہے جس میں کوئی شہری پولیس کے ہاتھوں یا زیرِ حراست ہلاک ہو جائے۔ اس ادارے کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ تحقیقات کے بعد طے کرے کہ کیا ان واقعات کے دوران پولس نے غیر ضروری طاقت تو استعمال نہیں کی۔

عام طور پر یہ ادارے خال خال ہی پولیس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ، اور اگر کبھی پولس افسروں پر مقدمات قائم بھی ہوں تو وہ عموماً ان سے بری ہو جاتے ہیں۔کینیڈا کے ایک اہم اخبار کے مطابق گزشتہ پینتیس سالوں میں پولس پر شہریوں کے قتل کے صرف تیرہ مقدمے قائم کیے گئے اور ان میں سے صرف دو افسروں کو کوئی سزا د ی گئی۔ یعنی پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے مجموعی طور پر ہلاک ہونے پر صرف ڈیڑھ فی صد بار کوئی مقدمہ قائم ہوا، اور سزا کا تناسب تقریبا ً صفر رہا۔

اس کے کئی اسباب ہیں۔ اول تو تحقیقات کے دوران ملزم پولیس افسران کے زیادہ تر گواہ خود پولیس والے ہی ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ہر صوبہ میں پولیس کی بہت مضبوط یونینز ہیں جن کے پاس مقدمہ لڑنے کے لیے خطیر رقم ہوتی ہے، اور وہ اپنے ساتھی افسران کا سخت دفاع کرتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ کینیڈا میں عدالتی انصاف بہت مہنگا ہے اور کئی بار استغاثہ کے وکیل بھی اپنی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں نباہتے۔

ہم نے اپنی بات سامی یتیم ؔ نامی اٹھارہ سالہ نوجوان کے پولس کے ہاتھوں قتل سے شروع کی تھی۔ واقعات کے مطابق یہ نوجوان اب سے تین سال پہلے ٹورونٹو کی ایک ٹرام میں سوار ہوا۔ اس نے شاید کچھ منشیات بھی استعمال کی تھیں۔ کسی بات پر اس کی ذہنی حالت بگڑی اور وہ اپنی جیب سے تین انچ کے پھل کا ایک چاقو نکال کر دیگر سواریوں کو ڈرانے لگا۔ جس پر ٹرام کے ڈرایئور نے گاڑی روک دی اور ہر مسافر گاڑی سے اتر گیا۔

اس اثنا میں پولیس آگئی اور اس کی آمد کے تقریباً ایک منٹ کے اندر ایک پولس افسر، جیمز فرسیلوؔ نے اس نوجوان کو تین گولیاں مار دیں جس سے وہ فوراً ہی ٹرام ہی میں شدید زخمی حالت میں گر گیا۔ اسی پولس افسر نے اس نوجوان کے زخمی حالت میں گرنے کے پانچ سیکنڈ کے اندر ہی اس کو چھہ اور گولیاں مار دیں۔ اس کے بعد ایک پولیس افسر ٹرام میں گیا اور اس نے تقریباً نیم مردہ نوجوان پر ’ٹیزر گن ‘ سے بھی وار کردیا۔

سوشل میڈیاکے اس دور میں کئی مشاہدین نے اس واقعات کی تصاویر اور ویڈیوبنا لیں جو آناً فاناً میں ساری دنیا میں پھیل گئیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرام کے سیکیوریٹی کیمرے کی تصویریں اور ویڈیو کی ریکارڈنگ بھی محفوظ ہو چکی تھیں۔ عوام کے نزدیک یہ قتل اتنا غیر ضروری اور بہیمانہ تھا کہ شہریوں میں غم و غصہ کی شدید لہر پھیلی، اور کئی احتجاجی جلسہ اور جلوس بھی منعقد ہوئے۔ اس شدید دباو کے بعد صوبہ کے ’پولیس کے ہاتھوں زخمی یا ہلاک ہونے کی تحقیقات کے خصوصی ادارے‘ نے پولس افسر جیمز فرسیلو، پر قتلِ غیر عمد، غیر قانونی طور پر ہلاک کرنے، اور اقدامِ قتل کے مقدمے قائم کیے۔ حسبِ معمول پولیس یونین نے اس معاملہ میں سخت مدافعت اختیار کی اور نہایت قابل وکلا کو جارحانہ مقدمہ لڑنے کے لیے کھڑا کیا۔

اس کے ساتھ معاشرہ میں ، ٹورونٹو کی بلدیہ میں جس کی طابع پولیس ہوتی ہے، پولیس کی نگرانی کے شہری بورڈ میں ، رائے عامہ کے رہنماوں، قانونی اور صحافتی حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ پولیس کو ان لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیئے جو ذہنی طور پریشان اور پراگندہ ہوں۔ اس ضمن میں ایک خصوصی عدالتی کمیش قائم کیا گیا ، جس کے رہنما سابق جسٹس ’ فرینک آیکو بوچی ؔ‘ نے چوراسی تجاویز پیش کیں ۔

جن کا لبِ لبا ب یہ ہے کہ ٹورونٹو کی پولیس کو ایسے لازمی اقدامات کرنے ہوں گے جس میں آئندہ کبھی بھی اس قسم کے معاملات میں کوئی بھی زخمی یا ہلاک نہ ہو۔ اس کے لیئے پولیس کو جدید سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، ان کی مزید تربیت کی جائے گی، اور ایسی ہنگامی ٹیمیں قائم کی جایئں گی ، جو ان معاملات کو حتیٰ الامکان بلا تشدد حل کر سکیں۔

اسی ہفتہ اس ضمن میں پولیس افسر ’جیمز فرسیلوؔ‘ پر قائم شدہ مقدمہ کا فیصلہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ اس کے مطابق انہیں قتلِ غیر عمد،اور غیر قانونی قتل کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ لیکن انہیں اقدام قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا چار سال قید ہے۔ ان کے وکلا اور پولس یونین اپنے جارحانہ رویہ پر قائم ہیں۔ ان کے وکیل اس فیصلہ کو جامد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ورنہ وہ اپنا اپیل کا حق استعمال کریں گے۔ اس دوران پولیس افسر جیمز فرسیلوؔ پوری تنخواہ کی سہولت کے ساتھ معطل رہیں گے۔

سامی یتیم ؔ کے اہلِ خانہ نے ٹورونٹو پولیس پر غیر ضروری موت کے خلاف ایک شہری مقدمہ بھی قائم کیاہے۔ اس نوجوان کی ماں اور بہن اس مقدمہ کے ہر قدم پر ثابت قدمی سے موجود رہیں ہیں۔اور ان کا مطالبہ ہے کہ اس ضمن میں عدالتی کمیشن کی ہر سفارش پر عمل درآمد ہو ، اور یہ کہ وہ اس وقت تک اس معاملہ میں شریک رہیں گی جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ آیندہ اس طرح کوئی نوجوان اپنی جان نہیں گنوائے گا، اور پولس افسر ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں گے۔

ٹورنٹو کے عام شہریوں میں سے سب اس مقدمہ کے فیصلے پر خوش نہیں ہیں، بعض کے نزدیک پولیس افسر کو دی گئی سزا نا کافی ہے۔ لیکن پاکستانی اور مسلمان دم سادھے بیٹھے ہیں۔ اُن سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ، ’منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے‘۔

Comments are closed.