ریاستی ادارے نے بدترین تشدد کیا


روشن خیال اور ترقی پسند پاکستانی سیاسی و سماجی کارکن اور بلاگر، وقاص گورایہ، جو اس سال کے آغاز میں اغوا کر لیے گئیتھے ،نے کہا ہے کہ میر ے اغوا میں ایک حکومتی ادارہ ملوث ہے جس کا پاکستان ملٹری سے تعلق ہے ۔د وران حراست مجھ پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔وقاص گورایہ ان پانچ بلاگرز میں سے ایک ہیں جو اس سال جنوری کے آغاز میں پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے۔

لاپتہ ہونے والے بلاگرز کچھ ہفتوں بعد واپس اپنے گھروں کو پہنچ گئے تھے۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے بدترین سلوک پر زبان نہیں کھولی کیونکہ زبان کھولنے کی صورت میں ان کو اور ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

لاپتہ ہونے والے بلاگرز کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا میں ایک بھرپور مہم چلائی گئی تھی اور کہا جاتا تھا کہ ان کے اغوا میں آئی ایس آئی ملوث ہے جبکہ پاکستان آرمی کی جانب سے ان کے اغوا میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی تھی ۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکن شدید خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔پاکستان آرمی کی جہادی تنظیموں کی سرپرستی اور ان کی سیاست میں مداخلت پر کوئی بھی ٹی وی چینل یا اخبار بات کرنے کے لیے تیار نہیں اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وقاص گورایہ جو کہ ہالینڈ میں رہائش پذیر ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ دوران حراست ان پر گھونسے اور تھپڑ رسید کیے جاتے اورجسمانی تشدد کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں یقین ہو گیا تھاکہ اب شاید ہی ہم رہا ہو سکیں۔ ’’ ہم جانتے تھے کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا۔۔۔ ہماری تشدد سے موت واقع ہو جائے گی‘‘ انھوں نے بی بی سی کو بتایا۔

وقاص گورایہ جنیوا میں ہونے والی ہیومن رائٹس کونسل کی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں اور ایک سیشن میں اپنے اوپر گذرنے والی بپتا سنائی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں اس وجہ سے اغوا کیا گیا تھا کیونکہ وہ فیس بک پر ایک طنزیہ پیچ چلارہے تھے جس میں پاکستان ملٹری کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کی جاتی تھی۔ اس پیچ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے بلوچستان میں بلوچ سیاسی کارکنوں کے اغوا اور ان پروالی زیادتیوں اور تشدد پر بھی سخت تنقید کی جاتی تھی۔

وقاص گورایہ نے کہا کہ انہوں نے کوئی قانون نہیں توڑا۔’’میں نے کوئی جرم نہیں کیا ۔ اگر کیا ہوتا تو مجھے غیر قانونی اغوا کرنے کی بجائے میر امقدمہ عدالت میں چلایا جاتا‘‘۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بلاگرز کے اغوا پر اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اغوا میں حکومت ملوث نہیں ہے جبکہ پاکستان آرمی کے ترجمان نے ان بلاگرزکی گمشدگی میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

ان بلاگرز کی گمشدگی کے بعد سوشل میڈیا میں ان کی رہائی کے لیے ایک بھرپور مہم چلائی گئی تھی اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ میڈیا اور ان کے سرکاری دانشوروں کی طرف سے ان بلاگرز کے خلاف پراپیگنڈہ مہم بھی شروع کر دی گئی اوران پر توہین رسالت اور توہین مذہب کا الزام لگایا گیااور ان کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پاکستان میں توہین رسالت یا مذہب کا مسئلہ انتہائی تشویشناک بن چکا ہے۔ توہین مذہب کے مرتکب کی سزا موت ہے ۔ کسی پر توہین مذہب یا رسالت کا الزام لگانا ہی کافی ہے جس کے بعد وہ کئی سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے اور کوئی عدالت اس کا مقدمہ سننے کو تیار نہیں ہوتی۔ پاکستان کی آزاد عدلیہ میں اتنی جرات نہیں کہ وہ آسیہ بی بی یا جنیدحفیظ کے مقدمے کی سماعت کر سکے جن پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں۔

وقاص گورایہ کہتے ہیں کہ ان پر توہین مذہب یا رسالت کے الزامات ہمیں بدنام کرنے کے لیے گھڑے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بلاگرز کا منہ بند کرنے کے لیے اس طرح کے الزامات باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت لگائے گئے۔

وقاص گورایہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے فورم پر بات کرنے سے وہ پاکستا ن کی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں پارلیمنٹ ایک بل پاس کرے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں سیکیورٹی ایجنسیاں تین دن کے اندر اندر غیر قانونی حراست میں لیے گئے افراد کے متعلق معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے ان اداروں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔حکومت کو اس بات کی تفتیش کرنی چاہیے کہ ہمارے اغوا میں کون ملوث ہے ۔ ’’ہمارے پاس ثبوت ہیں۔۔۔ مستندثبوت ہیں۔ ۔۔ جو ذمہ داران کی نشاندہی کرتے ہیں‘‘ انہوں نے کہا۔

وقاص گورایہ پر تشدد کی وجہ سے نہ صرف ان کی سماعت بلکہ ان کے ہاتھ اور پاؤں بھی متاثرہوئے ہیں لیکن وہ بطور سماجی کارکن کے وہ اپنی ذمہ داریاں بدستور نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

’’وہ مسلسل لوگوں کو پکڑ رہے ہیں۔۔۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔۔ یہ ہمارے دوست ہیں ساتھی ہیں ۔۔ لہذا ہم کیسے باز آئیں؟ کسی نہ کسی کو تو ان کے لیے آواز بلند کرنی پڑے گی‘‘۔

BBC/News Desk

3 Comments