بدفعلی کے مرتکب ایرانی قاری سعید طوسی کا کیس داخل دفتر


ڈیڑھ سال قبل ایران کے ایک سرکاری قاری قرآن سعید طوسی کے اپنے طلباء پر جنسی تشدد متعلق شرمناک اسکینڈل نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر اب یہ کیس دفاتر کی فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے۔ ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور اصلاح پسند سیاسی رہ نماؤں نے قاری سعید طوسی کے کیس کو دانستہ طورپر چھپانے کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اصلاح پسند رکن محمود صادقی نے ’ٹوئٹر‘ پر قاری سعید کے ہاتھوں بدفعلی کا شکار ہونے والے متاثرین کے بیانات پوسٹ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ برطانیہ میں ایک وزیر دفاع محض کرپشن کی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہے جب کہ ایران میں قرآن کریم کا قاری معصوم بچوں کے ساتھ بدفعلی جیسے بھیانک جرم کے ارتکاب کے بعد بھی اس لیے محفوظ ہے کہ قاری صاحب رہبر انقلاب کے بچوں کا بھی اتالیق رہ چکا ہے۔

صادق نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ کے صفحے پر ایرانی پارلیمان کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین للھیار ملکشاہی کا ایک مکتوب بھی شامل کیا ہے جس میں انہوں نے پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاری سعید طوسی کے کیس کی اب تک ہونے والی تحقیقات سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔

یہ مکتوب پارلیمان کی جوڈیشل کمیٹی، رکن پارلیمنٹ محمود صادقی اور دو متاثرین مصطفیٰ لو اور سلیمانی نے اعلیٰ عدالت کو بھی لکھا ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ قاری سعید طوسی کے کیس کی تحقیقات کے نتائج منظر عام پرلانے کے احکامات جاری کریں۔

گذشتہ برس ایرانی جوڈیشل اتھارٹی کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجی نے کہا تھا کہ قاری طوسی کے خلاف عدالتی تحقیقات شروع کردی گی ہیں تاہم عدالت کی طرف سے اس کیس کی تحقیقات کےنتائج منظرعامل پر نہیں لائے گئے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ طوسی عدالتوں کو اپنے طلباء کے ساتھ بد فعلی کے سنگین جرم کے ارتکاب میں مطلوب ہے مگر پرایسکیوٹر جنرل اور جوڈیشل اتھارٹی کے چیئرمین نے طوسی کی گرفتاری کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔ یہ فیصلہ طوسی اور سپریم لیڈر کے شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج کے درمیان خط کتابت کے منظرعام پر آنے کے بعد کیا گیا۔

ادھر پارلیمان کی ’کمیٹی 90‘ نے جوڈیشل اتھارٹی کے چیئرمین کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے جرائم کی تحقیقات کرنے والے سیکشن 1057 نے بچوں پر جنسی تشدد کے جرم میں قاری طوسی کو چار سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ یہ کیس عدالت کےعمومی سیکشن 56 کو بھیجا گیا مگرتہران کے جوڈیشل کونسل کے چیئرمین نے وہ کیس اپنے پاس رکھ لیا ہے، جسے ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کچھ عرصہ پیشتر ایرانی اخبارات قاری سعید طوسی کے شرمناک اسکینڈل کا پردہ چاک کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ مرشد اعلیٰ کے مقرب سمجھے جانےوالے ایک قرآن پاک کے شہرت یافتہ قاری 46 سالہ سعید طوسی قرآن پڑھانے کی آڑ میں 12 سے 14 سال کے بچوں کو مسلسل سات سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شرمناک اخلاقی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد مرشد اعلیٰ کے مقرب حلقے اور ایرانی عدالتیں مجرم کا کیس چھپانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں۔ کیونکہ اس شرمناک واقعے کے منکشف ہونے کے بعد سپریم لیڈر کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔ سپریم لیڈر گزشتہ کئی سال سے قاری سعید طوسی پر نہ صرف اندھا اعتماد کیے ہوئے تھے بلکہ انہیں عالمی سطح پر قرآت قرآن کے مقابلوں میں شریک کرا کر اسے بین الاقوامی شہرت بھی دلواچکے ہیں۔

Comments are closed.