تلور کو اب بھگوان ہی بچائے

238_black-belliedbustard_lissotismelanogaster_pumbaa_zps380f563f

موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان میں عرب شہزادوں کی آمد آمد ہے۔ یہ شہزادے نایاب پرندوں کے شکار کے لیے ہر سال پاکستان آتے ہیں۔ یوں تو حکومت پاکستان نے ان پرندوں کے شکار کھیلنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے مگر ریاست کے مہمان اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

سول سوسائٹی کی چند ایک تنظیمیں اور کچھ صحافی حسب روایت احتجاج کریں گے اور اخبارات میں چند ایک مضامین بھی چھپ جائیں گے مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگے گی۔

بی بی سی کے جاوید سومرو لکھتے ہیں کہ جب سے میں نے صحافت کا آغاز کیا ہے بھگوان داس تلور بچا رہے ہیں۔ اور یہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہے، 25برس تو آسانی سے ہوگئے ہوں گے۔ معتبر انگریزی روزنامے ڈان کے اس کہنہ مشق صحافی نے مبینہ طور پر معدومی کا شکار پرندے تلور کے غیرقانونی شکار کے خلاف جتنی خبریں چھاپی ہیں اتنے تو شاید ملک بھر میں تلور بھی نہ ہوں۔۔ لیکن نہ حکومت نے کبھی ان کی سنی، نہ مشرق وسطیٰ کے شہزادے باز آئے اور نہ ہی تلور معدوم ہوئے۔

لیکن بھگوان داس کی تازہ خبر نے پاکستان میں لوگوں کو اپنے تئیں سیاسی صورتحال اور خاص طور پر وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق جاری پاناما پیپرز کی عدالتی کارروائی سمجھنے میں مدد دی ہے۔ ’اچھا تو یہ بات ہے،‘ بہت سارے لوگ آپ سے کہیں گے، ’اب سمجھ میں آیا کہ کیوں قطری شہزادے نے میاں صاحب کو وہ خط دیا ہے!‘۔

گو عدالتی چیتوں نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے کہ اگر شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کبھی پاکستانی عدالت میں آئے تو انھیں ’لگ پتا‘ جائے گا۔ بقول ان عدالتی مجاہدوں کے شہزادے صاحب سے عدالتی کمرے میں ایسے ایسے سوال پوچھے جائیں گے کہ وہ پھر کبھی پاکستان کا رخ نہیں کریں گے، تلور کا شکار تو دور کی بات۔ ویسے اگر ایسا ہو تو شاید چند سو تلوروں کی زندگیاں تو بچ ہی جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب میں تلوروں کی بہت تھوڑی تعداد باقی بچی ہے اور اس نسل کو معدومی کا سامنا ہے۔ اسی لیے ملک میں دہائیوں سے تلور کے شکار پر نام نہاد پابندی عائد۔ لیکن عرب شیوخ اور ان کے قریبی دوستوں کے لیے اور بعض پاکستانی بااثر شخصیات کے لیے زندگی کے ہر دوسرے شعبے کی طرح اس میں بھی استثنیٰ ہے۔

ہر برس ان مرد شخصیات کے لیے وفاقی حکومت خاص حکم نامے جاری کرکے پابندی میں نرمی کرتی ہے اور تلوروں کو مارنے کی اجازت دے دیتی ہے۔ پتا نہیں یہ ذرا سی بات تلوروں کو کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ نومبر اور جنوری کے مہینوں کے درمیان کہیں ادھر اودھر ہوجائیں اور مارے جانے سے بچ جائیں۔

بھگوان داس کی تلوروں کو بچانے کی کوششوں کے علاوہ دو اور بھی خوبیاں ہیں (گو بعض لوگ انھیں خامیاں بھی کہہ سکتے ہیں) اور وہ یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ پیدل چلتے ہیں اور موبائل فون نہیں رکھتے۔ اکثر میں نے انھیں اپنے گھر سے پریس کلب اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ تک اور پھر اپنے دفتر جاتے دیکھا ہے۔

ظاہر ہے ان کی یہ تگ و دو صرف تلور بچانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اور بھی خبریں کرنے میں وہ کمال رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈس ڈالفن اور دوسرے نایاب جانوروں، پرندوں اور آبی حیات کو کن کن وڈیروں، چوہدریوں، سرمایہ داروں، تعمیراتی مافیاؤں اور جرنیلوں سے خطرہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن اس مرتبہ انھوں نے کوشش تو شاید تلور بچانے کی کی ہے لیکن اس چکر میں ملک کی خارجہ پالیسی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ آپ کو یاد ہے حکومت کے وہ جینئیس اہلکار جنھوں نے کچھ عرصہ پہلے فرمایا تھا کہ دوست عرب ممالک کو تلور کا شکار کرانا پاکستانی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔

اب بیچارے تلور پر ایک ملک کی خارجہ پالیسی کا اتنا اہم بوجھ ہو تو اسے بھگون داس تو نہیں شاید بھگوان ہی بچا سکتا ہے۔

BBC

One Comment