کیا بچے اپنے والدین پر اعتبار کرتے ہیں؟ 


بچہ وہ نہیں سیکھتا جو اسے لفظوں میں بتایا جائے۔ بچہ وہ سیکھتا ہے جو اس کے سامنے کیا جائے یا جو اس کے ساتھ کیا جائے۔ بچہ تبھی پیار کرنا سیکھتا ہے جب اسے پیار کیا گیا ہو۔ 
جب بچہ پیار کرنا سیکھ جائے تو وہ دوسروں کو پیار کرنے کا اہل بن جاتا ہے۔ 



سبط حسن

انسان لازمی طور پر اچھا ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ بات معصومانہ یا سادگی پر مشتمل لگے ۔ جب ہر طرف ظلم اور زیادتیوں کا غلغلہ ہو، تباہی ، تشدد اور جبر اپنے گھناؤنے روپ میں جلوہ گر ہو ں تو ایسی بات کہناعجیب لگتا ہے۔ پھر بھی انسان کے فطری طور پر اچھا ہونے کے بیان سے انحراف مشکل لگتا ہے۔ آپ اس بات کو تجرید پر مبنی یا ماورائی قرار دے سکتے ہیں۔ اگر آپ انسانوں کی داخلی آزادی کے لیے جستجو کر رہے ہیں تو آپ کے تجربات آپ کو یہی سمجھائیں گے کہ انسا ن کے اند ر لازمی طور پر ’ اچھائی‘ موجودہے۔

کارل راجرز، ایک ماہرِ نفسیات نے اس سلسلے میں کہا ہے: ’’ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ انسانوں میں پیدائشی طور پر بدی موجود ہے۔ میرا آج تک کسی ایسے انسان سے واسطہ نہیں پڑا کہ جس کو اپنی نشوونما اور اپنی دنیا میں کچھ کر گزرنے کے لیے نہایت نجی سطح پر ضروری نفسیاتی آمادگی میسر ہو اور اس نے انتقام اور تباہی کا راستہ منتخب کر لیا ہو۔اس کے بر عکس میرا تجربہ مجھے سکھاتا ہے کہ دراصل یہ ثقافت ہی ہے جو انسان کو ’بدی‘ کے راستے پر چلنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ 

جب بچہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو زندگی گزارنے کے لیے طے شدہ مشکل پسندانہ رسوم و آداب اس کو نگلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ والدین کی جانب سے بچے کی تربیت کے د وران بچے کو جس قسم کے تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بچے کی صلاحییتوں کو ختم یامحدود کر دیتے ہیں۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث ہر شخص کو اپنی زندگی میں بہتری لانے کے لیے مساوی مواقع میسر نہیں آتے۔ نسل در نسل خاندانوں کی معاشی صورتحال میں کو ئی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔ یہ سب عوامل اور ان کے ساتھ منسلک دیگر باتیں لوگوں کو ایک جعلی اور دشمنانہ مزاج فراہم کرتے ہیں۔

پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ نسلِ انسان اپنے جوہر کے اعتبار سے تعمیراتی فطرت رکھتی ہے۔ تاہم مختلف نوعیت کے تجربات اس جوہر کو زہر آلود بنا دیتے ہیں۔ ارد گرد کے لوگوں کو دیکھنے کا نظریہ غیریت اور نفرت پر مشتمل ہے۔ پوری انسانیت طرح طرح کے گروہوں میں اسی غیریت اور نفرت کی بنیاد پر منقسم ہے ۔ جو لوگ کسی طور بھی ہم سے مختلف ہیں، ان کے بارے میں تعصبات ایجادکیے جاتے ہیں اور پھر بڑے زور شور سے ان کی اشاعت کی جاتی ہے۔ ‘‘۔

ان میں سے کچھ تعصبات کلچرل احساسِ برتری قائم کرنے کے لیے ہیں اور ان کی سوچ سمجھ کر اشاعت کی جاتی ہے۔ ایسے تعصبات کی بدولت حقیقی زندگیوں میں سیاسی اور اقتصادی مراعات کی گنجائش پیدا کی جاتی ہے اوراس کا دائرہ مقامی یا عالمی بھی ہوسکتا ہے۔ کچھ تعصبات گزشتہ صدیوں کے امراء اور اشرافیہ سے منسوب ہیں ۔ ان کی عملی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ ان کو محض اس لیے دہرایا جاتا ہے تاکہ اس سے جنتِ گم گشتہ کی آسودگی مل جائے۔ 

مثال کے طور پر رشتے داری کرتے وقت ’ معزز ‘ خاندانوں کی تلاش کی جاتی ہے۔ سید خاندان کے لوگ سید خاندان میں رشتے داری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو رشتے کے نبھا نے میں اس ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔عزت ، وقار اور برتری کا احساس محض باتیں ہیں اور ان کا تعلق ایک طرح کی ضعیف الاعتقادی سے ہے۔ کوئی فرد ایک بڑی میز کے اُس طرف بیٹھ کر اپنے آپ کو معزز سمجھ لیتا ہے۔ کوئی کسی ’ بڑے یا معزز ‘ فرد کے ساتھ نسبت بنا کر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو کسی ’طاقتور‘ نظام کے ساتھ منسلک کر کے اپنے آپ کو قوی سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔

ایسے ’ تعلقات‘ کی حیثیت نفسیاتی اعتبار سے ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی بچہ اپنی جیب میں کانچ کی بہت سی گولیوں کورکھ کے اور انھیں اپنے ہاتھوں سے محسوس کرکے خوش ہو جاتا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ ایسے تعلقات کو ترقی اور دولت کمانے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کوئی فرد اپنے وجود کو ظاہر کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس کی گمنامی کو نام دیا جائے۔ وہ اپنے آپ کو تسلیم کروانے کے لیے کلبلاتا ہے۔ ایسے لوگ جرم یا تشدد کو ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

کوئی فرد محض دوسروں پر اپنے جبر کا شکنجہ کس کے انھیں تکلیف دے کر اپنے وجود کو آشکار کر تا ہے۔ کوئی فرد محض خیالات کی دنیا کو ہی اصلی مان کر اصلی دنیا سے کنارہ کشی کر لیتا ہے۔ یہ سب کا رگزاریاں دراصل اپنی حیثیت میں کچھ نہیں ۔ البتہ یہ کسی ذہنی معذوری کی علامات ضرور ہیں ۔ ممکن ہے کہ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی ہو جب یہ لوگ بچے تھے۔ والدین اور مجموعی طور پر اس کلچر نے جس میں یہ لوگ پیدا ہوئے، ان کو غیر محفوظ ہونے کا ایک ایسا گہرا احساس ودیعت کر دیا کہ وہ آج تک اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لیے پناہ گاہیں ڈھونڈرہے ہیں۔ 

ایک انسان میں ’ اچھی‘ زندگی گزارنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اچھی زندگی سے یہاں مراد کامیاب زندگی نہیں کہ جس کے حصول کے لیے جائز ناجائز ہر کام کو درست سمجھ لیا جائے۔ آج کل کامیاب زندگی کا مطلب اچھا صارف ہے جو بڑی بے دردی سے چیزوں کے پیچھے بھاگتا پھرے۔ اچھی زندگی دراصل ذہنی اور مادی نشوونما کا عمل ہی ہے۔ اس عمل میں سے گزرتے ہوئے، کوئی بھی فرد اپنی صلاحییتوں کے مطابق اپنے آپ کو تلاش کر سکتا ہے۔ یہ عمل دراصل ایک ممکنہ تحریک ہے اور اس کا انتخاب کوئی بھی شخص کر سکتا ہے ۔

تاہم ایسا صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ شخص راستے کو منتخب کرنے میں داخلی طور پر آزاد ہو۔ ’ اچھے راستے ‘ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص وہ بن جائے جیسا بننے کی اس میں صلاحیت موجود ہو اور ایسا کچھ کر ے جو وہ اچھی طرح کر سکتا ہو۔ یہاں ’ اچھا‘ کا مطلب کسی اخلاقی حوالے سے نیکی یا بدی پر کوئی محاکمہ دینا نہیں۔ جزا و سزا سے آزاد، دراصل یہ نفسیاتی کوائف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ’ اچھے‘ سے یہاں مراد ہر وہ معاملہ ہے جو کسی بھی فرد کی صلاحییتوں اور ضرورتوں کے لیے مناسب ہو۔ اگر کوئی شخص اپنے اندر ’ اچھائی‘ محسوس کرے تو وہ ایک حقیقی اور سچی زندگی گزار سکتا ہے۔ ایسا شخص کبھی تشدد میں شریک کارنہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی انسان یاسماج دشمن کام کر سکتا ہے۔ اسی سچائی کی بدولت دوسروں کی آزادی کو تحفظ دیا جاسکتا ہے۔ 

کسی بھی انسان میں موجود انسانیت ، منفی تجربات کے نتیجے میں آلودہ ہوتی ہے۔ جن بالغوں کے ہاتھ میں بچوں کی پرورش کی ذمے داری آتی ہے وہ بچے کے اندر موجود نشوونما کی صلاحیت پر بھروسہ نہیں کرتے۔وہ یہ بات مانتے ہیں کہ بچے کے اندر پیدائشی طور پر بدی ہوتی ہے۔ قدیم معاشروں میں بچوں کو بد روحوں کا مسکن سمجھا جاتا تھا۔ کلیسا اسی تناظر میں بپتسما کر کے بچے کو ’پاک‘ کرکے اس میں موجود ابدی بدی کو ختم کرنے کا دعوٰی کرتا ہے۔ 
قدیم ادوار میں بچے کو چھوٹا بالغ سمجھا جاتا تھا اور اس سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بڑوں کے برابر کام کرے۔ اسی نظریے کو ذہن میں رکھتے ہوئے بچے پر اسی طرح اذیت اور سزا کو آزمایا جاتا تھا جس طرح یہ سلوک جانوروں کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ یہ کہ بچہ بڑوں سے مختلف ہو تا ہے اور اس کی دنیا بالغوں کی دنیا کی توسیع نہیں ہوتی ، یہ تصور گذشتہ چند دھائیوں میں ماہرینِ نفسیات کو سمجھ میں آیا۔

بچے میں اپنی ذات اور دنیا کے بارے میں شعور اس کی سمجھ کے ساتھ منسلک ہو تا ہے ۔ بچہ کیا سیکھتا ہے ،یہ سب مواقع کی فراہمی اور سکھانے والوں کی اہلیت پر منحصر ہے ۔ سکھانے والے شعوری طور پر اس بات کا احساس کریں یا نہ کریں، تاہم ان کے بچے کے تئیں برتاؤسے یہی بات جھلکتی ہے کہ انھوں نے بچے میں سے بدی نکال کر اس میں اچھا چال چلن نفوذ کرنا اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ ا سی کو تربیت کہا جاتا ہے۔
ایسی تربیت بچے کے اندر موجود نشوونما کی صلاحییتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے انھیں محدود کر دیتی ہے۔ نشوونما کی صلاحیتوں کی افزائش کے لیے موافق حالات مہیا کرنے کی بجائے بچے کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ تربیت کے جبر کو قبول کرے۔ یعنی یہ کہ اسے جس طرح بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ اس ترکیب کو قبول کر لے۔ ایسی تربیت کرتے وقت ، تربیت کرنے والے بچے کی قدرتی صلاحیتوں کو اوّل تو مانتے ہی نہیں یا ان پر یکسر سرے سے اعتبار نہیں کرتے۔ وہ اس طرح بچے کو سکھانے کی کوئی ایسی تدبیر نہیں کرتے کہ جس طرح بچہ سیکھنا چاہتا ہے۔ بلکہ وہ اسے اس طرح سکھانے کا بندوبست کریں گے جس کو وہ اپنے خیال میں بچے کے لیے’ بہتر‘ مانتے ہوں۔

مثال کے طور بچہ کوئی سرگرمی کرتے ہوئے زیادہ شوق سے سیکھتا ہے۔ بچے کو باتیں کرکے اور اپنے خیالات کا اظہار کرکے لطف آتا ہے۔ سکولوں میں ان دونوں باتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور بچوں کو جانوروں کی طرح ان کی بیٹھنے والی جگہوں سے ’باندھ ‘دیا جاتا ہے۔ سکول بچوں کی چہچہاہٹ سے خالی قبرستان لگتا ہے۔سکھانے والے بچے کو ایک خالی تختی سمجھتے ہیں او ر اس تختی پر اپنی من مرضی سے لکھنے کو تربیت مانتے ہیں۔ اس طرح بچے میں نشوونما کے لیے موجود فطری صلاحییتوں کی جگہ پر ایک مصنوعی ماحول تھوپ دیا جاتا ہے۔ 

چونکہ ایسے ماحول میں کی جانے والی نشوونماکا تعلق بچے کی حقیقی فطرت سے نہیں ہوتا، وہ ایسی نشوونما کے وسیلے سے ایک مصنوعی شخصیّت اور کردار کا حامل بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تین بہنوں والے ایک گھر میں ایک لڑکے کے پیدا ہو جانے کے بعد اس لڑکے کی تربیت میں اس کے احساسِ ذات کی پرورش اس طرح کی جائے گی کہ وہ ایک مراعات یافتہ حیثیت کا مالک ہے ۔ جب اس سے کہیں بڑی بہن کسی سہیلی سے ملنے کے لیے جاتی ہے تو اسے اس کی حفاظت کے لیے اس کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ اس ’اعزاز ‘ کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک مرد ہے۔

یہ احساس ان معنوں میں جعلی ہے کہ آج کی دنیا میں جب انسانی حیاتیاتی بندشوں سے آزادی ممکن ہے، کسی بھی جنسی تفریق سے قطع نظر کوئی بھی فرد اپنی صلاحیتوں کی پرورش کر سکتا ہے۔ آپ کی سماجی شناخت اس بات پر ہے کہ جو آپ پیشہ ورانہ طور پر کر سکتے ہیں نہ کہ یہ کہ آپ کی جنس کیا ہے۔ جنس کا مسئلہ اب صرف ان عورتوں کے لیے رہ گیا ہے جو اپنے آپ کو حیاتیاتی بندشوں میں قید رکھنا چاہتی ہیں یا ان کو اس سے بریّت کی گنجائش نہیں ملتی۔ ایسے میں محض لڑکا ہونا اور اس پر مراعات کی توقع رکھنا اس فرد کو ایک جعلی زندگی میں الجھانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ ایک جعلی شناخت ہے اور اسی کے تناظر میں وہ گھر سے باہرارد گرد کی دنیا کو دیکھے گا جہاں ایسی مراعات کی گنجائش نہیں۔ 

اس طرح اس کا اپنے ساتھ اور اپنی ارد گرد کی دنیا کے ساتھ تعلق بھی مصنوعی ہی رہتا ہے۔ لڑکا ہونا اور لڑکا ہونے کی بنیاد پر اعزازی حیثیت کا متمنی ہونا ایک خارجی تحریک کا شاخسانہ ہے۔ داخلی اعتبار سے کوئی فرد جنسی تفریق سے مبرا ہوتا ہے۔ یہ سماجی دخل اندازی کے نتیجے میں نمو پاتی ہے۔ اسی تفریق کے باعث دنیا کے ساتھ جو تعلق بنتا ہے وہ ادھورا رہتا ہے ۔ ایسے تعلق کی تحریک چونکہ خارجی ہوتی ہے اس لیے وہ اپنے آپ پر اور اپنی ارد گرد کی دنیا پر اعتبار کرنا نہیں سیکھتا۔ ایسی تربیت میں ہر عمل جزااور سزا کی تحریک پر ٹھہرتا ہے، اس لیے بچہ کسی کام میں لطف محسوس کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ 

اعتماد کے بنیادی احساس کی نموکی اساس بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہونے والے ابتدائی تجربات پر ہوتی ہے اور ایسے تجربات بچے کی شخصیت کی مثبت یا منفی نمو کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتے ہیں۔ اگر اعتماد کی نمو ہو جائے تو یہ بچے کے لیے ہمیشہ کے لیے داخلی قوّت کا باعث بن جاتی ہے ۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو بد اعتمادی ہمیشہ کے لیے اسے اپنے آپ سے بیگانہ بنا دیتی ہے۔

مشہور ماہرِ نفسیات ایرکسن  اعتماد جیسے احساس اور قوّت کو امید یا مستقبل پر یقین کے مترادف سمجھتا ہے ۔ بچے میں ہمیشہ فطری طور پر پُر امید رہنے کا رویہ موجود رہتا ہے۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ بچے کے اندر موجود یہی صلاحیت اسے بڑوں کے مقابلے میں کسی قسم کے حادثے یا مذموم تجربے سے نکل جانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ جب ان تجربات میں بچے کی فطری صلاحییتوں کی شناخت اور پذیرائی ہی نہیں ہو گی توان تجربات پر مبنی تربیت بھی مصنوعی اور کھوکھلی ہو گی۔

مثال کے طور پر اگر آپ بچے کی غلطی کو سیکھنے کے عمل کا لازمی حصہ سمجھیں گے توآپ بچے کی تذلیل کرنے سے گریز کریں گے۔ اس طرح صرف سیکھنے کا عمل ہی نہ صرف آسان ہو جائے گا بلکہ بچے کااپنی کاوشوں پر اعتبار بھی بنا رہے گا۔ ایسا ہونابچے کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یعنی یہ کہ ایسا رویہ صرف اسی صورت میں رواں دواں رہتا ہے کہ جب تک اس کی نشوونمافطری رہتی ہے ۔ اگر گھر میں اعتماد کی صحت مند اور مضبوط بنیادیں پڑ جا ئیں تو آنے والی زندگی میں رواں دواں رہنے کے لیے آسانیاں مل جاتی ہیں۔ اگر ہماری جڑیں اعتماد پر ہوں گی تو مثبت اور موئثرنمو کی امیدکی جاسکتی ہے۔

اگر آپ بچے پر اس کی ذہنی استطاعت اور سیکھنے کے درجے کو نظر انداز کرکے یہ توقع کریں گے کہ وہ بغیر کوئی غلطی کیے سیکھتا چلا جائے گا اور کسی لغزش کے بغیر اعلیٰ گریڈ حاصل کرتا جائے گا تو دراصل آپ اس کی فطرت کو سراسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ بچے سے غیر حقیقت پسندانہ توقعات کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ تصور قائم کر لے کہ اسے کبھی اعلیٰ ترین مقام سے نیچے نہیں آنا چاہیے۔ اگر کبھی اسے زندگی میں شکست یا ہزیمت کا سامنا ہو جائے تو وہ ٹوٹ جائے گا۔ ایسے لوگ شدید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں خودکشی کرنے یا اس سے ملتے جلتے رجحانات بھی پیدا ہو جائیں۔ 

بریڈ شا کہتاہے: ’’ ہماری زندگی کا ہر مر حلہ آنے والے مرحلے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس طرح بچپن کی زندگی ،پو ری زندگی کے لیے ایک بنیاد کی حیثیت بن جاتی ہے۔ ‘‘

Comments are closed.