کردستان کا قیام

kurd

ڈاکٹر ڈینز سفسی ایک تجزیہ نگار اور محقق ہیں جو عمومی طور پر مشرق وسطی میں نسلی اور مذہبی تحریکوں اور ترکی اور کردوں پر خصوصا تحقیق کر  رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انکے فوکس میں دولت اسلامیہ ، ھشد الشابی دی پی کے کے، پی وائی ڈی / وائی پی جی ،کے ڈی پی ،پی یو کے ، کردش حزب اللہ،زہرہ کمیونٹی منزل تارکہ، اور الیوی کرد ہیں اور وہ ان پر تحقیق کر رہے ہیں۔ذیل میں ان کا انٹرویو پیش ہے۔0

سوال ۔کردوں کی کتنی تعداد آزادی کے حق میںہاں میںہاں ووٹ دے دینگےاور کچھ کیوں بائیکاٹ کرینگے؟

جواب ۔مشرق وسطیٰ کے تجزیہ نگار اور محقق ڈاکٹر دینز سفسی کردستان کے علاقے میں آزادی کے مسئلےپر ریفرنڈم کرنے کے بارے میں اپنےحالیہ وسیع سروے کرنے پر معلوم ہوا کہ 92فیصد لوگ آزادی کے حق میںہاںکرینگے۔

ڈاکٹرسفسی نے اپنی نئے آنے والے والے کتاب کے لیےدولت اسلامیہ اور کرد:شام اور عراق میں تنازعے کی جڑیں :بارے میں اربیل، سلیمانی اور دوہک میں120 سیاستدانوں اور 250 ممکنہ ووٹرز سےبات چیت کی۔

محقق کہتاہے کہ زیادہ تر علاقوں میں لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وقت آگیا ہےکہ آزادی کے بارے میں ریفرنڈم کیا جائے اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے عراق سے علیحدگی کیلئے ووٹ دینگے اور بعض علاقوں میں لوگوں کا خیال ہے کہ علاقائی حزب اختلاف اور علاقائی سیاسی و اقتصادی مسائل کی وجہ سے اس اقدام کو فی الحال ملتوی کیا جائے۔

سوال:اس سروے کا بنیادی مقصد کیا تھا اور اسکا ہدف گروپ کون تھا؟

اسکی بنیادی وجہ میری آنے والی کتابدولت اسلا میہ اور کرد:شام اور عراق میں تنازعے کی جڑیںتھا میں اپنی اگلی کتاب کیلئے مطبوعات کی سیریز کیلئے 2013ء سے کردستان اور مشرق وسطی میں کام کر رہا ہوں اس تناظر میں میں نے محسوس کیا کہ نہ صرف دولت اسلامیہ کے ساتھ جنگ بلکہ کردوں کے سیاسی و اقتصادی تعلقات بھی انکی مستقبل کو تشکیل دینے کا عنصر ہے اور یہ دیگر عناصر کے بعد زیادہ غالب عنصر ہو سکتا ہے۔

ہم نے تقریبا ایک مہینے ریسرچ کی ہم نے لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا کہ موجودہ سیاسی و اقتصادی بحران ایسے اہم ریفرنڈم پر کیسے نظرانداز ہو سکتے ہیں اور موجودہ مسائل اس عمل کو مضبوط کرسکتے ہیں یا اس میں تاخیر پیدا کرسکتے ہیں۔

ہم نے اپنی ریسرچ سیاسی اشرافیہ سے شروع کی جس میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی( KDP),پیٹریاٹک یونین آف کردستان(PUK)،گوران(THE CHANGE MOVEMENT)،دی اسلامک یونین(YEKGIRTU)،دی اسلامک لیگ(KOMAL)، اسلامک موومنٹ(IM)،کمیونسٹ پارٹی،لیڈران اور ڈپٹی لیڈران،MPs ،خواتین تنظیمیں،بزنس سیکٹر اور پیشمرگہ جنرلز شامل تھے ہمیں تقریبا 120 (اشرافیہ لیول کے)لوگوں سے انٹرویو کرنے کا موقعہ ملا۔

ہم نے پبلک سے بھی 250 لوگوں کو بھی انٹرویو کیا یوں شرکاء کی کل تعداد 370 بنتی ہے اشرافیہ کے شرکاء کو انٹرویو کیا گیا اور سروے کو عوام میں تقسیم کیا گیا۔

ہمارا بنیادی مقصد اس سوال کا جواب تلاش کرنا تھا کہ موجودہ سیاسی و اقتصادی بحران کی صورت میں کرد سیاستدان ریفرنڈم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

سلیمانی کے علاقے میں سیاسی گروپوں کا خیال تھا کہ موجودہ صورتحال میں وہ ریفرنڈم کرنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔

سوال:آپ کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلیمانی میں ریفرنڈم کے سوال پر رویہ مختلف ہے ایسا ہی ہے؟

سلیمانی میں موجود کرد سیاسی گروپس خاص طور پر گوران(GORRAN)،کومل(KOMAL)،PUK اور کچھ NGOS ،اور اہم شخصیات نےبتایا کہ ہم سمجھتے ہیں موجودہ حالات میں ریفرنڈم کرنا مناسب نہیں ہے

ہم نے پوچھا کیا آپ آزادی کے خلاف ہیں؟انہوں نے جواب دیا نہیں“-تب ہم نے پوچھا کیا آپ ریفرنڈم کے خلاف ہیں؟تو انہوں نے جواب دیاہم ریفرنڈم کے خلاف نہیں ہیں تاہم ہمارے دیگر مسائل موجود ہیں ریفرنڈم سے پہلے انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسرے الفاظ میں انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی ایکٹیویشن، مسعود برزانی کی صدارت کی ریگولیٹنگ، اقتصادی بحران اور کرپشن کے مسائل کو حل کئے بغیر وہ ریفرنڈم کو قبول نہیں کرینگے۔

ہم نے اس موضوع کو واضح کرنے کیلئےیہ سوال کیا سلیمانی کے اکثریتی شرکاء نے بتایا نہیں ہم ان حالات میں ریفرنڈم کی جانب نہیں جائینگے ہم نے انہیں یاد دلایا کہ اس صورتحال میں تقسیم کا امکان ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہم یہ نہیں چاہتے لیکن اگر کوئی تقسیم ہوگی تو وہ اسی ہی وجہ سے ہوگی

سوال:اربیل(ERBIL اور دوہک(DUHOK) میں صورتحال کیا تھی؟

ہم نے اربیل اور دوہک میں سیاسی اشرافیہ سے ریفرنڈم کے بارے میں بات چیت کی تو ان کا ریفرنڈم کے بارے جواب ہاںمیں تھا

جب ہم نے انہیں بتایا کہ کچھ گروہ ریفرنڈم کی بنسبت سیاسی ایشوز پر زیادہ فکرمند ہیں توکےڈی پی(KDP)،آئی ایم کے(IMK)اور YEKGIRTU اورNGOs کے نمائندوں نے جواب دیا ہاںان حالات میں ہم ریفرنڈم نہیں چاہتے ہیں لیکن یہ ناگزیر ہے یہ ہوگا یہ ایک موقعہ ہے اسے کرنے کی ضرورت ہے۔۔

اکنامکس کے نقطہ نظر سے غالب نظریہ یہ تھا کردستان اندرونی مسائل کو آزادی کے بعد ہی حل کر سکتا ہے

یوں ہر علاقے میں اس ایشو پر لوگوں کی رائے مختلف ہے۔

سلیمانی میں مقیم کردش سیاسی اشرافیہ نے بتایا کہ ریفرنڈم سے پہلے سیاسی بحران، اقتصادی مسائل اور جمہوریت کی بہتری کے مسئلے کو حل کرنا چاہئیے کیونکہ کردستان کے قیام کے بعد یہ مسائل مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔

سوال:اس بارے میں عوام کی رائے کیا ہے؟

ہمیں اس تحقیق کے دوران اس حقیقت کا احساس ہوا کہ عوام اور سیاسی اشرافیہ کے بیچ خلاء موجود ہے کہ جو کام سیاسی اشرافیہ کرتی تھی عوام کچھ عرصے بعد اس میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتی تھی اور ہم نے محسوس کیا کہ ان کے سیاسی ترجیحات روزمرہ زندگی سے متعلق تہے

ہم نے سلیمانی کے علاقے میں تقریبات 120 لوگوں سے، اربیل( ERBIL) ، دوہک(DUHOK) اور زاخو(ZARKHO)میں تقریبا 130 لوگوں سے بات چیت کی یہ بنیادی طور پر سروے کی صورت میں تھا۔

ہم نے ان گروپوں سے پوچھاچاہے وہ کردوں کی آزادی کے بارے میںہاںیانہمیں جواب دینگے ہمیں کردستان کی آزادی کے حق میں 92%جواب حاصل ہوا۔

اس سوال پر کہ اس صورتحال میں ریفرنڈم کیسے ہوگا؟سلیمانی میں 76%لوگوں نے منفی میں جواب دیا کہ اربیل، دوہک اور زاخو میں کسی بھی صورتحال میں ریفرنڈم کرنے کے حق میں مثبت جواب دیا۔

عمومی طور پر45%لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ان حالات میں ریفرنڈم کو مناسب نہیں سمجھتے ہیں انکی رائے ہے کہ سیاسی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے بعد ہی ریفرنڈم کیا جائے جبکہ 55%لوگ کسی بھی صورت میں ریفرنڈم کے حق میں تھے۔

ہمارے سروے کے مطابق 90%لوگوں نے رائے دی کہ یہاں سنگین قسم کی کرپشن موجود ہے انہوں نے کہا کہ کرد سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔

کچھ شرکاء نے بتایا کہ وہ کردستان میں اقتصادی کرپشن اور تضادات کو چھپانے اور عوام کیلئے تباہی پیدا کرنے کیلئے ریفرنڈم کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

سوال:کیاISIS کے خلاف جنگ اندرونی تنازعات، اقتصادی بحران اور کرپشن کو چھپانے کا باعث بنا؟آئ ایس آئ ایس کےساتھ جنگ ایک یا دوسرے راستے سے کردستان میں سیاست کو پٹری سے اتار سکتا ہے جبکہ انکے ساتھ جنگ جاری ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں صدر برزانی کیلئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ سیاسی اتھارٹی کی حیثیت سے بین الاقوامی تعلقات کو برقرار رکھنے کیلئے مزید کچھ سالوں کیلئے اقتدار پر قائم رہے؟

اربیل،دوہک اور زرخو کے علاقوں میں عوام کی اکثریت میں برزانی کی صدارت پر کوئی اختلاف نہیں جبکہ سلیمانی کے علاقے کے پارٹی PUK ، گوران اور کومل کے کچھ حصوں میں لوگوں نے جواب دیا کہ برزانی کی جگہ سنبھالنے کیلئے کئی متبادل کرد لیڈر موجود ہیں

سوال:کیا عوام کو سیاسی پارٹیوں پر اعتماد ہے؟

86%لوگ کسی بھی سیاسی پارٹی پر اعتماد نہیں کرتے۔

سوال: تو اس طرح ہم کیا جنرل نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟

تقریبا تمام کرد سیاسی اشرافیہ اور عوام سب آزادی کے حق میں ہاںکہتے ہیں تاہم وہ سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکلنے کے بعد ریفرنڈم چاہتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح اندرونی تنازعات کردوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

سوال:باقی8-7% کیوں آزادی کے حق میں نہیں ہیں؟

7-8%وہ لوگ ہیں جو بہت زیادہ کرد سیاست سے ناراض ہیں مثال کے طور پر ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بیان کیا کہ ان کے خاندان میں سے بہت سے پیشمرگہ(مجاہدین آزادی)شہید ہیں لیکن ہم کرپشن سے تنگ اچکے ہیں اور ہم اسطرح کے کردستان میں نہیں رہنا چاہتےایک دوسرے آدمی نے کہا کہ کرپشن کے بعد کردستان کا تصور بے معنی رہ چکا ہے۔

دو ترکوں جنہوں نے سروے میں حصہ لیا انہوں نے کہا کہ وہ فیڈرلزم چاہتے ہیں اسکے علاوہ کچھ یزیدی بہت ناراض ہیں کہ ان کے مسائل حل کئے بغیر وہ کردستان کے حق میں ہاںنہیں کرینگے

“86%عوام کسی بھی پارٹی پر اعتماد نہیں کرتے۔

سوال:کیا آپ اس صورتحال میں ریفرنڈم کو موزوں سمجھتے ہیں ؟

ہم اگر نتائج پر نظر ڈالیں کہ اگر کردستان میں ریفرنڈم ہو جائیں تو 40-50 %عوام ریفرنڈم کے بارے میں نہیںنہیں کہینگے بلکہ وہ ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرینگے اگر 40 سے50 %عوام ریفرنڈم میں حصہ نہیں لیتے اور صرف 50 سے60 %لوگ آزادی کے ریفرنڈم کوقبول کریں تو یہ ایک سیاسی شرم کی بات ہے۔

یہ شرم کا باعث ہے کہ اس سرزمین کے حق میں صرف 55 سے60 %لوگ ہوں جہاں کے ہر انچ زمین پر شہیدوں کا خون بہا ہے بل یہ پاس توہوگا لیکن 60 %اور 90 %کے درمیان فرق سوشیا لوجی اور سیاست سے متعلق کچھ معنی رکھتے ہیں یہ کردستان کی آزادی کو نقصان دے گا

اس سیاق و سباق کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس صورتحال میں ریفرنڈم کرنا مناسب نہیں ہوگا جب 45 سے50 %ریفرنڈم کے حق میں نہ ہوں یا بائیکاٹ کریں سلیمانی کو یہ تسلیم کرنا چائیے ہمارے سروے کے نتائج بھی اس کو سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ پچھلے ہفتے گوران اور PUK بغداد گئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہہم متحدہ عراق کو سپورٹ کرتے ہیں

سیاسی و اقتصادی تعلقات پیدا کئے ہیں دوسری جانب ترکی نے اربیل کے ذریعے اقتصادی و سیاسی اثرورسوخ کو بڑھا دیا ہے

اندرونی تقسیم نے کردستان میں بیرونی ممالک کے سیاسی مداخلت کو آسان بنایا ہے اس بناء پر کردستان کو اپنی سیاسی مفادات کی بنیاد پر ریفرنڈم پر غور کرنا چائیے ایران مکمل طور پر کردستان کی آزادی کے خلاف ہے اسی وجہ سے وہ ریفرنڈم کو روکنے کیلئے اپنے سیاسی و اقتصادی طاقت کو استعمال کرنا چاہتا ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ ایران کا گوران اور PUK پر بڑا اثر ہے کہ انہوں نے بغداد جا کر کہا کہ ہم عراق کا حصہ بن کر رہنا چاہتے ہیں۔اندرونی تنازعات نے ایران کی حوصلہ افزائی کی۔

نوٹ:یہ انٹرویو ایک کردش ویب سائٹ rudaw.net میں انگریزی میں چھپ چکاہے

One Comment