عالم اسلام کا مقدس ترین شہر کہاں ہے؟

سائرس ادریس


مسلمانوں کے نزدیک دنیا کا مقدس ترین شہر مکّہ ہے اور اس میں موجود کعبہ دنیا کی اولین عبادت گاہ جسے الله کے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ ان کے  بعد جتنے بھی نبی آئے وہ سب الله کے گھر یعنی کعبہ کی زیارت اور طواف کے لئے آتے رہے۔ کعبہ کی زیارت اور طواف کو حج کہتے ہے اور یہ دین اسلام کا پانچواں لیکن اہم ستون ہے۔ ہرعاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار حج کا فریضہ ادا کرے۔

اکثر لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی حج پر خرچ کر دیتے ہیں۔ مکّہ آمد سے پہلے وہ صرف دو سفید چادروں پر مشتمل ایک لباس پہنتے ہیں جسے احرام کہتے ہیں۔ حج کی رسومات میں مزدلفہ، منی، اور میدان عرفات میں قیام، شیطان پر سنگ باری، جانوروں کی قربانی، سر کے بال مونڈنا، خانہ کعبہ کا سات بار طواف، اور صفا اور مروا کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑ شامل ہیں۔ عموما”  پانچ دن میں حج کی رسومات مکمل ہو جاتی ہیں۔ حج کرنے کے بعد یہ لوگ خود کو حاجی یا الحاج کہلوانا پسند کرتے ہیں کیونکہ اسلامی معاشرے میں حاجی کی بہت عزت ہوتی ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ جنّت سے نکالے جانے کے بعد آدم علیہ السلام ہندوستان کے سب سے اونچے پہاڑ پر اترے تھے۔ اسی دوران جبرائیل علیہ السلام الله کے گھر یعنی خانہ کعبہ کو جنّت سے اٹھا کر مکّہ لے آئے۔ پھر آدم کو حکم ہوا کہ وہ مکّہ جا کر الله کے گھر کا طواف کریں اور وہیں آباد ہو جائیں۔ شائد اسی وجہ سے مکّہ کو شہروں کی ماں کہتے ہیں۔ سیلاب نوح آیا تو جبرائیل علیہ السلام خانہ کعبہ کواٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ سیلاب کا پانی گزر گیا تو وہ خانہ کعبہ کو دوبارہ مکّہ میں چھوڑ گئے۔

اب قرآن مجید کی چند آیات ملاخطہ کریں جن میں مقدس شہر اور اس میں موجود الله کے گھر کا ذکر ہے۔

 اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دو۔ (٢:١٢٥)۔

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز۔ (٢:١٢٦)۔

اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ (٢:١٢٧)۔

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے۔ (٣:٩٦)۔

(خیال رہے قرآن کی آیت میں لفظ بکہ ہے ۔ یہ پترا کے قریب ایک وادی کا نام ہے۔ بائبل میں بھی اس کا ذکر ہے۔)

اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ (٣:٩٧)۔

 اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی زبان میں قرآن کی وحی کی تاکہ آپ مکّہ والوں کو اور اُن لوگوں کو جو اِس کے اِردگرد رہتے ہیں ڈر سنا سکیں، اور آپ جمع ہونے کے اُس دن کا خوف دلائیں جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ (اُس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور دوسرا گروہ دوزخ میں ہوگا۔ (٤٢:٧)۔

(قرآن کی اس آیت میں لفظ مکّہ نہیں، ام القری استعمال ہوا ہے اور اس کا مطلب ہے شہروں یا بستیوں کی ماں۔ سید مودودی نے اس کا ترجمہ بستیوں کا مرکزکیا ہے اور بریکٹ میں مکّہلکھ دیا ہے۔)۔

اور وہی ہے جس نے مکّہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دئیے ، حالانکہ وہ ان پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا۔ (٤٨:٢٤)۔

ان آیات سے ظاہر ہے کہ وہ مقدس شہر جہاں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا بہت ہی قدیم شہر ہے۔ نیز احادیث کی کتابوں میں بھی اس شہر کی کچھ خصوصیات موجود ہیں۔ اگر یہ مقدس ترین شہر آج کا مکّہ ہے تو اس میں قرآن و حدیث کی بیان کردہ خصوصیات ضرور موجود ہوں گی۔

جن حضرات نے قرآن اور حدیث کی کتابوں میں مکّہ شہر کا احوال پڑھ رکھا ہے انھیں مکّہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہے۔ کیوں؟ اس شہر میں  قرآن اور حدیث میں بیان کردہ ایک بھی خصوصیت ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ قرآن اسے شہروں کی ماں یعنی قدیم شہر کہتا ہے۔ نیز یہ شہر ایک وادی میں ہے جس کے نزدیک ایک اور وادی ہے۔ ابن اسحاق، طبری، اور حدیث کے اماموں نے شہر کے نزدیک پہاڑوں، وادی میں سبزہ، چکنی مٹی، زرخیز زمین، کعبہ کے نزدیک وادی میں ندی کی موجودگی، حوضوں، درختوں، پھلوں، شہر کے ایک حصے کا بلند اور دوسرے حصے کا نشیب میں ہونا اور دونوں اطراف سے سڑکوں کا شہر میں داخل ہونا، اور شہر کا تجارتی گزرگاہ کے راستے میں ہونا بیان کیا ہے۔

اگر ہم تاریخ، جغرافیہ، اور آرکیالوجی کے علوم کی مدد لیں تب بھی ہم مکّہ کو قدیم ترین شہر ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔ زمانہ قبل مسیح میں عرب کا سفر کرنے والے کسی بھی تاریخ دان یا جغرافیہ دان نے اپنی کتابوں میں مکّہ شہر کا ذکر نہیں کیا۔ پانچویں صدی قبل مسیح کا ایک یونانی مورخ ہیروڈوٹس اپنی کتاب تاریخ میں ایک نئے عرب علاقے کا ذکر کرتا ہے جہاں لوبان، دارچینی، بخور، اور افیون کاشت ہوتی ہے۔ وہ بہت سے شہروں کا بھی ذکر کرتا ہے لیکن مکّہ کا نہیں۔

ہیروڈوٹس کے کوئی سو سال بعد ایک اور یونانی سائنسدان اور تاریخ دان تھوفراسٹس نے یمن اور عرب کے علاقوں کی سیاحت کی۔ اس کے سفر نامے میں بہت سے شہروں اور قصبوں کا ذکر ہے لیکن مکّہ کا کوئی ذکر نہیں۔ یونانی دانشور، شاعر، اور موجد ایراتوتھینس نے بھی عرب معاشروں اور ان کی بستیوں کے بارے میں لکھا لیکن مکّہ کا ذکر نہیں کیا۔

جس علاقے میں آج مکّہ ہے اس علاقے کو وہ بے آباد بتاتا ہے۔ چھٹویں صدی قابل مسیح کے بابل کے بادشاہ نبوندس نے عرب علاقوں کو فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔  اس نے اپنے سفرناموں اور فتوحات کو ایک نظم کی صورت میں لکھا ہے۔ اس نے حجاز کے کئی  شہروں مثلاتیما، مدینہ، اور خیبر کا ذکر کیا ہے لیکن مکّہ کا بھول کر بھی نام نہیں لیا۔

شاہ روم بادشاہ آگسٹس کے حکم پر مصر کا رومی منتظم ایلوس گالس عربیہ فیلکس (خوشحال یا زرخیز عربیہ) کو فتح کرنے کے لئے نکلا۔ اس نے رہنمائی کے لئے ایک عرب کو ساتھ لیا لیکن وہ دھوکے باز نکلا۔ صحرا کی سخت گرمی، مضر صحت پانی، اور ناقص خوراک کی وجہ سے اس کی آدھی فوج بیمار ہو کر مر گئی۔ نہ صرف یہ مہم ناکام رہی بلکہ عربوں نے رومیوں کے زیر قبضہ علاقے بھی چھین لئے۔ ایلوس گالس نے اپنی اس ناکام مہم کا جو حال احوال لکھا ہے اس میں عربوں کے دوسرے شہروں کا تو ذکر ہے لیکن مکّہ کا نہیں۔

یونانی تاریخ دان ڈیوڈورس نے اپنے عرب کے سفرنامے میں ایک مقدس عبادت گاہ کا ذکر کیا ہے۔ لیکن اس نے علاقے کی جو خوصیات بیان کی ہیں وہ مکّہ پر فٹ نہیں آتیں۔ 

سکندر اعظم نے بھی حملے سے پہلے عرب علاقوں کے حالات جاننے کے لئے جو جاسوس بھیجے انہوں بھی اپنی رپورٹوں میں مکّہ شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

زمانہ قبل مسیح کے سکندریہ کے مشہور جغرافیہ دان ٹالمی کے نقشوں میں عرب کے ١١٤ شہر اور قصبے موجود ہیں  لیکن مکّہ غائب۔

اب ہم آرکیالوجی کی طرف آتے ہیں۔ عرب ماہرین آثار قدیمہ اعتراف کرتے ہیں کہ انھیں مکّہ میں قدیم عمارتوں کے کوئی آثار نہیں ملے۔ نیز گزشتہ صدی تک مکّہ کی آبادی برائے نام تھی۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زمین بنجر تھی اور بارش بہت ہی کم۔

 اگر قرآن و حدیث میں بیان کردہ مقدس ترین اور قدیم ترین شہر مکّہ نہیں ہے تو یہ شہر کونسا ہے اور کہاں ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں قرآن و حدیث، تاریخ، جغرافیہ، اور آثار قدیمہ سے مدد لینا ہو گی۔ قرآن و حدیث میں اسلام کے مقدس ترین شہر کی جو تفصیلات دی گئی ہیں وہ صرف ایک شہر پر فٹ آتی ہیں اور وہ ہے پترا۔ یہ قدیم شہر اردن میں ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پترا تجارتی گزرگاہ پر واقع تھا۔ تجارت کی بدولت یہاں کے عرب بہت دولت مند اور خوشحال تھے۔ نیز یہ شہر ایک وادی میں ہے جس کے قریب ایک اور وادی ہے۔

یہاں پہاڑ، سبزہ، درخت، حوض، ندی، اور عبادت گاہوں کے آثار بھی موجود ہیں۔ زلزلوں اور عربوں کی آپس کی خانہ جنگی نے اس شہر کو برباد کر دیا۔ امیر عرب روم چلے گئے اور انہوں نے رومی اور یونانی نام اختیار کر لئے۔ باقی عرب دوسرے شہروں میں جا بسے۔

اب ہم کچھ تاریخی واقعات اور جغرافیہ اور آرکیالوجی سے شہادتیں پیش کرتے ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ دور نبوی کے قریش پترا میں آباد تھے اور خانہ کعبہ بھی پترا ہی میں تھا۔ خیال رہے پترا مدینہ کے شمال میں ہے اور مکّہ جنوب میں۔

قریش اور اہل مدینہ کی تمام جنگیں مدینہ کے شمال میں ہوئیں۔ جنگ خندق کے موقع پر جو خندق کھودی گئی وہ بھی مدینہ کے شمال میں تھی۔ اگر قریش مکّہ سے آتے تو یہ جنگیں مدینہ کے جنوب میں لڑی جاتیں۔ نیز اہل قریش کا لشکر ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل تھا۔ مکّہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ بنجر اور بے آباد تھا۔ وہاں سے چند سو کا لشکر بھی تیار نہیں ہو سکتا تھا۔

تاریخ طبری کے مطابق ساتویں ہجری سال میں خیبر فتح ہو گیا تو حجاج اپنی بیوی اور بچوں سے ملنے مکّہچلا گیا۔ وہاں لوگوں نے اس سے جنگ خیبر کے بارے میں پوچھا تو اس نے جھوٹ بول دیا کہ مسلمانوں کو شکست ہوئی ہے اور محمّد صلی علیہ علیہ وسلم دشمنوں کی قید میں ہیں اور انہیں جلد ہی مکّہلایا جائے گا۔ خیبر اور پترا دونوں مدینہ کے شمال میں ہیں جبکہ مکّہ جنوب میں۔ صاف ظاہر ہے کہ طبری نے جس مکّہ کا ذکر کیا ہے وہ اصل میں پترا ہے۔ خیبر سے اصل خبر آنے سے پہلے حجاج پترا سے نکل گیا۔

طبری ہی کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی لشکر نے خیبر پر قبضہ کرنے کے بعد مدینہ کے شمال ہی میں بہت سے اور علاقے فتح کئے اور شام میں گھس کر رومیوں سے بھی لڑے۔ موتہ کی اس جنگ میں نہ تو مسلمانوں فتحیاب ہوئے اور نہ ہی رومی۔ پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ اسلامی لشکر موتہ سے مکّہکی طرف چل پڑا۔

موجودہ مکّہ موتہ سے کوئی ایک ہزار میل دور ہے جبکہ پترا بالکل قریب۔  نیز فتح مکّہ کے فورابعد اسلامی لشکر کی ہوازن کے قبیلوں سے جنگ ہوئی۔ ہوازن مدینہ کے شمال میں خیبر اور پترا کے درمیان واقع ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی لشکر صحرا کی سخت گرمی میں موتہ سے ہزار میل دور مکّہ جائے اور فتح کے بعد اسی دشوار راستے سے واپس ہوازن پہنچ جائے؟ مکّہ کو پترا سمجھ لیں تو کوئی الجھن نہیں رہتی۔ موتہ سے اسلامی لشکر پترا پر حملہ اور ہوا اور وہاں سے فارغ ہو کر ہوازن قبیلوں پر چرھائی کر دی۔

طبری نے اپنی تاریخ میں خالد بن ولید کے حج یا عمرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسلامی لشکر شام کے شہر الفراد سے عراق کے شہر الحرہ کی طرف مارچ کر رہا تھا۔ خالد بن ولید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ لشکر کو چھوڑ کر حج یا عمرے کے لئے مکّہچلے گئے۔ حج یا عمرے کی رسومات ادا کرکے وہ الحرہ میں لشکر سےآ ملے۔ اب نقشے پر ایک نظر ڈالیں۔ شام سے پترا صرف ٢٩٥ میل دور ہے جبکہ مکّہ ٩٣٢۔ نیز مکّہ کا سفر کرنے کی صورت میں انھیں مدینہ کے پاس سے گزرنا پڑتا۔ صاف ظاہر ہے کہ خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں نے حج یا عمرہ پترا میں کیا۔

تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے جب ابن زبیر نے مکّہمیں اپنی خلافت کا اعلان کیا تو اموی افواج نے مکّہ کا محاصرہ کر لیا۔ مکّہ ایک کھلی جگہ پر ہے اور اندر جانے اور باہر نکلنے کے بیشمار راستے۔ لہذا مکّہ کا محاصرہ ممکن نہیں۔ پترا چونکہ وادی میں ہے وہاں اندر جانے اور باہر نکلنے کے دو ہی راستے ہیں۔ نیز روایات موجود ہیں کہ جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم مکّہمیں داخل ہوتے تھے تو ایک راستہ اختیار کرتے تھے اور باہر جاتے وقت دوسرا۔ نیز حجاج بن یوسف نے منجیق سے خانہ کعبہ پر پتھر برسائے۔ منجیق سے برسائے گئے یہ پتھر آج بھی پترا میں موجود ہیں۔ مکّہ میں منجیق کا ایک بھی پتھر نہیں۔

دور نبوی اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے سو سال بعد تک جتنی مسجدیں تعمیر ہوئیں ان کا رخ نہ تو یروشلم یعنی بیت المقدس کی طرف تھا اور نہ ہی موجودہ مکّہ کی طرف۔ ان کا رخ پترا کی طرف تھا۔

حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کا زمانہ ٢٠٠٠ سال قبل مسیح کا ہے۔ اس وقت نہ تو مکّہ کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی یروشلم یا بیت المقدس کا۔ یروشلم کی بنیاد ١٠٠٠ قبل مسیح میں رکھی گئی جب کئی عرب اور اسرائیلی قبیلے یمن اور جنوبی عرب سے ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہونا شروع ہوئے۔ لہذا ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کبھی مکّہ نہیں آئے۔ جب وہ مکّہ آئے ہی نہیں تو وہاں خانہ کعبہ کیسے تعمیر کر سکتے تھے؟

جب ابو مسلم خراسانی امویوں کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہا تھا تو اسے رسول پاک کے خاندان سے کسی فرد کی تلاش ہوئی جو اس بغاوت کی قیادت کر سکے۔ بالاخر اسے پترا کے نزدیک ایک گاؤں میں ابو العباس السفاح مل گئے جو کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے چچا عباس کی اولاد سے تھے۔ عباس خاندان کے آبائی مکانات کے آثار آج بھی پترا کے نزدیک موجود ہیں۔

قرآن کے قدیم نسخوں میں تبدیلی قبلہ کی آیات موجود نہیں بلکہ بعض میں تو پوری سورہ البقرہ غائب ہے۔ قرآن کے یہ پرانے نسخے یمن کی مسجدوں سے برآمد ہوئے ہیں۔

کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ جب شامیوں اور ابن زبیر کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی میں پترا میں موجود اصلی خانہ کعبہ تباہ ہو گیا تو ابن زبیر نے مکّہ میں نیا کعبہ تعمیر کر دیا۔ غالب امکان یہ ہے کہ مکّہ اور وہاں خانہ کعبہ کی تعمیر عباسی خلیفہ مامون کے دور میں ہوئی۔ انہوں نے مکّہ میں پانی لانے کے لئے نہر زبیدہ کھود دی اور جب مکّہ کی بے آب و گیاہ زمین میں پانی آ گیا تو اسے آب زمزم کا نام دے دیا۔ صفا اور مروا کے ٹیلے بنا دئیے۔ مکّہ کے قریب طائف کی بستی میں بنا دی اور بنو ہوازن اور بنو سقیف کو وہاں آباد کر دیا۔ غرض عباسیوں نے موجودہ مکّہ اور کعبہ کو اصلی ثابت کرنے کے لئے اسلامی تاریخ حتیٰ کہ قرآن کی آیات تک بدل دیں۔ نیزانہوں نے پترا میں کعبہ کے تمام نشانات مٹا دئیے بلکہ پترا کو تاریخ کی کتابوں سے ہی خارج کر دیا۔

کچھ عرب قبیلوں کو عباسیوں کی یہ جعل سازی پسند نہیں آئ اور انہوں نے طاہر قرامطی کی قیادت میں مکّہ پر چڑھائی کر دی، حاجیوں کو قتل کر دیا اور زمزم کے کنویں کو ان کی لاشوں سے پاٹ دیا، کعبہ کو مسمار کر دیا، اور حجر اسود کو اکھاڑ کر ساتھ لے گئے۔ حجر اسود ٢٣ سال تک قرامطیوں کے قبضے میں رہا اور اس دوران مکّہ میں حج نہ ہو سکا۔ عباسی خلیفہ نے بھاری تاوان ادا کرکے حجر اسود کو واپس لیا۔ لیکن واپسی سے پہلے قرامطیوں نے حجر اسود کے ایک درجن ٹکڑے کر دئیے۔

16 Comments