نورالنساعنایت خان

آصف جیلانی

ٹیپو سلطان کے خاندان کی بیٹی، جس نے برطانیہ کے لئے جان دے دی۔

زمانے کی بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ ٹیپو سلطان جو انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شہید ہوئے تھے ، ان کے خاندان کی ایک بیٹی نے ٹیپو کی شہادت کے ایک سو پینتالیس سال بعد ، ٹیپو کو شہید کرنے والے انگریزوں کی آزادی کے تحفظ کے لئے اپنی جان قربان کردی۔

یہ داستان ، نور النساء عنایت خان کی ہے جو دوسری عالم گیر جنگ میں ’’نورا بیکر‘‘ ،’’میڈیلین‘‘ اور جینی میری رینیر‘‘کے ناموں سے ، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی خفیہ ایجنٹ کی حیثیت سے فرانس پر قابض جرمن نازی فوج کے خلاف نبرد آزما تھیں۔ نور عنایت خان ، برطانوی فوج کی پہلی خاتون خفیہ ایجنٹ ، ریڈیو آپریٹر تھیں جو جرمنی کے مقبوضہ فرانس میں جاسوسی کے لئے بھیجی گئی تھیں اور جو اپنی فرانسیسی ساتھی خاتون کے بھید کھولنے پر گرفتار کر لی گئی تھیں اور جرمنی کے دغاو جیل میں ۴ فروری ۱۹۴۴کو فایرنگ اسکوڈ کا نشانہ بنی تھیں۔ 

نور النساء کے والد عنایت خان کی والدہ ٹیپو سلطان کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔عنایت خان موسیقار اور صوفی معلم تھے ۔ امریکا کے دورے میں انہوں نے ایک امریکی خاتون سے شادی کی تھی جو مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد ، پیرانی امینہ بیگم کہلائی گئیں تھیں۔ عنایت خان جب روس میں مقیم تھے تو اپنے چاربھائی بہنوں میں سب سے بڑی ، نور النساء پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے بعد ان کے بھائی ولایت خان، ہدایت خان اور بہن خیرالنساء پیدا ہوئیں۔

پہلی عالم گیر جنگ سے قبل عنایت خان اپنے خاندان کے ساتھ جرمنی منتقل ہوگئے تھے ، جنگ چھڑنے کے بعد وہ پہلے لندن اور بعد میں فرانس منتقل ہوگئے ۔ ۱۹۲۷میں عنایت خان کے انتقال کے بعد، والدہ اور بہن اور بھائیوں کی کفالت کا بوجھ ، نوعمر نورالنساء کے کاندھوں پر آن پڑا۔ اس دوران انہوں نے رسالوں اور ریڈیو کے لئے بچوں کی کہانیاں لکھنی شروع کیں اور ۱۹۳۹ میں مہاتما گوتم بدھ کے پہلے جنموں کے بارے میں کہانیوں کی کتاب شائع ہوئی ۔

فرانس پر جرمنی کے قبضہ کے بعد نور عنایت خان اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہو گئیں۔ یہیں لندن میں نور عنایت خان نے تعلیم حاصل کی ۔ نومبر ۱۹۴۰ میں نور عنایت خان نے ۲۶ سال کی عمر میں خواتین کی فضائی فورس،WAAFمیں شمولیت اختیار کی۔ ۱۹۴۲ میں انہیں ریڈیو آپریٹر کی حیثیت سے بھرتی کیا گیا اور فرانسیسی زبان پر مکمل عبور کی بنیاد پر جون ۱۹۴۳ میں انہیں خفیہ ایجنٹ کی حیثیت سے ،مقبوضہ فرانس میں اتار ا گیا۔

’’میڈیلین‘‘کے کوڈ نام سے انہوں نے پیرس کے قریب فرانسیسی مزاحمتی دستہ میں جاسوسی کا کام شروع کیااور وہ خفیہ معلومات ریڈیو کے ذریعہ برطانوی فوج کو بھیجتی تھیں۔ مزاحمتی دستے میں شامل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی اس دستے کے بہت سے اراکین گرفتار کر لئے گئے۔لندن نے نور عنایت خان کو برطانیہ واپس آنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے فرانس میں رہ کر جاسوسی جاری رکھنے کو ترجیح دی اور مختلف مقامات سے لندن کو خفیہ بیغامات بھیجتی رہیں۔ 

اکتوبر ۱۹۴۳ میں ان کے دستے کی ایک فرانسیسی خاتون نے دغا دی اور ان کا بھید کھول دیاجس پر جرمن نازی گستاپو نے انہیں گرفتار کر لیا۔ غلطی سے نور عنایت خان نے ان پیغامات کی نقلیں اپنے پاس رکھی تھیں جو وہ لندن بھیجتی رہی تھیں۔ ان کے خفیہ کوڈز کی بنیاد پر جرمنوں نے لندن کو گمراہ کن غلط اطلاعات بھیجیں جس کی وجہ سے برطانوی فوج کو نقصان اٹھانا پڑا۔ قید کے دوران نور عنایت خان جیل سے فرار ہوگئیں لیکن بہت جلد پکڑی گئیں۔ جس کے بعد انہیں جرمنی کی فورزایم جیل میں قید کر دیا گیا جہاں انہیں نہایت خطرناک قیدی قرار دے کر زنجیروں میں باندھ کر قید تنہائی میں رکھا گیا۔ 

یہاں ان کو سخت اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن انہوں نے نہایت دلیری سے اس تشدد کا مقابلہ کیا اور انہوں نے خفیہ اطلاعات بتانے سے انکار کردیا۔ ستمبر ۱۹۴۴ میں انہیں دغاو کی مشہور زمانہ جیل میں منتقل کر دیا گیا اور ۱۳ ستمبر ۴۴ کو انہیں سزائے موت سنائی گئی اور فائرنگ اسکوڈ نے ان کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ موت کے وقت انہوں نے نعرہ لگایا ’’آزادی‘‘۔ سزائے موت کے فورا بعد نور النساء کی لاش جلا دی گئی ۔ نازیوں نے لاش نذر آتش کر کے ان کا نشان تو مٹا دیا لیکن تاریخ کے صفحات پر ان کا نام ہمیشہ کے لئے روشن رہے گا۔

نور عنایت خان کی اس بے مثال بہادری پر ۱۹۴۹ میں انہیں برطانوی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’جارج کراس‘‘ دیا گیا ۔ برطانیہ میں نور عنایت خان، ٹیپو سلطان کے خاندان سے تعلق کی بناء پر ’’جاسوس شہزادی‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ۸ نومبر ۲۰۱۱کو لندن کے وسط میں گورڈن اسکوائر گارڈن میں شہزادی این نے جاسوس شہزادی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی اور ۱۹ نومبر ۲۰۱۱ کو اس زمانہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دارالعوام میں نور عنایت خان کو برطانیہ کی آزادی کے دفاع کے لئے کار ہائے نمایاں انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ 

اس برطانیہ نے جس کی فوج نے ٹیپو سلطان کو ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑنے کے دوران شہید کیا تھا، دو سو بارہ سال بعد ان کے خاندان کی ایک بیٹی کو برطانیہ کی آزادی کے لئے جان نچھاور کرنے پر فوج کا اعلی ترین اعزاز دیا اور ان کی تصویر کے ساتھ یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ یہ بھی کیسا نیرنگ زمانہ ہے جو تاریخ میں یاد رہے گا۔

4 Comments