دو بچوں کی ماں۔ایک چینی کہانی

سبطِ حسن

QingPuppetShowبہت سالوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ وہ جانوروں کی کھالیں قصابوں سے لے کر انہیں صاف کرتا اورموچیوں کو بیچ دیتا۔ اس زمانے میں لوگ گوشت کی بجائے سبزیاں اور دالیں وغیرہ زیادہ کھاتے تھے۔ مہینے میں صرف ایک آدھ جانور ہی ذبح کیا جاتا تھا۔ اس طرح اس شخص کو بہت کم آمدنی ہوتی اور وہ اپنی بیوی اورایک بچے کا پیٹ بڑی مشکل سے پالتا۔ اس نے اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے کئی ایک کام بھی کئے مگر صورتحال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ہر مہینے اسے تھوڑے بہت پیسے قرض کے طور پر لینا ہی پڑتے۔ قرض پر تھوڑا بہت سود بھی دینا ہوتا تھا۔ جب ہر مہینے قرض لیا جانے لگا تو سود کی رقم ملا کر اس پر قرض کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔

چند ماہ کے بعد لوگوں نے اسے قرض دینا بھی بند کردیا۔ اس صورتحال میں اس کی بیوی اورایک پیارا سا بچہ اکثر بھوکے رہنے لگے۔ اس سے یہ سب دیکھا نہ جاتا۔ وہ غم سے بے حال ہوجاتا۔ اس بے قراری میں ایک دِن اس نے نشے والی کوئی چیز کھائی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس پر غم کا بوجھ کم ہوگیا ہے۔ جب اس کا نشہ اتراتو پھر اس کے دِل میں اپنی غربت اوربے چارگی پر افسوس اور رنج کے بادل اٹھنے لگے۔ اس نے پھر نشہ کیا اورپھر اس کے دِل سے یہ بادل ہٹ گئے۔ اس نے سوچا کہ اسے اب ہر وقت نشے کی حالت میں رہنا چاہیے۔ پیسے تو پہلے بھی اس کے پاس نہ تھے، اس نے گھر کی چیزیں بیچنا شروع کردیں۔ چند مہینوں کے دوران گھر میں چند برتنوں کے علاوہ کچھ نہ بچا۔ اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ کمزوری کے باعث اس سے چلا نہ جاتا تھا۔ اس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہوگیا اورکمر دوہری ہونے لگی۔ اس کے جسم پر ماس کی ایک چٹکی تک نہ بچی تھی۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا۔ اب اسے اس کے نام کی بجائے، نشئی، کے نام سے پکارا جانے لگا۔
ایک روز نشئی کا نشہ ٹوٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے تین سالہ بیٹے کی چھوٹی سی گھوڑا گاڑی اٹھائی اوراسے بیچنے کے لئے باہر نکلنے لگا۔ نشئی کی بیوی نے یہ سب دیکھا تو اسے بہت طیش آیا۔ کہنے لگی:۔
’’
خدا کا خوف کرو، بچے کے کھلونے تو چھوڑدو۔۔۔!‘‘
’’
تم کون ہوتی ہو، مجھے منع کرنے والی۔۔۔؟‘‘
’’
گھر میں کھانے کے لئے ایک دانہ نہیں۔۔۔ کئی مہینے گزر گئے گھر میں کچھ پکائے۔ پہلے ہمسایوں کی مہربانی سے کھانا ملتا رہا۔ اب میں بھیک مانگ کر گزار اکرتی ہوں۔۔۔ اور تم۔۔۔‘‘
’’
تم میرے گھر سے دفع ہوجاؤ۔۔۔ اب ہمیں علیحدہ رہنا ہوگا۔۔۔ میں نے اس کا انتظام کرلیا ہے۔۔۔‘‘
’’
کیسا انتظام۔۔۔؟‘‘
’’
تمہیں ایک شخص کے پاس چند روز کے لئے رہنا ہوگا۔۔۔!‘‘
’’
تم مجھے بیچوگے۔۔۔؟‘‘
’’
جس سے قرضہ لیا ہے، وہ اس بات کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اگر تم مان جاؤ تو وہ ہمارا قرضہ معاف کردے گا۔۔۔‘‘
عورت نے تو اپنا سر پیٹ لیا۔ بچہ اس کی گود میں تھا۔بچے کا نام چون پاؤ تھا۔ جب دونوں میاں بیوی جھگڑرہے تھے تو وہ سہما، ماں کی گود میں سمٹتا چلا جارہا تھا۔ اسے احساس تھا کہ اس کا باپ، اس کی ماں سے کوئی اچھی بات نہیں کررہا تھا۔ اسے ماں سے ہمدردی تھی مگر وہ کچھ بھی تو نہیں کرسکتا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ ماں کی کلائی اور ہاتھوں کو سہلانے لگا۔ ماں نے اسے کھانا دینا چاہا مگر وہ بھوکا ہی سوچکا تھا۔
نشئی نے اپنی بیوی سے لڑائی کی اوراسے کرائے پر بھیجنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ مگر وہ دِل سے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ گھر سے باہر آیا۔ اس کے ساتھ نشےؤں نے اسے نشہ دیا تو اس کی حالت بہتر ہوئی۔۔۔ وہ پھر نشے میں ڈوب گیا۔ اب نشہ ایسا نہ تھا کہ جس سے اس کے دِل پر اٹھتے غم کے بادل چھٹ جاتے۔۔۔ بادل بدستور چھائے رہے اور حبس بڑھ گیا۔ نشئی رونے لگا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رورہا تھا۔ اس کے ساتھی نشئی اس پر سخت ناراض ہورہے تھے۔اس کے رونے سے ان کا نشہ خراب ہورہا تھا۔ وہ کچھ دیر تو تھکی تھکی نگاہوں سے اسے دیکھتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک کہنے لگا:
’’
اوئے نشئی، تمہیں آج کیا ہوگیا۔۔۔؟ آج تو مرتاکیوں جارہا ہے۔۔۔؟‘‘
’’
مجھے بس مرجانا چاہئے، مَیں آج دریامیں کود کر مرجاؤں گا۔۔۔!‘‘
’’
مگر۔۔۔ ہوا کیا۔۔۔؟‘‘
’’
میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اس کو کرائے پردے دوں گا۔۔۔میرا بچہ اس وقت مجھے عجیب طریقے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجھے لگا جیسے میرا جسم ریت کا ہے اوریہ آہستہ آہستہ گرتا جارہا ہے۔۔۔ مجھے اب یہ سب کچھ ختم کر دینا چاہئے۔۔۔‘‘
’’
ارے، ایسی کیا بات ہے؟ اگر تمہاری بیوی، مشکل وقت میں تمہارے کام نہیں آئے گی، تو کون آئے گا؟‘‘
اس کے بعد سارے نشئی چپ سادھ بیٹھے رہے۔ وہ کچھ دیر کے بعد برف میں لگی سرد نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے۔ پھر انگلیوں سے زمین پر دائرے بناتے رہے۔
اگلی صبح نشئی بستر سے اٹھا۔ اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا، جسے اسے پانچ چھ آدمیوں نے مل کر بید سے مارا ہو۔ وہ ایک دم کھویا کھویا سا تھا۔ اسی حالت میں وہ کچھ کھائے پےئے بغیر گھر سے نکلا۔ راستے میں ایک عورت ملی۔ وہ اس سے کہنے لگی:
’’
تم قرضے کی فکر نہ کرو۔ میں نے اس کا انتظام کرلیا ہے۔۔۔!‘‘
’’
کیسا۔۔۔ انتظام۔۔۔؟‘‘
’’
بیوی اور بچے کو بھوکا مت مارو، وہ تمہاری قانونی بیوی ہے، اسے گھر میں رکھنے سے کیا فائدہ۔۔۔ ادھر تو وہ بھوکی مرتی رہے گی۔۔۔‘‘
’’
میں۔۔۔ آخر۔۔۔ کیا۔۔۔ کروں۔۔۔؟۔۔۔‘‘
’’
ایک پچاس سالہ زمیندا رہے۔ وہ شادی شدہ ہے۔ مگر کئی برسوں کے بعد بھی اس کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ وہ ایک بیوی کرائے پر لینا چاہتا ہے، چند سالوں کے لئے۔ اگر بچہ ہوگیا تو تین سال، ورنہ پانچ سال کے لئے اسے وہاں رہنا ہوگا۔ اس کے لئے پانچ ہزار روپے، ایک سال کے لئے ملیں گے۔۔۔‘‘
نشئی نے سنا اور اس کا جسم دردسے کانپنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لمبی خاموش دھار بہنے لگی۔

۔(2)۔


صبح روانگی تھی۔ شام کو وہ گھر کی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھی تھی۔ دیے کی دھیمی سی لو میں چون پاؤ کا خوبصورت چہرہ کچھ زیادہ ہی نمایاں لگ رہا تھا۔ ماں نے اسے اپنے سینے سے کچھ زیادہ ہی زور سے لگارکھا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کوٹھڑی میں پڑی کھانے کی پلیٹ کو مسلسل دیکھے جارہی تھی۔ وہ سوچوں کے گنجلک جال میں پھنسی ہوئی تھی۔ اسی جال سے وہ باہر نکلتی اوراپنے بچے کو دیکھتی۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیررہی تھی۔ بچہ اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔ آج اس کی ماں، اسے کچھ مختلف لگ رہی تھی۔ بچے کے دِل میں بھی بے قراری تھی۔ اس بے قراری کو دور کرنے کے لئے اس نے اپنی ماں کی چوٹی کو مضبوطی سے پکڑرکھا تھا۔ ماں نے بہت ہی چپکے سے کہا:۔
’’
چون پاؤ۔۔۔!!‘‘
بچے نے ایک دم چونک کر ماں کی طرف دیکھا۔ ماں صرف چند الفاظ بولنا چاہتی تھی مگر ان کو کہنے کے لئے اس کے پورے بدن سے مناسب طاقت اکٹھی نہ ہورہی تھی۔ اس نے ان بھاری لفظوں کو توڑ توڑ کر کہنا شروع کیا:
’’
میں۔۔۔ چھوڑ۔۔۔ کر۔۔۔ جارہی۔۔۔‘‘
بچے کو چھوڑنے کا معاملہ تو سمجھ آیا مگر وہ اس وقت کی صورتحال میں اپنے آپ کو سخت خطرے میں محسوس کررہا تھا۔ جیسے چھت کے شہتیر چٹخ رہے ہوں اورچھت کا گرناناگزیر ہوچکا ہو۔ اس نے اپنے آپ کو ماں کے ساتھ اس طرح چمٹالیا جیسے اردگرد سیلاب کا ریلہ آگیا ہو۔
’’
میں تین سال کے بعد واپس آجاؤں گی۔۔۔‘‘ ماں کے آنسو، آنکھوں سے رسنے لگے۔اسے ان کو صاف کرنے کی بھی ہوش نہ تھی۔ اچانک اس نے محسوس کیا، اس کا بچے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس کے آنسو پونچھ رہا ہے۔ ماں نے یک لخت بچے کو اپنی چھاتی کے ساتھ بھینچ لیا۔ آنسوؤں کا چشمہ اب رکنے کی بجائے دھڑدھڑا چھلنے لگا۔
’’
تم،کہاں جاؤگی۔۔۔ نانی سے ملنے؟‘‘
’’
نہیں، میں یہاں سے بہت دور ایک جگہ جاکر رہوں گی۔۔۔‘‘
’’
میں بھی ساتھ چلوں گا۔۔۔!‘‘
’’
تم وہاں نہیں جاسکتے، تمہیں اپنے بابا کے پاس ہی رہنا ہوگا۔۔۔ وہ تمہیں اچھا کھانا کھلائیں گے، اپنے ساتھ سلائیں گے۔۔۔ تمہارے ساتھ کھیلاکریں گے۔۔۔!‘‘
’’
میں بابا کے پاس نہیں رہوں گا۔۔۔ وہ آپ کو مارتے ہیں، مجھے بھی ماریں گے۔۔۔ میں تمہارے ساتھ جاؤں گا۔۔۔‘‘
’’
نہیں، بابا اب نہیں ماریں گے۔۔۔‘‘ ماں نے بچے کے ماتھے پر زخم کے نشان کو انگلی سے سہلاتے ہوئے کہا۔

۔(3)۔


دونوں گاؤں کے درمیان آٹھ دس کلو میٹر کا فاصلہ تھا۔ پالکی کو اٹھانے والے کہاروں نے راستے میں کسی جگہ بھی رک کر آرام نہ کیا اور وہ جلدہی زمیندار کے گھر پہنچ گئے۔ راستے میں بارش سے عورت کے کپڑے بھیگ گئے تھے۔ وہ سہمی سہمی سی گھر کے دالان میں داخل ہوئی۔ دالان میں پھولے گالوں والی ادھیڑ عمر عورت بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے چالاکی ٹپکتی تھی۔ نوجوان عورت سمجھ گئی کہ ہو نہ ہو یہ زمیندار کی بیوی ہوگی۔ اس کا سرشرم سے جھک گیا۔ اس نے اُس عورت کو سلام کیا اور دالان کے عین درمیان میں کھڑی رہی۔ عین اس وقت ایک عمر رسیدہ شخص مکان میں داخل ہوا۔ اس کا قد لمبا، چہرہ گول اور پھولا ہوا تھا۔ اس نے نوجوان عورت کو سرسے پاؤں تک بڑے غور سے دیکھا۔ کہنے لگا:
’’
تم جلدی آگئیں۔۔۔ راستے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔۔۔؟‘‘ زمیندار کی بیوی نے، ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا:
’’
پالکی میں کچھ بھول تو نہیں آئیں۔۔۔؟‘‘
’’
نہیں۔۔۔ جی کچھ نہیں۔۔۔‘‘ نوجوان عورت نے کہا۔
تھوڑی ہی دیر میں گاؤں کی عورتیں، زمیندار کی نئی بیوی کو دیکھنے آنے لگیں۔ اس وقت نوجوان عورت کو اپنا گھر اور خاص طور پر اپنا بیٹا بہت یاد آرہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے کچھ انہونا سا ہورہا ہے۔۔۔ ایسا صرف خواب میں ہی ہوتا ہے۔۔۔ زمیندار نرمی سے بات کرتا تھا اوراس کے چہرے سے مہربانی ٹپکتی تھی۔ اس کی بیوی خاصی چالاک، باتونی اور بدلحاظ سی لگ رہی تھی۔ اس نے نوجوان عورت کو ایک سانس میں اپنا ساری کہانی بیان کردی۔ وہ کہنے لگی کہ اس کی شادی کو تیس برس گزر چکے ہیں۔ پندرہ سال پہلے اس کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی تھی۔ بچہ بڑا خوبصورت اور چلبلا تھا مگر دس ماہ بعد ہی چیچک سے انتقال کرگیا۔ اس کے بعد کوئی بچہ نہ ہوا۔

۔(4)۔

وقت بڑی تیزی سے گزرتا گیا۔ نئے گھر کی زندگی نے پرانے گھر کی یادوں پر گردڈال دی۔ کبھی کبھی نوجوان عورت کو اپنا بچہ یاد آتا تو وہ کسی کو نے میں منہ لگائے رولیتی۔ یہ نہ ہوسکا کہ وہ اپنے بچے کو بھول جاتی۔۔۔ ہر روز اسے اپنے بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی۔ اس کی توتلی زبان میں کی ہوئی باتیں ذہن میں جاگ اٹھتیں۔ لگتا جیسے وہ ابھی باتیں کرتا، گھر کے کسی گوشے میں چلا گیا ہو۔ کوئی رات نہ گزرتی جب کسی نہ کسی صورت خواب میں اس کا بچہ نہ آتا۔ کبھی وہ خواب میں دیکھتی، اس کا بچہ بیمار ہے، اسے سخت بخار ہے اوراسے سمجھ نہ آتی کہ وہ کیا کرے۔ وہ بچے کے سامنے تو ہے مگر اس کو ہاتھ نہیں لگا پاتی۔ اسی تگ ودو میں اس کی آنکھ کھل جاتی۔ اس کا عارضی خاوند اس سے اکثر کہتا رہتا تھا کہ وہ سوتے میں گھبراہٹ سے کروٹیں بدلتی رہتی ہے۔ ہاتھوں سے کسی بوجھ کو پرے ہٹانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ حلق سے ایسی آوازیں نکالتی ہے، جیسے اسے کسی شکنجے میں کساجارہا ہو۔ ایک رات اس نے خواب دیکھا کہ اس کا بیٹا جوان ہوگیا ہے۔ ایسا خوبصورت کہ لوگ راہ چلتے اسے دیکھنے کے لئے رک جائیں۔ وہ ایک پالکی میں اسے بٹھالیتا ہے اور پالکی کو اپنے سر پر اٹھائے پھرتا ہے۔ وہ اس سے باتیں کرتا ہے مگر اس کے سامنے نہیں آتا۔ وہ اسے سامنے بٹھا کر باتیں کرنا چاہتی ہے مگر وہ سب، اس کی پالکی اٹھائے ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتا رہتا ہے۔
نوجوان عورت کا جسم تو زمیندار کے گھر میں تھا مگر اس کی روح ہمیشہ اس کے بیٹے کے ساتھ رہی۔ زمیندار کی پہلی بیوی کا سلوک اس سے عام طور پر اچھا ہی تھا مگر دِل ہی دِل میں وہ شک اورحسد کو اس کے خلاف پالتی رہتی تھی۔ اسے اندیشہ تھا کہ کہیں زمیندار، اپنی کرائے کی بیوی کی وجہ سے اسے نہ چھوڑدے۔ نوجوان عورت، اس کی جلی کٹی سنتی رہتی مگر خاموش رہتی۔

۔(5)۔


ایک سال کے بعد نوجوان عورت کے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی۔ زمیندار اس وقت گھر کے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ اسے معلوم ہوا تو اس کی آنکھیں خوشی سے جھلملااٹھیں۔ سارے گاؤں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ گھر میں اک ہنگامہ سابرپاہوگیا۔ پورا گاؤں بچے کو دیکھنے کے لئے امڈ آیا۔ جو کوئی دیکھتا، بچے کی خوبصورتی کی تعریف کرتا۔ کسی کو اس کی ناک پسند آئی تو کسی کو منہ۔ کسی کو آنکھیں‘ تو کسی کو ماتھا۔۔۔ بچہ نوجوان عورت کی گود میں لیٹا، دودھ پی رہا تھا۔
بچے کا نام چیوپاورکھاگیا۔یہ روز بروز صحت مند اور خوبصورت ہوتا جارہا تھا۔ اس کی ماں سے محبت بھی بڑھ رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں دوسروں کو تو اجنبیوں کی طرح دیکھتیں مگر ماں پر نظر پڑتے ہی ٹمٹمانے لگتیں۔ وہ ہر وقت اپنی ماں کے ساتھ چمٹا رہتا۔ اگرچہ زمیندار کو اس سے بہت پیار تھا مگر بچہ اپنے باپ کی طرف ایسی توجہ نہ دیتا۔ یہی صورت زمیندار کی پہلی بیوی کی تھی۔ وہ بچے کو پکڑتی تو بچہ چور مچانا شروع کردیتا۔ اس کی خواہش ہوتی کہ ماں اسے فوراً اپنی باہوں میں لے لے۔ یہ قدرتی بات تھی۔ آخر بچہ ماں سے زیادہ کس سے پیار کرے گا۔
بچہ بڑھ رہا تھا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی ماں سے محبت بھی بڑھتی جارہی تھی۔۔۔ ۔۔۔مگر ان کی جدائی کے دِن اتنے ہی قریب آتے جارہے تھے۔ تین سال پورے ہوتے ہی نوجوان عورت کو زمیندار کے گھر سے رخصت ہونا ہی تھا۔ یہ بات زمیندار بھی سوچ رہا تھا۔ اس نے ایک دن اپنی پہلی بیوی سے کہا:۔
’’
چیوپاؤکی ماں کے جانے کے دِن قریب آرہے ہیں۔ چیوپاؤ کی اپنی ماں سے محبت قدرتی ہے مگر اس کے جانے کے بعد چیوپاؤکا کیا بنے گا؟ ہمیں چاہیے کہ ہم کچھ اور روپے دے کر اس کی ماں کو ہمیشہ کے لئے خرید لیتے ہیں۔۔۔‘‘ 
’’
ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔ ایسا کرنے سے پہلے مجھے زہر دینا ہوگا۔۔۔‘‘ پہلی بیوی نے بڑے غصّے میں کہا۔ زمیندار کو یہ بات سن کر غصّہ تو آیا مگر وہ اسے پی گیا اورکہنے لگا:۔
’’
ہمارا چیوپاؤ، بغیر ماں کے رہ جائے گا۔۔۔‘‘
یہ سن کر پہلی بیوی نے بڑے تلخ لہجے میں کہا:۔
’’
کیا میں اس کی ماں نہیں ہوں۔۔۔!‘‘

۔(6)۔


نوجوان عورت سخت تکلیف میں تھی۔ اسے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہو۔ ایک طرف زمیندار سے پیدا ہونے والا چیوپاؤ اور دوسرا چون پاؤ۔۔۔ وہ دونوں سے الگ نہیں رہ سکتی تھی۔ اسے رہ رہ کر خیال آتا کہ اس کا نشئی خاوند چند روز کا مہمان ہے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا پرسانِ حال کوئی نہ ہوگا۔ کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ چون پاؤ بھی، زمیندار کے گھر چلا آئے اور اس طرح دونوں بچے اس کی آنکھوں کے سامنے رہیں۔
نوجوان عورت ہر وقت اپنے بڑے بیٹے کے بارے میں سوچتی رہتی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے خاوند نے زمیندار سے ملنے والی تمام رقم نشے میں اڑادی ہوگی۔ اسے کسی نے بتایا تھا کہ اس کا بیٹا زیادہ وقت اس کی پڑوسن ،جو اس کی بچپن کی سہیلی تھی، کے پاس رہتا ہے۔ اس کا نشئی خاوند ہر روز رات گئے گھر لوٹتا تھا اورننھا چون پاؤ بھوکا پیاسا گھر کے باہر گلیوں میں گھومتا رہتا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر پڑوسن نے اسے اپنے گھر میں رکھ لیا۔
ادھر زمیندار کی بیوی کی خواہش تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو، نوجوان عورت جلد سے جلد اپنے گھر رخصت ہوجائے۔ ایک دِن زمیندار نے اس سے صلاح مشورہ کرنے کی غرض سے پھر تجویز دی کہ نوجوان عورت کو کم از کم پانچ برس کے لئے ان کے ہاں رہنا چاہئے۔ اس پر اس کی بیوی کو بڑا طیش آیا اورکہنے لگی:۔
’’
کچھ خدا کا خوف کرو، اس عورت کا بڑا بچہ ہے اور پھر ایک نشئی خاوند ہے۔ ان کو اس کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ تین سال پورے ہوں تو فوراً اسے روانہ کردو۔۔۔‘‘
’’
لیکن ذرا سوچو، ہمارا چیوپاو تین سال کی عمر میں ہی، ماں سے محروم ہوجائے گا۔۔۔‘‘ زمیندار نے کہا۔
’’
تم مجھ پر یقین کیوں نہیں کرتے، میں اس کی دیکھ بھال کرسکتی ہوں۔ کیا میں اسے مار ڈالوں گی۔۔۔ بلکہ میں تو اس عورت سے زیادہ بہتر پرورش کروں گی، اسے تو رونے دھونے سے فرصت نہیں۔۔۔ دیکھا نہیں کہ ہمارا بچہ کیسے دبلاہوتا جارہا ہے۔‘‘ زمیندار کی پہلی بیوی نے کہا۔ وہ بہانے بہانے سے چیوپاؤ سے اپنی محبت کا سوانگ رچاتی اور نوجوان عورت کے ہر کام میں کیڑے نکالتی۔ نوجوان عورت کو زچ کرتی اورطعنے دیتی رہتی۔ اس نے بچے کو بھی یہ سکھا دیا تھا کہ وہ اپنی اصل ماں کو خالہ کہے اور اسے ماں کہہ کر پکارے۔ نوجوان عورت تنہائی میں رویا کرتی اورزمیندار خاموش رہتا۔
چیوپاؤ کی دوسری سالگرہ تھی۔ دور دور سے لوگ آئے۔ ان میں نوجوان عورت کا نشئی خاوند بھی تھا۔ نوجوان عورت نے اسے دیکھتی ہی اس سے اپنے بچے کے بارے میں پوچھنا شروع کردیا۔
’’
چون پاؤ کیسا ہے؟ کیا مجھے یاد کرتا ہے؟ اس کی صحت کیسی ہے؟‘‘ نوجوان عورت نے بے قراری میں بہت سے سوال کردیے۔
’’
ان گرمیوں میں وہ بہت کمزور ہوگیا ہے۔ پچھلی سردیوں میں وہ سخت بیمار ہوگیا تھا۔۔۔ اسے ٹھنڈلگ گئی تھی۔۔۔ اب تک اس کی حالت ٹھیک نہیں۔۔۔ حکیم صاحب کہہ رہے تھے کہ اس کی بیماری خطرناک ہوتی جارہی ہے۔۔۔ اس کے لئے پیسے درکار ہیں۔۔۔‘‘
نوجوان عورت کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی آنکھوں کے سامنے ہر چیز گھوم رہی ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو نہ سنبھالتی تو ضرور گرپڑتی۔’’مجھے روپیہ کیسے مل سکتا ہے؟ جو تمہیں ملا تھا، اس کا کیا ہوا؟ جو کچھ جیب خرچ مجھے ملتا ہے، وہ چیوپاؤ پر خرچ ہوجاتا ہے۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔‘‘ نوجوان عورت نے رندھی ہوئی بے بس آواز میں کہا۔
تھوڑی دیر دونوں چپ چاپ بیٹھے، حیران اورپھٹی پھٹی نظروں سے اردگرد چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھتے رہے۔
’’
اب چون پاؤ کہاں ہے۔۔۔‘‘ نوجوان عورت نے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا۔
’’
تمہاری سہیلی منگ چیانگ کے پاس۔۔۔ وہی اس کا خیال کرتی ہے۔ وہ اسے اپنے بچے کی طرح پال رہی ہے۔۔۔ مگر وہ بھی تو غریب ہے۔ ان سے جو کچھ ہوا، انہوں نے کیا۔۔۔ اب۔۔۔‘‘
نشئی شوہر نے کہا اور آنسوؤں کو روکنے کے لئے چپ کرگیا۔
’’
اچھا ٹھہرو، میں اس سے کچھ روپے مانگتی ہوں۔۔۔‘‘ نوجوان عورت نے کہا اوراٹھ کر چلی گئی۔

۔(7)۔

’’میں نے جو انگوٹھی تمہیں دی تھی، وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں۔۔۔؟‘‘ زمیندار نے نوجوان عورت سے پوچھا۔
’’
وہ میں نے گروی رکھنے کے لئے، اپنے خاوند کو دے دی تھی۔ چون پاؤ سخت بیمار ہے۔۔۔‘‘ نوجوان عورت نے جواب دیا۔
’’
وہ خبیث تو مجھ سے بھی پیسے لے گیا۔ ان نشےؤں کا کچھ نہیں بنتا۔۔۔ وہ جھوٹ بولتا ہے۔۔۔ چون پاؤبالکل ٹھیک ہے۔ اس نے اپنے نشے کے لئے یہ سب فریب کیا ہے۔۔۔ میں تو پیسے دے دے کر تنگ آگیا ہوں۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اب تم واپس چلی جاؤ۔۔۔‘‘ زمیندار نے بڑے سخت لہجے میں کہا۔
نوجوان عورت چپ چاپ کھڑی تھی۔ اس کے دِل پر اس قدر غم کا بوجھ آن گرا کہ اس کا دماغ بے حس ہوگیا تھا۔ وہ مٹی کے ایک بت کی طرح کھڑی تھی۔ وہ غمگین تھی اورنہ ہی رورہی تھی۔۔۔ غمگین ہونے اور رونے کے لئے احساس کی جو شدّت ہونا ضروری ہوتی ہے، وہ اب ختم ہوچکی تھی۔
اس رات نوجوان عورت چیوپاؤ کو اپنے سینے سے لگائے لیٹی تھی۔ وہ رات گئے تک جاگتی رہی۔ صبح کے وقت اس کی کچھ لمحوں کے لئے آنکھ لگی مگر ایک خوفناک چیخ مار کر اٹھ بیٹھی۔ اس نے ایک خواب دیکھی۔ اسے ایک قبر میں زندہ دفن کیا جارہا تھا۔ اس کا نشئی خاوند اور زمیندار کی بیوی اس کو نقاب پوش لوگوں کی مدد سے زبردستی قبر میں لٹارہے ہیں۔ وہ ان کا حکم مان کر قبر میں لیٹ جاتی ہے۔۔۔ جب اس کے منہ پر مٹی پڑتی ہے تو وہ محسوس کرتی ہے کہ اگر اسی طرح مٹی پڑتی رہی تو وہ آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہ دیکھ سکے گی۔ وہ زندہ رہتی ہے مگر اس کا دھڑ دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ یہ محسوس کرتے ہی وہ چیخ اُٹھتی ہے۔۔۔

۔(8)۔

چیوپاؤ، ماں سے چمٹا ہوا تھا۔ جب زمیندار کی بیوی نے اسے زبردستی اس سے چھین لیا تو وہ زور زور سے چلّانے لگا۔ نوجوان عورت نے درخواست کی کہ اسے دوپہر تک ٹھہرنے دیا جائے مگر زمیندار کی بیوی کہنے لگی:۔
’’
اپنا سامان جلدی باندھو اورچلتی بنو۔۔۔ یہ چند روپے رکھ لو، تمہارے کام کے لئے بخشش ہے۔‘‘
نوجوان عورت نے اپنی کپڑوں کی گٹھری اٹھائی(جسے وہ اپنے ساتھ لائی تھی) اور گھر کے دروازے سے باہر نکل آئی۔ اسے چیوپاؤ کے رونے کی آواز آرہی تھی۔ پورا راستہ یہ آواز اس کے کانوں میں گونجتی رہی۔
چار بجے کے قریب نوجوان عورت کی ڈولی گاؤں میں پہنچی۔ اس کا چہرہ خزاں کے پتے کی طرح زرد اور بوسیدہ تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح، بے مقصد نظروں سے تنگ گلی میں کھڑے بچوں کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اس کے اپنے گھر کے سامنے اتاردیا گیا۔ وہ اپنے گھر کو اجنبیوں کی طرح دیکھ رہی تھی، جیسے ابھی وہ ادھر کھڑے کسی بچے سے اس کا پتہ پوچھے گی۔ بچے شور مچاتے اس کے اردگرد گھوم رہے تھے۔ ان میں اس کا اپنا بچہ چون پاؤ بھی تھا جو ایک درخت کے تنے کے ساتھ لگا، یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ سب بچے گردنیں اونچی کرکے اجنبی عورت کو دیکھ رہے تھے۔ نوجوان عورت نے اپنے بچے کو دیکھا۔ اس کی بے مقصد گھومتی نظروں میں چمک پیدا ہوگئی۔ اس نے سوچا:
’’
وہی ناک نقشہ، جو میں تین برس پہلے چھوڑ گئی تھی۔۔۔ ذرا دبلا ہوگیا ہے۔۔۔ آ، میرے بچے۔۔۔!!‘‘
نوجوان عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اس نے بڑی ہمت کرکے دو الفاظ منہ سے نکالے:
’’
چون۔۔۔ پاؤ۔۔۔!!‘‘
بچے، اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے۔ چون پاؤ گھبرا کر منگ چیانگ کے گھر میں داخل ہوگیا۔

۔(9)۔


منگ چیانگ دوڑتی ہوئی آئی۔ چون پاؤ، اس کے ساتھ تھا۔ وہ نوجوان عورت سے ملی اورخوب روئی۔ نوجوان عورت بے قرار نظر سے چون پاؤ کو دیکھتی رہی۔
’’
تمہاری ماں ہے، اسے ملو۔۔۔‘‘ منگ چیانگ نے چون پاؤ کو نوجوان عورت کی طرف دھکیلا۔ نوجوان عورت اسے باہوں میں سنبھال کر کلیجے سے لگانا چاہتی تھی۔۔۔ جی بھر کے رونا چاہتی تھی۔ چون پاؤ، برف کی طرح جما، دونوں عورتوں کے درمیان کھڑا تھا۔ وہ منگ چیانگ کی طرف جھکا اوراس کا بازو پکڑ کر ہولے ہولے ہلانے لگا۔
اس رات نوجوان عورت منگ چیانگ کے گھر ہی رہی۔ وہ، منگ چیانگ اور چون پاؤ ایک کمرے میں ہی سونے کے لئے گئے۔ چون پاؤ سوگیا۔ وہ منگ چیانگ کے پاس لیٹا ہوا تھا۔ نوجوان عورت نے اسے اپنے ساتھ چمٹانے کے لئے بازو پھیلائے۔۔۔ اسے چیوپاؤ نظر آنے لگا۔ جیسے ابھی ابھی دودھ پیتا اس کے پہلو میں سوگیا ہو۔۔۔

۔(10)۔

گاؤں میں اب بھی ایک بڑھیا رہتی ہے جو کسی سے بات نہیں کرتی۔۔۔ صرف اپنے آپ سے باتیں کرتی ہے یا اپنے کندھوں سے چپکے دو گڈوں سے باتیں کرتی ہے۔

Comments are closed.