پاکستان کی ایسٹیبشلمنٹ کو آئین کی بالا دستی منظور نہیں


پارلیمنٹ میں حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے آج تک آئین کی بالادستی کو قبول نہیں کیا۔وہ سینیٹ کے اجلاس کے دوران ’یومِ دستور‘ کی تقریبات پر ہونے والے بحث کے دوران تقریر کر رہے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی ذہنیت ہے کہ جو شخص وردی میں ہے وہ محب وطن ہے اور جو شخص وردی میں نہیں وہ محبِ وطن نہیں۔ اُن کے مطابق اگر اِس ذہنیت کو تبدیل نہیں کیا گیا تو پھر آئین کے دائرہ اختیار کو جتنا بھی بڑھا لیں اُس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

نامہ نگار عبداللہ فاروقی کے مطابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا ’ہم لاکھ کہیں کہ آئین ایک مقدس دستاویز ہے لیکن جو لوگ اپنے آپ کو مقدس گائے سمجھتے ہیں اگر وہ ایسا نہ سمجھیں تو پھر منتخب وزیر اعظم سلامتی کے لیے خطرہ ہی سمجھا جائے گا‘۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ وہ یومِ دستور مناتے وقت اس جانب نشاندہی کرنا چاہتے ہیں کہ ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں جبکہ ایک جمہوری ملک میں دونوں ایوانوں کو برابر ہونا چاہیے ،چاہے وہ ووٹنگ کا اختیار ہو یا پھر قانون سازی کا عمل۔

سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کا کہنا تھا کہ جب آئین بنا تو کوشش کی گئی تھی کہ وفاقی اکائیوں کو یکجا کیا جا سکے اور جو تلخیاں موجود تھیں اُنہیں دور کیا جا سکے لیکن ایسا اب تک نہیں ہو سکا۔

سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے اِسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون ساز بعض اوقات خود دستورِ پاکستان کی پاسداری نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ دستور کی خلاف ورزی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’لوگ اُٹھا لیے جاتے ہیں، انسانی حقوق کی پورے ملک میں پامال ہو رہے ہیں اور بعض سیاسی جماعتوں کو دفاتر کھولنے کی اجازت نہیں۔‘

حکمراں جماعت کے سینیٹر عبدالقیوم نے ایوانِ بالا کے اجلاس کے دوران یومِ دستور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’اِس میں کوئی شک نہیں کہ 1973 کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ لیکن وہ بحیثیت ایک سابق فوجی یہ سمجھتے ہیں کہ آئین شکنی اداروں نے نہیں بلکہ افراد نے کی ہے‘۔

اُن کے مطابق عدلیہ نے بھی آمروں کے حق میں فیصلے دیے بلکہ آئین میں تبدیلیاں کرنے میں اُن کی مدد کی۔ اِن سب کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

سینیٹر خالدہ پروین نے مطالبہ کیا کہ جنوبی پنجاب کو آئین میں ترمیم کرکے الگ صوبہ بنایا جائے کیونکہ وہاں کے لوگوں کو دستورِ پاکستان کے تحت حقوق نہیں مل رہے۔

سینیٹر مظفر حسین شاہ نے کہا کہ سینیٹ آئین کی محافظ ہے لیکن اُس کے اختیارات قومی اسمبلی سے بھی کن ہیں۔ اِن اختیارات میں مساوات وقت کی ضرورت ہے۔ اُن کے مطابق وزیرِ اعظم کے انتخاب اور سینیٹ میں ووٹنگ کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

سینیٹر رحمان ملک نے ذوالفقار علی بھٹو کو بابائے دستور قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا اور سوال کیا کہ کیا ’آج کوئی ایسا فیصلہ دیا جا سکتا ہے کہ جس کی رو سے بعد از مرگ ایسے شخص پر مقدمہ چلایا جا سکے جس نے منتخب وزیرِ اعظم اور بابائے دستور کو پھانسی پر چڑھایا؟‘

بحث کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور سپیکر قومی اسمبلی اور وزارت اطلاعات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے یومِ دستور کو منعقد کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اِس سے قبل ایوان بالا کی عمارت میں گلی دستور کا افتتاح بھی کیا گیا جس میں پاکستان بننے سے لے کر اب تک کے ادوار واضح کیے گئے ہیں۔

BBC

One Comment