میڈیا گردی اور بچوں کا مُستقبل

ریاض حسین

Mubashir-and-DR-Shahid

معمار ساڑھے تین سال کا پھول جیسا اکلوتا بچہ ہے جس کے والدین میرے گھر کے برابر کرائے کے ایک مکان میں رہتے ہیں۔ اُس کی امی سکول میں پڑھاتی ہے جبکہ اُس کا ابو تعلیم کے سلسلے میں گھر سے باہر ہے۔ 

معمار ایک انتہائی ذہین اور خوش باش بچہ ہے۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے کبھی ہمارے گھر کے صحن میں آتا ہے۔ وہ اپنی عمر کے آس پاس کے تمام بچوں سے زیا دہ ذہین معلوم ہوتا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے وقت کے لئے ایک اور پیاجے کی ضرورت ہے جو بچوں کی نشو نما کے نئے نظریات پیش کرے کیونکہ آج کل کے بچے واضح طور پر مروجہ نظریات سے کافی آگے نکل چکے ہیں۔ 

لیکن پچھلے کئی دنوں سے معمار نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ اکثر باہر گلی میں بھی کھیلتے ہوئے دکھائی دیتا تھا ،وہکئی دنوں سے وہاں بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اپنے گھر والوں سے پوچھا تو اُنہوں نے بھی اُس کی غائب ہونے پر حیرانگی کا اظہار کیا۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ معمار کے گھر جاکر معلوم کیا جائے کہ خدا نخواستہ کوئی بیمار وغیرہ تو نہیں ہے۔ 

علیک سلیک کے بعد میں نے معمار کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ میڈیا دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی پیاری مسکراہٹ ، معصومیت، بچپنا اور بچپنے کا لا اُبالی پن کھو چکا تھا اور ایک خوف اُس کی نازک ذہن پر سوار ہو چلا تھا۔ جب معمار کی ماں یہ سب بتا رہی تھی تو میں سوچ میں گم گیا تھا کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کے کتنے اور چہرے ہیں؟ سیاسی دہشت گردی، معاشی دہشت گردی، ما حولیاتی دہشت گردی۔۔۔۔اور اب میڈیا دہشت گردی جسے مختصراً میڈیا گردی کا نام دیا جا سکتا ہے۔

چھبیس اکتوبر 2015ء کے ہولناک زلزلے میں جو معمار اپنی معصومیت کی بدولت جھٹکوں کے ساتھ جھول جھول کر خوش ہو رہا تھا ٗ وہی معمار اگلے کئی دنوں تک میڈیا پر بار بار دکھائی جانے والی تباہی ٗ لوگوں کی آہ و پکار اور حتٰی کہ گرتے مکانات اور دیواروں کے نیچے دبنے والوں کی ریکارڈ شدہ متحرک تصویریں دیکھ دیکھ کر اس قدر خوف زدہ ہو گیا تھا کہ اُس نے گھر سے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔ اُس کے تمام کھلونے صحن کے ایک کونے میں اس انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ کب معمار آئے اور اُن سے کھیلے۔ مگر معمار تو میڈیا گردی کا شکار ہوکر اپنا بچپنا ہی بھول چکا تھا۔ 

معمار کی والدہ کو اس بات کا احساس اُس وقت ہوا تھا جب پس از زلزلہ آنے والے جھٹکوں کے ساتھ اُچھلنے اور کودنے کے بجائے اُس نے رونا شروع کیا تھا ٗ اور باہر جاکر کھیلنے سے یہ کہہ کر انکا ر کیا تھا کہ کہیں زلزلہ آئے گا۔ معمار کی والدہ کے پاس اُس کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ زلزلہ سے اُن کی دیواریں بھی اُسی طرح گریں گی جس طرح ٹی وی میں دکھائے جاتے ہیں؟ 

معمار کی والدہ کو اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ اُس نے معمار کی موجودگی میں ٹی وی پر ایسے منا ظر کیوں دیکھے تھے۔ لیکن جو ہوا تھا سو ہوا تھا۔ میں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ معمار کو لیکر کچھ دنوں کے لئے گاؤں چلی جائے جہاں کی کھلی فضّا میں اس کا ذہن آسودہ ہو سکتا ہے۔

یہیں سے ہماری ناقص تعلیم کا اندازہ بھی ہوجانا چاہئے کہ والدین کی تعلیم میں اس جیسے زندگی کے کئی مسائل سے نمٹنے کا سلیقہ نہیں سکھایا جاتاہے ۔ اور نہ ہماری تعلیم کے اندر اِن مسائل کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی آنے والی زندگی کی دوسری ضروریات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ کُچھ مسائل ثقافت کے نام پر اور کچھ مذہب کے نام پرنہ ہماری تعلیم کا حصہ بن پاتے ہیں اور نہ ہی گھروں میں اُن پر بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ 

اور یہیں سے اس بات کا اندازہ لگا نا بھی مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ اس ملک میں صحافتی تعلیم کا معیار کیا ہے۔ یا زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہنا چا ہئے کہ ہمارے ہاں صحافتی اخلاق کی تعلیم کا معیار کیا ہے ۔ بصورت دیگر آج ہماری میڈیا اتنی غیر ذمّہ دار نہ ہوتی۔

تو خدا معلوم معمار جیسے کتنے معصوم بچے میڈیا گردی کی آسیب سے مجروح ہوئے ہونگے اور نجانے اس نفسیاتی خوف کے نتیجے میں اُن کے مستقبل پر یا صحیح معنوں میں قوم کی مستقبل پر کیا برے اثرات مرتب ہوئے ہونگے۔ جی ہا ں قوم کی مستقبل پر کیونکہ معمار اور اُس کے جیسے پھول بچے قوم ہی کے معمارہوتے ہیں ۔

قوم کے یہ معمار کہیں خواب میں جاگے ہوئے ہنوز محوِ خواب سائیں سرکار کی غفلت سے قحط کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو کہیں خادم اعلیٰ کی اشتہاری پھرتیوں کے با وجود انسان نما وحشی جانوروں کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔ کہیںیہ معمار قوم اطلاع کی موجودگی میں دشمن کے بیٹوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موت کا خٹک ڈانس کرتے ہیں تو کہیں یہی معمار قوم گھروں کے اندر بیٹھے بیٹھے میڈیا گردی کا شکار ہوکر نفسیاتی مفلوج بن جاتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ باز پُرس کہیں پر بھی نہیں ہے اور کسی سے بھی نہیں ہے۔ خاکم بدہن ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں قتل تو ہوتا ہے مگر قاتل کوئی نہیں ہے ٗ کرپشن تو ہوتا ہے لیکن نشان نہیں ملتا ہے۔ اور ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کی میڈیا خبر پہنچا نے کی ذمہ داری میں غیر ذمہ داری کا برتاؤ کرکے نمبر ون ہونے کا دعویٰ فخر کے ساتھ کرتا ہے۔ ایسے میں ہم قوم کے بچوں کا رونا کس سے روئیں اور اس درد کا مداوا کس سے کریں۔

2 Comments