پانامہ پیپرز ۔ پاکستانی میڈیا کے مالکان بھی آف شور کمپنیوں کے مالک

0,,19164478_403,00

ملکی میڈیا میں وزیر اعظم نوازشریف کی آف شور انوسٹمنٹ کا ذکر تو ہورہا ہے مگر میڈیا کے ان مالکان کا کوئی ذکر نہیں ہو رہا جنہوں نےآف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔

آف شور اکاونٹس رکھنا قانوناً جرم نہیں کیونکہ آپ کی جائداد آپ کا حق ہے آپ جہاں چاہیں رکھیں مگر شرط یہ ہے کہ اس میں ٹیکس چوری نہ ہواور اسے اپنے اثاثوں میں ظاہر کیا جائے۔آئس لینڈ کے وزیر اعظم اس وجہ سے مستعفی نہیں ہوئے کہ وہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں بلکہ انہوں نے یہ سرمایہ کاری اپنے ملک کے قانون کے مطابق ظاہر نہیں کی تھی۔

پانامہ لیکس کے مطابق لیکسن ، گروپ کے ذوالفقار لاکھانی، جو کہ ایکسپریس میڈیا گروپ کے مالکان میں شامل ہیں، جیو ٹی وی کے میر شکیل الرحمن اور چینل 24 کے مالک گوہر اعجاز نے بھی سنہ دوہزارمیں آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

کیا میڈیا اس بات کا کھوج لگائے گا کہ پاکستانی میڈیا کے مالکان نے آف شور کمپنیوںکی سرمایہ کاری ظاہر کی ہے کہ نہیں؟

جبکہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما پیپرز میں اپنے اہل خانہ کے نام آنے کے بعد ان کی ملکیت آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اسلام آباد سے منگل پانچ اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس کمیشن کی تشکیل کا اعلان قوم سے اپنے ایک خطاب میں کیا۔

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا، ’’میں نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن تحقیقات کے بعد فیصلہ کرے گا کہ ان الزامات میں کتنی صداقت ہے۔‘‘

پاناما کی لاء فرم موزیک فونسیکا کی ساڑھے گیارہ ملین ایسی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آ گئی تھیں، جن میں بہت سی دیگر عالمی اور اہم کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کے نام بھی شامل تھے۔

نواز شریف کے دو بیٹوں، حسن اور حسین نواز کی ملکیت ان ’آف شور کمپنیوں‘ کی خبریں آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا تھا۔

حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کئی اہم سیاست دانوں نے اپنے فوری ردعمل میں نواز شریف کے اس عدالتی کمیشن کے قیام کے فیصلے کو رد کر دیا ہے۔

پیر چار اپریل کے روز حسین نواز شریف نے شریف خاندان کی ’آف شور کمپنیوں‘ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گھرانے کی بیرون ملک کمپنیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ’’اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ نہ ہم نے اسے کبھی چھپایا ہے اور نہ ہی ہمیں چھپانے کی ضرورت ہے‘‘۔

News Desk, DW

One Comment