پختون،پشتون،پٹھان،افغان 

qazi-310x387فرحت قاضی

پہلا حصہ

پٹھانوں اورسکھوں کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان میں درجنوں لطائف ہیں یہاں صرف ایک لطیفہ پیش خدمت ہے۔ ایک سکھ موٹر سائیکل چلارہا تھا رات کا اندھیرا تھا اسے سامنے سے دو روشنیاں نظر آئیں وہ سمجھا کہ دو موٹر سائیکلیں ہیں چنانچہ اس نے ارادہ کیا کہ کیوں نہ ان کے درمیان فر سے گزر کر ان کو دہشت زدہ کیا جائے اس خیال کے آتے ہی اس نے ایکسلیٹر دبایا ایک زور کی آواز پیدا ہوئی اور اگلے ہی لمحے وہ سڑک پر تڑپتے ہوئے مرگیا۔
سکھ جسے موٹر سائیکلیں سمجھا تھا وہ ٹرک تھا اور اس کے دو بڑے بلبوں پر موٹر سائیکلوں کا گمان ہورہا تھاتاریکی کے باعث وہ دھوکہ کھا گیا تھا ۔

راقم الحروف نے اس لطیفہ میں یہ اضافہ کرکے اس کی شکل بدل دی ہے صبح جب ہسپتال میں اس کے چہرے اور جسم سے کپڑا سرکایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ سکھ نہیں پختون تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے لطیفہ سنانے والے کو نائن الیون کے بعد کا واقعہ سنایا امریکہ میں چونکہ نائن الیون کے سانحہ کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا تھا تو امریکیوں کے ایک گروہ نے اس کا انتقام لینے کے لئے مسلمانوں کے خلاف ڈنڈے اور ہتھیار اٹھالئے تھے اور چند مسلمانوں کو قتل کردیا تھا چونکہ وہ ہر داڑھی والے کو مسلمان سمجھتے تھے اس غلط فہمی میں بعض سکھ بھی نشانہ بنے اور ہلاک کردئیے گئے تھے۔
میں نے جب یہ کہا کہ یہ سن کر مجھے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہوگیا تھاتو سکھ کے حوالے سے لطیفہ سنانے والا بھی ہنس پڑا۔

دنیا میں شاید ہی ایسی کوئی قوم ہو جس کے حوالے سے لطیفے نہیں بنے یا بنائے گئے ہوں البتہ یہ کم اور زیادہ ہوسکتے ہیں۔

پختون جنوبی ایشیاء کی ایک ایسی قوم ہے جس نے وسیع و عریض ملک ہندوستان پرساڑھے تین سو سال حکومت قائم رکھی اس کے ساتھ اگر مغل دور بھی شامل کرلیا جائے تو یہ آٹھ سو برس بنتے ہیں اور اس مدت کے دوران اس کی سیاست اور ملکی انتظام و انصرام کا جو عالم تھا اسے اپنوں کے ساتھ ساتھ ہندو مورخوں نے بھی سراہا ہے۔ اگر اس سے اپنے دور اقتدار میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں تو اسے اس زمانے کے تناظر میں ماپنے اور تولنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی فلم انڈسٹری کی ترقی میں پختونوں کا جو کردار رہا ہے اس سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتی ہیں جبکہ پاکستان میں امتیازی سلوک کے باوجود اس نے ہر شعبہ حیات میں اپنا لوہا منوایا ہے یہ سب کچھ پختونوں کی خفتہ صلاحیتوں پر دلالت کرتا ہے۔

قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص حالات میں ایک قوم ترقی کے منازل طے کرتی ہے اور اسی طرح زوال پذیر بلکہ فنا بھی ہوجاتی ہے آج سے سینکڑوں برس پہلے حکومت اور دیگر اقوام پر غلبہ پانے کے لئے ذہانت کے ساتھ طاقت پر بھی انحصار کیا جاتا تھا اس لحاظ سے پختون شکل و صورت میں خوبصورت اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بلند قامت اور مضبوط بھی تھا انگریز جب تجارت کی غرض سے آیا تو ہندوستان کا اقتدار اور اختیارات بھی اسی کے پاس تھے بلکہ پختون اس مٹی کا اٹوٹ حصہ بن چکا تھا بالآخر پختون ایسی حالت پر کیسے پہنچ گیا کہ اب اس کے حوالے سے لطیفے کہے جاتے ہیں اور مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔

ترقی کے کچھ اصول اور قواعد ہوتے ہیں جو قوم ان پر صدق دل سے عمل کرتی ہے ترقی ان کے قدم چومتی ہے اور جو ان سے منہ موڑ لیتی ہے اس میں شکست و ریخت کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور بالآخر زوال اس کا نصیب بن جاتا ہے پختونوں کے زوال کے بیرونی اور اندرونی اسباب ہیں انگریز ہندوستان میں وارد ہوا تویہی پختون ریاست کے سیاہ و سفید کا مالک تھا اور اسے سب سے زیادہ خطرہ اسی سے تھا وہ جانتا تھا کہ اقتدار و اختیار کے حصول کی تڑپ اس میں پائی جاتی ہے جو اس کا مالک رہ چکا ہو چنانچہ اس نے پختون کو جسمانی اور ذہنی طور پر تقسیم کے عمل سے گزارا اور اس کی شناخت گم کرنے کی ہر سعی کی گئی۔

انگریز کی آمد سے پہلے ہندوستان میں فارسی حکمران طبقے، دربار اور سرکاری زبان تھی وسیع وعریض ہندوستان میں کئی بولیاں بولی جاتی تھیں مغلوں کی فارسی اور پختونوں کی پشتو بھی اس میں شامل ہوگئی۔ تاہم فارسی حاکم طبقات کے ساتھ رابطے کی زبان بن چکی تھی ہند فوج میں مغل اور پختون سمیت کئی قوموں کے افراد سپاہیانہ خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان بھانت بھانت بولیوں کے میل ملاپ سے نئی زبان وجود میں آچکی تھی فوجی لشکر کو چونکہ اردو کہا جاتا تھا اس لئے اس مناسبت سے اس کانام بھی اردو رکھا گیا۔

پرانے حاکموں اور عوام کے مابین فاصلہ پیدا کرنے کے لئے انگریزوں نے اس زبان کی سرپرستی کا بیڑا اٹھایا چنانچہ وہ اس کو عام کرنے کے لئے اردو زبان میں لکھنے والوں کو انعامات واکرامات سے نوازنے لگے۔ نئی زبان کے فروغ کے لئے گل کرائسٹ نے ایک تعلیمی ادارہ بھی کھولا جبکہ بابائے اردومولوی عبدالحق انگریز وں سے بھی دو قدم آگے نکل گئے اس نے اردوکو اسلامی زبان قرار دینے کے جذبہ کے تحت متحدہ ہند میں بولی جانے والی باقی زبانوں کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے انہیں کافروں کی بولی قرار دے دیا۔ یہ شاید ان ہی خیالات کا اثر تھا کہ پختون بیلٹ میں مذہبی پیشواؤں نے پختون کو اپنی ماں بولی سے دور رکھنے کے لئے اسے جہنم کی زبان کہنا شروع کردیا۔

پاکستان میں اس کے قائدین نے اردو کو سرکاری اور نصابی زبان قرار دیا تو اس کا تمام تر فائدہ کراچی اور ملک کے دیگر صوبوں میں رہائش پذیر اردو بولنے والوں کو پہنچا چونکہ یہ ان کی مادری زبان تھی اس لئے ان کو حصول تعلیم کے دوران کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح پنجابی سے ملتی جلتی ہونے کے باعث پنجاب کے باشندوں کے لئے بھی یہ سہل اور آسان زبان تھی البتہ پختون کو اسے سیکھنے،بولنے اور لکھنے کے لئے دگنی محنت کرنا پڑتی ہے جدید دور میں ترقی کے لئے تعلیم کا حصول انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے مگر اجنبی زبان پختون کے حصول تعلیم کے راستے میں رکاوٹ بنادی گئی تھی۔

انگریز نے مستقبل میں بھی پختون کے صاحب اقتدار ہونے کے خدشات کے پیش نظر اس کو چار حصوں افغانستان،بلوچستان،شمال مغربی صوبہ سرحد(پختونخوا )اور قبائلی علاقہ جات میں تقسیم کردیا اس طرح اس نے پختون کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے اس کی اپنی کوئی شناخت ہی نہیں رہنے دی۔ موخر الذکر تین ناموں سے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ یہ پختون علاقہ ہے یا یہاں پختون بستے ہیں شمال مغربی صوبہ سرحد اور ایف اے ٹی اے (فاٹا) سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔

اس طرح جنگ عظیم میں اپنی بہادری کے جوہر دکھانے والے قبائلی سورماؤں میں بھی یہ احساس پیدا ہونے نہیں دیا گیا حتیٰ کہ انگریز فوج میں بھی ان کا اپنا کوئی نام نہیں رکھا گیا حالانکہ ان کی عسکری خدمات اور جذبہ کو زندہ رکھنے کے لئے اٹک پل کے قریب بلٹ کی صورت میں ایک یاد گار بھی تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے اور یہ کہہ کر تعریف کی گئی ہے کہ اس جنگ سے کوئی بھی پختون سپاہی واپس نہیں لوٹا جن پختون سپاہیوں کو اپنے جوہر دکھانے پر وکٹوریا کراس سے نوازا گیا ہے ۔ان پر پنجاب اورکسی اور رجمنٹ کا نام کندہ ہے جس سے ان کی بہادری اور جی داری کا تمام کریڈٹ پنجابی یاکسی اور کو چلا جاتا ہے اس تسلسل کو نوزائیدہ مملکت میں بھی جاری رکھا گیایاد رہے پاک فوج میں آج بھی پختون کے نام سے کوئی رجمنٹ نہیں ہے۔

پختون آج پاکستان میں بھی تین حصوں میں تقسیم ہیں البتہ عوامی نیشنل پارٹی کی مسلسل جدوجہد سے شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا جبکہ اس نام میں بھی ایک قباحت رکھی گئی ہے پہلے اسے این ڈبلیو ایف پی کہا جاتا تھا اوراب کے پی کے یا کے پی لکھا اور پڑھا جاتا ہے اس نام سے یہ تاثر بھی پیدا کیا گیا ہے کہ خیبر اور پختونخوا دو الگ الگ علاقے ہیں اگرچہ اے این پی نے پختونخوا کا مطالبہ کیا تھا مگر وفاقی حکومت نے خیبرکا اضافہ کردیا ۔

دیکھا جائے توپختون کی تقسیم ہی نہیں کی گئی بلکہ ان اقدامات سے ان کی الگ الگ نفسیات کو پروان چڑھانے کے لئے ان علاقوں میں الگ الگ قوانین بھی لاگو کئے گئے انگریز نے متحدہ ہند کو روس کے سوشلسٹ اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے قبائلیوں کی عسکرانہ اہلیت کو برقرار رکھا جس کے لئے ان پر ایف سی آر اور پولیٹکل ایجنٹ کے لبادے میں مستقل مطلق العنانیت اور آمریت مسلط کردی قبائلی علاقہ جات میں زراعت کو کسی بھی حکومت نے ترقی نہیں دی اور اسی طرح صنعت و کارخانہ بھی نہیں لگایا گیا قبائل کو متحدہ ہند کے ترقی کے دھارے سے الگ تھلگ رکھنے کے تمام جتن کئے گئے تاکہ ان کی قبائلی حیثیت متاثر نہ ہو اور یہ علاقے معاشی،سیاسی ،جسمانی اور ذہنی حوالوں سے سپاہی ہی پیدا کرتے رہیں۔

قبائلی علاقوں کی سات ایجنسیاں بناکر پختونوں کو تقسیم کے مزید مراحل سے گزار کر کمزور کیا گیا بلکہ ان کی ایک طرح سے ٹولیاں بنادیں قوم کی جو تعریف کی گئی ہے اور قوم کے تصور سے انسان میں جو مشترکہ احساسات، جذبات،تصورات اور نظریات پیدا ہوتے ہیں ان کو ملیا میٹ کرکے الگ الگ مفادات کو پروان چڑھانے کے لئے ہر قبیلے کو قوم کا نام دیا گیا چنانچہ ہر قبیلہ آج بھی اپنے کو ایک قوم سمجھتا ہے۔ کنبہ بڑھنے پر ایک نیا قبیلہ وجود میں آجاتا ہے اورتقسیم در تقسیم کا یہ عمل اسی تسلسل سے بڑھتا ہے تو وہ نئی شاخ یا حصہ بھی اپنے کو قوم ہی کہلواتا ہے قبائل کے قوم کی اس خود ساختہ تعریف سے جہاں پختون قوم کے تصور کو زک پہنچتی ہے وہاں یہ ان کے ایکا واتحاد اور وحدت کے لئے بھی نقصان دہ ہے اس صورت حال سے دیگر قوتیں مسلسل فائدہ لے رہی ہیں۔

تحریک پاکستان کے قائدین نے ایک نیا ملک بننے کے باوجود پختون کی سابقہ حیثیت کو جوں کا توں رکھا اسے آزادی کے ثمرات سے بھی دور دور ہی رکھا بلکہ اسے حاکموں کی تبدیلی کہنا زیادہ مناسب ہوگا اسی لئے جب آصف علی زرداری نے قبائلی علاقہ جات میں نوآبادیاتی قانون ایف سی آر کے خاتمہ اور اصلاحات کا اعلان کیا تو ایک تعلیم یافتہ قبائلی نوجوان کے زبان سے نکلا:
’’
قبائل آج آزاد ہوگئے ہیں‘‘۔

جاری ہے)۔)