مسیحیت کی ہزار سالہ دراڑ سمٹ گئی

0,,19046032_303,00

ہزار سال تک منقسم رہنے کے بعد بعد پوپ فرانسس اور پیٹریارک کیرِل بغل گیر ہوئے ہیں۔ یہ مسیحیوں کے ان دو فرقوں کے سربراہان کے درمیان قریب ایک ہزار برس بعد پہلی ملاقات تھی۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس اور روسی آرتھوڈاکس مسیحیوں کے سربراہ پیٹریارک کیرِل کے درمیان جمعے کے روز کیوبا میں ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے دوران کیوبا کے کمیونسٹ صدر راؤل کاسترو بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کو ممکن بنانے میں کاسترو حکومت کا کرادار انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سنہ 1054 عیسوی میں مشرقی آرتھوڈاکس عیسائیت رومن کیتھولِک فرقے سے علیحدہ ہو گئی تھی۔

پوپ اور پیٹریارک کے قریب آنے کی وجہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بتائی گئی ہے، جہاں اسلامی شدت پسندوں سے مقامی مسیحیوں اور ان کی عبادت گاہوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

یہی سبب ہے کہ پوپ فرانسس اور پیٹریارک کیرِل کی جانب سے جمعے کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا:۔

’’شرق الاوسط اور شِمالی افریقہ میں مسیحیوں کے پورے پورے خاندان، دیہات اور شہر نیست و نابود کر دیے گئے ہیں۔ کلیساؤں کو بربریت کے ساتھ لوٹا اور تباہ کیا جا رہا ہے اور تبرکات اور مقدس آثار کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔‘‘

دونوں مذہبی پیشواؤں نے شام اور عراق سے بڑے پیمانے پر مسیحیوں کی ہجرت پر بھی رنج کا اظہار کیا۔

اعلامیے میں یورپ سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی مسیحی جڑوں سے جڑا رہے۔ غیر مسیحی عوامل، جیسا کہ ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل سے دور رہا جائے۔

پوپ فرانسس اور کیرِل نے کیوبا کے کردار کو سراہا۔ اس ضمن میں پوپ کا کہنا تھا، ’’اگر یہ صورت حال جاری رہی تو کیوبا عالمی اتحاد کا دارالحکومت بن جائے گا۔‘‘

پوپ کیوبا میں پیٹریاک کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کے بعد میکسیکو پہنچ گئے ہیں۔ اس وسطی امریکی ملک میں وہ سیاسی اور مذہبی قیادت کے ساتھ ملاقات کریں گے اور عوامی اجتماعات سے بھی خطاب کریں گے۔

میکسیکو میں پوپ کا استقبال صدر انریکا پینیا نیاٹو اور ان کی اہلیہ نے کیا۔ میکسیکو معاشی اور سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے۔ پوپ کی خواہش ہے کہ وہ میکسیکو کے باشندوں میں ہم آہنگی کے جذبے کو فروغ دیا جائے۔

میکسیکو کے لیے روانگی سے قبل پوپ نے میکسیکو میں سیاہ فام اوتار میڈونا کے مجسمے کے سامنے عبادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میڈونا کو ’امریکاؤں کی ملکہ‘ کا درجہ حاصل ہے اور برس لاکھوں افراد میڈونا کی زیارت کرتے ہیں۔

DW

Comments are closed.