نیشنل ازم

حمید بلوچ

نیشنل ازم کیا ہے؟ قوموں کی تشکیل میں نیشنل ازم کا کیا کردار ہے ؟ قوموں کو متحد کرنے اور ان کی ترقی میں نیشنل ازم نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ان سوالوں کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قوم اور قومیت کیا ہے جب ہم درست طور پر ان کے مفہوم سے آگاہ ہوجائیں تو نیشنل ازم کا نظریہ ہماری سمجھ میں آسانی سے آ جائے گا۔

قوم کی تعریف مختلف مفکرین نے کی ہیں جن میں چند درج ذیل ہے۔ لارڈ برائٹس کے بقول؛ قوم ایک ایسی قومیت ہے جس نے اپنے آپکو سیاسی طور پر منظم کرلیا ہو خواہ وہ آزاد ہو یا آزادی حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہو۔

ہیز کے خیال میں قومیت جب اتحاد اور حاکمانہ خود مختاری حاصل کرلیتی ہے تو قوم بن جاتی ہے۔

ماہر عمرانیات کے مطابق قوم سے مراد وہ علاقہ یا خطہ جس کے رہنے والوں میں تاریخی تسلسل پایا جاتا ہو لیکن شرط یہ ہے کہ تاریخی تسلسل کئی صدیوں تک برقرار رہا ہو۔

ان تمام تعریفوں کی روشنی میں ہم قوم کی تعریف اس طرح کرسکتے ہیں کہ قوم لوگوں کے ایسے اجتماع کو کہتے ہیں جو کسی خاص خطہ زمین پر آباد ہو جن کی زبان ثقافت تاریخ رسم ورواج مشترکہ ہو لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ زبان ایک ہی ہو۔ ایک قوم میں مختلف زبان بولنے والے افراد موجود ہوتے ہیں۔جب لفظ قوم کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد لوگ اور شہری ہوتے ہیں اور تاریخی طور پر ان کا تعلق ریاست سے ہوتا ہے اور ان کی پہچان قومیت ہوتی ہے۔

کوئی 13 ویں صدی میں جب قوم کا اصطلاح استعمال کیا گیا تو اس دور میں قوموں کی پہچان بادشاہوں اور امراہوں کے ذریعے ہوتی تھی لیکن جب انقلاب فرانس کے بعد قومی ریاستیں وجود میں آہیں تو قوموں کی پہچان قومیت بن گئی۔ قوم کے وجود نے ہی قومیت کو جنم دیا اور قومیت نے قوم پرستی کو جنم دیا۔

قوم پرستی کو بیان کرنے کے لیے قومیت کی تعریف ضروری ہے قومیت کو مختلف مفکرین نے اپنے نقطہ نظر میں بیان کیا ہے جن میں چند مندرجہ ذیل ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف قومیت کی تعریف ان الفاظوں میں کرتا ہے۔ وہ قانونی بندھن جس کی بنیاد سماجی حقیقت پر مبنی ہو جس سے احساس مفاد اور وجود کا حقیقی واسطہ ہو اور جہاں حقوق و فرائض لازم و ملزوم ہو۔

جے ایچ روز کے مطابق قومیت دلوں کا ایسا اتحاد ہے جو ایک مرتبہ پیدا ہوجائے تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

لارڈ برائس کے مطابق قومیت سے مراد ایسی آبادی ہے جو بعض رشتوں مثلاً زبان، ادب، افکار اور رسم و رواج کی بنیاد پر اس طرح متحد ہو کہ اسے وحدت کے طور پر محسوس کیا جاسکے۔

جان اسؤرٹ مل قومیت کی تعریف کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ قومیت انسانوں کا ایک ایسا اجتماع ہے جو اپنے اندر مشترکہ ہمدردیوں کے سبب آپس میں متحد ہو اور یہ اتحاد دوسروں کے درمیان نہیں ہوتی اور جسکے سبب دوسروں کی نسبت آپس میں تعاون کرنے میں رضامند ہوتے ہیں اور رضامندانہ طور پر ایک حکومت کے اندر رہنا چاہتے ہیں اور اپنی حاکمیت چاہتے ہو۔

ان تمام تعریفوں کا مختصر یہ ہے کہ قومیت محبت و دوستی کا ایسا جذبہ ہے جو قوم میں اتحاد کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور قوم کو احساس دلاتا ہے کہ وہ ایک ہے اور دوسروں سے مختلف اور یکتا ہے۔محبت اور دوستی کے جذبے اور دوسروں سے الگ ہونے کے تصور نے ہی قوم پرستی کو جنم دیا۔قوم پرستی کی بنیاد دراصل عقلی بنیادوں پر نہیں بلکہ جذبات پر ہوتی ہے اس لیے ہٹلر جیسے رہنماؤں نے قوم کے جذبات کو ابھار کر انہیں جنگ پر آمادہ کیا۔ہے۔

نیشنل ازم کی تشکیل میں ان عناصر کا اہم کردار ہے جنھوں نے مختلف گروپوں جماعتوں برادریوں اور قبائل کو آپس میں متحد کرکے قوم پرستی کا جذبہ پیدا کیا کچھ مفکر ین جغرافیہ اور آب و ہوا اور کچھ زبان تاریخ ثقافت کو اسکی وجہ قرار دیتے ہیں۔اگر امریکہ کی جنگ آزادی کا مطالعہ کریں تو اس جنگ میں نیشنل ازم کا جذبہ کار فرما تھا جس نے قوم کو متحد کرکے آزادی کی جنگ کا حصہ بنایا۔

فرانس کا انقلاب جس نے لوگوں کو شہنشاہت سے آزادی دلائی اور یہ لوگ یورپی حملوں کے خلاف متحد ہوئے۔ انقلاب فرانس میں ہی نیشنل ازم کا لفظ پہلی بار استعمال ہوااور 1830ء کے یورپی انقلاب میں اس لفظ کو دہرایا گیا۔

کوہن نے قوم پرستی کے ابھار میں دو نقطہ نظر دیئے اسکے مطابق جہاں عوام کے نمائندے طاقتور تھے وہاں نیشنل ازم سیاسی و معاشی طاقت کے طور پر ابھرا جبکہ کمزور ملکوں میں کلچر کے ذریعے اس کا ابھار ہوا۔

نیشنلزم کی اہمیت اسکے عناصر کی وجہ سے ہے خود مختاری اتحاد اور شناخت یہی تینوں عناصر معاشرے کو ذہنی طور پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد ملک و معاشرے کے لئے جدوجہد کریں اور وقت آنے پر قربانی دیں۔19ویں صدی میں نیشنل ازم نے قومی ریاستوں کی بنیاد رکھ کر ایک مثبت کردار ادا کیا۔ نیشنل ازم نے یورپ پر اثر ڈالااور اس اثر نے افریقہ و ایشیا کے ممالک کو بھی متاثر کیا۔

کولونیل دور میں ایشیا و افریقہ کے ملکوں میں آزادی کی تحریکیں ابھریں انکی بنیاد کلچرل نیشنل ازم تھی ان تحریکوں کا مقصد کولونیل ازم سے آزادی تھی اس لیے انہوں نے مغربی افکار کو چیلنج کیا اور اپنے کلچر کی تبلیغ کی جس نے عوام کے ذہنوں کو فتح کیا۔جدید دنیا نے قومی ریاست کی اہمیت کو بہت زیادہ بڑھایا ہے آج کی دنیا میں اقوام متحدہ کا رکن بننے کے لئے قومی ریاست کا ہونا ضروری ہے۔

قومی ریاست اس صدی کی پیداوار ہے جب دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام ترقی کررہاتھااس لئے ان ریاستوں کو منڈیوں کی تلاش تھی اور اسی تلاش نے سامراج کو پیدا کیا اور دنیا میں قبضے کا عمل شروع ہوا۔ دنیا کے طاقتور قوموں نے کمزور و نہتے ممالک پر قبضہ کرنا شروع کیا مقبوضہ ممالک کے کلچر اور روایات کو توڑ کر اپنی روایات و کلچر کو فروغ دیکر تصادم کا ماحول پیدا کیا اور مظلوموں کی شناخت کو پیچیدہ بنادیا۔

مظلوموں نے قومی شناخت کے لئے اپنے عوام کی شعوری تربیت کرکے قومی وجود کا احساس دلایا اور ظالم سے خود کو الگ ظاہر کرکے قوم کو ایک پلیٹ فارم دیا اور جدوجہد کرنے کا پیغام دیا انہی قومی تحریکوں سے نئے ملک آزاد ہوئے لیکن ظالم و طاقتوروں نے انکی سرزمین کو تقسیم کرکے اپنے مفادات حاصل کئے انکی زبان کلچر کو علیحدہ خانوں میں بانٹ دیا گیا ۔

مشرق وسطٰی میں اردن و اسرائیل خلیج فارس میں عرب امارات ہندوہستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا بلوچستان کے علاقے ایران، پاکستان اور افغانستان کو دیئے گئے افریقہ، کوریا اوریتنام کو بھی تقسیم کیا گیا۔لیکن سامراجی پالیسیوں نے آزادی کے بعد بھی ان ریاستوں میں اپنے حمایت یافتہ حکمرانوں کو بٹھاکر قومیت کا استحصال کیا اور نام نہاد قوم پرست حب الوطنی کا نعرہ لگاکر عوام کو ریاستوں سے جوڑ رہے ہیں۔

موجودہ دور میں قومی ریاستیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پھیلاؤ سے خطرے میں ہے جو انکی طاقت کو ختم کررہی ہے۔ نیشنل ازم کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا کردار تاریخ میں اہم ہے یہ ایک موثر طاقت کے طور پر ابھرا اور اپنی قوت سے عثمانیہ سلطنت اور دیگر امپائر کا خاتمہ کردیا۔ قوم پرستی کی تاریخ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسکے لئے ایک قوت اور جدوجہد کی ضرورت ہے جو قوموں کو غفلت کی نیند سے جگادے۔

مگر آج بھی دنیا قومی ریاستوں کی تشکیل میں تعصب کا شکار ہے انسانی حقوق کے چمپین ادارے اور ممالک سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہے بجائے کمزور قومی ریاستوں کی مدد کرنے کے بجائے ظالم ملکوں کو مدد کررہے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

انسانی اداروں کو خضدار توتک میں اجتماعی قبریں، خواتین پر تیزاب پاشی ،بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر سی پیک معاہدہ اور بلوچستان میں خونی آپریشن نظر نہیں آتے۔ اگر بلوچوں کو پاکستانی تسلط سے چھٹکارا پاناہے تو اس مقصد کے لئے کسی محرک کی تلاش سوائے جذبہ قومیت کے بالکل غلط ہے انگریز سرکار اور پاکستان نے بلوچوں کی سرزمین کو تقسیم کرکے سرداروں کی طاقت میں اضافہ کرکے بلوچ قوم کو قبائل میں تقسیم کردیاہے اور ان کا خاتمہ قوم پرستی ہی کرسکتا ہے۔

بلوچ کی نجات اسکی قومی آزادی ہے اور قومی آزادی کے لئے بلوچ عوام کا متحرک ہونا ضروری ہے اور اسکا اہم ہتھیار قوم پرستی ہے جس کے ذریعے عوامی جذبے کو ابھار کر انہیں جنگ آزادی کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔انگریز سامراج اور پاکستانی سامراج نے سرداران بلوچستان کو طاقت و مراعات سے نواز کر اتنا مضبوط کردیا ہے کہ انہوں نے قوم کو مختلف قبائل میں تقسیم کرکے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔

آج کے پرآشوبی دور میں بلوچ سیاسی پارٹیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوچ قوم میں نیشنلزم کے جذبے کو ابھار کر قوم کو متحد کریں اتحاد ہی ہمیں قومی آزادی دلاسکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *