گورنر جنرل وزیر اعظم کو برخاست کرتے ہیں


لیاقت علی 

پاکستان کے ریاستی بندو بست میں وزیر اعظم کے عہدے کو وہ عزت و احترام کم ہی نصیب ہوا ہے جمہوری ممالک میں جس کا وہ مستحق سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وزرائے اعظم کو ہمیشہ طاقت ور گورنر جنرلز اور صدور نے یک طرفہ ،بے بنیاد اور سطحی الزاما ت کی آڑ میں برخاست کیا یا پھر انھیں ان کی مرضی کے خلاف اور اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 1947-1958 کے درمیان چھ وزرائے اعظم یکے بعد دیگرے بر سر اقتدارآئے لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے عہدے کی مدت پوری نہ کر سکا۔ ایک وزیر اعظم آئی آئی چندریگر محض دوماہ جب کہ نور الامین صرف 13 دن تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے تھے ۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ سے دل چسپی رکھنے والوں کے نزدیک پاکستان میں وزیر اعظم کے عہدے کی عزت و وقار کو پائمال کرنے کی ابتدا قیام پاکستان کے وقت محمد علی جناح نے کی تھی جنھوں نے وزیر اعظم کا منتخب عہدہ قبول کرنے کی بجائے باد شاہ انگلستان کا نامز د گورنر جنرل مقرر ہونے کی ترجیح دی تھی۔

جناح وزیر اعظم کی بجائے گورنر جنرل کیوں بنے؟ اس بارے متضاد آ را پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ جناح گورنر جنرل بن کر پاکستان کے لئے انگریز وں اور کانگریس سے زیادہ زیادہ مراعات حاصل کرنا چاہتے تھے جو بطور وزیر اعظم ان کے لئے ممکن نہیں تھا جب کہ اس کے برعکس کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ جناح زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنی ذات میں مجتمع کرنا چاہتے تھے اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت ایسا وہ گورنر جنرل بن کر ہی کر سکتے تھے۔

جتنا عرصہ جناح گورنر جنرل رہے لیاقت علی خان بحیثیت وزیر اعظم مرکزی کابینہ کے کسی اجلاس کی صدارت نہ کرسکے کیونکہ یہ استحقاق بطور گورنر جنرل جناح کا تھا کہ وہ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں۔ گورنر جنرل نے بیورو کریسی کو ہدایت کر رکھی تھی کہ ہر فائل ان کے دفتر سے ہوکر متعلقہ حکام تک پہنچے گی۔ لیاقت علی خان کا عہدہ تھا تو وزیر اعظم کا لیکن عملی طور پر وہ گورنر جنرل کی کابینہ میں سینئر منسٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ 

جناح کی وفات ( ستمبر 1948)کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پر پرزے نکالے اور ایک ایسی سیاسی شخصیت کو گورنر جنرل مقرر کرانے میں کامیاب ہوگئے جس کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ وہ ان کے بطور وزیر اعظم اختیارات استعمال کرنے کی راہ میں روڑے اٹکانے کی طاقت و سکت نہیں رکھتی تھی۔ یہ شخصیت تھی سر خواجہ ناظم الدین ۔

کشمیری نژاد خواجہ ناظم الدین کا تعلق ڈھاکہ کی نواب فیملی سے تھا۔ ٹریٹی کالج لندن سے تعلیم حاصل کی تھی۔ متحدہ بنگال کی سیاست میں متحرک رہے تھے ۔ قیام پاکستان کے وقت مشرقی بنگال کے وزیر اعلی مقرر ہوئے تھے ۔قدامت پسند فکری اور سیاسی پس منظر کے حامل خواجہ ناظم الدین انگریز سرکار کے خیر خواہ رہے تھے اور ہر ممکن کوئی ایسا کوئی سیاسی قدم اٹھانے سے گریز کرتے تھے جس بارے یہ احتما ل ہوتا کہ وہ ان کے انگریز مربیوں کو ناگوار گذر سکتا تھا۔

خواجہ ناظم الدین نے جناح کی وفات کے بعد 14 ستمبر 1948 کو بطور گورنر جنرل اپنے عہدے کا حلف لیا اور 16۔ اکتوبر 1951 تک اپنے عہدے پر فائز رہے ۔ جب وزیر اعظم لیا قت علی خان کو راولپنڈی کے جلسہ عام میں قتل کیا گیا تو ایوان اقتدار میں عہدوں کی چھینا جھپٹی شروع ہوگئی ۔ اقتدار کی اس د ھینگامشتی میں خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کا عہدہ لے اڑے۔ خواجہ ناظم الدین کے وزیر اعظم بننے کااحوال گورنر جنرل کے پی اے ،م ب خالد نے اپنی کتاب’ ایوان صدر میں سولہ سال میں ‘کچھ اس طرح بیان کیا ہے:۔

۔’لیاقت علی خان کی شہادت کے وقت خواجہ ناظم الدین جو ان دنوں گورنر جنرل پاکستان تھے، نتھیا گلی میں قیام پذیر تھے۔کہتے ہیں کہ کابینہ میں اتفاق رائے تھا کہ وزیر اعظم کا عہدہ ملک غلام محمد کو پیش کیا جائے جو اس وقت وزیر خزانہ کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔وزیر اعظم کا عہدہ ہاتھ سے جاتا دیکھتے ہوئے خواجہ ناظم الدین نے بطور گورنر جنرل خود کو وزیر اعظم نامزد کر لیا اور گورنر جنرل کے لئے پرانے بیوروکریٹ اور جناح کے قریبی ساتھی ملک غلام محمد کا نام تجویز کردیا ۔

خواجہ ناظم الدین کی شخصیت کا نقشہ م۔ ب خالد نے کچھ یوں کھینچا ہے ۔لکھتے ہیں خواجہ صاحب 1951میں جب گورنر جنرل بنے تو اپنی تن آسانی کے سبب مرغوں اور کتے ریچھ کی لڑائی جیسے لہو و لہب میں مشغول رہے۔اپنی بسیاری خوری کے باعث گورنر جنرل ہاوس میں خواجہ ناظم الدین کی بجائے خواجہ ہاضم الدین کہلائے۔صبح کو ناشتہ میں کنگ سائز مرغابی پوری تناول فرما لیتے اوربھی کئی لطیفے ان کی بسیار خوری کے پرانا سٹاف سنایا کرتا تھا۔وزیر اعظم بنے تو کابینہ کی قیادت کرنے کی بجائے وزیروں کے ہاتھ میں کھلونا بنے رہے۔وزیر تجارت فضل الرحمان اور وزیر خوراک عبد الستار پیر زادہ کے ہاتھوں ناقص منصوبہ بندی کے باعث دونوں امور کا ستیاناس ہوا تو خواجہ ناظم الدین عوام الناس میں قائد قلت مشہور ہوئے‘‘۔

خواجہ ناظم الدین کی وزارت عظمی کے خلاف بھی جلد ہی سازشیں شروع ہوگئیں۔ سول اور فوجی بیورو کریسی نے اپنے حواری پنجابی اور اردو اسپیکنگ سیاسی قیادت کے اشتراک سے خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمی سے ہٹانے کے منصوبے بنانا شر وع کر دیئے۔ پنجاب میں احمدیوں کے خلاف فرقہ ورانہ فسادات کے ساتھ ساتھ ملک میں اناج کی مصنوع قلت پیدا کی گئی تاکہ عوام خواجہ ناظم الدین کی وزارت عظمی کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ آخر کا ر وہ دن بھی آ گیا جب گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ایک بار پھر م۔ب خالد کی طرف رجوع کرتے ہیں جنھوں نے اس واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال رقم کیا ہے ۔ لکھتے ہیں کہ ’خواجہ ناظم الدین کو جس روز عدالت عظمی سے ڈسمس کیا گیا وہ جمعتہ المبارک کا دن تھا ۔خواجہ صاحب کا پروگرام نماز جمعہ کے بعد حید ر آباد جانے کا تھا۔ گورنر جنرل غلام محمد کے ملٹری سیکرٹری کرنل حامد نواز ( موجودہ وزیر قانون زاہد حامد کے والد ) نے ٹیلی فون پر بتایا کہ گورنر جنرل صاحب نے یاد فرمایا ہے ۔خواجہ صاحب نے معذرت پیش کی کہ جمعہ کی نماز کا وقت قریب ہے حیدر آباد سے واپسی پر حاضر ہوجاوں گا ۔

ادھر سے اصرار ہوا کہ چند منٹ کے لئے تشریف لایئے۔خواجہ صاحب تشریف لائے۔ٹخنوں سے اوپر تک شرعی پاجامہ ، ہلکے براون رنگ والی شارک سلک کی پر شکن شیر وانی، ایک ہاتھ میں ٹوپی اور دوسرے میں چھڑی۔ میرے کمرے کے سامنے سے گزر کر گورنر جنرل کے کمرے میں داخل ہوئے ۔غلام محمد بھی جمعہ کے روز شیر وانی پہنتے تھے ۔اس روز گرے شیروانی اور گرے جناح کیپ میں ملبوس تھے۔ وہ آج کا کام آج ہی کرنے کے عادی تھے اور آج تو پہلے سے فیصلہ کئے بیٹھے تھے۔چھوٹتے ہی خواجہ صاحب سے استعفی طلب کیا ۔خواجہ صاحب نے اسمبلی میں اپنی واضح اکثریت کا حوالہ دیا ۔غلام محمد کا پارہ یک لخت چڑھ گیا اور گرجے: ۔”آئی ڈسمس یو”۔

یہ کہا اور کھڑے ہوگئے۔خواجہ صاحب پر یشانی کے عالم میں کمرے سے باہر نکلے تو اپنی ٹوپی غلام محمد کی میز پر بھول آئے۔اکھڑے اکھڑے قدموں سے میرے کمرے کے سامنے سے شارٹ کٹ کرتے ہوئے پورچ میں پہنچے۔گاڑی سے جھنڈا اترا ہوا تھا۔موٹر سائیکل سوار جا چکے تھے ۔خواجہ صاحب کے ڈرائیور نے کار کا دروازہ کھولا ۔ آج اس گھر ( گورنر جنرل ہاؤس ) سے نکلتے وقت خواجہ صاحب کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دایاں قدم اٹھانا ہے یا بایاں تھوڑی دیر بعد گورنر جنرل ملک غلام محمد بھی کمرے سے باہر تشریف لائے۔آج ٹانگوں کا لنک قدرے کم تھے اور فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پر رقص کناں تھی‘‘۔

2 Comments