ٹورنٹو اورماہ رمضان ، تاریخ کے تناظر میں 

حسن منیر

ٹورنٹو ڈیلی سٹار کی 29نومبر1927کی اشاعت میں قارئین کا جنرل نالج معلوم کرنے کیلئے درج ذیل سوالات شائع کئے گئے تھے : بریڈ میں خمیر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ 

سسیکا چوان بڑا ہے یا کہ جرمنی؟ ایک سوال جس سے بہت سے قارئین ناواقف تھے یہ تھا : رمضان کیا ہے؟ اخبار کے اسی صفحہ پر باریک پرنٹ میں اس کو جواب دیا گیا تھایعنی محمڈن سال کا نواں مہینہ۔

ٹورنٹو میں1927 میں صرف ایک مسلمان مقیم تھا جس کا نام راجب عاصم تھا۔ اس سال رمضان کریم نصف مارچ کو شروع ہؤا تھا۔ اور برطانیہ میں رمضان کریم عید الفطر کے تہوار پر ختم ہؤا تھا۔ 

اس کے تیس سال بعد ٹورنٹو میں ماہ رمضان کی آمد اور عید الفطر کا ذکر کسی مقامی اخبار میں شائع ہؤا تھا۔ ۳ مئی ۱۹۵۷ کو گلوب اینڈ میل اخبار نے ایک مضمون مسلمان مکہ کی جانب سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ ماہ رمضان کے آخری روز (عید سے قبل کی رات، شوال کی پہلی رات ) کی رپورٹ تھی ۔ قریب تیس مسلمان ایک ڈانس ہال کنگز وے کلب نماز کیلئے جمع ہوئے جو کہ شہر میں پہلی با جماعت نماز تھی۔

نماز کی امامت ٹوپی اور مشرقی لباس میں ملبوس، محمد خلیل نے کی جو لاہور سے انجنئیرنگ سٹوڈنٹ تھا۔ جس جگہ نماز ادا کی گئی اس کے بارے میں کافی تفصیل دی گئی تھی جیسے سافٹ ڈرنکس کی بوتلوں میں جلتی موم بتیوں جگہ روشن تھی، نمازیوں نے جوتے اتار دئے تھے، اور بعض نے سروں پر رومال باندھے ہوئے تھے، ہاں یہاں نماز کیلئے صرف مرد تھے اگرچہ عورتیں اور بچے بھی وہاں حاضر تھے۔ نماز کے بعدکھانے میں حاضرین نے شوربے دارگوشت، ٹرکش ڈیلائٹ اور کافی نوش کی تھی۔

اس مجلس کے ایک منتظم سمیع کریم کا اندازہ ہے کہ ٹورنٹو میں اس وقت پانچ سو سے زیادہ مسلمان رہائش پذیر ہیں جن کا تعلق البانیہ، سربیا، ترکی اور پاکستان سے ہے۔ اس نے کہا کہ وہ پر امید ہے کہ یہ اجتماع مسلمانوں کو انساپئر کرے گا کہ وہ بطور کمیونٹی کے یک جا ہوجائیں اور شاید ایک روز آئے کہ ٹورنٹو میں ہماری مسجد ہوگی۔

اس کے دو سال بعد1959 میں ٹورنٹو ڈیلی سٹار نے رپورٹ شائع کی کہ مسجد کی تعمیر کیلئے کچھ کوشش ہوئی ہے۔ مسلمان ایک بار پھر کنگز وے کلب میں عید الفطر کی تقریب کیلئے اکٹھے ہوئے جن کی تعداد پچاس کے قریب تھی۔ انہوں نے باہم مل کر جہالت اور تحریص کے خلاف گائیڈنس کیلئے دعا کی ۔ نماز یوں کے جوتے دیوار کے ساتھ ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ اخبار کے رپورٹر نے لکھا کہ شہر کے مسلمان تیس ہزار ڈالر اکٹھاکر نے کی کوشش میں ہیں تا کہ شہر میں ایک مسجد کی تعمیر کا خواب پورا ہو سکے۔ ایڈ منٹن، لیک لا بیش (البرٹا)، لندن (اونٹاریو) کے بعدکینیڈا میں ایسی چوتھی ہوگی ۔

اب ہم 1973 کے سال میں پہنچ گئے ہیں۔ اب ٹورنٹو کے اخبارات کو ماہ رمضان کی اہمیت معلوم ہو گئی تھی بجائے اس کا ذکر عید الفطر کے ساتھ کرنے کے۔ 28 ستمبر 1973کو ٹورنٹو سٹار نے خبر شائع کی کہ اس مبارک ماہ میں نیک مسلمانوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ (اسلام کی بائیبل )قرآن کی تلاوت پہلے صفحے سے لیکر آخری صفحے تک مکمل کریں۔

جس وقت یہ خبر اخبار کی زینت بنی اس وقت شہر میں مسلمانوں کی آبادی اندا زََپچیس ہزار ہو گئی تھی۔ اب مسلمانوں نے راجب عاصم کی لیڈر شپ کے تحت ایک تنظیم مسلم سوسائٹی آف ٹورنٹو کے تحت منظم کر لیا تھا۔1961میں ایک ڈانڈاس سٹریٹ پر واقع چمڑے کی دکان خرید لی گئی جو کہ شہر کی پہلی مسجد میں تبدیل کر دی گئی۔ محترمہ سولناز شاہین جو 1960کے اوائل میں ہملٹن (انٹاریو) کی رہائشی تھی ، اس کا کہنا تھا کہ وہ ہر اتوار کو ایک گھنٹے کا سفر کر کے اس مسجد میں آتی تھی تا کمیونٹی کا حصہ بن سکے۔ اس مسجد میں ماہ رمضان کے دوران خاص اہتمام ہوتا تھا ۔ ہم گھروں سے کھانا پکا کر یہاں اسلامک سینٹر میں لاتے اور افطار اکھٹے کرتے تھے۔ یہ بہت بھلا لگتا تھا۔

سنہ1974 میں ٹورنٹو سٹار نے نماز کے دوران جوتوں کی اہمیت پر رپورٹ شائع کی۔ اس کے مطابق قریب ایک ہزار جوتے یارک ڈیل ہالی ڈے ان  کے کشادہ ہال کے باہر رکھے جائیں گے۔ ایوب علی جو کہ مسجد کا امام اور اونٹاریو مسلم ایسو سی ایشن کا چئیر مین ہے اس موقعہ پر اس کا انٹرویو لیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ٹورنٹو کی تیس ہزار مسلم آبادی میں محض پانچ سو کینیڈا میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس نے رپورٹر کو بتایا کہ ماہ رمضان میں سحر سے غروب آفتاب تک مسلمان روزہ رکھتے اور ان کو بیہودہ باتوں اور پارٹیوں کی اجازت نہیں ہوتی۔

اس کے تین سال بعد 1977میں اگرچہ شہر میں پانچ مسجدیں تھیں اور مسلمانوں کی آبادی پچاس ہزار ہوگئی تھی ، لیکن ماہ رمضان کی تقاریب زیادہ تر گھروں میں ہی ہوتی تھیں۔ 17 اگست 1977کے ٹورنٹو سٹار نے خبر شائع کی کہ سپاڈائنا ایونیو پریونیورسٹی آف ٹورنٹو میں اسلامک سٹڈ یز کے پروفیسر کے اپارٹمنٹ میں تیس مسلمان کا اجتماع ہؤا۔ پروفیسر کی دس سالہ بیٹی غزالہ نے ماہ رمضان کا پہلا روزہ مکمل کیا تھا۔ کمیونٹی کے دوست احباب اس خوشی کے موقعہ پر اکھٹے ہوئے تھے تاروزہ افطار بھی کر سکیں۔ بیگ کا کہنا تھا کہ یہاں کینیڈا میں روزہ رکھنے کیلئے ہمارے اوپر کوئی پریشر نہیں بلکہ یہ ایک ذاتی چیز ہے ، اور اس کا انحصار ہر فرد کے ڈسپلن پر ہے۔کیونکہ ٹورنٹو کی کسی مسجد سے بہت دور رہتے تھے اس لئے وہ چھوٹی چھوٹی مجالس میں گھروں میں افطارکرتے اور شبینہ نمازیں ادا کرتے تھے۔ ہاں جمعہ کے روز مسلمان مساجد میں اکھٹے ہوتے تھے ۔ اخبار نے لیلۃ القدر کی را ت کی رپوٹ 8 ستمبر1977کو شائع کی تھی۔ 

اب1979 میں ٹورنٹو میں اسی ہزار مسلمان رہائش پذیر تھے۔ ماہ رمضان ایک ایسی تقریب بن گیا جس کی باز گشت دوسری کمیونٹیز میں بھی سنی جانے لگی تھی۔ اس سال شہر کے معروف مسلمان سڈنی زیدی نے قرآن پاک کے پانچ سو تاریخی نسخوں کو ٹورنٹو لانیکا فیصلہ کیا۔یہ نمائش ان آن دی پارک ہوٹل جو سنی بروک پارک سے دیکھا جا سکتا تھا اس میں اس کا افتتاح ہؤا۔ شہر کی متعدد سیاسی اور مذہبی شخصیات نے اس میں شرکت کی۔ اس کے بعد یہ نمائش تین روز کیلئے ٹورنٹو ہاربر فرنٹ پر لگائی گئی۔ (بہ شکریہ ٹورنٹو سٹار24 مئی2018 )

سڈنی زیدی کی اس یادگارنمائش کے چالیس سال بعدسے ٹورنٹو میں مسلم آبادی بتدریج ترقی پذیر ہے۔ ٹورنٹو شہراور اس کے مضافات میں ستر کے قریب مساجد ہیں۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق یہاں اس وقت پانچ لاکھ مسلمان آباد تھے جبکہ پورے ملک میں ایک ملین آبادتھے۔ کینیڈا میں پہلی مسجد ایڈمنٹن میں 1938میں تعمیر ہوئی تھی جب پورے ملک میں سات سو کے قریب یورپین مسلمان آباد تھے۔ اس مضمون کے ترجمہ نگار نے کینیڈین وزیر اعظم ٹردڈو کو 1978میں قرآن پاک کا تحفہ پیش کیا تھا۔ 

انگریزی سے ترجمہ: زکریاورک 

Comments are closed.