کس نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوشش ناکام بنادی؟

آصف جیلانی 

ممتاز برطانوی صحافی اور براڈکاسٹر ، ایوان رِڈلے نے انکشاف کیا ہے کہ پانچ سال پہلے انہوں نے ، افغان طالبان کی قید میں ایک امریکی فوجی کی رہائی کے عوض امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور امریکی صدر کی طرف سے ان کی معافی کے بارے میں سمجھوتہ طے کر لیاتھا لیکن پاکستان کی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی نے اس سمجھوتے کو رد کردیا تھا۔ 

برطانوی صحافی ایوان رِڈلے کو 2001میں جب وہ سنڈے ایکسپریس کی نامہ نگار کی حیثیت سے افغانستان کی جنگ کور کرنے افغانستان گئی تھیں تو طالبان نے انہیں گرفتار کر لیا تھا اور گیارہ روز اپنی حراست میں رکھا تھا۔ طالبان نے اس وعدہ پر ایوان رِڈلے کو رہا کردیا تھا کہ وہ قران پاک اور اسلام کا مطالعہ کریں گی۔ رہائی کے بعد انہوں نے نہ صرف یہ وعدہ پورا کیا بلکہ انہوں نے قران پاک کے مطالعہ کے بعد 2003میں اسلام قبول کر لیا۔ 

ایوان رِڈلے نے مڈل ایسٹ مانیٹر پر شایع ہونے والے اپنے ایک مضمونمیں لکھا ہے کہ وہ گذشتہ پندرہ سال سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کی تفتیش کر رہی ہیں جنہیں امریکی عدالت نے افغانستان میں ایک امریکی فوجی سے بندوق چھین کر اسے قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86سال قید کی سزا دی ہے اور جو ٹیکسس کے کارلسن ویل جیل میں پابند سلاسل ہیں ۔ ایوان رِڈلے کا کہنا ہے کہ تین بچوں کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ جو نا انصافی ہوتی رہی ہے اور وہ امریکی انٹیلی جنس اور خود پاکستان کی ISIکے درمیان بدترین کھیل کا نشانہ بنتی رہی ہیں وہ ان کے لئے سخت اذیت کا باعث ہے ۔ 
ایوان رِڈلے کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملہ کے بارے میں اپنی خاموشی توڑ دون اور یہ انکشاف کردوں کہ امریکی فوجی رابرٹ بوئی برگ ڈال کی رہائی کے عوض جو 2009سے طالبان کی قید میں تھا ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کی کوشش میں کامیابی کے قریب تھی کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے یہ کوشش ناکام بنادی۔ 

ایوان رِڈلے کا کہنا ہے کہ 2013میں جب وہ افغانستان گئی تھیں تو طالبان کی مجلس شوری کے اعلی اراکین نے ان سے رابطہ قایم کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا امکان ہے کہ وہ دختر پاکستان عافیہ صدیقی کے عوض امریکی فوجی برگ ڈال کو رہا کردیں۔ 

ایوان رِڈلے نے لکھا ہے کہ میں نے فی الفور امریکی انٹیلی جنس سے رابطہ کیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ امریکی جو فخر سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے کسی سپاہی کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتے ہیں ، مجھے سنجیدگی سے لیں گے۔ میرا یہ خیال صحیح نکلا اور مجھے اس معاملہ پر بات چیت کے لئے یرغمالی معاملات کے ماہر ایک اعلی امریکی فوجی افسر سے ملوایا گیا۔ 

ایوان رِڈلے کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں کی کوششوں سے ان افغان طالبان سے جنہوں نے مجھے قید رکھا تھا ایک سودا طے پایا جس میں کسی رقم کی ادائیگی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ سیدھا سادا امریکی فوجی برگ ڈال اور عافیہ صدیقی کے تبادلہ کا سودا تھا۔ 

ایوان رِ ڈلے نے لکھا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں پاکستان میں کسی سے ذکر نہیں کیا تھا کیونکہ سچ بات یہ ہے کہ مجھے پاکستان کے سیاست دانوں پر بھروسہ نہیں اور مجھے علم تھا کہ پاکستان کے انٹیلی جنس نیٹ ورک میں ایسے عناصر ہیں جو اس قسم کی کوشش کی مخالفت کریں گے۔ 

اس دوران یہ طے ہوا کہ عافیہ صدیقی کو افغانستان لایا جائے گا اورانہیں درہ خیبر کے راستہ رہا کیا جائے گا جہاں امریکی فوجی برگ ڈال کے تبادلے کے بارے میں وہ ایک پریس کانفرنس میں اعلان کریں گی اور برگ ڈال کو بھی اسی وقت رہا کردیا جائے گا۔ 

ایوان رِڈلے نے لکھا ہے کہ امریکیوں نے آخر وقت ایک درخواست کی کہ ویڈیو کے ذریعہ یہ ثابت کیا جائے کہ برگ ڈال اب بھی زندہ ہے ۔ طالبان نے یہ درخواست منظور کر لی اور اس کا ویڈیو بھیج دیا۔ 

رِڈلے کا کہنا ہے کہ عین اس وقت جب یہ تبادلہ ہونے والا تھا جب وہ طالبان سے ملیں توطالبان ناخوش اور پریشان نظر آتے تھے ۔ مترجم کے ذریعہ مجھے بتایا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں پیشکش انہوں نے واپس لے لی ہے۔ طالبان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کسی اور سے تبادلہ کے بارے میں سودا طے پا ئے۔ 

رِڈلے کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سن کر سخت صدمہ ہوا اور جب اس کی وجہ پوچھی تو دیرتک طالبان نے کچھ نہیں بتایا۔ آخر کار طالبان نے جو جواب دیا اس پر مجھے آج بھی سخت صدمہ ہے۔ آئی ایس آئی کو افغان طالبان سے میری ملاقاتوں کا علم ہوگیا تھا اور آئی ایس آئی نے افغان طالبان سے اپنی ایک ملاقات میں کہا تھا کہ عافیہ صدیقی کو رہا نہیں کیا جانا چاہئے۔ اور اگر عافیہ صدیقی پاکستان واپس آئی تو عین ممکن ہے کہ وہ دو روز کے اندر اندر مار دی جائے۔ 

ایوان رِڈلے نے لکھا ہے کہ میں نے طالبان سے پوچھا کہ آخر کیوں؟ افغان ہوتے ہوئے وہ پاکستان کے جاسوس ادارے کا نوٹس کیوں لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ملا عمر نے ایسابے عزت سودا کیسے کیا ہے ۔ اُس وقت مجھے علم نہیں تھا کہ طالبان کے روحانی پیشوا ملا عمر کئی ماہ پہلے انتقال کر چکے ہیں جسکا اعلان ایک سال کے بعد کیا گیا ۔ 

رِڈلے نے لکھا ہے طالبان کے آپس کے صلاح مشور ہ کے بعد مترجم نے بتایا کہ آئی ایس آئیکے ہم پر بہت احسانات ہیں ۔ اس کی مدد اور حمایت کے بغیر ہمیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ جب ہم نے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا تھا اور امریکا کے سامنے ہم ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے تو اس وقت ایک ملک( پاکستان) پر ہمیں بھروسہ تھا۔ 

رِڈلے نے لکھا ہے کہ یہ سن کر میں غصہ میں اپنے گایڈ کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی اورا س کے بعد کبھی میں طالبان سے نہیں ملی۔ 

آخرکار 2015میں طالبان نے امریکی فوجی برگ ڈال کو گوانتا ناموبے میں قید اپنے پانچ ساتھیوں کے تبادلے میں رہا کردیا ۔ 

ایوان رِڈلے کا کہنا ہے کہ اگر عافیہ صدیقی پاکستانی ہوتیں تو وہ آج آزاد ہوتیں۔ پاکستان میں عافیہ صدیقی کے لئے اتنے احتجاج اور مظاہروں اور ’’قوم کی بیٹی‘‘ کے لئے آنسو بہانے کے باوجود ان کی رہائی ممکن نہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ حکومت پاکستان نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے امریکی حکام سے ایک بار بھی درخواست نہیں کی۔ 

ایوان رِڈلے کاکہنا ہے کہ پچھلے کئی برسوں کے دوران میں نے متعدد پاکستانی سفارت کاروں سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ اگر ان کے وزیر اعظم اور صدر واقعی عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لئے سنجیدہ ہیں تو انہیں واشنگٹن ٹیلی فون کرنے کی دیر اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے عوض عافیہ صدیقی کی رہائی کا سودا طے کیا جا سکتا ہے۔ 

رِڈلے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو حال میں اسلام آباد میں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے اور یہ افواہیں ہیں کہ انہیں کسی سودے کے تحت جلد رہا کردیاجائے گا۔ لیکن بد قسمتی سے اس کے عوض عافیہ صدیقی کی رہائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

♥ 

6 Comments