سیلا ب کی پیشنگوئی اور حکومتی اقدامات

شہزاد علی شاہ

Pakistani-villagers-try-t-007 
پورے ملک میں مون سون بارشوں کا آغاز ہوچکا ہے اکثر مقامات پر یہ بارشیں زیادہ ہورہی ہیں تو کہیں کم ہو رہی ہیں ۔ ہر سال محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون بارشوں کی پیشنگوئی اس تناسب سے کی جاتی ہے کہ اس مرتبہ بارشیں گذشتہ سال کی نسبت زیادہ ہونگیں ۔ اس سال بھی محکمہ موسمیات کی جانب سے بارشوں کی پیشنگوئی گذشتہ سال کہ نسبت 20 فیصد سے زیاد ہ کی گئی ہے اور موسمیات سے جڑے اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں ۔

لیکن یہ چیزیں صرف ابھی تک میڈیا کی حد تک بیانات محدود ہیں ۔ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اور پروانشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ ادارے گویا ان بیانات پر مبنی ہیں کہ انہوں نے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر ہر ممکنہ تیاری کر رکھی ہے ۔ان اداروں کے یہ اعلانات کس حد تک درست ثابت ہونگے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ آئیے ذرا گذشتہ دریائی سیلاب اور بارشوں کے سیلاب سے جوتباہی آئی اور جو اقدامات کیے گئے تھے ان پہ نظر ڈالیں ۔ 

جیسے ہی مون سون سیز ن جون مہینے سے شروع ہوتا ہے تو سیلاب کا اندیشہ ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ جب سے موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) نے پاکستان کا رخ کیاہے تو کہیں زیادہ بارشیں تو کہیں زیادہ گرمی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے فصلوں اور مال مویشی کو بہت نقصان پہنچتا ہے ۔ 2010 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑاسیلاب تھا۔ جس میں بہت بڑی تباہی ٹوڑی بند کے ٹوٹنے سے برپا ہوئی۔ جہاں 20 ملین لوگ سیلاب سے متاثر ہوکہ کیمپوں میں زندگی گذارنے پہ مجبور ہوئے۔

یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی سیلاب کے پیش نظر خبردار کیا تھا۔ لیکن کیونکہ اداروں کی سستی کی وجہ سے ٹوڑی بند کے ٹوٹنے جیسا واقعا رونما ہوا اور لاکھوں ایکڑوں پہ فصل تباہ ہوگئی اور تاریخ کی بڑی نقل مکانی ہوئی۔اورگورنمنٹ کے ادارے متاثرین کوریلیف دینے میں ناکام رہے اور لوگ بے یارومددگارہوئے۔ جس کی وجہ سے سیلاب متاثریں مشکل کی زندگی گذارنے پہ مجبور ہوئے۔ 

سنہ2010 کے بڑے سیلاب کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ ہمارے ادارے 2011 کے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کچھ خاص اقدامات کریں گے۔ کیونکہ 2010 کے سیلاب کہ نقصانات کے بعد ہمارے ادارے 2011 کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹ لیں گے ۔ لیکن 2011 کی بے رحم بارشیں جو مون سون سیزن کے آخر یعنی جولائی کے مہینے میں شروع ہوئیں اورسندھ کے میدانی علاقوں میں زبردست تباہی ہوئی ۔ ایک رپورٹ کہ مطابق 5 ملین لوگ متاثر ہوئے اور 1.2 ملین لوگوں کے گھر تباہ ہوئے اور یہ تاریخ کی بڑی تباہی تھی جب لوگ چاہتے ہوئے بھی اپنا فصل اور گھر نہیں بچا پائے ۔کپاس اورمرچ کی فصل مکمل تباہ ہوگئی لوگوں کے گھر اور مال مویشیوں کو بہت نقصان پہنچا ۔ اس مرتبہ بھی گورنمنٹ ادارے بروقت ریلیف پہنچانے میں ناکام رہے اور لوگ سڑک کنارے کیمپوں میں رہنے پہ مجبور ہو گئے ۔

سنہ2012 میں ایک مرتبہ پھر بارشوں نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کچھ علاقوں ، جعفرآباد اور نصیرآباد کا رخ کیا اور وہاں کی فصلوں کو زیاہ نقصانات ہوئے۔ ان سیلابوں نے پاکستان کی تاریخ میں بڑی تباہی مچادی تھی جس کے وجہ سے ہرسال مون سون سیزن میں لوگ اس خطرے سے دوچار رہتے ہیں ۔کیونکہ گورنمنٹ کے ادارے بروقت ریلیف دینے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس سال کی گئی پیشنگوئی بھی گورنمنٹ نمائندوں کی بیانات کی زینت بنی ہوئی ہے ۔ اور کوئی ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔

یہاں پہ گذشتہ سیلابوں کا ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ اداروں کوممکنہ خطرات کو سامنے رکھ کہ آئندہ کا لائحہ عمل بنانا چاہیے ۔ لیکن ان سیلابوں کی تباہیوں کہ بعد بھی ضلع اور تعلقہ سطح کہ ادارے کوئی خاص اقدامات نہیں کر پاتے ۔ جس کی وجہ سے یہ خطرات ہمیشہ سر پہ منڈلاتے رہتے ہیں ۔ زیادہ تر خطرہ دریائی سیلاب کا ہوتا ہے کیونکہ ادارے بند کی مرمت کا کام بروقت نہیں کرپاتے ۔ محکمہ موسمیات کے خبردار کرنے کے بعد دریاءَ کے کمزور بند جو 2010 کے سیلاب میں بھی خطرے کا سبب رہے جن میں سے ایک ٹوڑی بند تھاجس کہ ٹوٹنے سے بڑی تباہی برپا ہوئی ۔ ان کی مرمت کے لیے ابھی تک کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔اور ان کہ علاوہ بھانوٹ بند، ہالاپرانہ بند، باؤدیرہ بند اور ماڑی بند شامل ہیں ۔ بانوٹھ بند تو بہت کمزور ہے اور اس کی مرمت فوری طور پہ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ ہے ۔ ہمارے ضلع اور تعلقہ سطح کہ ادارے گذشتہ سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے سبق نہیں سیکھے جو بروقت کوئی اقدامات نہیں کرتے نتیجتاً شدید مالی اور جانی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ 

سنہ2010 کے سیلاب میں بانوٹھ بند خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا اور اس وقت دوران سیلاب اس کی مرمت کی جارہی تھی۔ لیکن ان کے بعد جوں سیلاب ختم ہوا تو کچے میں لوگوں نے پھر سے زمین اگانا شروع کردی تو یہ بند مزید کمزورہو گیا ہے کیونکہ یہ ہی فصل تک رسائی کا بذریعہ راستہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ بروقت مرمت نا کرنے کی وجہ سے شاید یہ بانوٹھ بند مزید سیلاب برداشت نہ کر سکے ۔

لیکن باربار محکمہ موسمیات کے خبردار کرنے کے باوجودبھی ضلع انتظامیہ کام کرنے کے موڈ میں نہیں نظر آ رہی ہے ۔ تجربات ہونے کے باوجود بھی جب خطرہ سر پہ آتاہے تو بے وقت اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بانوٹھ اوران کے ارد گرد کی مقامی آبادی کو پریشانی رہتی ہے کہ فوری اقدامات نہیں کیے گئے اور سیلاب آگیا تو اس بند ٹوٹنے کے قوی امکانات ہیں جس سے تاریخ کی بڑی تباہی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ سیلابی ریلا ، کھنڈو، خیبر ، مٹیاری اور حیدرآباد کو لپیٹ میں لے لے گا ۔ اس کے علاوہ یہ ریلہ ایسٹ میں سانگھڑ تک جا سکتا ہے۔

یہ ایک بڑی تباہی کے امکانات ہیں ۔ لیکن گورنمنٹ اداروں کی بروقت تیاری نہ ہونے کہ سبب بڑے نقصانات ہوجاتے ہیں ۔ جیسے 2010 اور 2011 کے سیلاب میں ہوئے تھے ۔ گورنمنٹ اداروں کو چاہیے کہ مانیٹرنگ نظام بنائے جو مون سون موسم کہ دوران جہاں جہاں خطرات کا اندیشہ ہے وہاں محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی سے پہلے فوری اقدامات کرے اور ہر ممکنہ خطرات کہ لیے تیار رہے۔

Comments are closed.