ریاستِ مدینہ کا بہلاوا اور ہیومن ڈیولپمنٹ

آصف جاوید

پچّیس ، 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اکثریتی پارٹی کے سربراہ عمران خان نے اپنی پہلی نشری تقریر میں پاکستان کو مدینے کی ریاست کی طرز پر ایک فلاحی مملکت بنانے کااشارہ دیا ہے۔

ہمارے مذہبی پیشواوں، ملّاوں اور مذہبی جماعتوں سے تعلّق رکھنے والے  سیاستدانوں نے عام پاکستانیوں کے ذہن میں اسلامی ریاست کا ایسا نقشہ پیش کیا ہے کہ وہ ہمیں ایک خیالی جنّت(یوٹوپیا) نظر آتی ہے۔ جب کہ  جن لوگوں نے تاریخِ اسلام کا ذرا سا بھی مطالعہ کیا ہے، ان کو معلوم ہے کہ مدینے کی ریاست ایک  بہلاوے اور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں تھی۔

ہماری قوم کو جھوٹی تاریخ، مطالعہ پاکستان، اسلامیات کی کتابوں ، جمعہ کے جمعہ مولوی کے خطبوں  نے اتنا ورغلا یا ہوا ہے کہ وہ ریاست مدینہ  کی نرگسیت کے سحر میں  سرشار ہیں۔ انہیں اب پاکستان میں مدینے کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانے کا خواب دکھا کر ایک بار پھر احمق بنایا جارہا ہے۔

تاریخ میں مدینے کی کسی حقیقی ریاست کا کوئی وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ نبی کریم صلعم نے تو صرف ایک معاشرہ تخلیق کیا تھا۔ جو بالکل اپنی ابتدائی شکل میں تھا اور جس نے ابھی ارتقاء کے مراحل طے کرنے تھے۔ عام مسلمانوں کے ذہن میں ملّاوں نے مدینے کی جس ریاست کا تصوّر ڈالا ہے وہ ملّاوں کی نرگسیت اور چرب زبانی کا مظہر ہے۔

مدینہ کی ریاست ایک خیالی ریاست (یوٹوپیا) ہے، جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا، نہ ہی رسولِ کریم صلعم نے کوئی ریاست تخلیق کی تھی، نہ ہی ان کے بعد آنے والے خلفاء راشدین نے کوئی فلاحی مملکت قائم کی تھی۔ نہ ہی مدینے کا کوئی اتنا بڑا رقبہ تھا، نہ آبادی تھی۔ نہ ہی مدینے میں کوئی  باقاعدہ منظّم شہری نظام  حکومت قائم تھا۔   نہ ہی مدینہ میں نہ کوئی معاشی نظام قائم تھا، نہ ہی مدینہ کی کوئی اقتصادیات تھی،  نہ تو کوئی زرعی پیداوار اور زرعی اجناس کی منڈی تھی، نہ ہی کوئی گھریلو صنعت یا کارخانوں کی پیداوار تھی، نہ ہی کوئی مالِ تجارت کی منڈی تھی۔ جو کچھ بھی تھا وہ تلوار کے زور پر قائم تھا۔  مدینے کی ریاست کی فلاح‘” کا سارا دارومدار مال ِغنیمت‘” تھا۔

لوٹ مار کی دولت اور جنگی فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور غلام  ولونڈیوں کی آپس میں تقسیم کی جاتی تھی۔ ۔ دوسرا ذریعہ آمدنی  غیرمسلموں سے جزیہ اورمسلمانوں سےزکوۃ تھی، ان کی بھی کوئی ایسی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی تھی،جس سے عام شہری کو کچھ زیادہ فائدہ ہوتا ہو۔ لوٹ مار کا مال قبائل آپس میں تقسیم کرلیتے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مدینے کی ریاست مسلسل غیرمستحکم اورخانہ جنگی کا شکار رہی ہے۔

نبی کریم صلعم کے وصال کے بعد تیس 30، سالوں میں چار میں سے تین خلیفہ قتل (شہید) ہوئے۔ پچاس 50، سال کے قلیل عرصے میں نواسہ رسول   امام حسین رضی اللہّ تعالیعنہ  کو آل و عیال سمیت ہجرت کرکے کوفہ جانا پڑا جہاں انہیں ان کے خاندان سمیت  بے دردی سے قتل(شہید) کردیا گیا۔  سوال یہ ہے کہ اگر یہی مدینہ کی فلاحی ریاست تھی اور جہاں   حکمران خانہ جنگی کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے قتل ہورہےہوں،  وہاں عوام کو کونسی فلاح نصیب ہوسکتی تھی؟

فلاح تو ایک سماجی اصطلاح ہے۔ فلاح کا تعلّق معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت سے  ریاست کے شہریوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔

نہ مدینہ کوئی سوشل ویلفیئر ریاست تھی، نہ اسلام نے آج تک سودی نظام کے متبادل کوئی معاشی و اقتصادی نظام کا  کامیاب رول ماڈل دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ نہ ہی سوشل ڈیولپمنٹ یا ہیومن ڈیولپمنٹ کا اسلام کی کسی ریاست میں کوئی رول ماڈل تھا یا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی مہذّب ریاستیں ہیں انہوں نے اپنی معیشت کو بتدریج فری مارکیٹ اکانومی اور سوشل ڈیموکریسی کی بنیاد پر استوار کیا ہے۔

فری مارکیٹ اکانومی میں سرمایہ  منافع کمانے کے لئے آزاد ہوتا ہے۔  ریاست کی آمدنی کا انحصار ٹیکسوں   اور قومی پیداوار کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہوتا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی ،ایسی جمہوریت ہوتی ہے جس میں ریاست اپنے عوام کو سیاسی جمہوری نظام کے ذریعے زندگی کی اعلیترین سہولتیں اور معیارِ زندگی فراہم کرنے کے لئے نظام تخلیق کرتی ہے۔ دنیا کی کوئی ریاست بغیر کسی قومی خزانے یعنی ٹیکسیشن نظام (زریعہ آمدنی) کے اپنی عوام کو راحت اورزندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کرسکتی ہے، ریاست کو یہ آمدنی ٹیکسز اور قومی پیداوار کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان کا تو یہ حال ہے کہ زراعت جس پر ملک کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی اور معیشت کا دارو مدار ہے ۔ اس طبقے کی آمدنی پر زرعی ٹیکس  کا نفاذ ہی نہیں ہوتا، یعنی ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیہے۔ کرپشن کے کے خاتمے اور نظامِ انصاف کو قائم کئے بغیر  کوئی ریاست چل نہیں سکتی ہے۔ اگر گاڑی کے ٹائر میں پنکچر ہوں ، تو آپ سارا دن اس میں ہوا بھرنی کی کوشش کرتے رہیں ٹائر میں ہوا نہیں بھرے گی، بالکل اس ہی طرح اگر معاشرے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی تو  ہیومن اور سوشل ڈیولپمنٹ کے لئے لگایا جانے والا پیسہ کرپشن کی نظر ہوجائے گا، اور معاشرے میں کسی ترقّیاتی کام کا فائدہ حاصل کرنا ناممکن ہوجائیگا۔

جس طرح گاڑی کو تیز رفتار چلانے کے لئے ایک پختہ پکّی اور ہموار سڑک درکار ہوتی ہے اس ہی طرح ریاست کو اپنے تمام ادارے کامیابی سے چلانے کے لئے ایک موثّر نظامِ انصاف  و احتساب کی ضرورت ہے۔ عوام کو کسی خیالی جنّت (مدینہ کی ریاست) یعنی یوٹوپیا کا خواب دکھا کر مزید احمق نہیں بنایا جاسکتا، اگر پاکستان نے  ترقّی کرنی ہے، تو فوج اور ریاستی اداروں کا کردار محدود کرکے انہیں آئین و قانون کا پابند کرنا ہوگا، مذہب کو ریاست، اور ریاست کو سیاست سے علیحدہ کرکے، ایک ہی وقت میں کرپشن کے خاتمے، بے رحم احتساب، زرعی آمدنی سمیت ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس اور جدید مالیاتی و معاشی اقتصادی نظام کو قائم کرنا پڑے گا،

فری مارکٹ اکانومی، ہیومن و سوشل ڈیولپمنٹ کے پروگرام جاری کرنا پڑیں گے۔گھریلو صنعتوں، چھوٹی و بڑی صنعتوں کے جال بچھانا ہونگے، روزگار کے زرائع تخلیق کرنا ہونگے،  انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ پر کام کرنا ہوگا، لوگوں کو پینے کے صاف پانی، یکساں تعلیمی نظام، علاج معالجے اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی ، پبلک ٹرانسپورٹ، سینی ٹیشن، گاربیج ڈسپوزل، سستی رہائشی اسکیمیں، دینی ہونگی۔

اور یہ سب کچھ کسی جادو کی چھڑی ، تعویز، گنڈے یا دعائوں اور وظیفوں سے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے جدید دنیا کے کامیاب ماڈلز کو سامنے رکھ کر مقامی شہری حکومتوں، صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان ذمّہ داریوں کی تقسیم اور قومی  دولت، وسائل اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم کا نظام وضع کرنا پڑے گا۔   احمقوں کی جنّت کے خواب دکھا کر تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ہے۔

  وما علینا الالبلاغ

2 Comments