ولی کامل حضر ت مولانا محمد علی جناح المعروف قائد اعظم

سید نصیر شاہ
use3349

ڈاکٹرصفدر محمود صاحب نے اپنے مضمون ( روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور29اکتوبر2011ء صفحہ نمبر6) کو ذیلی عنوان دیا ہے’’ایک اہم تاریخی راز سے پردہ اٹھتا ہے‘‘ ۔ڈاکٹر صفدر محمود جیسے خود ساختہ محققین اسی طرح کی بازی گری سے تاریخ کا پلستر بگاڑتے چلے آتے ہیں عجیب اور چونکادینے والے عنوانات دے کر او رسرخیاں جماکر’’دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا‘‘۔

قائد اعظم محمد علی جناح ایک اسماعیلی مذہب سے وابستہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ قائداعظم کے قریبی دوست ایم اے ایچ اصفہانی نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ میں بطور گواہ جوشہادت دی اس سلسلہ میں اسی کو کافی سمجھا گیا ہے ہم بھی وہ شہادت درج کئے دیتے ہیں اصفہانی صاحب نے کہا:۔’’میں سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں کیمبرج میں انڈر گریجوایٹ کے طور پر تعلیم حاصل کررہا تھا جب مجھے قائداعظم سے رابطہ کا شرف حاصل ہوا۔ ایک شام میری ان سے ان کے مسلک پر بات چیت ہوئی انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا تعلق آغا خانی خوجوں سے تھا۔1890ء میں وہ انگلینڈ سے بارایٹ لاء کر آئے اس وقت آغا خانی مسلک سے تعلق جاری رکھنے پر انہوں نے غوروخوض کیا او رآغا خانی یا اسماعیلی مسلک چھوڑنے اور اثنا عشری عقیدہ اپنانے کا فیصلہ کیا‘‘(قائداعظم کے خاندانی تنازعے از خالد احمد ص24)۔

تاہم مذہب کے معاملہ میں وہ کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ انگلینڈ میں ایک عرصہ گزار نے کے باعث وہ حرام وحلال میں بھی تمیز نہیں کرتے تھے اور ایک مدت تک خنزیر کا گوشت کھالینے سے بھی احتراز نہیں کرتے تھے۔ قائداعظم کے معاون وکیل اور مسلم لیگ کے ابتدائی دور کے سیکرٹری ایم سی چھاگلہ کے بیان کے مطابق ’’ ایک روز جب بمبئی میں مسٹر جناح اور چھاگلہ مسٹر جناح کی الیکشن مہم پر تھے تومسزرتی یعنی بیگم جناح، مسٹر جناح کی آرام دہ لیموزین کار چلاتے ہوئے ٹاؤن ہال آئی اور ایک ٹفن باسکٹ لے کر کار سے نکلی اور ہماری طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا مسٹرجے۔ (رتی، جناح کو اسی طرح مخاطب کرتی تھیں) اندازہ لگاؤ کہ میں تمہارے لنچ کے لئے کیا لائی ہوں‘‘؟ مسٹر جناح نے جواب دیا ’’میں کیا جان سکتا ہوں‘‘ اس نے جواب دیا ۔ میں تمہارے لئے خنزیر کے گوشت کے بڑے پیارے لذیز سینڈوچ لائی ہوں‘‘ جناح ہڑبڑا کر رہ گئے او ربول اٹھے ’’او خدا، رتی یہ تم نے کیا کیا۔ کیا تم چاہتی ہو کہ میں الیکشن ہار جاؤں کیا تم جانتی نہیں کہ میں جدا گانہ انتخاب کی مسلم سیٹ پر بطور امیدوارالیکشن لڑرہا ہوں اور اگر میرے ووٹروں کو معلوم ہوجائے کہ میں خنزیر کے گوشت سے بنے سینڈوچ کھاتا ہوں تو وہ مجھے کس طرح ووٹ دیں گے‘‘ اس پر مسز جناح کا چہرہ لٹک گیا او ر وہ تیزی سے ٹفن اٹھائے بھاگتی ہوئی نیچے گئی اور گاڑی اڑاتی چلی گئی۔
Roses in December by M.C Chhagla, P118-119

برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ حکومت پاکستان نے قائداعظم کی صحیح ترین سوانح حیات لکھنے کے لئے مغربی مصنف سٹینلے والپرٹ کی خدمات معاوضہ پر حاصل کی تھیں۔ مسٹر والپرٹ کو قائداعظم کا آفیشل بائیو گرافر کہا جاتا ہے والپرٹ نے’’جناح آف پاکستان ‘‘کے نام سے یہ کتاب لکھ دی۔ چھاگلہ کی کتاب کا مندرجہ بالا اقتباس والپرٹ نے بھی اپنی تصنیف کے صفحات78،79درج کیا ہے یہ کتاب1984ء میں شائع ہوگئی لیکن قائداعظم پر’’تقدس ‘‘ اور تطہیر‘‘ کا جامہ فٹ کرنے کے عادی اربابِ بست وکشاد کو سچائی کی بعض جھلکیاں پسند نہ آئیں اور کتاب کی تقسیم پر پابندی لگادی گئی(بحوالہ ’’توصاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہواراہی‘‘از نور محمد قریشی ایڈووکیٹ ص50)۔

خیال رہے کہ جس الیکشن کایہاں ذکر کیا گیا ہے وہ 1923ء کا بمبئی کی مسلم سیٹ کا الیکشن تھا۔ اور اس وقت قائداعظم کو سیاست میں ناموری حاصل کئے کافی عرصہ گزرچکا تھا نیز وہ ایک مسلم لیڈر کی حیثیت سے میدان عمل میں تھے اور امتیازی تشخص حاصل کرچکے تھے اُس وقت بھی ان کی یہ حالت تھی۔ یہ نہ سمجھاجائے کہ اپنی بیگم کا ’’لذیز کھانا‘‘ انہوں نے واپس کیا تو وہ خنزیر کے گوشت سے پرہیز اپنا چکے تھے، نہیں بالکل نہیں، کیونکہ چھاگلہ صاحب مندرجہ بالا واقعہ کے بعد لکھتے ہیں۔

’’پھر یعنی بیگم جناح کو واپس کرنے کے بعد ہم بمبئی کے مشہور ریسٹورنٹ ’’کارنیلی گا‘‘ گئے جناح نے دوکپ کافی، ایک پلیٹ پیسٹری اور ایک پلیٹ ’’خنزیر کا بھنا ہوا گوشت‘‘ (پورک ساسجز) کا آرڈر دیا جب ہم کافی پی رہے تھے اور’’خنزیر کے قیمہ‘‘ سے لطف اندوز ہورہے تھے تو ایک معمر باریش مسلمان ہمارے پاس آگیا اس کے ساتھ اس کا دس سالہ بیٹا بھی تھا۔ ظاہر تھا کہ انہیں ٹاؤن ہال کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ لڑکا پورک ساججزکی طرف ہاتھ بڑھارہا تھا، کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اس نے کچھ اٹھاکر منہ میں ڈال لیا اور جب وہ جارہا تھا تو اس کے چہرے سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ خوب لطف اندوز ہورہا ہے۔ میں یہ سب کچھ پریشانی سے دیکھتا رہا کچھ دیر کے بعد وہ چلے گئے اور جناح نے میری طرف دیکھتے ہوئے غصہ سے کہا ’’چھاگلہ تمہیں شرم آنی چاہئے، تم نے لڑکے کو کیوں پورک ساججزتک پہنچنے دیا‘‘ میں نے کہا’’اس اچانک مرحلہ پر میں نے اپنے دل ودماغ کو پوری طرح مستعد کرکے سوچا کہ میں جناح کو الیکشن میں ناکام کرادوں یا لڑکے کو حرام کھانے دوں اور میرا فیصلہ تمہارے حق میں تھا‘‘(ایضاً)

آپ جان گئے ہوں گے کہ خنزیر کے گوشت سے پوری طرح پرہیز شروع نہیں ہوگیا تھا کیونکہ ریسٹورنٹ میں آکر بھی وہی منگایا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہاں بھی جناح کسی حدتک اسی طرح کی صورت حال سے دو چار ہوگئے تھے جس سے بچنے کے لئے انہیں اپنی محبوب بیوی کے دل کو دکھی کرنا پڑا تھا۔ وہاں خطرہ تھا کہ بہت سے لوگ تھے کوئی بھی بے تکلفی سے آکر لنچ میں شریک ہوجاتا او رپھر بدنامی شروع ہوجاتی یہاں ریسٹورنٹ میں بھی شاید یہ معمر باریش انسان اپنے لڑکے کے ساتھ اسی طرح کی کوئی کمزوری سونگھنے آیا تھا۔ لڑکے کے ہاتھ بڑھانے پر چھاگلہ صاحب نے سوچا اگر وہ اسے روکتا ہے تو باریش آدمی شک میں پڑکر شوراٹھاسکتا ہے اس لئے انہوں نے جناح کو بچالیا او رلڑکے کو حرام کھانے دیا۔ اس واقعہ سے نور محمد قریشی ایڈووکیٹ یہ نتائج اخذکرتے ہیں۔

’’۔1۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مسٹر جناح ہیم سینڈوچزبہت رغبت سے نوش فرماتے تھے البتہ اس بات کا اہتمام ضرور کرتے کہ ان کے حلقہ انتخاب کے مسلمان اس سے بے خبر رہیں۔2۔ اگر مسٹر چھاگلہ کو معلوم تھا کہ مسٹر جناح خوردونوش میں حرام وحلال کی تمیز روانہیں رکھتے تو مسلم لیگ کے طبقہ اولیٰ کی قیادت میں دوسرے ساتھیوں کو بھی ضرور معلوم ہوگا۔ لیکن انہوں نے اس سے صرف نظر کیا تو کیوں؟ اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے اور وہ وجہ یہی ہے کہ وہ تقریباً سب کے سب خود بھی خوردونوش میں حرام وحلال کی تمیز سے بے نیاز ہوں گے‘‘(توصاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی‘‘ ص53)۔

رتی جناح، قائد اعظم کی محبوب بیوی تھیں یہ دونوں کی محبت کی شادی تھی وہ پارسی تھیں قائداعظم ان سے ستائیس سال بڑے تھے۔ لڑکی نے اپنے مذہب اور اپنے والدین سے بغاوت کی اور کورٹ میرج کرلی وہ آزاد خیال جوان لڑکی ’’جوانی دیوانی‘‘ کی مستیوں میں ڈوب کرایسا کرگئی مگر عمر کا اتنا بڑا تفاوت رنگ لایا۔ قائداعظم نے اس کے ساتھ چلنے کی بہت کوشش کی مگر یہ سنجیدہ متین او رسردمزاج سیاست دان بیگم کے ساتھ نہیں بھاگ سکتا تھا۔ اس لئے تقریباً پانچ سال کی رفاقت کے بعد رتی ٹوٹ گئی، اپنی زدواجی زندگی سے بددل ہوکر اس نے نشہ کا سہارا لیا۔بیمار جوگیانہ تصوف کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھی۔ رتی مسلمان آداب معاشرت سے واقف تھی نہ ان کی پرواکرتی تھی اور قائداعظم اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ سب جانتے اور مانتے ہیں کہ خواتین کو عریانی مغرب نے سکھائی لیکن معلوم ہوتا ہے محترمہ رتی لباس کے معاملہ میں اتنی عریانی پسند تھیں کہ خود مغربی خواتین بھی اس بے باکی پر شرماتی تھیں۔

حکومت پاکستان کے حکم سے قائداعظم کی’’مستند‘‘ سوانح عمری لکھنے والے جناب سٹینلے والپرٹ نے ایک واقعہ لکھا ہے۔(ترجمہ:۔ ہنی مون سے واپسی کے جلد بعد مسٹر جناح کو بمبئی کے گورنمنٹ ہاؤس میں ایک ضیافت پر بلایا گیا رتی بیگم پیرس فیشن کے بہت کھلے گلے والے ایوننگ گاؤن پہنے ہوئے تھیں۔ لیڈی ولنگڈن نے فوراً اپنے نوکر کو کہا کہ وہ مسز جناح کو جسم ڈھانپنے کے لئے گاؤن لادے تاکہ اُسے سردی محسوس نہ ہو۔ مسٹر جناح نے نوکر کے واپس آنے تک انتظار نہ کیا اپنی میزبان کی بات کو ہتک سمجھتے ہوئے تیزی سے اٹھے اور کہا’’بیگم جناح کو سردی محسوس ہوتی تو وہ خودگاؤن‘‘ مانگ لیتی اپنی بیگم کو احتجاجاً اٹھایا اورڈنر چھوڑ کر چلے گئے۔(جناح آف پاکستان صفحہ56)۔

یہ نہ سمجھاجائے کہ بیگم جناح انگریز ارباب کار کی دعوت میں ان لوگوں جیسا لباس پہن کرگئی تھیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ لباس کے معاملہ میں زیادہ بے باک تھیں قائداعظم کے معاون خاص چھاگلہ صاحب مندرجہ بالا واقعہ بیان کرکے لکھتے ہیں۔
(
ترجمہ:۔ مجھے بمبئی کے گلوب سینما میں ہونے والا وہ جلسہ بھی یاد آتا ہے جب مسٹر جناح لیگ کے صدر تھے او رمیں سیکرٹری تھا۔ چونکہ مجھے انتظامات کی دیکھ بھال کرنا تھی اس لئے میں ہال میں بہت پہلے پہنچ گیا تھا۔ بیگم جناح اُسی طرح کے نیم برہنہ لباس میں آگئیں جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے وہ آکر سٹیج پر اپنے لئے مخصوص کردہ سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ہال باریش مولویوں او رمولاناؤں سے بھرا ہوا تھا وہ ناک بھوں چڑھائے میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا کہ وہ خاتون کون ہے؟ او رمجھے کہا کہ اس خاتون کو کہا جائے کہ وہ ہال سے نکل جائے کیونکہ جو لباس اس نے پہنا ہوا ہے وہ اسلام کی نگاہ میں انتہائی قابل اعتراض ہے میں نے انہیں کہا کہ وہ آنکھیں بند کرلیں کہ جس خاتون پر انہیں اعتراض ہے وہ جناب صدر مسلم لیگ کی بیگم ہے او رمیرے لئے ناممکن ہے کہ میں اس سے ہال چھوڑدینے کو کہوں‘‘)۔Roses ۔in December by M.C Chhagla pate 120-121

کسی آدمی کا ماضی اس کے مستقبل پر مسلط نہیں رہتا اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بیگم کی وفات کے بعد جس طرح یہ انسان لوہے او رپتھر کا انسان ہوگیا تھا اسی طرح اس نے اپنے عقائد واعمال میں بھی تغیر پیدا کرلیا ہوگا مگر اس معاملہ پر بھی تاریک پردے پڑے ہوئے ہیں او رحقیقت حال معلوم کرنا ناممکن ہے۔ مجھے یاد ہے تحریک قیام پاکستان کے دوران احراری علماء قائداعظم کے متعلق عجیب عجیب باتیں کرتے ان کا موضوع یہی ہوتا کہ مسلم لیگ کا قائداعظم اسلام سے کو سوں دور ہے وہ یہاں تک بتاتے کہ قائداعظم کو جب کلمہ پڑھایا گیا تو انہوں نے کہا۔
“I Know Muhammad, i know Allah, but who is the Third Gentleman “Rasoolallah.”
(
یعنی میں محمد او راللہ کو تو جانتا ہوں لیکن یہ تیسرا شریف آدمی رسول اللہ کون ہے)

اس طرح کی کئی باتیں اڑائی جاتی رہیں مگر ان کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں۔ چھاگلہ اور والپرٹ کی جو ایک دوباتیں ہم نے لکھی ہیں انہیں جھٹلانے کی کوئی وجہ نہیں آتی۔ مسٹر جناح کو چودہ سال کی عمر میں میٹرک پاس کرنے کے بعد بارایٹ لاء کرنے کے لئے انگلینڈ بھیج دیا گیا۔ ان کا خاندان اسماعیلی مذہب سے وابستہ تھااو راس مذہب کا اسلام سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ یقیناًانگلینڈ کی معاشرت اور علمی فضاؤں نے انہیں متاثر کیا ۔

یہ نوعمر لڑکا وہاں گیا تو اس کا ذہن صفحہ سادہ تھا وہاں کے تمدن نے اس پر اپنی مرضی کی تحریر لکھی۔ وہ ایک بے انتہا ذہین اور باصلاحیت انسان تھے۔ انہوں نے اپنے رستے آپ بنائے او رنامور قانون دان ہوکر سیاست میں قدم رکھا وہ مسلمانوں سے آگے تھے، ان پر عدی برتری بھی رکھتے تھے۔ ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی تو ان کی اکثریت ہوگی اور ایسی صورت میں ہمیشہ اندیشہ رہتا ہے کہ اکثریت اقلیت کا استعمال کرے گی وہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے تھے او ریہی ان کی سیاست کا محور تھا۔ 

وہ خود کو مسلمانوں کا ایک وکیل سمجھتے تھے۔ انہوں نے کبھی اسلام کا عالم اور مسلمانوں کا مذہبی پیشوا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا نہ انہوں نے کبھی یہ کہا کہ وہ پابند شرع محمدی ہیں۔ انہوں نے پوری دیانت داری سے ہندومسلم اتحاد کی کوششیں جاری رکھیں اور’’سفیر اتحاد‘‘ کا لقب پایا آخر جب انہوں نے اپنی کوششوں کی لاحاصلی دیکھی تو مایوس ہوکر انگلینڈ چلے گئے اور وہاں سکون سے رہنے لگے’’وہاں سے وہ کس طرح واپس آئے‘‘اس موضوع پر ہم نے اپنی کتاب’’چند شامیں فکر اقبال کے ساتھ‘‘ میں کھل کر بحث کی ہے۔ بہرحال وہ جس طرح بھی واپس آئے اوریہاں آکر انہوں نے ہندومسلم اتحاد کی سفارت ترک کردی او راپنے آپ کو صرف مسلمانوں کا لیڈر بنادیا۔ مسلمانوں کے لئے الگ وطن حاصل کرنا مطمح نظر ٹھہرا۔ اب وہ یہ کہنے لگے کہ قوم وطن سے نہیں بلکہ مذہب سے بنتی ہے اس لئے مسلمان جداگانہ قوم ہے او راسے الگ وطن درکار ہے ۔ 
یہ باتیں وہ آدمی کررہا تھا جو مذہب اسلام سے کوئی خاص واقفیت نہیں رکھتا تھا اسلام کے متعلق اس کا علم زیادہ سے زیادہ اتنا ہی تھا جتنا پارسی مصنف ڈی۔ ایف ملا نے اپنی کتاب ’’محمڈن لاء‘‘ میں لکھا تھا۔ ایم اے ایچ اصفہانی کی یہ شہادت ہم درج کرچکے ہیں جس میں قائداعظم نے کہا تھا کہ انگلینڈ سے واپسی پر انہوں نے اسماعیلیت چھوڑدی اور اثناعشری شیعہ ہوگئے۔ ایسا کیوں ہوا اور کیا وہ صحیح معنوں میں اثناعشری شیعہ تھے؟ اس سوال پر ایک مصنف نور محمد قریشی ایڈووکیٹ لکھتے ہیں۔

’’انگلستان سے واپس آنے پر انہوں نے خود کو آغا خانی کی بجائے اثناعشری ڈیکلےئر کردیا اس لئے نہیں کہ تقابلی مطالعہ کے بعد انہوں نے آغاخانی مسلک کو غلط اور اثنا عشری مسلک کو برحق پایا بلکہ اس لئے کہ آغا خانی خود کو مسلمان کلیم ہی نہیں کرتے جبکہ اثنا عشری خود کو مسلمان کلیم کرتے ہیں۔ مسلک میں تبدیلی کا یہ فیصلہ ان کی سیاسی ضرورت تھا کیونکہ انہوں نے جداگانہ طرز انتخاب کی وجہ سے مسلمانوں سے ووٹ لینے تھے۔ ویسے اثنا عشری سے خود کو منسلک کرنے کی باوجود انہوں نے کبھی محرم کی مجالس میں شرکت نہ کی اور نہ کبھی ماتم کیا جبکہ کوئی شخص اثنا عشری ہوہی نہیں سکتا اگر وہ محرم کی مجالس میں شرکت نہ کرے یاماتم نہ کرے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دل سے اثنا عشری بھی نہ تھے‘‘(توصاحب منزل ہے کہ بھٹکاہواراہی ص170)۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ نماز پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ پرانے مسلم لیگی او رقائداعظم کے قریبی رفیق جناب یوسف ہارون تھے۔ یہ سرعبداللہ ہارون کے صاحبزادے تھے۔ ان سے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور کے ایک پینل نے انٹرویو کیا اس پینل میں مبشر میر، نجم مرزا اور نسیم الدین شامل تھے یہ انٹرویو2008ء میں لیا گیا۔ اس وقت یوسف ہارون کی عمر نوے برس تھی اس عمر میں کسی آدمی پر جھوٹ بولنے کا احتمال بہت کم رہ جاتا ہے۔ سوال کرنے والوں نے قائداعظم کے لبرل ازم پر پوچھا تویوسف ہارون نے کہا۔
’’
ہاں وہ لبرل تھے پہلی دفعہ جب انہوں نے نماز پڑھی تو میرے ساتھ جامع مسجد گئے تھے اور مجھے کہا’’ یوسف نماز کس طرح پڑھنی ہے‘‘ میں نے کہا’’ جس طرح میں کروں اسی طرح آپ کرتے جائیں‘‘ امام صاحب نے جب دیکھا قائداعظم ان کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے نماز ہی لمبی کردی‘‘(روزنامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور میگزین سیکشن12اکتوبر 2008ء)۔

یہ چند واقعات ایسے لوگوں کے بیان کردہ ہیں جن کے متعلق کسی سطح پر بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ قائداعظم کے خلاف معاندانہ جذبات رکھتے تھے۔ ان سے قائداعظم کی جو تصویر بنتی ہے اس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ صحیح او رسچی تصویر ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ قائداعظم کی زندگی میں ہی اس تصویر میں اپنی خوش ذوقی کے تحت قائداعظم کی برگزیدگی کے رنگ بھرنے شروع کردئیے گئے او ران کے مقبولِ بارگاہ خداوندی ہونے کے معروضاتی ثبوت گھڑنے شروع کردئیے گئے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی کوشش مولانا شبیر احمد عثمانی سے منسوب ہے۔ اس کی تفصیل مسلم لیگ کے ایک سرکردہ رہنما سردار شوکت حیات نے اپنی خودنوشت میں دی ہے۔

’’مولانا شبیر احمد عثمانی جو دیوبندی فرقہ کے نامور عالم دین تھے انہوں نے ایک رات خواب میں اپنے ایک مرحوم استاد کو دیکھا اس استاد نے مولانا عثمانی کو اپنا ایک خواب سنایا۔ کہ’’ان کے استاد نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں اپنے گھر سے باہر آتے دیکھا وہاں تمام ہندوستان اور دیوبند کے علماء صف بستہ کھڑے تھے تاکہ انہیں حضورؐ خطاب کریں۔ قطار کی دوسری طرف حضور صلعم نے ایک دبلے پتلے لمبے یورپی لباس پہنے عمر رسیدہ آدمی کو دیکھا جو ملاقات کا منتظر تھا۔ لوگوں نے کہا کہ وہ مسٹر جناح ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کی جانب پشت کردی اور سیدھے جناح کی طرف گئے او راسے سینے سے لگالیا۔ یہ خواب سنا کر خواب میں ہی مولانا عثمانی کو حکم دیا قائداعظم کے پاس جاؤ او راس کے سیاسی مریدبن جاؤ چنانچہ خواب سے بیدار ہوکر مولانا نے قائداعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا قائدنے نواب شمس الحسن آفس سیکرٹری مسلم لیگ کو مولانا کے قیام دہلی کے دوران ان کی مناسب دیکھ بھال کا حکم دیا‘‘۔(’’گم گشتہ قوم‘‘ از سردار شوکت حیات خان ص284)۔

قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو مقبول بارگاہ خداوندی ثابت کرنے کی کوششوں میں تیزی آگئی۔ ولی کامل تو انہیں ثابت کیا جاچکا تھا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کو ان کے ایک مرحوم استاد خواب میں مل کہ اپنا وہ خواب سنا چکے تھے جس میں تمام علمائے دیوبند کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر انداز کرکے قائداعظم کو سینے سے لگایا تھا۔ اب یہ کوششیں ہونے لگیں کہ انہیں عالم دین ثابت کیا جائے۔ اس سلسلہ میں بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب جناب مولوی غلام مرشد صاحب سرگرم ہوگئے اور انہوں نے ایک دومضامین میں لکھا کہ دوران ملاقات قائداعظم نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیا۔ وقت گزرتا گیا او رقائداعظم کی برگزیدگی کے قصے تصنیف ہوتے گئے۔ اُنہیں مولانا ثابت کرنے کے لئے ایک اور صاحب نے قلم توڑدیا انہوں نے لکھا۔’’حضرت قائداعظم اور ان کا پورا خاندان سیدھے سادے عقائد رکھنے والے مسلمان تھے۔ قائداعظم نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی او ربہادریارجنگ سے قرآن باتفسیر پڑھا‘‘ (مقالہ ’’حضرت قائداعظم او راسلامی نظریہ جمہوریت‘‘ مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت لاہور 30دسمبر 2005ء)۔

خطرہ یہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں شیعہ پاکستان کے مالک نہ بن بیٹھیں کیونکہ قائداعظم شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سواب یہ کہہ دیاگیا کہ انہوں نے باقاعدہ دیوبندی عالم دین مولانا تھانوی سے قرآن باتفسیر پڑھا تھا۔ خیر کچھ بھی ہو یہ کوشش تو سامنے آگئی کہ قائداعظم مولانا بھی تھے او رعلوم قرآن کی تحصیل میں انہیں مولانا اشرف علی تھانوی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔

قائداعظم کو ولی کامل اور مولانا بنانے کے ساتھ ایک اور کام بھی شروع کردیا گیا اور قائداعظم کی کوششوں سے جو ملک حاصل ہوا اُسے بھی منشاء ومقصود خداوندی سمجھاگیا۔ اُس پر تقدیس وتظہیر کی چادریں ڈالی گئیں اُسے عطائے رب کریم کہہ کر مملکت خداداد کا نام دیا گیا اس طرح زمین پر گویا ایک او رحرم وجود میں آگیا اور اس کی حفاظت خداکی ذمہ داری ہوگئی۔ اس ملک کے مقصود خداوندی ہونے کے لئے سب سے بڑی دلیل یہ لائی گئی کہ یہ ملک 27رمضان بروز جمعۃ الوداع وجود میں آیا اس سلسلہ میں ائیر کموڈ ور طارق مجید صاحب اپنی تصنیف
“The Divine imptrint on the birth of Pakistan”
منظرعام پر لائے جس میں تان یہیں پر ٹوٹتی ہے کہ
“This Country was brought being at a most blessed time” P.69″
کتاب میں کہا گیا کہ اکثر علماء کے نزدیک لیلۃ القدر 27رمضان کو او ربالخصوص جمعۃ الوداع کو ہوتی ہے پس جو ملک ایسی تقدس مآب ساعتوں میں وجود پذیر ہوا اس کے متبرک ہونے میں کس کو شک ہوسکتا ہے۔ ادھر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اس ملک کے وجود میں آنے سے کروڑوں مسلمان بے گھر ہوئے۔ محتاط اندازہ کے مطابق پندرہ لاکھ انسان قتل ہوئے اور نوے ہزا رمسلمان خواتین کوبے آبرو کیاگیا۔ اس لئے اس ملک کی پیدائش کو مودودی صاحب کے ماہنامہ ترجمان القران میں’’درندے کی پیدائش‘‘ سے تعبیر کیا گیا۔ ادھر برصغیر میں قتل وغارت کا بازار گرم تھا۔ انسان ظلم کی قہرمانی چکی میں پس رہے تھے انسانی خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی ادھر پاکستان کے گورنر جنرل ہاؤس کراچی میں ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں غیر ملکی سفیر، ملکی ارباب بست وکشاد مدعوتھے اس دعوت کا حال اس میں شرکت کرنے والے ایک مہمان سے سنئے وہ لکھتے ہیں۔

’’میرا گمان تھا یہ پرائیویٹ دعوت ہوگی لیکن وہاں پہنچنے پر پتہ چلا کہ او ربہت سے حضرات مدعو تھے۔ ڈنر سے پہلے سب مہمان ایک صف میں کھڑے ہوئے مسٹر جناح او ران کی بہن فاطمہ جناح آئیں اور سب سے مصافحہ کیا چونکہ میں ترکاری کھاتا ہوں اس لئے میرے لئے ذرا دقت تھی۔ اعلیٰ قسم کی شرابیں خوبصورت بوتلوں میں تھیں۔ شرابوں کے نام چاندی کے چھوٹی چھوٹی تختیوں پر کھدے ہوئے تھے یہ تختیاں چاندی کی زنجیروں میں بوتلوں پر لٹک رہی تھیں۔ شراب کا دور چل رہا تھا گلاس بھرے او رخالی کئے جارہے تھے ،نہ پینے والے گلاس آگے بڑھا دیتے‘‘ (’’پاکستان، قیام اور ابتدائی حالات‘‘ از سری پرکاش ہائی کمشنر بھارت برائے پاکستان مترجم محمد حمایت الحسن ص56)۔

یہ اس ملک کا جشن میلاد تھا جو’’پاک لوگوں‘‘ کے وطن کے طور پر وجود میں لایا گیا او رجس کانام ہی ’’پاکستان‘‘ رکھا گیا۔ یہ ملک خدا اور رسول کی منشاء کے مطابق وجود میں آیا تھا اس لئے دعویٰ کیا گیا کہ اس ملک کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ دانشوروں نے یہی لکھتے رہنے پر اپنا زور قلم صرف کیا او رآج تک کرتے چلتے آرہے ہیں۔ 

ہم بتاچکے ہیں کہ قائداعظم کے برسر حق ہونے کی دلیل ایک خواب بناتھا جو مولانا شبیر احمد عثمانی کو ان کے ’’ایک‘‘ مرحوم استاد نے خواب میں آکر بتایا تھا اس کہانی میں کچھ جھول تھے جنہیں دور کرنے کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔ اب ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے چوہدری فضل حق(سابق آئی جی بلوچستان، سندھ، پنجاب وسابق وفاقی سیکرٹری داخلہ) کی روایت بیان کی ہے کہ انہیں خود مولانا شبیر احمد عثمانی نے بتایا تھا کہ خود قائداعظم نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں(قائداعظم کی خواب میں حضور ؐ نے حکم دیا تھا’’محمد علی واپس ہندوستان جاؤ اور وہاں کے مسلمانوں کی قیادت کرو‘‘ او رقائداعظم اسی حکم کی تعمیل میں واپس آئے اور مسلم لیگ کے تن مردہ میں جان ڈال کر تحریک کاآغاز کیا او رپاکستان حاصل کرلیا۔ مولانا عثمانی نے یہ بھی بتایا کہ قائداعظم نے اپنا یہ خواب سناکرتا کیدکی تھی کہ ان کی زندگی میں یہ خواب کسی کو نہ بتایا جائے۔ چوہدری فضل حق نے فرمایا میرا ایمان ہے پاکستان کا مستقبل نہایت روشن ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود نے اسی بات پر لکھا’’ ایک تاریخی راز سے پردہ اٹھتا ہے‘‘ او رمضمون کا اختتام ان الفاظ پر کیا ’’آپ مسلمان ہیں او رپاکستانی ہیں تو ذرا چند لمحوں کے لئے سوچئے کہ جس تحریک کا آغاز حضور نبی کریم ؐ کے حکم پر ہوا جو ملک 15اگست1947ء کو رمضان کی ستائیسویں کو لیلۃ القدر کے مبارک موقع پر جمعہ کے مبارک دن معرض وجود میں آیا کیا اس کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیا اس کے قائم ودائم رہنے میں شک کیا جاسکتا ہے۔ کیا اس ملک پر سایہ خدائے ذوالجلال سے انکار کیا جاسکتا ہے؟‘‘

لیجئے کہانی صاف ہوگئی سارے جھول دور ہوگئے خواب خود قائداعظم نے دیکھا اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست انہیں پاکستان حاصل کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح ملک چونکہ خدا اور رسول کے حکم پر وجود میں آیا اس لئے ناقابل تسخیر ہے اور اس کا مستقبل بڑاتابناک ہے۔ مگر کوئی کہے کہ یہ ملک توٹوٹ چکا اور آبادی کے لحاظ سے اس کا آدھے سے زیادہ حصہ الگ ہوکر بنگلہ دیش بن چکا۔ اس ملک کی فوج جو غازیان اسلام پر مشتمل تھی اس نے بھارت کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور تقریباً ایک لاکھ لوگ دشمن کی قید میں چلے گئے تو معلوم نہیں ڈاکٹر صفدر محمود صاحب او ران کے ہم نواکیا جواب دیں گے؟

کاش ہم ایسی باتیں گھڑنے کی بجائے قائداعظم کو سیدھا سادہ مسلمان سمجھ کر ان لوگوں کی تصریحات مان لیتے جو تحریک پاکستان میں شامل لوگ کہتے رہے۔ ہم یہاں اس طرح کی ایک صراحت درج کرتے ہیں سردار شوکت حیات لکھتے ہیں۔
’’
ہمیں ان وجوہات کا علم ہونا چاہئے جن کی بناء پر مسلمانوں نے اپنے لئے علیحدہ مملکت کا قیام ضروری سمجھا۔ بنیادی طور پر مسلمانوں کو انگریزوں کے اقتصادی ومعاشی غلبے او ر ہندوسود خوروں سے نجات دلانا تھا جنہوں نے مسلمانوں کا استحصال او رخون چوس کر انہیں کمزور کردیا تھا۔ سب سے پہلے یہ بات ہر ایک کے ذہن میں واضح ہونی چاہئے کہ بانی پاکستان نے قرار داد لاہور کے فوری بعد امریکی پریس کو اک انٹرویو دیا تھا جس میں کہا تھا’’پاکستان کی حکومت مذہبی حکومت یعنی تھیاکر یسی نہیں ہوگی۔ نہ ہم ایسی خالص مذہبی حکومت پر یقین رکھتے ہیں‘‘(گم گشتہ قوم ص283)۔

لوگوں نے بھی کھل کر بتایا او رتاریخ بھی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ علماء اسلام کہلانے والے لوگ قیام پاکستان کے کٹر مخالف تھے مگر پاکستان بن گیا تو ملائیت نے یلغار کردی ملک کا حلیہ بگاڑ دیا گیا او رآج دنیا میں پاکستان دہشت گردوں کی پرورش گاہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ بچاکھچا پاکستان ہر لخطہ تباہی کی زد میں ہے او رنام نہاد دانشور قوم کو مخمور کئے دے رہے ہیں جس طرح کبھی بنی اسرائیل کہتے تھے’’ہم خداوند کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں‘‘ اور خداوند نے انہیں’’ذلت اور مسکنت‘‘ کے عذاب میں مبتلا کردیا۔ کاش ہمارے یہ برخودغلط دانشور حقیقت پسندی سے کام لیتے اور تاریخ کو تباہ کرنے سے باز آجاتے۔