ایدھی کی کھلی کتاب

ڈاکٹر پرویز پروازی

361
پاکستان بلکہ دنیا بھر کے انسانیت کے معروف خد مت گذار عبدا لستار ایدھی کی سوانح حیات ’’کھلی کتاب‘‘ کے عنوان سے محترمہ تہمینہ درانی نے تالیف کی ہے۔ پیش لفظ میں ایدھی صاحب نے لکھا ہے کہ’’ میں اگرچہ گجراتی زبان میں لکھنا پڑھنا جانتا ہوں لیکن اردو اور انگریزی میں لکھنے کے لئے تمام حالات وواقعات40آڈیوکیسٹوں میں بیان کرکے ریکارڈ کرائے جنہیں تہمینہ درانی نے ترتیب دے کر انگریزی میں منتقل کیا اور بعد ازاں اردو کے قالب میں ڈھالاگیا‘‘ (کھلی کتاب۔ صفحہ6) ’’قومی زبان اردو میں میری سوانح حیات پر مبنی یہ کتاب میری اب تک کی زندگی اور کام کے حوالے سے ایک مکمل دستاویز ہے یہ ایک چلتے پھرتے فقیرکے ان تمام لمحات کی واضح تصویر ہے جنہیں میں نے کبھی کسی سے نہیں چھپایا‘‘(صفحہ5)۔

عبدا لستار ایدھی قصبہ بانٹو کے ایک متوسط درجہ کے میمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ نہایت خدا ترس اور مخیر خاتون تھیں جنہیں بھوکوں، معذروں بے سہارا لوگوں کی مدد کا شوق تھا۔ ننھے عبدا لستار نے اپنی ماں سے یہ شوق ورثہ میں پایا اور اسے اپنی ماں کا صدقہء جاریہ بنا دیا۔ سکول جاتے وقت ماں دوپیسے دیتی ان میں ایک لازماً خیرات کے لئے ہوتا اور واپسی پر پرسش ہوتی کہ خیرات کا پیسہ کسی حقیقی ضرورت مند کو دیا یا نہیں؟خوش نصیبی سے انہیں بلقیس ایدھی جیسی رفیقہ حیات میسر آگئیں اور دونوں میاں بیوی اس کار خیر میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ اللہ اپنے وعدہ کے مطابق انہیں لمبی اور فعال اور پر خیر زندگی عطا فرمائے۔ فاماماینفع الناس فیمکث فی الارض۔

ایدھی صاحب نے اس کارخیر کے لئے کسی سرکاری امداد کی توقع رکھی نہ مانگی نہ اس کا سہارا لیا۔ بازاروں میں کھڑے ہوکر بھیک مانگی مگر بھٹو ہو یا ضیاء الحق، بے نظیر ہو نوازشریف کسی سے مشروط عطیات قبول نہ کئے۔ ایوب کے زمانہ میں اس امید پر بنیادی جمہوریت کا انتخاب لڑا اور جیتا کہ شاید اس طرح ان کے کام میں آسانی ہوجائے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدے۔

ضیاء الحق نے اپنی’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ کارکن نامزد کیا (صفحہ160) مگر اس کی غیر افادیت سے ہمیشہ بیزار اور مایوس رہے۔ ’’ضیاء الحق نے پانچ لاکھ روپے کا عطیہ دیا مگر قبول نہیں کیا‘‘(صفحہ169)۔ ضیاء الحق کے نام نہاد اسلامی نظام اور حدود آرڈیننس کے تحت عورتوں پر جو ظلم ہوئے ان کے خلاف برملا اظہار تنفرومذمت کیا۔(صفحہ197)’’ایک فتویٰ کے مطابق ایک مسجد کے سامنے ایک لاوارث بچے کو سنگسار کیا گیا‘‘(صفحہ157) توان کی نینداڑگئی۔

ایدھی صاحب نے اپنی زندگی کو آسائشوں سے بالکل مبراکرلیا خود کو ایک’’خبطی سوشل ورکرہی سمجھتے رہے‘‘ (صفحہ181) سفر پر جانا ہوتا تو ہمارے مولانا حسرت موہانی کی طرح ایک تھیلے میں اپنا سازو سامان رکھتے اور روانہ ہو جاتے۔ ساز وسامان بھی کیا تھا؟ ایک دورسیدبکیں۔ ایک دووقت کی روکھی روٹی۔ ہاں زخمیوں دکھی لوگوں کی امداد کا طبی سامان مرہم پٹیاں دوائیاں وغیرہ۔ ان کا زیادہ ترکام لاوارث مردہ متعفن لاشوں کو سنبھالنے کارہا یعنی وہ کام جس سے دوسرے جی چراتے ایدھی صاحب سامنے آجاتے۔ نام نہاد سماجی بہبود کی تنظیموں سے انہیں ہمیشہ چڑرہی اور ضیاء الحق کے دور میں زمین سے اگ آنے والی سوشل ورک تنظیمیں تو ان کی نفرت کا ہدف رہیں(صفحہ209) کیونکہ ان لوگوں کا مقصد وحید نام ونمود اور عیش وعشرت کے سامان مہیا کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔

مجلس شوریٰ کے رکن بنائے گئے تو سرکای مراعات سے فائدہ اٹھانے سے انکار کردیا۔ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو صدر کی موجودگی میں کھری کھری کہہ سنائیں۔ فلپائن والوں نے ان کی انسانی خدمات کے صلہ میں انہیں ایوارڈ دیا تو میاں بیوی ایک ایک جوڑاکپڑا تھیلے میں ڈال کر پہنچ گئے اور ہوٹل میں پہنچتے ہی اپنے پہنے ہوئے کپڑے دھوکر سوکھنے کو ڈال دئے کہ اگلے روز پہنے جاسکیں۔ یہ کوئی دکھا و انہیں تھا عمر بھر ان کا یہی رویہ رہا۔

خان عبدالغفار خان کی خدائی خدمت گار تحریک اور عنایت اللہ خاں المشرقی کی خاکسار تحریک سے انہیں اس لئے ہمدردی رہی کہ خدمت خلق میں پیش پیش ہیں۔ (صفحہ40)عالیشان مسجدیں دیکھ کر انہیں ہمیشہ یہ خیال آتا کہ اتنی بڑی مسجدیں تعمیر کردینے سے کہیں زیادہ بہتر تھا کہ ان کی زیبائش وآرائش پر خرچ ہونے والی رقوم خدمت خلق کے کاموں میں لگادی جاتیں تو زیادہ ثواب کا موجب بنتیںِ (صفحہ56)۔

Tehmina Durrani with Edhi

اس کا چہیتا نواسہ بلال ان کا باسی روٹی کا ناشتہ کرتے دیکھتا تو پوچھتا نانا آپ ہمیشہ باسی روٹی کا ناشتہ کیوں کرتے ہیں ان کا جواب ہوتا ’’اس طرح میں خود کو بھوکوں کی یاد لاتا ہوں‘‘(صفحہ12) اپنے اس عملی نمونہ پر ہمیشہ قائم رہے۔ مگر حاسدوں کی طعن وتشنیع کانشانہ بنتے رہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا سرمایہ بڑھتا ہی گیا مگر ان کی ذاتی زندگی اسی طرح سادہ رہی۔ مشرقی پاکستان سے لٹ پٹ کر آنے والے لوگوں کو ان کے عطا کردہ عطیات واپس کردئے کہ اب یہ لوگ خود مستحق اور مظلوم اور زخم رسیدہ ہیں۔(صفحہ126)۔

ہمارے ہاں کون ہے جو کفرکے فتووں کا موردنہیں بنا۔ ایدھی صاحب بھی بنے مگر اس کافر کا ایمان متزلزل نہیں ہؤا۔ ایک مسجد کے باہر ایک بینر پر لکھا گیا یہ غیر مسلم ہیں (صفحہ258) اسلام آباد کی ایک مسجد کے امام نے انہیں خط لکھا کہ’’ آپ اچھے آدمی ہیں لیکن آپ کے خیالات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ آغاخانی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں میرے پاس آجائیں کہ میں آپ کو سچا مسلمان بنادوں‘‘(صفحہ 259)۔

ان کی نگرانی میں پلنے والی بے سہارا اور لاوارث بچیوں پر بوالہوسوں کی نظر رہتی ۔ ایک عمر رسیدہ صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ’’وہ ادارہ کی کسی سولہ سالہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے صاف انکار کردیا انہوں نے کہا میں نیک نیتی سے کسی بے سہارا لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا جو لڑکی بھی تم سے شادی کرے گی وہ خود بخود بے سہارا ہوجائے گی‘‘(صفحہ 236)۔ اس پر ہمیں مجاز لکھنوی یاد آئے۔اپنے بہنوئی جاں نثار اختر سے ایک بار کہنے لگے میں کسی بیوہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اختر نے کہا’’مجاز بھائی آپ کسی سے بھی شادی کرلیں وہی بیوہ ہوجائے گی‘‘۔
ایدھی صاحب نے حج کے موقع پر کیسی مناسب دعا کی تھی درگاہ الہٰی ہوئی کہ اے خدا میری انا کو مکمل طور پر فنا کردے(صفحہ133) اور یہ لاکھوں کروڑوں روپے کے سرمایہ سے خدمت خلق کے کام کرنے والا بے نفس شخص ’’پرلے درجے کا خاکروب ہی رہا‘‘(صفحہ72)۔ سماجی خدمت کے کاموں پر بے دریغ خرچ کرنے والا شخص اپنی ذاتی زندگی میں کنجوس اور حددرجہ کفایت شعاررہا۔

اس کتاب کاخلاصہ گویا یوں ہے کہ’’ میں کسی سیاست دان سے وابستہ نہیں تھا کسی سے عداوت بھی نہ تھی۔ کوئی غرض نہ تھی کون اقتدار میں ہے اور کون اقتدار سے محروم نہ ہی مجھے کسی مارشل لاء کا دھڑ کا تھا۔۔۔ میرا کام توڑ پھوڑ آمریت اور اس کے اثرات کے باوجود اپنے ہی انداز میں چلتا رہا۔ کرپشن اور دوسری واضح برائیاں راستے کا پتھر نہ بن سکیں‘‘(صفحہ287)۔

اور یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہؤا کہ اس کام کی بنیاد نیک نیتی پر تھی۔ خدا کسی کے نیک کام کو ضائع نہیں کرتا۔ خدا کرے ایدھی صاحب کا صدقہ جاریہ ان کے بعد بھی جاری رہے اور امید واثق ہے کہ جاری رہے گا۔

کتاب کے اسلوب میں جگہ جگہ تہمینہ درانی کا اسلوب جھلکتا نظر آتا ہے۔’’مینڈاسائیں‘‘ لکھ کر جو نیک نامی یا بدنامی آپ نے کمائی تھی ایدھی صاحب کی سوانح مرتب کرکے گویا آپ نے اس کاکفارہ ادا کردیا ہے۔