امریکہ کی نئی افغان پالیسی، پاکستان کا کوئی کردار نہیں

امريکا نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے ميں نئی حکمت عملی اپنانے کا عنديہ ديا ہے، جس ميں بظاہر پاکستان کا کوئی کردار نہيں ہے۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات نچلی ترين سطح پر ہيں۔

مريکی وزير خارجہ مائيک پومپيو نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ليے نئی حکمت عملی کا اعلان کيا ہے۔ اس بارے ميں انہوں نے امريکی کانگريس کو اسی ہفتے بريفنگ دی۔ سينيٹ کی خارجہ امور سے متعلق کميٹی کو بريفنگ ديتے وقت پومپيو کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے ليے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا۔ ان کے بقول اس سلسلے ميں افغان طالبان کی صفوں ميں ’درست قيادت‘ کی شناخت کی ضرورت ہے جو امن مذاکرات ميں شرکت کر سکے۔

مائيک پومپيو نے اپنی بريفنگ کے دوران کميٹی کے ارکان سے يہ بھی کہا کہ پاکستان ميں تعينات امريکی سفارت کاروں اور ديگر اہلکاروں کے ساتھ ’برا سلوک‘ کيا جا رہا ہے۔ امريکی وزير خارجہ کی جانب سے يہ بيان اور پاکستان کی مدد کے بغير افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش اس بات کی عکاسی کرتے ہيں کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اپنی نچلی ترين سطح پر ہيں۔

امريکی دارالحکومت واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے جنوبی ايشيائی امور کے ماہر مارون وائن باؤم نے ڈی ڈبليو سے بات کرتے ہوئے بتايا کہ امريکا اور پاکستان، دونوں نے ايک دوسرے کے سفارتی عملوں پر اسی ماہ سفری پابندياں بھی عائد کی تھيں۔ انہوں نے کہا، ’’ميرے ليے سب سے زيادہ حيران کن بات يہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے ہاں تعينات ايک دوسرے کے سفارتی عملوں کے خلاف ايسے اقدامات اٹھا رہے ہيں، جو عموماً دشمن ملکوں کے سفارت کاروں کے ليے اٹھائے جاتے ہيں، نہ کہ اتحاديوں کے۔‘‘

امريکی وزير خارجہ نے بريفنگ کے دوران يہ بات بھی واضح کی کہ جب مذاکرات کے ليے طالبان کی قيادت کی شناخت مکمل ہو جائے گی، تو اس کے بعد امريکی انتظاميہ افغانستان ميں آئندہ کی حکومت يا آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے ليے مختلف گروپوں کو مذاکرات کے ليے ایک ساتھ لانے کی کوشش کرے گی۔

 ان کے بقول صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ کی جانب سے افغانستان کے مختلف قبائلی اور نسلی گروپوں کو اس بات کی يقين دہانی کرائی جائے گی کہ ملک ميں آئندہ کے سياسی و حکومتی ڈھانچے ميں ان کے مفادات کا خيال رکھا جائے گا۔

يہاں يہ امر اہم ہے کہ افغانستان ميں دير پا قيام امن کی تازہ امريکی کوششوں ميں کہيں بھی پاکستان سے مدد حاصل کرنے کی کوئی بات نہيں کی گئی۔ اس کے برعکس ڈی ڈبليو کے اس بارے ميں ايک سوال کا جواب ديتے ہوئے امريکی محکمہ خارجہ کے ايک اہلکار نے بتايا کہ انتظاميہ کی اب بھی يہی خواہش ہے کہ اسلام آباد حکومت اپنے ملک سے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے ليے فيصلہ کن اور موثر اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گرد افغانستان اور خطے کے ديگر ملکوں ميں حملے نہ کر سکيں۔

پاکستان گو کہ اصولی طور پر امريکی موقف کو سمجھتا ہے، تاہم اس کا يہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ ميں اب تک اس کے پچاس ہزار سے زائد شہری و فوجی ہلاک ہو چکے ہيں اور اب يہ ملک کسی اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا حصہ نہيں بننا چاہتا۔ اسلام آباد کا ايسا ماننا ہے کہ آج نہيں تو کل، امريکا افغانستان سے مکمل طور پر نکل جائے گا اور پھر پيچھے رہ جانے والی صورتحال سے پاکستان کو نمٹنا ہو گا۔ پاکستانی حکام امريکيوں کے ساتھ تبادلہ خيال ميں بارہا يہی کہتے آئے ہيں کہ افغانستان ميں جاری مسلح تنازعے کا عسکری حل نہيں۔

DW

Comments are closed.