زرخیز زمین پر قائم ایک بانجھ ریاست ۔ آخری حصہ

Aina syeda

آئینہ سیدہ

جب قوم کی ذہنی بنیادوں میں آمریت کا سیمنٹ ڈال دیا گیا تو جمہوریت کے کمزور اور نامکمل ادوار پاکستان اور پاکستانیوں کوکوششوں کے باوجود حقیقی جمہوری اور پروگریسو سوچ سے آشنا نہ کرسکے۔

یہ ضیا الحق کا آمرانہ دور تھا جب مشہور آرٹسٹ شبنم بیگم ایک دھشت ناک ڈکیتی کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ بیرون ملک شفٹ کر گئیں لیکن پھر جمہوری ادوار تھے جن میں ہم نے سلطان راہی اور شا ہنواز گھمن کا سیاسی قتل بھی دیکھا جن کی تفتیش اور مجرم عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔ بہت سے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پاکستانی گلوکاروں کو سیاسی و لسانی ایذا رسانی کے با عث خود ساختہ جلا وطنی بھی قبول کرنا پڑی۔

یقیناً ایسا نہیں کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں ہائی پروفائل قتل ،پراسرار خودکشی یا جبری جلاوطنی جیسی سرگرمیاں ریاست یا اسکی کاسہ لیس جماعتیں اورسرکاری ایجنسیاں نہیں کرتیں مگرپاکستان کو دنیا میں ایک امتیاز حاصل ہے کہ یہ سلسلہ ایذا رسانی کا مستقل کسی وقفے کے بغیر جاری و ساری ہے پچھلی دو دہایوں میں بہترین جاسوسی کے آلات اورجرم کو بےنقاب کرنے کے کامیاب تفتیشی طریقے متعارف ہوئے مگر ہماراتو یہ عالم رہا کہ دو بار منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم کے بھائی کا دن دھاڑے قتل ہو یا خود اسی وزیراعظم کا دونوں بار ابتدائی تفتیش سے پہلے جائے وقوع کو سرکاری نگرانی میں دھو دیا جاتا ہے۔

کیوں ؟ کس لیے اور کون ایسا کر گزرا ؟ اسکی نہ ہی مکمل تحقیقات ہوئیں اور جو کچھ تحقیقات کےنام پرہوا تو اسکو پبلک نہیں کیا گیا ، کیوں ؟ سیدھی سی بات کہ جب ان کارآمد وجودوں کو انکے نظریات کی وجہ سے ختم کرنا ہی مقصود ہے تو پھر تفتیش کس بات کی؟ تفتیش انسانوں کے قتل کی ہوتی ہے نظریات کے قاتلوں کا سراغ صرف تاریخ لگاتی ہے۔

پاکستان کی اندوہناک تاریخ، اپنے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے لے کرپہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹوکے دن دھاڑےعوام کے بیچوں بیچ ہونے والے قتل تک ، نواب نوروز خان کی اولاد کو دھوکے سے پھانسی گھاٹ تک پہنچا نے سے لیکر سردار اکبرخان بگٹی کو غاروں میں رہنےپر مجبور کرنے اور پھر ان ہی چٹانوں میں دفن کرنے تک،حسین شہید سہروردی کے بیروت میں پراسرار موت سےلےکرشا ہ نوازبھٹو کی فرانس میں پراسرار خودکشی تک ،مصطفی زیدی کے ہائی پروفائل قتل سے لے کر نیب کے کامران فیصل کی خودکشی تک اور رجسٹرار سپریم کورٹ سید حماد رضا کی ڈکیتی کے ڈرامے میں چھپی ٹارگٹ کلنگ سے لے کرمحترمہ زہرہ شاہد کی اسی نو ع کی ٹارگٹ کلنگ تک ،ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے لے کر حبیب جالب بلوچ کے ریاستی قتل تک ،حکیم سعید جیسے وطن پرست کے قتل سے لے کربالاچ مری جیسے قوم پرست کے قتل تک،جمشید گلزارکیانی کے بہت سے راز افشا کرنے کے بعد دنیا سےاچانک کوچ کرجانے سے لے کرعمر اصغر اور جہانزیب کاکڑ کی خاموش خودکشی کے روپ میں ہونے والے قتل تک ، ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ اس ملک میں جرائم اچانک نہیں ہورہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مملکت پاکستان کوایک خاص مکتبہ فکر کی انتہا پسند آماجگاہ بنانے کی سازش ہوتی چلی جا رہی ہے۔

تو کیا ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں کہ پاکستان کی امیدوں اور خوابوں کا قتل عام افراد نے نہیں بلکہ اداروں نے کیا ۔اسی لیے قاتلوں کی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا ؟ اس مٹی کے زرخیز قوم پرست ذہنوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والے قانون کے رکھوالوں کےلیےعدالتوں میں گونگے بہروں کا قبضہ رہا جو یقیناًاپنے خلاف مدعی نہیں بن سکتے تھے۔

دنیا کہتی ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے مگر پاکستان میں قانون کانا ہے جس کی پتھر کی آنکھ شہادتوں ، گواہیوں اورحقیقتوں لیے اندھی ہےمگرطاقتوراورقانون شکن عسکری حلقےاور سول اشرا فیہ اس قانون کی دوسری آنکھ کے تارے ہیں ایک طرف ملکی تفتیشی ادارےنام نہاد اندھے کیسزکو نظر انداز کرتے ہیں تو دوسری طرف غیر ملکی تفتیشی ادارے بھی یہ کہہ کر جرم اور مجرم تک نہیں پہنچ پاتے کہ

یہاں تو سارا کا سارا گاؤں ہی واردات میں ملوث ہے

ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح چاروں اکائیوں کو جوڑ سکے ،جمہوری اور متوازن سوچ رکھتا ہو، انسانی حقوق معاشرتی حقوق ،معاشی حقوق اور لسانی حقوق کی پر امن جدوجہد پر یقین رکھتا ہو،سیکولر خیالات کا حامی ہو، مذہبی رجعت پسندی، لسانی جنون اور غاصبانہ نظام حکومت کا مخالف ہو اسکو راہ سے ہٹا دیا جاتا ہے کبھی قتل سے کبھی جلاوطنی سے اور کبھی کسمپرسی کے حالات میں قید کر کے۔

زرخیز زمینوں کی اس نایاب پیدا وار میں مرد بھی شامل رہے اورخواتین بھی یہاں تک کےبچے بھی !! ان چمکتے ستاروں میں آغاخانی ، سنی ،شیعہ ،احمدی ،اسماعیلی ، ذکری، ہزارہ ،پارسی ،ہندو ،مسیحی اور سکھ بھی شامل تھے ان جمہوری روایات کو مضبوط اور مستحکم کرنے والوں میں سندھی ،پنجابی ،پشتو، براہوی ، بلوچی ،سرائیکی اور اردو بولنے والے بھی شامل تھے مگرقوم اور ریاست نے انکی قدر نہ پہچانی اور یوں اس مملکت کو ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدترین حالات کی طرف اپنے ہاتھوں دھکیلا گیا ۔

ایک طویل فہرست ہے ایسے نگینو ں کی جن کو ریاست اور قدرت کچھ اور مہلت یا سہولت دیتی تو آج اس اجڑے دیار جس کا نام پاکستان ہے اور جہاں ایٹم بم اور میزائل تو ہیں مگر پینے کا صاف پانی تک میسرنہیں، جہاں اینٹی میزائیل نظام بھی موجود ہے مگر خواندگی انتہائی کم ہے ، کا یہ حال نہ ہوتا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ عوامی حلقے بھی ان قومی جرائم پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں

نہ مدعی ، نہ شہادت ، حساب پاک ہوا ….. یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

کے مصدا ق ہم نے خون دینے والوں کا خون بھی بھلا دیا ہے اور پسینہ بہانے والوں کی محنت بھی اکارت کر دی ہے۔

پہلاحصہ

زرخیز زمین پر قائم ایک بانجھ ریاست

Comments are closed.