پاکستان امن کی راہ میں رکاوٹ ہے

karazai.si

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ افغانستان کسی اور کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے اور وہ کسی اور کے کہنے پر نہیں چل رہا۔ ’اصل میں پاکستان کی حکومت نے ڈیورنڈ لائن پر کچھ اقدامات کیے ہیں جن سے افغان ناراض ہیں، جن کی وجہ سے یہ واقعات پیش آ رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ طورخم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ چند دنوں سے سخت کشیدگی ہےجس کی وجہ سے دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سابق افغان صدر نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان اور انڈیا کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہو، کوئی تجارت نہ ہو اور انڈیا کو افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی نہ ہو، اور یہ بات افغانستان کو قابلِ قبول نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں تین ملکوں یعنی انڈیا، ایران، افغانستان کا جو اتحاد بن رہا ہے اس میں ہم پاکستان کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن پاکستان کی شرط یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ افغانستان کے تعلقات نہ ہوں۔ حامد کرزئی نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو ہم بڑی تیزی سے پاکستان کی جانب پیش قدمی کریں گے۔

افغانستان میں انڈیا کے کردار کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر نے کہا کہ انڈیا اور افغانستان کے درمیان تعلق سے پاکستان بلاوجہ چیں بہ جبیں ہوتا ہے۔ اگر پاکستان خود انڈیا کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے، اس کے وزرائے اعظم ایک دوسرے سے ملاقاتیں سکتے ہیں تو پھر افغانستان کیوں انڈیا کے ساتھ تعلقات نہیں قائم کر سکتا؟

انھوں نے کہا کہ انڈیا نے افغانستان کو پیسہ دیا ہے، ہمارے ہاں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد دی ہے، وہ خود غریب ملک ہے لیکن اس کے باوجود اس نے افغانستان کو مالا مال کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا دل سے افغانستان سے دوستی کرتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی ایسا ہی کرے۔

انھوں نے کہا کہ افغان پاکستانی عوام کے بہت شکرگزار ہیں لیکن حکومت جو اقدامات کر رہی ہے اس سے ناراض ہیں۔انھوں نے ڈیورنڈ لائن کے بارے میں کہا کہ یہ انگریز کی استعماریت اور نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور افغانوں نے 1893 سے اسے نہیں مانا، کیونکہ اس لائن نے افغانستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب 47 میں پاکستان وجود میں آیا تو اسے وہی میراث ملی، اس لیے ہم پاکستان کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے، ڈیورنڈ لائن ایسا زخم ہے جسے کوئی افغان فراموش نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو یہ بات سمجھنی چاہیے، اور وہ افغانستان کے ساتھ ایسا سلوک کرے کہ یہ لائن کشیدگی کا باعث نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ افعانستان ڈیورنڈ لائن کو نہ مانتا ہے، نہ مانے گا، لیکن اس معاملے پر جنگ بھی نہیں کرے گا۔اگر افغانستان اسے بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کرتا تو پھر اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ یا بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں کیوں نہیں لے جاتا؟

اس سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے مختصراً کہا کہ یہ بین الاقوامی معاملہ نہیں ہے بلکہ استعماری وراثت ہے اور اسے شاید دونوں حکومتیں مل کر ہی حل کر سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے افغانستان کے علاوہ پاکستان کے لوگوں کو بھی بہت درد و غم دیے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ’ان (دہشت گردوں) کو کس نے موقع دیا، کس نے پالا؟ کس نے ان کو تربیت دی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ انھوں نے پاکستانی سرزمین میں جگہ پا لی ہے اور انھیں مدد مل رہی ہے، جب یہ بند ہو جائے تو پاکستان میں بھی امن قائم ہو جائے گا‘۔

انھوں نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے دو حل پیش کیے:۔

۔1۔دونوں ملک دہشت گردی کا مل کر سامنا کریں، اور اس کے خاتمے کے لیے حقیقی کوشش کریں، دونوں ملک پرامن ہو جائیں گے۔

۔2۔پاکستان مان لے کہ افغانستان خودمختار ملک ہے اسے عزت دے، ہمیں نہ کہے کہ انڈیا کے ساتھ دوستی نہ کریں۔ ہم ضرور کریں گے۔

حامد کرزئی نے آخر میں یہ بھی کہا کہ میں لندن جا کر نواز شریف سے ملاقات کروں گا، ان کی خیریت دریافت کروں گا اور ان سے کشیدگی کے معاملے پر بھی بات چیت کروں گا۔لیکن المیہ یہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں نوازشریف  حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی طے کرنا پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے مگر پاکستان میں جرنیل داخلہ اور خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتے ہیں جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ اس خطے کے عوام بھی بدامنی، غربت اور دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

پاکستان کی سویلین حکومت اپنی پوری کوشش کرتی ہے کہ وہ ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات استوار کرے مگر طاقتور فوجی ایسٹیبلشمنٹ اپنے سٹریٹجک اثاثوں( جہادی تنظیموں) کی مدد سے ان تعلقات کو سبوتارژ کر دیتی ہے۔

BBC

One Comment