ناکام خارجہ پالیسی

sartaj-aziz1-759

بھارت ، ایران اور افغانستان کے درمیان تجارتی اور سماجی شعبوں میں معاہدے اور امریکہ اور چین کی سرمایہ کاری کے بعد یہ تاثر گہرا ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان اس خطے میں تنہائی کا شکار ہو گیا ہے ۔ہمسایہ ممالک سے کشیدہ تعلقات اور عالمی برادری میں بڑھتی ہوئی تنہائی سے پاکستانی خارجہ پالیسی پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

مشیر برائے امور خارجہ سر تاج عزیز نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ ملک تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔سر تاج عزیز کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے خارجہ پالیسی پر مشورہ کیا جاتا ہے لیکن کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ مشورہ دیتی نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کافی حد تک بناتی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گہری نظر رکھنے والے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بہت سارے مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات کو آج بھی سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس پالیسی پر فوج کی بالادستی ہوجاتی ہے۔ خارجہ پالیسی کے کئی اہم پہلو اب بھی فوج ہی دیکھ رہی ہے، جیسا کہ امریکا، بھارت اور افغانستان سے تعلقات۔ کچھ معاملات میں تو سویلین حکومت کو فوج سے ڈکٹیشن لینی پڑتی ہے، جیسے کہ مذکورہ ممالک سے تعلقات لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ این ایس گروپ کے معاملے پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کامیابی ملی ہے اور مودی کا بیان دراصل بھارت کی شدید مایوسی کا اظہار ہے۔

بھارت کے روزنامے دی ہندو نے لکھا ہے کہ ایک نہیں بلکہ دس ممالک نے ہندوستان کی رکنیت کی مخالفت کی ہے۔ نئی دہلی کو بہت اعتماد تھا کہ امریکا اس کے ساتھ ہے تو وہ آسانی سے این ایس جی کی رکنیت حاصل کر لے گا لیکن پاکستان نے کامیاب سفارت کاری کے ذریعے اس کو نہ ممکن بنانے کی پوری کوشش کی اور جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ پاکستان اور رکنیت کی مخالفت کرنے والوں کا موقف اصولی ہے کہ این پی ٹی پر دستخط کیے بغیر بھارت کو رکنیت نہیں دی جانی چاہیے۔ کچھ امریکی ارکانِ کانگریس نے بھی این ایس جی کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ بھارت کو رکنیت ملنے سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جاتی لیکن امریکی حکام ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اس سال کے آخر تک بھارت کی رکنیت کو یقینی بنائیں گے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بھٹو کے دور میں خارجہ پالیسی پر کافی حد تک سویلینز کا اثر و رسوخ تھا۔ دفترِ خارجہ پالیسیوں پر کام کرتا تھا اور نوکر شاہی بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتی تھی۔ آرمی سے مشورہ کیا جاتا تھا لیکن مرکزی کردار دفترِ خارجہ کا ہی ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ تھنک ٹینکس بھی کام کرتے تھے، جو سویلینز کے ماتحت ہوتے تھے لیکن اس دور کے علاوہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر زیادہ کنٹرول اسٹیبلشمنٹ کا ہی رہا ہے‘‘۔

دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’سب کو پتہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کون بناتا ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ جب ان پالیسیوں میں ناکامی ہوتی ہے تو میڈیا اپنی توپوں کا رخ سویلین حکومت کی طرف کر دیتا ہے۔ تو پالیسی کوئی اور بناتا ہے لیکن جب ناکامی ہوتی ہے تو الزام کسی اور کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ درست تاثر ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اسٹیبلشمنٹ کا کنڑول ہے کیونکہ فوج کا خیال یہ ہے کہ وہ قومی مفادات کے نگراں ہیں اور وہ خارجہ پالیسی کو سکیورٹی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس لئے ان کا پالیسی معاملات میں ہاتھ اوپر ہوتا ہے‘‘۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹرتوصیف احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی بھی سویلین کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ بھٹو کے دور میں بھی جو تھوڑی بہت سویلینز کو آزادی ملی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ بھٹو کی اسلامی ممالک سے دوستی کی پالیسی جی ایچ کیو کے مفادات کے مطابق تھی۔ موجودہ وقت میں تو پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے اور ہمارے سارے پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب ہیں۔ بھارت، ایران اور افغانستان سے ہماری سات ہزار کلومیٹر کے قریب سرحد ملتی ہے۔ ان ممالک سے ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں جب کہ چین سے صرف سات سو کلومیڑ کا باڈر ہے اور اس سے ہمارے تعلقات نسبتاً بہتر ہیں تو اسے خارجہ پالیسی کی کامیابی تو نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کو 1965,1971اور کارگل کے موقع پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف پاکستان کی اس خارجہ پالیسی کی ایک کامیابی تھی اور وہ تھی یحییٰ خان کے دور میں جب ہم نے چین اور امریکا میں خفیہ رابطہ کرایا اور دونوں ممالک کو قریب لانے میں کردار ادا کیا لیکن اس کے علاوہ مجھے اس خارجہ پالیسی کی کوئی کامیابی نظر نہیں آتی‘‘۔

ان کا کہنا تھا پاکستان میں خارجہ پالیسی کے معاملات اس وقت تک حل نہیں ہوں گے جب تک اس پر سویلینز کی بالادستی نہیں ہوگی، ’’جس طرح وزارت خزانہ بجٹ بناتی ہے، وزارتِ پیداوار پیداواری معاملات دیکھتی ہے بالکل اسی طرح وزارتِ خارجہ اور دفترِ خارجہ کو خارجہ امور سے متعلق کام دیکھنے چاہییں۔ اس میں آرمی کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اُن کا کام نہیں ہے‘‘۔

DW

One Comment