ہندی فلم “علی گڑھ”

ذوالفقار علی زلفی

aligarh

سوچتا ہوں ریٹائرمنٹ کے بعد امریکہ چلا جاؤں،میرے جیسے لوگ وہاں عزت کے ساتھ رہ سکتے ہیں

شاعرانہ مزاج کا حامل ،لتا منگیشکر کی آواز کے ساتھ جھومتا جھامتا ، جذبات اور احساسات کی دھیمی آنچ پر پگھلتا اور اپنی ذات میں تنہا بوڑھا پروفیسر اپنا تماشہ دیکھتے دیکھتے بے خواب آنکھوں کے دلدل میں سوگیا…..وہ تلقین کرتا گیا الفاظ نہیں ان میں چھپے بھیدوں کی گہرائیوں کو ناپو….میرے جذبات کو تین الفاظ کے ذریعے کوئی نام نہ دو مگر زمانہ بضد رہا کہ وہ تین الفاظ پر مشتمل ایک وجود ہے جسے جینے کیلئے پٹیشن ، آرگومنٹ ، سیکشن جیسے اصطلاحات کے بل پر انسانہونے کی سند حاصل کرنی ہوگی ……وہ پروفیسر سیراس نہیں بلکہ ایک گے ہے…..صرف ایک گے۔ Gay۔

ہدایت کار ہنسل مہتا کا کیمرہ اور اس کے لوکیشنز ایک ایسی دنیا کی سیر کراتے ہیں جس سے آشنا ہوکر بھی ہم انجان بنے رہنے کا ڈھونگ کرتے ہیں….120 سال پرانی مادر علمی ، سرخ اینٹوں سے بنی عمارت جو اندر سے کھوکھلی اور سیاہی مائل زردی کی بھینٹ چڑھ چکی ہے ،وہ اب صرف ایک نام ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹیہندوستان کی تیسری بڑی یونیورسٹی….مایوسی اور اداسی کی علامت۔

سیاہی مائل زردیاس عمارت کی نہیں جس کے کتابوں سے بھرے ایک کمرے کو کچھ لوگ پروفیسر کے گناہوںاور توہین کی شدت سے مسخ چہرے کو کیمرے میں محفوظ کرکے تماشہ بناتے ہیں بلکہ یہ زردی تو علم اور آزادیکے منہ پر تھونپی گئی روبہ زرد کالک ہے……یہ زردکالک علم و آزادی کے مفہوم کو نگلتی جارہی ہے….شاید اسی لیے پروفیسر جب فلم ان پڑھکے مشہور گانے جو ان پڑھ مالا سنہا پر پکچرائز ہوا تھا آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھےسنتے ہیں تو آنکھیں سامنے رکھے جام کی مانند چھلک پڑتے ہیں اور چہرہ شدت جذبات سے درد انگیز ہوجاتا ہے اور اسی دوران دروازے پر خوف پھیلاتا کھٹکا…..۔

خوف کسی کے آنے کا ، کسی سپاٹ چہرے کی رونمائی کا ، بند دروازوں اور کھڑکیوں کے پیچھے چھپے کسی مبلغ اخلاقکا خوف ، خدائی فوجداروں کے ہجوم کا ،اپنے ہی تماشے پر ٹھٹھہ اڑاتے انسان نما آدمیوں کا…..شاعری ، محبت اور موسیقی کو زندگی سمجھنے اور ماننے والا تنہا شخص جب سنسنی خیز اور چٹخارے دار خبر بن کر رہ جائے تو کیا ہو؟؟؟

خوف زدہ زندگی کا توہین آمیز بار اٹھائے محبتوں کے شاعر کا نفرت کی دیواروں سے سر پھوڑنا کیسا نظارہ ہو؟؟؟ اس کیلئے آپ کو منوج باجپائی کی دل میں اترتی اداکاری دیکھنی ہوگی ، آپ کو ہاتھ میں برچھی لیے خشمگین علی گڑھنامی فلم دیکھنی ہوگی….برداشت کرنا ہوگا کیونکہ برہمن پروفیسر نچلے اور کچلے طبقے کے مسلمان رکشے والے کو اپنا فرینڈمانتا ہے۔

24aligarh

یہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی نہیں جہاں راجندر کپور ، سادھنا کیلئے محمد رفیع کا گیت میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم ، پھر مجھے نرگسی آنکھوں کا سہارا دیدےگاتا ہے اور برقعہ پوش سادھنا کے دل پر چھریاں چلتی ہیں بلکہ یہ وہ یونیورسٹی ہے جہاں سیکیورٹی کیمروں اور سنگینوں کے سائے میں علمبانٹا اور بٹورا جاتا ہے اور دل و دماغ پر اخلاق اور اصولوں کے پہرے ہیں۔

پروفیسر سیراس سیکیورٹی کیمروں کے جلو محبت کے گیت گاتا ہے اور وہ بھی سادھنا جیسی حسینہ کی بجائے ایک نچلے طبقے کے رکشہ والے نوجواں کیلئے , چھی!!!!….یونیورسٹی اصولوں اور اسلام کی سربلندی کی دہائی دے کر پروفیسر کا تماشہ بنا کر اسے معطلی کا پیغام سنا دیتی ہے…….. محبت اور اردو زبان کے علاقے میں مراٹھی پڑھانے کی سزا پاتا ،اندر سے ٹوٹتا بکھرتا پروفیسر ایک حساس اور پرجوش نوجواں صحافی کا ساتھ پاکر چند لمحے نشاط کے چنتا ہے مگر بقول ساحر وہ پھر بھی یاس رہتا ہے…..۔

نوجوان پوچھتا رہ جاتا ہے کہ آخر ایک انسان کی نجی زندگی میں تانک جھانک جرم کیوں نہیں ؟ سوال بہرے کانوں سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہے اور پروفیسر صرف یہی کہہ پاتا ہے ، دیپو شاعری الفاظ میں نہیں ہوتی….۔

aligarh-film-still1

فلم کا ٹیمپو سست ہے ، نہ بے ہنگم گیت ،نہ کوئی آئٹم نمبر اور نہ ہی سستے جذبات کا کھوکھلا اظہار…..ایک عدالت ہے ،ایک کیس ،وکلا کے دلائل اور پیچھے بیٹھا کبھی مراٹھی شاعری کا ترجمہ کرتا پروفیسر تو کبھی اونگھتا بزرگ استاد تو کبھی نرم لہجے میں چیختا انسان ، مجھے یہ سیکشن اور آرگومنٹ جیسے اصطلاحات تب بھی سمجھ نہ آئے جب میرے والد ایک وکیل ہوا کرتے تھے…..۔

پھر ایک رات جس کی کوئی صبح نہیں , پروفیسر کیس جیت کر زندگی ہار جاتا ہے اور نوجواں صحافی اس وحشت بھری زندگی سے گھبرا کر دوڑ لگاتا لیکن کہاں؟؟؟؟….۔

جس کو گلستاں سمجھ کر چلے تھے دوست رنگ و بو کی آرزو لے کر وہ تو اک خواب تھا جو دھواں ہوا ،اک خار زار تھا جہاں آبلہ پا چلنا تھا ، اک آنسو جو دل میں جم کر زہر کی طرح خوں میں سرایت کرگیا , جو روح تک گھائل کرگیا….۔

راجکمار یادو نے بہت سی فلمیں کیں ہیں مگر فلم شاہد،سٹی لائٹساور کوئنکے بعد یہ ان کی چوتھی بہترین پرفارمنس ہے اتفاق دیکھیے ان کی دو بہترین فلموں شاہداور سٹی لائٹسکے ہدایت کار بھی ہنسل مہتا ہی ہیں….راجکمار اور منوج باجپائی کا انتخاب ہنسل مہتا کے انتخابی شعور کا ایک خوبصورت ثبوت ہے ۔

تاہم ان کی فلموں میں رات کے مناظر اب یکسانیت کا تاثر پیدا کررہے ہیں ، ان کی فلموں کی سینما ٹو گرافی اور ایڈیٹنگ کا معیار اعلی ہے اور وہ کیمرے کے ذریعے بات پہنچانے کے فن میں بھی طاق ہیں لیکن ان کی فلموں کا سست ٹیمپو اور رات کے سیکوئنسز کی بھرمار فلم کی صحت پر اچھے اثرات مرتب نہیں کررہے….سلگتے موضوعات ،جلتے جسموں کی چیخ نما پکار اور ننگے معاشرے کی بے لباسی کا اظہار اب ہنسل مہتا بن چکے ہیں….امید ہے وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *