شہاب نامہ 

ڈاکٹر پرویز پروازی

Shahab-Nama-1000x1000
’’
شہاب نامہ‘‘ قدرت اللہ شہاب کی سوانح عمری نہیں مگر عام لوگ اسے ان کی خود نوشت سوانح عمری سمجھتے ہیں ۔ اس میں ان کے لفظوں میں ’’ جن واقعات مشاہدات اور تجربات نے انہیں متاثر کیا‘‘ ان کا بے کم و کاست بیان ہے ۔ میں نے اسے خود نوشت کے زمرہ سے دو وجہ سے خارج کیا ہے ۔ اول یہ کہ اس میں شہاب صاحب کی سوانح حیات کے بنیادی نکات سامنے نہیں آتے مثلاً سوانح حیات میں زندگی کے حالات و کوائف کا بیان کم از کم ضروری ہوتا ہے شہاب صاحب نے انہیں بصیغہ ء راز ہی رکھا ہے ‘ دوسرے اس کا انداز شروع ہی سے افسانوی ہے اس لئے اسے فکشن اور فیکٹ کا مجموعہ فیکشن قرار دیا جا سکتا ہے ۔ انتظار حسین نے لکھا ہے کہ جمیلہ ہاشمی کے ہاں شہاب صاحب نے شہاب نامہ کو ناول کہہ کر سنایا تھا ۔
ہمارے ہاں میمائرز کے لئے یاداشتوں کا لفظ مروج ہے مگر یہ لفظ اس ہمہ گیریت کا جامع نہیں جو میمائرز کے لفظ میں مضمر ہے ۔ میمائرز لکھنے والے کی شخصیت کو اتنا ہمہ گیر ہونا چاہئے کہ اس نے تاریخ کو خود اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع اور تشکیل پذیر ہوتے دیکھا ہو اور اس میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ ایک کنارے پر کھڑا ہو کر ان واقعات کو صحیح تناظر میں بیان کر سکے ۔ شہاب صاحب اپنی اعلیٰ ملازمت کے دور میں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم واقعات کے گواہ ہیں اور انہوں نے ان واقعات کو اپنے سامنے رونما ہوتے ہوئے دیکھا ہے مگر ان کی کتاب پڑھنے کے بعد انداز ہ ہوتا ہے کہ انہیں تاریخ دیکھنے کا موقع تو ملا تاریخ کو روایت کرنے کا حوصلہ ودیعت نہیں ہؤا ۔ تاریخ تو تعصب سے مبرا ہوتی ہے ۔ میمائرز میں لکھنے والے کی ذات علیحدہ ہوتی ہے الگ نہیں ہوتی اسی طرح اس کی اپنی نفرتیں محبتیں وارداتیں سب ایک مناسب فاصلہ پر علیحدہ رکھی رہتی ہیں تاریخ میں ملوث نہیں ہوتیں ۔ شہاب نامہ کا مصنف تو اپنی نفرتوں اور تعصبات میں ملوث ہی نہیں لتھڑا ہؤا ہے ۔ یہ بات شہاب نامہ کو میمائرز کے زمرہ میں بھی بہت کمزور کر دیتی ہے ۔
قدرت اللہ شہاب اپنی سول سروس کی ملازمت کے دوران اتفاق سے ایسے عہدوں پر فائز رہے جن عہدوں کو با اقتدار عہدے قرار دیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں سیاسی حالات اگر معمول کی ڈگر پر چلتے رہتے تو کوئی بات نہ تھی مگر ابتدا ہی سے ہمارے ملک میں افراتفری اور طوائف الملوکی نے اپنے قدم جما لئے اس لئے بقول قدرت اللہ شہاب جب انہوں نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہایا بقول خود اپنے ماتھے کے کلنک کے ٹیکے دھونے کی سعی کرنا چاہی تو انہیں معلوم ہوا کہ لوگ ان کی باتیں سننے کے خواہشمند ہیں ۔ اس بات نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انہوں نے نمک مرچ لگا کر وہ حقائق کرداروں کا نام بدلے بغیر افسانوی انداز میں بیان کرنا شروع کر دئے کبھی دائرے کی تقریب میں ‘ کبھی حلقہ ء ارباب ذوق میں کبھی نیپا میں غرض وہ داستان جو شہاب نامہ کی صورت میں مرتب ہوئی وہ کتابی صورت میں چھپنے سے پہلے ہی مقبول ہو چکی تھی اور لوگ اس انتظار میں چشم براہ تھے کہ دیکھیں ایک محرمِ رازِ درونِ میخانہ کیا کہتا ہے ۔ 
شہاب صاحب کو شکوہ ہے کہ حفیظ جالندھری نے یہ کیوں کہا کہ جب کہیں انقلاب ہوتا ہے ۔ قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے ۔یا یہ کہ سید محمد جعفری نے یہ بات کیوں عام کر دی کہ ’’ یہ سوال و جواب کیا کہنا ۔ صدرِ عالی جناب کیا کہنا ۔ کیا لکھایا ہے کیا پڑھایا ہے ۔ قدرت اللہ شہاب کیا کہنا ‘‘ ۔ شہاب صاحب کا خیال ہے سید محمد جعفری کی شہرت کی وجہ سے یہ اشعار زبان زد عام ہو گئے مگر وہ یہ بھول گئے کہ باتیں بے پر کی باتیں نہیں تھیں ان کی ٹھوس بنیاد تھی ۔ 
شہاب صاحب نے تاریخی حقائق کے ساتھ ان ’’بے بنیاد باتوں ‘‘ کی تردید کی کوشش کی ہے اور اپنی صفائی پیش کی ہے ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات ہے کہ خود شہاب صاحب نے ایک سے زیادہ مرتبہ ایسی باتیں کی ہیں اور دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا ۔ حالانکہ ان کی باتوں کو تاریخ کے حوالہ سے جھٹلایا جا سکتا ہے ۔ محترمہ ادا جعفری بدایونی نے اپنی سرگزشت ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ میں بھی ان کی ایسی باتوں کا برا مانا ہے اور ایک خاص واقعہ کا حوالہ دے کران کی فسانہ طرازی کی تردید کی ہے اور اپنی مہذب زبان میں صرف یہ لکھا ہے کہ ’’ اس سے زیادہ ہوا تھا نہ اس سے کم ‘‘ ۔
ایک اور مثال ۔ لکھتے ہیں ’’ مہاراجہ پرتاپ سنگھ بے اولاد تھااس نے اپنی برادری کا ایک لڑکا منتخب کر کے متبنیٰ بنا رکھا تھا لیکن ہری سنگھ کے باپ راجہ امر سنگھ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو ریاست کا وارث بنانا چاہتا تھا اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے اس نے ریاست کے طول و عرض میں سازشوں کا جال بچھا دیا اس ساز باز میں راجہ امر سنگھ کو حکیم نور دین سے بڑی مدد ملی ۔ حکیم نور دین مہاراجہ رنبیر سنگھ کے زمانہ سے ریاست کا شاہی طبیب تھا ‘‘ ( صفحہ ۳۵۸) ۔ شہاب صاحب اس بات کو بھول گئے کہ وہ لکھ چکے ہیں کشمیر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے ساتھ ان کے والد ماجد کے بڑے اچھے مراسم تھے ان کی وفات پر ہری سنگھ گدی پر بیٹھا تو اس سے ان بن ہو گئی سینتالیس کی عمر میں عبد اللہ صاحب نے ملازمت سے سبک دوشی حاصل کر لی ( صفحہ ۱۱۰) چونکہ راجہ امر سنگھ اپنے بیٹے کو گدی پر بٹھانے کی ’’ سازش ‘‘ میں کامیاب ہو گیا اور ہری سنگھ سے عبد اللہ صاحب کی نہ بنی تو سارا ملبہ حکیم نور دین پر گرا دیا شہاب صاحب نے ملبہ دوسروں پر ڈالنے کا کام ایک سے زیادہ مرتبہ کیا ہے ۔ اب تاریخی لحاظ سے اس کا جائزہ لیجئے ۔
مہاراجہ رنبیر سنگھ ۱۸۵۷ء سے ۱۸۸۵ء تک تخت پر تھا ۔ حکیم نور دین وہاں سے رخصت ہو کر ۱۸۸۳ء میں اپنے وطن بھیرہ چلے گئے ۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ ۱۸۸۵ء میں مہاراجہ بنا اور ۱۹۲۵ء تک ریاست کا حکمران رہا ۔ ہری سنگھ حکیم صاحب کے قیام کشمیر کے زمانہ میں ابھی پیدا بھی نہیں ہؤا تھا۔ وہ ان کے کشمیر سے چلے جانے کے دوبرس بعد پیدا ہؤا ۔ اور۱۹۲۵ء میں تخت پر بیٹھا ۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے حکیم نوردین کو ہری سنگھ کی تخت نشینی کی سازش میں وہی شخص شریک قرار دے سکتا ہے جسے حقائق سے آنکھیں بند کرنے میں یدِ طولیٰ حاصل ہو ۔ شہاب صاحب چونکہ حکیم نورالدین جیسے ولی اللہ سے عقیدہ کا اختلاف رکھتے تھے اس لئے آپ نے تمام حقائق کو پسِ پشت ڈال دیا ۔ضمناً یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس بات کا شہاب صاحب کی سوانح سے کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے کہ شہاب صاحب ہری سنگھ کے زمانہ میں کشمیر میں پیدا ہوئے تھے ۔ 
میں نے اس مضمون کے آغاز میں لکھا تھا کہ بیسویں صدی میں لکھنے والا بے سروپاباتیں لکھنے میں آزاد نہیں کہ اب حقائق کی جانچ پرکھ بھی ہو سکتی ہے ۔ میں نے جب شہاب نامہ کا یہ حصہ دیکھا تو جستجو ہوئی کہ حقائق معلوم کروں کیونکہ میرے دادا حکیم نور الدین کے ہاتھ پر بیعت تھے اور انہیں اپنا مرشد سمجھتے تھے ۔ حکیم نور الدین صاحبِ مرقاۃ الیقین کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شہاب صاحب عقیدہ کے اختلاف میں اتنی دور تک جا سکتے ہیں کہ کھلی حقیقتوں کو جھٹلا بیٹھیں ۔ شہاب صاحب کے مرتبہ کے لوگوں کی باتوں پر عام لوگ یقین کر لیتے ہیں انہیں کیا علم ہے کہ اعلیٰ مراتب تک پہنچ جانے کے باوجود بھی بعض لوگوں میں تعصب کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں ۔ شہاب نامہ اس کی عبرت انگیز مثال ہے ۔ 
کشمیر ہی کے سلسلہ میں لکھتے ہیں :’’ ۵۲ جولائی۱۹۳۱ء کو شملہ میں فئیر ویو نامی کوٹھی میں ایک میٹنگ کے نتیجہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی ۔ اس میٹنگ میں جو حضرات شامل ہوئے ان میں علامہ اقبال ‘ نواب سر ذوالفقار علی خان ‘ خواجہ حسن نظامی ‘ نواب کنج پورہ ‘ نواب باغپت ‘ سید محسن شاہ ‘ خان بہادر رحیم بخش ‘ عبد الرحیم درد ‘ سید حبیب اسمعیٰل غزنوی ‘ صاحبزادہ عبد اللطیف اور اے آر ساغر کے نام سرِ فہرست تھے بدقسمتی سے صدارت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کر ڈالی اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر بھی وہی بن بیٹھے ‘‘ ( صفحہ۳۶۰ ) ۔ میرا یہ منصب نہیں کہ میں اس بات کی تردید یا تائید کروں ۔ عبدالمجید سالک ایڈیٹر روزنامہ انقلاب اس کمیٹی کی رپورٹ دیتے ہیں :’’ شملہ میں مقتدر اور نمائندہ مسلمانوں کا ایک اجلاس ہؤا جس میں جموں اور کشمیر کے بعض معززین بھی شریک ہوئے یہاں آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی جس کے صدر مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ منتخب کئے گئے ‘‘ (سرگزشت صفحہ۲۷۱) ۔ ’’ بن بیٹھے ‘‘ اور ’’ منتخب کئے گئے ‘‘ میں جو فرق ہے وہ ناطق ہے ۔
شہاب صاحب نے اس پر اس لئے کان نہیں دھرا کہ انہیں کشمیر کمیٹی کے منتخب ہونے والے صدر سے عقیدہ کا اختلاف تھا ۔ اس صدر کا نام علامہ اقبال نے پیش کیا تھا اور تمام حاضرین نے متفقہ طور پر مرزا صاحب سے استدعا کی تھی کہ وہ صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ پھر شہاب صاحب کا بیان : ’’آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی آڑ میں ( احمدی رہنما ) کی چالبازیاں دیکھ کر علامہ اقبال نے شملہ والی کشمیر کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ‘‘ ( صفحہ ۳۷۰ ) اس بارہ میں پھر راوی سالک صاحب ہیں ’’ جب احرار نے احمدیوں کے خلاف بلا ضرورت ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور کشمیر تحریک کے مخالف عناصر کی ہم مقصدی اور ہم کاری کی وجہ سے جو قوت پیدا ہوئی تھی اس میں رخنے پڑ گئے تو مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور ڈاکٹر اقبال اس کے صدر مقرر ہوئے ‘‘ ( سرگزشت صفحہ۳۱۵) ۔
اب قاری اس ضغطہ میں ہے کہ وہ ہم عصر اور معتبر صحافی عبد المجید سالک کی بات مانے جو ان تمام باتوں کا چشم دید گواہ تھا یا اس شخص کی جو اس وقت کھیل کود کی عمر سے گذر رہا تھا اور اب نوکرشاہی کا اہم ستون ہے اور اپنے عہدے کے بل بوتے پر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کہہ رہا ہے ۔ جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنوں۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے ۔ شہاب صاحب نے خود ہی تو لکھا ہے ’’تاریخ کی سرچ لائٹ بڑی بے رحم ہوتی ہے ‘‘ ۔ حیران ہوں کہ ان کی یہ باتیں تاریخ کی سرچ لائٹ سے کیسے بچ سکیں گی ؟
باایں ہمہ شہاب نامہ ہماری تاریخ کا ایسا ریکارڈ ہے جس کا لکھنا شہاب صاحب ہی کو سزاوار تھا کہ وہ ان میں بیشتر واقعات کے عینی گواہ تھے ۔ یہ درست ہے کہ جن واقعات کے وہ چشم دید گواہ تھے اگر وہ ٹھیک روایت ہوئے ہیں تو ان میں پڑھنے والوں کے لئے دلچسپی اور عبرت دونوں کا وافر سامان موجود ہے ۔ اگرچہ ایوانِ صدر کے ایک اور ملازم جناب محمد بشیر خالد (پی اے ٹو دی پریزیڈنٹ ) نے اپنی کتاب ’’ ایوان صدر میں سولہ سال ‘‘ میں شہاب صاحب کی بعض باتوں کو درست قرار نہیں دیا ۔ اب یہ فیصلہ کون کرے کہ کون ٹھیک کہہ رہا ہے کون غلط ؟ دونوں ایوان صدر کے اندر کے آدمی تھے ۔ 
نیشنل پریس ٹرسٹ والے باب میں شہاب صاحب نے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر سرکاری قبضہ کا ذکر بڑے ڈرامائی انداز میں کیا ہے ’’ ۱۷ اپریل ۱۹۵۹ء کی تاریخ تھی میں آرام سے سو رہا تھا کہ رات کے ساڑھے بارہ بجے میرے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ بریگیڈیر ایف آر خان فون پر بول رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ اگلی صبح میں کراچی ایر پورٹ پر پہنچ جاؤں کیونکہ ہم نے پہلے جہاز سے لاہور کے لئے روانہ ہونا ہے ۔ میں نے کہا میں صدر ایوب کی اجازت کے بغیر کیسے کراچی چھوڑ سکتا ہوں؟ علی الصبح جہاز کی روانگی سے قبل ان کی اجازت کیسے حاصل کروں گا؟ ’’ میں پریزیڈنٹ ہاؤس ہی سے بول رہا ہوں ‘‘ بریگیڈیر صاحب نے کہا ’’ صدر صاحب ابھی ایک اہم میٹنگ سے فارغ ہو کر اپنے بیڈ روم میں چلے گئے ہیں انہوں نے ہمیں اجازت دے دی ہے کہ ہم تمہیں اپنے ساتھ لاہور لے جائیں ‘‘۔
’’
کس کام کے لئے ‘‘؟ میں نے پوچھا
بریگیڈیر ایف آر خان نے کہا اس سوال کا جواب وہ ٹیلیفون پر نہیں دے سکتے ۔ اگلی صبح ہوائی اڈہ پر پہنچا تو بریگیڈیر ایف آر خان لاہور جانے کے لئے ہوائی اڈہ پر موجود تھے ۔ روانگی سے پہلے اور جہاز کے سفر کے دوران میں نے کئی بار کام کی نوعیت کے بارہ میں پوچھا لیکن کوئی ٹھیک ٹھیک جواب نہ مل سکا ۔ ۔۔۔ پردہ پوشی اور راز داری اور سکوت کی یہ فضا میرے لئے بڑا پر اسرار معمہ بنی ہوئی تھی ۔ ۔۔۔ شام کے چار بجے بریگیڈیر ایف آر خان نے نہایت راز داری سے سرگوشیوں میں مجھے بتایا کہ آج رات اچانک چھاپہ مار کر میاں افتخار الدین کی پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضہ کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ‘‘ (صفحہ ۸۲۵۔۸۲۶) اس سارے بیان کا مقصد یہ ہے کہ شہاب صاحب قاری کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ انہیں پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضہ کی اطلاع۱۸ اپریل ۱۹۵۹ء کو شام کے چار بجے ہوئی ۔
حال ہی میں حکومت پاکستان کے ایک نیک نام اور پڑھے لکھے افسر ڈاکٹر آفتاب احمد خان کے شخصی خاکوں کا مجموعہ ’’ بیادِ صحبتِ نازک خیالاں ‘‘ دانیال والوں کی طرف سے کراچی سے شائع ہؤا ہے ۔ اس کا ایک حوالہ معنیٰ نگر ہے ۔ آفتاب صاحب کرنل مجید ملک کے بیان میں لکھتے ہیں : ’’ اپریل ۱۹۵۹ء کی ایک دوپہر کو میرے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو مجید صاحب کا سٹاف ڈرائیور کھڑاتھا اور کہہ رہا تھا آپ کو صاحب نے دفتر میں یاد کیا ہے ۔ اس سے پہلے مجید صاحب نے کبھی مجھے دفتر میں نہیں بلوایا تھا مجھے حیرت ہوئی کہ نامعلوم معاملہ کیا ہے ۔ میں جب وہاں پہنچا تو مجید صاحب اس وقت اپنے کمرے میں ٹہل رہے تھے مجھے انہوں نے بیٹھنے کو کہا پھر کمرے کے دروازے بند کر دئے اور میرے قریب آکر بیٹھ گئے ۔ اس کے بعد انہوں نے نہایت سنجیدہ لہجے میں مجھ سے کہا ایک ایسا واقعہ ہونے والا ہے جس کا میرے دل پر بہت بوجھ ہے تم سے اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم اس کا ذکر کسی سے نہیں کروگے حتیٰ کہ اپنی آمنہ باجی سے بھی نہیں ۔ ( آمنہ باجی ‘ مجید ملک کی بیگم تھیں اور آفتاب صاحب کو اپنے عزیزوں کی طرح عزیز رکھتی تھیں ) ۔
میں نے یہ وعدہ کر لیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پروگریسو پیپرز لمیٹڈ یعنی پاکستان ٹائمز امروز اور ہفت روزہ لیل و نہار کو اپنے قبضہ میں لے لیا جائے اور یہ کہ اس سلسلہ میں آج شام کی گاڑی سے لاہور جا رہے ہیں ۔ مجید صاحب نے کہا میں نے اپنے طور پر اس کی بہت مخالفت کی مگر میری رائے سے کسی نے اتفاق نہیں کیا ۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے ایک فائل میری طرف بڑھا دی اور وہ نوٹ پڑھوایا ۔ جس میں انہوں نے اپنی مخالفانہ رائے قلمبند کی ہوئی تھی ۔ میں نے کہاکہ مجید بھائی سرکار میں آپ کے کچھ دوست بھی ہیں آپ نے ان سے بات نہیں کی ؟ کہنے لگے ’’ میں نے قدرت اللہ شہاب سے بات کی تھی اور اس قوی امید کے ساتھ کہ وہ اس سلسلہ میں میری ہم نوائی کریں گے ۔ آخر انہوں نے رائٹرز گلڈ وغیرہ قائم کی ہے مگر شہاب نے یہ کہہ کر مجھے ٹال دیا کہ ملک صاحب یہ مارشل لا حکومت کا فیصلہ ہے آپ اور میں اس میں کیا کر سکتے ہیں ؟ سوائے اس کے کہ جو کام ہمیں سونپا جائے اسے پورا کریں ۔ مجید صاحب نے کہا میں یہ جواب سن کر بہت مایوس ہوا اور آخر میں نے یہ نوٹ لکھنے کا فیصلہ کیا اس کے سوا میرے پاس اور کیا چارہ ء کار تھا ۔ اس موقع پر مجھے لاہور میں موجود رہنے کا حکم دیا گیا ہے سب متعلقہ لوگ بھی قدرت اللہ شہاب سمیت وہاں موجود ہوں گے ‘‘ ( صفحہ ۱۵۶۔۱۵۷) ڈاکٹر آفتاب احمد خان صاحب کے اس بیان سے شہاب صاحب کے ڈرامائی بیان کی قلعی کھل جاتی ہے ۔ ہیں ستارے کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ۔
شہاب نامہ میں ایوان صدر کے اندر کی باتیں بہت بیان ہوئی ہیں ۔ قاری یہ بھی دیکھتا ہے کہ ملک کا صدر آئین کو ردی کاغذ کہتا ہے اور پھر جب اسے منسوخ کر دیتا ہے تواس کی چھاؤں سے محروم ہو کر در بدر پھرتا بھی ہے ۔
صدر ایوب کا زمانہ چونکہ مصنف شہاب نامہ کا طویل ترین دور اقتدار تھا اس لئے ان کی شخصیت کے بارہ میں قاری کو بہت کچھ معلوم ہوتا ہے اور ان کے بارہ میں شہاب صاحب نے بے رحمی کا مظاہرہ بھی نہیں کیا اگرچہ انہیں معاف بھی نہیں کیا ۔ جہاں صدر ایوب نے مصنف کو آٹھ مربعے پیش کئے ہیں وہیں مصنف نے ایک فقرہ صدر کی کردار کشی میں لکھ ڈالا ہے کہ ’’ وہ خود زمینوں کا بہت شوق رکھتے تھے ‘‘ ۔ مگر ان کے شوق کی کوئی مثال نہیں دی ۔ جس موقع پر شہاب صاحب نے یہ فقرہ لکھا ہے وہ موقع ہرگز اس بات کے کرنے کا نہیں تھا ۔ ورنہ بچارے غلام محمد اور یحییٰ خاں تو ان کی نفرت کی زد پر رہے ۔ وہ مثالی بیوروکریٹ ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو کوئی بیوروکریٹ نہیں کیا کرتا ۔ وہ جب چاہتے ہیں بیوروکریٹ بن جاتے ہیں جب چاہتے ہیں تلوار ہاتھ میں لے کر ’’ مخالف ‘‘ پرپل پڑتے ہیں ۔
شہاب نامہ کے مصنف نے لکھا ہے کہ اچھا بیوروکریٹ بننے کے لئے چند اصولی شرائط لازمی ہیں مگر وہ ان شرائط میں یہ شرط لکھنا بھول گئے کہ اچھا بیوروکریٹ اچھا انسان بھی ہوتا ہے،عدل و انصاف اس کا زیور اور بلا خوفِ لومۃِ لائم سچ کہنا اس کا فرض ہوتا ہے ۔ شہاب نامہ پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہاب صاحب کے علاوہ جتنے لوگ کاروبارِ حکومت میں شریک تھے وہ سارے کے سارے اچھے بیوروکریٹ کے اوصاف سے عاری تھے صرف ان کی ذات ہی تمام خوبیوں کا سرچشمہ اور منبع تھی ۔ یہ کتاب ایک نیک خو آدمی کی انا پرستی کا نادر نمونہ ہے ۔ وہ منکسرالمزاج آدمی ہیں مگر تعصب میں ان کی صفت انکسار مغلوب ہو جاتی ہے ۔ وہ عدل کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی میزان ایک طرف جھکی ہوئی ہے ۔ 
شہاب نامہ ایک ایسے انسان کی سرگزشت ہے جو اپنی ذات میں دیندار مخلص مسلمان مذہبی اقدار کا پاس لحاظ رکھنے والاہے ۔ خاکِ مدینہ کو آنکھوں کا سرمہ بنانے والا اور درود شریف کو زندگی بھر کا وظیفہ بنانے والا ہے مگر ساتھ کے ساتھ پرلے درجہ کا توہم پرست اورضعیف الاعتقاد بھی ہے ۔ کٹک کی ۱۸ سول لائنز کی کوٹھی ( صفحہ۲۴۸ ) کے واقعات ان کے توہم پرست ذہن کے غماز ہیں ۔ شہاب صاحب اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے اپنے سر پر جوتے مارنے کا علاج بچپن سے کرتے آئے ہیں ( صفحہ۱۵۰ ) بلکہ بہت بڑے ہو جانے کے باوجود ان کی یہ بچگانہ عادت قائم رہی ۔ روم کے ہوائی اڈہ پر فلسطین کے خفیہ مشن پر روانہ ہوتے وقت ’’ میں نے اپنے پاؤں کا جوتا کھولا اور اسے ہاتھ میں لے کر سات آٹھ بار اپنے سر پر زور زور سے مارا غالباً اس جھاڑ پھونک سے خوف و ہراس اور کمزوری اور بزدلی کے بھوت کا سایہ اتر گیا ‘‘ ( صفحہ۱۱۲۱) ۔ اس عمل سے ان کی جو نفسیاتی پرتیں واضح ہوتی ہیں ان کا تجزیہ کرنا ماہرِ نفسیات کا کام ہے اور کسی وقت کوئی نفسیات داں ضرور ایسا پیدا ہوگا جو اس امر پر روشنی ڈالے گا ۔ اب تک تو شہاب صاحب کی افسرانہ حیثیت کا اتنا دباؤ ہے کہ لوگ ان کی ہر بات کو بلا چون و چرا ‘درست تسلیم کرتے چلے جاتے ہیں ۔ 
شہاب صاحب نے سفارت کے موضوع پر پورا ایک مقالہ قلمبند کیا ہے ۔ ظاہر ہے شہاب صاحب ایک اچھے سفیر بھی تھے ’’ یہ عجیب و غریب مخلوق ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے نظر آتی ہے ۔ ان سب کی وضع قطع تراش خراش چال ڈھال لب و لہجہ اور بندھی بندھائی پٹی پٹائی اصطلاحات و تلمیحات و محاورات پر اس محدود چار دیواری کی چھاپ ہوتی ہے جسے عرفِ عام میں ڈپلو میٹک اینکلیوکہا جاتا ہے ۔ ۔۔ گفتگو میں وہ چھپاتے زیادہ اور بتاتے کم ہیں اور ذومعنیٰ اور گنجلک بات کو ابہام کی سان پر چڑھانا ان کا خاص طرہ امتیاز ہے ۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ سفارت کاری کا فن یونانی علم الاصنام کے ایک دیوتا ہیم کے زیر سایہ جنم لے کر پروان چڑھا اور یہ نہایت دلچسپ اور معنیٰ خیز اتفاق ہے کہ یونانی دیومالا میں اسی نام کے ایک دیوتا کو بیک وقت جھوٹوں‘اٹھائی گیروں ‘ آوارہ گردوں اور لچوں لفنگوں کا سرپرست بھی مانا جاتا ہے ‘‘ ( صفحہ۱۰۲۵)۔ 
شہاب نامہ اپنے اندااز بیان الف لیلوی واقعات افسانوی تجسس انگیزی اور اپنی رواں دواں اورشگفتہ زبان کی وجہ سے ادب میں مدتوں یاد رکھا جائے گا اور اگر تاریخ کی بے رحم سرچ لائٹ نے ان کے بیان کردہ ’’حقائق ‘‘کا پردہ چاک نہ کر دیا تو اس کی تاریخی حیثیت بھی برقرار رہے گی مگر خدا معلوم شہاب صاحب نے جوش صاحب کے بے مثال انداز بیان کو اپنانے کی بھونڈی کوشش کیوں کی ہے ؟ ’’ ان بچاری میموں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ ان کی زلفوں ‘ پیشانیوں ‘ بھوؤں ‘ آنکھوں ‘ گالوں ‘ ہونٹوں ‘ دانتوں ‘ ٹھوڑیوں ‘ گردنوں ‘ سینوں ‘ بازوؤں ‘ انگلیوں ‘ ناخنوں ‘ کمروں ‘ کولہوؤں ‘ پنڈلیوں ‘ اور ایڑیوں کو فصاحت و بلاغت کے مبالغوں میں بھگو بھگو کر عجیب و غریب تشبیہوں اور استعاروں اور تلمیحوں کے سانچے میں ڈھالا جائے گا ‘‘ ( صفحہ۲۰۹)۔ 
شہاب نامہ کا ایک پہلو اور ہے جو قابلِ غور ہے کہ شہاب صاحب نے بقول خود ’’ خود احتسابی کی کدال سے اپنا اندر باہر کرید کرید کر ‘‘ یہ باتیں لکھی ہیں ( صفحہ۱۰) اور ’’ رنجشوں ‘ کدورتوں ‘ اور تنازعوں کو ہمیشہ عارضی اور دوستیوں محبتوں کو دائمی جانا ہے ‘‘ ( صفحہ ۱۱ ) ان کے والدِ ماجد نے انہیں نصیحت کی تھی کہ ’’ کسی کی پیٹھ پیچھے وہی بات کہو جو اس کے منہ پر بھی کہہ سکو ‘‘( صفحہ۱۴۵) شہاب صاحب نے اس بات کو پوری طرح نبھایا تو نہیں مگر ’’ ایک حد تک انہیں اس پر عمل کی توفیق نصیب ہوتی رہی ‘‘ ( صفحہ ۱۱) اور پھر شہاب صاحب کا کہنا ہے کہ ریٹائر منٹ کے بعد ہر سرکاری ملازم کو حق حاصل ہے کہ وطن کے دفاع اور سا لمیت کے ریاست کے راز کو فاش کئے بغیروہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو آزادی سے بیان کرے ۔۔۔ میں نے اس موقف کو اپنا کر یہ کتاب لکھی ہے دنیا بھر میں یہی چلن رائج ہے ‘‘ (صفحہ۱۸ )۔ 
خود نوشت سوانح یا میمائرز لکھنے والوں کو زمانے نے یہ حق ضرور دیا ہے کہ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات کو بیان کریں مگر یہ حق کسی نے نہیں دیا اور نہ ہی اس کا رواج ہے کہ وہ اپنی نفرتوں اور کدورتوں کو عام کریں ۔ پھر تنقیدی اجازتیں ایک طرف رکھ دیں تو بھی یہ بات نامناسب لگتی ہے۔ شہاب صاحب اول و آخر ایک مسلمان ہیں اور اچھے مسلمان ہیں مگر انہیں اس بات کا خیال نہ آیا کہ اسلامی علم کلام میں وفیات کے باب میں بنیاد ہی اُذکرُوا مَوتٰکُم بِالخَیر پر رکھی گئی ہے کہ مرنے والوں کو اچھے لفظوں میں یاد کیا کرو ۔ شہاب صاحب نے یہاں بھی اپنی روایتی بیوروکریٹ کی ٹوپی سر پر رکھ لینے کا عمل روا رکھا ہے ۔ پی ۔جی وڈ ہاؤس کی یہ بات انہیں بہت پسند ہے کہ ’’ وہ زبان پر اس قدر حاوی رہتا ہے کہ موم کی ناک کی طرح اسے جس طرح چاہے مروڑ کر اپنے بے نظیر اسلوب میں ڈھال لیتا ہے‘‘ (صفحہ۱۰۸) شہاب صاحب نے یہ سلوک تاریخ سے روا رکھا ہے ۔ انہی کے ہم عصر خود نوشت نگار صدیق سالک نے اپنی کتاب سیلیوٹ کے دیباچہ میں لکھا ہے ’’ میں نے وقائع نگاری کی آڑ میں فسانہ طرازی کی ہے نہ شخصیت نگاری کے لبادے میں کسی کی کردار کشی۔ میری نظر واقعات کی صحت اور میری سماعت ضمیر کی آواز پر رہی ہے اور مجھے خود نوشت کا اس سے بہتر اسلوب معلوم نہیں ‘‘ ( سیلیوٹ دیباچہ)۔ 
شہاب صاحب نے پتہ کی بات کہی ہے کہ ’’ انسان کے اندر ایک ایسی خود کار مشین نصب ہوتی ہے جو اندرونی اضطراب کے وقت اسے اپنی مرضی کی سکون آور گولیاں بنا بنا کر کھلاتی رہتی ہے ‘‘ ( صفحہ ۷۱۸) ۔ اس کی مثال شہاب صاحب کی انا کی گولیاں ہیں جو انہیں اندر سے مل رہی ہیں ۔ مثلاً قیام پاکستان کے معاً بعد انتظامیہ کا بوجھ انہیں افسروں کو اٹھانا تھا جو انڈین سول سروس کے لوگ تھے ۔ اتفاق یہ ہؤا کہ شہاب صاحب کی سروس اس وقت صرف سات برس تھی اور سینئر لوگ ان سے کہیں سینئر تھے ۔ ان لوگوں کے بارہ میں ان کا یہ لکھنا کس قدر مضحکہ خیر لگتا ہے کہ ’’ اعلیٰ سطح کے بیشتر افسر برطانوی عہد کے تربیت یافتہ تھے ان کے کمال کا جوہر بندھی بندھائی پالیسیوں پر عمل کرنے ‘ سکونیاتی جمود کو ثبات دینے اور مروجہ روشوں کو جوں کا توں رکھنے میں مضمر تھا وہ انگریزی نظام حکومت کی لکیر کے فقیر تھے آزادی کے تقاضوں کو نئی پالیسی کے سانچے میں ڈھالنا ان کے بس کا روگ نہ تھا‘‘ ۔۔۔’’ ہماری وزارت خارجہ کے بالائی افسر سب کے سب پرانی آئی سی ایس کے ممبر تھے ۔۔۔ اپنے مزاج ‘ پس منظر ‘ رجحانات ‘ تعصبات اور ٹریننگ کی وجہ سے یہ سب لوگ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بین الاقوامی تعلقات کے تنے ہوئے رسے پر حقیقت پسندانہ مہارت سے چلانے سے قاصر تھے ‘‘ ( صفحہ ۴۴۴ ) ۔
یہ رائے دینے والا اپنے سب کے سب سینئر افسروں کو بیک قلم نا اہل قرار دے رہا ہے غالباً مصنف کا مطلب ہے کہ آسمان سے فرشتے اترتے کہ وہ یہ کام سنبھالتے یا ’’ مصنف ‘‘ اس مرتبہ پر ہوتا تو شاید پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بین الاقوامی تعلقات کے تنے ہوئے رسے پر چلا سکتا۔ اس سے بڑی سکون آور گولی کوئی انا پرست اور کیا کھائے گا ۔ اسی قسم کی انا پرستی کا ایک نمونہ اور بھی آیا ہے کہ صدر ایوب کو ’’ جو اقتصادی اور معاشی امور کے مشیریا ماہر میسر آئے وہ یا تو نہایت لائق فائق قابل اور مستعد اکاؤنٹنٹ تھے یا غیر معمولی طور پر ذہین فطین سول سرونٹ تھے جن کا خاص طرہ امتیاز یہ تھا کہ ورلڈ بنک ‘ انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی اصطلاحات اور جارگن نہایت خوش اسلوبی سے اپنا کر اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے تھے‘‘ ۔۔۔ ’’ اس طرح پاکستان کی جدید اکانومی کا طیارہ سیکنڈ کلاس پائلٹوں کے ہاتھ میں آکر تھرڈ ریٹ پٹرول کے سہارے بلند ترین فضاؤں میں پروا زکے لئے تیار کھڑا تھا ۔ ‘‘ ( صفحہ۸۳۹) ۔
یہاں بھی یہ خواہش پکار پکار کر کہہ رہی ہے اے کاش اس اکانومی کو چلانے کا شرف مصنف کو ملتا تو ملک کے سارے دلدر دور ہو جاتے اور پاکستان کی اکانومی کا طیارہ سیکنڈ کلاس پائیلٹوں کے ہاتھ میں نہ رہتا ۔ اس کی دلیل آپ نے یہ دی ہے کہ ’’ یہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ بڑے عہدیدار تھے لیکن بنیادی طور پر ان کی تعلیم یا تو محاسبوں منیموں اور جمع خرچ نویسوں کے طور پر ہوئی تھی یا وہ ڈپٹی کمشنر کمشنر اور جائینٹ سکرٹری کے مرحلوں سے بہ خیر خوبی گذر کر ملک بھر کے اقتصادی اور منصوبہ بندی کے امور پر قابض ہو گئے تھے ‘‘ (صفحہ۸۴۷ ) ’’قابض‘‘ ہوگئے تھے کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ یہ لوگ مصنف کا حق مار کر ان مراتب جلیلہ پرقابض ہو گئے تھے ۔ حالانکہ کوئی ایسی بات نہیں ہوئی تھی شہاب صاحب نے سول سروس کے دوران اپنے استحقاق سے بھی بعض اوقات بڑھ کر ترقی حاصل کی تھی ’’ اپنی سروس کے دوران میں نے کبھی پوسٹنگ یا ٹرانسفر کے لئے کسی قسم کی سفارش یا خوشامد سے کام نہیں لیا اس کے باوجود مجھے اچھے سے اچھا عہدہ نصیب ہوتا رہا ‘‘ ( صفحہ۱۰ )۔ 
اس اظہار محرومی سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ باقی لوگوں نے سفارش یا خوشامد درآمد سے یہ اعلیٰ عہدے حاصل کر لئے تھے ایسا کہنا کسی اچھے بیوروکریٹ کو کم از کم زیب نہیں دیتا ۔ اور یوں بھی محرومیوں ناکامیوں کا رونا رونا خود نوشت کے اصول کے منافی ہے ۔ 

5 Comments