کیا اپنے ماضی کو دفن کردینا چاہیے

liaq

لیاقت علی ایڈووکیٹ

بریگیڈئیر اے۔آر صدیقی آئی ۔ایس ۔پی ۔ آر کے سربراہ رہے ہیں ۔1965اور 1971کی جنگوں کے وقت بھی وہ اس کے سربراہ تھے ۔وہ ان روایتی افسران میں شامل نہیں جو کہ آنکھ بند کرکے اور تعصب کی عینک سے صرف اپنے ادارے (فوج)کی حمایت میں دلائل دیتے ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ خاص طور پر 1965 کی جنگ کے واقعات کو بڑے حقیقی انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ان کا یہ خیال ہے کہ ہم نے جنگ بلاجواز شروع کی اور بغیر کسی تیاری اور منصوبہ بندی کے کشمیر محاذ کھولا اور ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ ہندوستان اس کا بڑا سخت جواب دے سکتا ہے ۔یہ جنگ دراصل ہماری ناقص منصوبہ بندی کی عکاس تھی ۔

تین جون 1947کو تقسیم کا اعلان ہوتے ہی دہلی کے مسلمانوں میں اپنے مستقبل کے بارے میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوگئی ۔جناح اس وقت اپنی دہلی کی کوٹھی میں مقیم تھے جو 10۔اورنگ زیب روڈ پر واقع تھی۔22۔جون کو مسلمانون کا ایک بڑا ہجوم انتہائی گرم دن کو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا جناح کی شاندار کوٹھی کے باہر پہنچا لیکن دس پندرہ منٹ تک بلند آواز میں نعرے لگانے کے باوجود کوئی باہر نہ آیا ۔

تھوڑی دیر بعد محترمہ فاطمہ جناح شدید غصے کی حالت میں باہر آئیں اور بلند آواز میں چلائیں کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟لوگوں نے کہا کہ وہ قائد سے ملنے آئے ہیں اور انھیں (قیام پاکستان پر) مبارک باد دینا چاہتے ہیں ۔ ابتدائی طور پر مس فاطمہ جناح نے ان کی قائد سے ملاقات کرانے سے معذرت کر لی لیکن خواتین کے اصرار اور یقین دہانی پر کہ وہ قائد کا زیادہ وقت نہیں لیں گی ۔فاطمہ جناح نے ان کو باہر ہی انتظار کرنے کا کہہ کر اندر چلی گئیں۔

خواتین جو انتہائی گرمی کے باعث شدید پیاسی تھیں ،امید کر رہی تھیں کہ انہیں کم از کم پینے کا پانی تو مہیا کر دیا جائے گا لیکن انہیں سخت مایوسی ہوئی ۔لیکن چند لمحوں بعد جناح اپنی بہن سمیت باہر آگئے ۔خواتین نے قائد کو اپنے درمیان پاکر مزید پر جوش انداز میں نعرے بلند کرنا شروع کر دیئے لیکن فاطمہ جناح نے ان کو جلد ہی خاموش کروادیا اور آنے کی وجہ دریافت کی ۔

خواتین نے پوچھا کہ تقسیم کے بعد ہندوستان ( مسلمان اقلیتی صوبوں )کے مسلمانوں کا کیا ہوگا ؟قائد نے کہا جو لوگ پاکستان پہنچ سکتے ہیں انہیں خوش آمدید کہا جائے گا ۔ باقیوں کو انڈیا ہی میں رہنا ہوگا ۔پاکستان سب کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا ۔آپ لوگوں نے پاکستا ن کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ یادگار ہیں ۔

یہ الفاط سن کر تمام خواتین سکتے میں آگئیں۔ قائد اور ان کی بہن نے انہیں پریشان کر دیا تھا ۔دہلی کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس صورت حال سے خوش نہ تھی ۔ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین ڈان کو کراچی منتقلی کا پروگرام بنا رہے تھے لیکن باقی عملہ اور مستقبل کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر محمد حسین خوش نہیں تھے بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات کا شکار تھے ۔

اسی دوران 7اگست 1947کو جناح نے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل کے طور پر کراچی روانہ ہونے کا اعلان کیا اور اپنے الوداعی پیغام میں انھوں نے کہا ’میں دہلی کے شہریوں کو الوداع کہہ رہا ہوں جن میں میرے کئی اچھے دوست ہیں جن کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے ۔میں ان تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم تاریخی شہر میں امن سے رہیں۔ماضی کو دفن کردیا جائے اور پاکستان اور ہندوستان کی دو آزاد ریاستوں کو اب اپنے نئے سفر کا آغاز کرنا ہوگا ۔میں ہندوستان کے لئے نیک تمناؤں اور امن کا خواہش مند ہوں ‘۔

مصنف اے آر صدیقی کے بقول اس بیان کا آخری جملہ ’ماضی کو دفن ہونا چاہیے ‘۔بڑا دلچسپ تھا ۔کیا ماضی کو دفن کرنا اتنا ہی آسان تھا ؟۔جناح کی پاکستان روانگی سے ہندوستان کے مسلمانوں کو لگا کہ وہ اچانک یتیم ہوگئے ہیں ۔

یہ اقتباسات بریگیڈئیر اے۔آر صدیقی کی کتاب ’: سموک ودآوٹ‘ فائر سے لیے گئے ہیں

Comments are closed.