پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس حکام پر پابندی لگائی جائے

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں جنگ کے حوالے سے امریکا اور پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کرنا چاہییں۔

افغان دارالحکومت کابل سے سات فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کے سابق صدر نے پاکستان اور امریکا پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ دونوں ممالک افغان جنگ کو اپنے اپنے مفادات کو تقویت دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں حامد کرزئی نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف جو عسکری کارروائی کی گئی تھی، اس کے 16 برس بعد ہندوکش کی یہ ریاست آج بھی ’انتہائی بری حالت‘ میں ہے۔

حامد کرزئی کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ کابل میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ ہی عرصے بعد کرزئی افغان صدر کے عہدے پر فائز ہو گئے تھے اور یہ عہدہ 2014ء تک انہی کے پاس رہا تھا۔

افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طالبان عسکریت پسندوں اور داعش سے تعلق رکھنے والی ان کی ایک مقامی حریف تنظیم کی طرف سے کئی ایسے بہت ہلاکت خیز حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سوا سو سے زائد انسان ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان میں امریکا کی حمایت یافتہ حکومت کابل تک کو محفوظ بنانے میں بھی ناکام ہو چکی ہے۔

اس پس منظر میں حامد کرزئی نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’’امریکا ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ’اگر میں یہاں نہ رہوں، تو تمہاری حالت اور بھی خراب ہو گی‘۔ ہم تو اب بھی انتہائی بری حالت میں ہیں۔ ہم اپنے ملک میں صورت حال میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم امن اور سلامتی کے خواہش مند ہیں‘‘۔

ساتھ ہی سابق افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا افغانستان میں اپنے مستقل اڈے قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں اپنے لیے طاقت اور اثر و رسوخ کو یقینی بنا سکے جبکہ پاکستان افغانستان کو مبینہ طور پر ایک طفیلی ریاست میں بدل دینا چاہتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق حامد کرزئی نے اس انٹرویو میں امریکا اور پاکستان پر کئی طرح کے الزامات لگائے۔ انہو‌ں نے کہا کہ امریکی فوجی دستے افغانستان میں ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں‘ ہیں۔ ’’میری رائے میں تو امریکا ہمیں (افغانوں کو) منقسم اور کمزور رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ خطے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عمل پیرا رہے‘‘۔

پاکستان پر ایک بار پھر کابل کی موجودہ حکومت ہی کی طرح طالبان عسکریت پسندوں کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہوئے کرزئی نے کہا کہ پاکستان طالبان عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، اس لیے ’امریکا کو چاہیے کہ وہ پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام کے خلاف پابندیاں عائد کرے‘۔

سابق افغان صدر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا اب پاکستان کے حوالے سے کچھ کرے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچایا جائے یا پاکستان کے خلاف کوئی جنگ شروع کر دی جائے۔ لیکن واشنگٹن کو پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ عہدیداروں  کے خلاف پابندیاں لگانا چاہییں‘‘۔

افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کے دو انتہائی اہم پہلو یہ ہیں کہ طالبان عسکریت پسندوں کو مبینہ محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگا کر امریکا پاکستان کے لیے مجموعی طور پر قریب دو بلین ڈالر کی سکیورٹی امداد معطل کر چکا ہے جبکہ عسکری حوالے سے سولہ برسوں سے بھی زائد عرصے سے جاری افغانستان کی جنگ مدت ہوئی امریکا کی ’طویل ترین براہ راست جنگ‘ میں بدل چکی ہے۔

DW

Comments are closed.