ٹورونٹو کے ادبی منظر میں ممولے کو شہباز سے لڑانے والے ہنر مندوں کی فنکاریاں

Asif-Javaid4

آصف جاوید

پیارے فیصل عظیم : چونکہ آپ میرے فیس بُک فرینڈ ہیں جو کہ سماجی رابطوں کا ایک دوستانہ فورم ہے ، جس کے ذریعے  دنیا بھر  سے دوست ، جغرافیائی حدود  اور فاصلوں کی پابندی کے بغیر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ فیس بُک  سماجی  رابطوں کا موثّر اور  تیز ترین  ذریعہ ہے جس کے  طفیل ہم اپنی بات دوسروں تک پہونچاتے ہیں۔  آپ نے بھی اپنی بات چونکہ فیس بُک کے ذریعے ہی دوستوں تک پہنچائی تھی لہذا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ برہِ راست آپ کو مخاطِب کرکے  اپنی بات بھی اس ہی ذریعے  سے آپ  تک پہنچادوں، تاکہ بات آپ کے  بھی گوش گذار ہوجائے اور  دوسرے  ان متعلّقہ دوستوں تک بھی پہنچ جائے جو آپ کی  نگارِ شات پر تبصروں  کی آڑ میں اپنا اپنا ایندھن ڈال رہے ہیں۔

آپ ایک شاعر ہیں یہ تو میں جانتا ہوں۔ مگر مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ آپ ممتاز شاعر جناب شبنم رومانی کے بیٹے بھی ہیں۔ میں چونکہ شاعر نہیں ہوں اور نہ ہی آئندہ مستقبل میں اس میدان میں طبع آزمائی کا میرا کوئی ارادہ ہے اس لئے میں ٹورونٹو میں مقیم   زیادہ تر شاعر  خواتین و حضرات سے اتنا زیادہ منسلک  نہیں ہوں کہ ٹورونٹو میں   ادب کی دنیا میں شاعروں کے درمیان ہونے والی عمومی چپقلش اور یاوہ گوئی کا حصّہ دار بنوں۔   یا شعراء اکرام کے درمیان ہونے والی معرکہ آرائیوں میں جلتی ہوئی آگ پر دوسرے  لوگوں کی طرح  اپنا بھی ایندھن ڈالوں اور آگ کو بھڑکاوں۔

میں گذشتہ چند روز سے آپ کی شیئر کی ہوئی پوسٹ کے کمنٹس کو فالو کررہا ہوں۔  میں آپ کی گفتگو  میں اپنے ریمارکس کبھی بھی نہیں دیتا ۔ کیونکہ ایک تو میں شاعر نہیں ، دوسرے مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کی نظم کے مندرجات کیا ہیں ؟اور جس نظم کے سرقے کا آپ نے ایک معتبر شاعر پر الزام لگایا ہے ان کی نظم کے مندرجات کیا ہیں؟۔  میرا جرم صرف اتنا تھا کہ جب آپ نے پوسٹ شیئر کی تو  بالکل شروع میں ، اپنے کمنٹس میں، میں  نےمگھّم  بات پہیلی ایسی، جو نہ سمجھی  جائے ”  کے مصداق   آپ سے کہا  تھا کہ میاں ڈر کیوں رہے ہو ، کھل کر نام لو جس پر بھی تمہارا اعتراض ہے ، بتاوتاکہ لوگوں کو پتا  تو چلے  کہ  تم کس بزرگ کی بات کررہے ہو جس نے تمہاری نظم سرقہ کی۔

 اگر تم کرونولوجیکل آرڈر میں  اپنی پوسٹ پر شروع سے آخرتک چلو تو تم دیکھو گے  کہ  بالکل شروع میں ، میں نے تم سے صرف یہ کہا تھا کہ ڈرو مت نام بتاو،   پھر جب ان بزرگ شاعر کا نام دوسرے لوگوں کے  تبصرے میں سامنے آیا تو مجھے اصل بات کا پتا چلا اور میں نے باوجود آپ کے اکسانے کے اپنا کوئی تبصرہ نہیں دیا۔ کیونکہ اشفاق  حسین صاحب کا نام سامنے آنے پر بات صاف ہوگئی تھی، چونکہ مجھے اشفاق حسین  صاحب کی ادبی،  علمی، ا ور تحقیقی  صلاحیتوں اور ادبی پروگراموں  کے  انتظامی امورکی مہارتوں  کا ذاتی طور پر علم  اور اعتراف ہے اور تمہاری  (شاعرانہ )حیثیت سے بھی کسی حد تک واقف ہوں ،  کیونکہ تمہیں میں مشاعروں میں کئی دفعہ  سن چکا ہوں ۔ لہذا مجھے  اپنی رائے قائم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔

 میں  اس قضئیے میں پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن سماجی و سیاسی مسائل پر کالم نویسی اور تاریخ، سماجیات، سیاسیات اور اردو ادب کے طالبعلم کے طور پر   اور ٹورونٹو کے ادبی پس منظر سے آگاہی رکھنے کے سبب اتنا ضرور جانتا ہوں، کہ تم کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ اشفاق حسین  صاحب نے تمہارا کلام سرقہ کیا ہے۔ دوستوں نے بھی تمہیں کافی بھڑکایا ہے اور تم سے ہمدردی کی آڑ میں ، اشفاق صاحب سے اپنے پرانے حساب کتاب چکانے کی احمقانہ کوششیں کی ہیں۔

چونکہ اب اشفاق صاحب کا وضاحتی بیان سامنے آگیا ہے لہذا میں اس پوزیشن میں ہوں کہ تمہارے معاملے میں اپنا تبصرہ دیتے ہوئے تم سے درخواست کروں کہ  اب یہ تمہاری اخلاقی ذمّہ داری ہے کہ تم بھی ان لوگوں کے نام سوشل میڈیا پر ضرور بتاو جو تم سے یہ کہتے رہے کہ اشفاق حسین صاحب تم پر سرقے کا الزام لگاتے ہیں۔  میرا تم کو یہی مشورہ ہے کہ تم احمق لوگوں کے چڑھائے میں آکر سنجیدہ اہلِ ادب کی طبعیت کو  مکدّر مت کرو۔  یہ لوگ تمہارے خیر  خواہ ہرگز نہیں،   یہ لوگ تو  اپنا ہنر تم پر آزما رہے ہیں۔ دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تمہارے ساتھ اپنی، اپنی ادبی انجمنوں کے تحت شامیں منا کر پہلے تمہیں فیصل عظیم سے فیصل عظیم تر ، پھر اس کے بعد فیصل عظیم ترین بنادیں اور تمہیں پتہ ہی نہ چلے۔

 بقول   علّامہ اقبال  یہ،اٹھا ساقیا ءپردہ اس راز سے ،   لڑادے ممولے کو شہباز سے

والے  اہلِ  ہنر ہیں ۔   ان سے بچ کر رہنا،   ممولا اگر  شہباز سے بھِڑ جائے تو اس کو مرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا،لیکن  اگر یہی ممولا شہباز سے  پرواز کا ہنر سیکھ لے تو بہت اونچی فضائوں میں اڑ سکتا ہے۔ محترمہ شاہدہ حسن صاحبہ نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے، امید ہے کہ وہ تبصرہ تمہاری نظروں سے گذرا ہوگا ، فیض صاحب اور مخدوم محی الدین کی لکھی ہوئی یہ غزل آپ بھی پڑھ لیجئے۔

مخدوم محی الدین کی غزل

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی

غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

بانسری کی سُریلی سہانی صدا

یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اترتے رہے

چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھِرتا رہا

کوئی آواز آتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض کی غزل

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چاندنی دل دُکھاتی رہی رات بھر

گاہ جلتی ہوئی،گاہ بجھتی ہوئی

شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر

کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن

کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر

پھر صبا،سایہ ئ شاخِ گُل کے تلے

کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر

جو نہ آیا اُسے کوئی زنجیرِ در

ہر صدا پر بلاتی رہی ،رات بھر

ایک امید سے دل بہلتا رہا

اک تمنا ستاتی رہی رات بھر

فیصل عظیم:۔

  کیا  تم نے غور کیا کہ مختلف ہونے کے باوجود ان دونوں غزلوں میں کتنا کچھ مشترک ہے؟؟

اب تم ہی  بتاو کیا ہم ان دو بڑے شاعروں پر ایک دوسرے کے سرقے کا الزام لگائیں گے؟؟

فیصل  عظیم : یہ زندگی کے محسوسات اور حقائق کے اجتماعی ادراک کا نتیجہ ہے  کہ خیالات اور الفاظ میں مماثلت  ہو ہی جاتی  ہے۔۔ بس آخر میں یہی کہوں گا کہ  اشفاق حسین نہ تو مالی طور پر دیوالیہ ہیں ، نہ ہی ادبی طور پر دیوالیہ ہیں اور نہ ہی اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہیں کہ وہ  تمہارا کلام سرقہ کریں گے۔  اشفاق  حسین صاحب کے دامن میں اتنا کچھ ہے کہ انُ کو کسی کی نظم چرانے کی ضرورت نہیں، وہ تو خود ایک بہتا ہوا دریا ہیں،  ایک دنیا ہے جو اُن سے فیضیاب ہوتی ہے۔ تم چاہو تو  تم بھی ان سے سیراب ہوسکتے ہو،  اور یار آپس کی بات ہے  کہ استادانِ فن ہاتھ  تو صاف  کیا کرتے ہیں، مگر بچّوں کی تخلیقات پر نہیں۔

تم ایک تخلیقی ذہن  کے باشعور  اور ابھرتے ہوئے  شاعر ہو ، تم شبنم رومانی مرحوم جیسے بلند پایہ شاعر کے فرزندِ ارجمند ہو،  خاطر جمع رکھو، اور اپنی تخلیقات پر توجّہ دو۔ تمہارا مستقبل بہت تابناک ہے، تمہاری منزل بہت آگے ہے۔

One Comment