عاطف میاں کی تقرری

حکومت نے ماہر معاشیات عاطف میاں کی بطور مشیر تقرری کے دفاع میں آئینی حقوق، جمہوری مساوات اور افکار قائداعظم کا حوالہ دیا ہے۔

جس کے بعد ترقی پسند اور قدامت پسند حلقوں میں ملک کی نظریاتی اساس پر مکالمہ شروع ہو گیا ہے۔

نومنتخب حکومت کی جانب سے مشاورتی کمیٹی برائے معاشی امور میں عالمی شہرت کے حامل ماہر معیشت عاطف میاں کی تقرری پر سیاسی حلقوں، حکومتی ایوانوں اور خصوصاﹰ سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث جاری ہے۔ اس تقرری پر اعتراض کرنے والے لوگ عاطف میاں کی قابلیت پر نہیں بلکہ ان کے عقیدے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سینٹ کے چند اراکین نے اس ضمن میں ایک نوٹس بھی جمع کروایا ہے۔

دوسری جانب ترقی پسند حلقے اس فیصلہ کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ خصوصاً وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے دو ٹوک بیان کو ملک کے ترقی پسند حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، ’’عاطف میاں کی تقرری پر اعتراض کرنے والے انتہاپسند ہیں اور ہم ان انتہا پسندوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔ تمام دنیا انہیں انتہائی احترام کی نظر سے دیکھتی ہے اور انہیں آئندہ پانچ برسوں میں نوبل انعام دیے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ ہم نے انہیں اکنامک ایڈوائزری کونسل میں لگایا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل میں نہیں۔‘‘۔

اقلیتوں کے آئینی حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پر سبھی کا مساوی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’’پاکستان اقلیتوں کا بھی اتنا ہی ہے، جتنا کہ اکثریت کا ہے۔ اقلیتوں کے جان ومال اور حقوق کی حفاظت محض حکومت نہیں بلکہ ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔‘‘۔

انتالیس سالہ پاکستانی ماہر معیشت ڈاکٹر عاطف کا شمار دنیا کے قابل ترین اور معروف ترین ماہرین معیشت میں کیا جاتا ہے۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں اکنامکس، پبلک پالیسی اور فنانس کے پروفیسر ہیں اور وڈرو ولسن سکول میں جولس روبینووز سینٹر برائے پبلک پالیسی و مالیات کے سربراہ بھی ہیں۔ انہیں آئی ایم ایف کی جانب سے ’’قابل ترین اور ذہین ترین‘‘ 25 نوجوان ماہرین معیشت میں شمار کیا گیا ہے۔ وہ اس فہرست میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ ڈاکٹر عاطف کو مالیات اور مائیکرو اکانومی کے باہمی تال میل پر تحقیق کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ان کی حالیہ کتاب ’’قرضوں کا گھر‘‘ واضح کرتی ہے کہ کس طرح’’عالمی معاشی تنزلی‘‘ میں قرضوں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے 2014ء  میں بھی ڈاکٹر عاطف میاں کا ذکر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ان جیسے باصلاحیت لوگوں کو میرٹ کی بنیاد پر رکھیں گے اور کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔ تاہم ان کے اس بیان کے بعد انتہا پسند حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

اس وقت عمران خان نے یہ کہہ کر اپنے ایک انٹرویومیں معافی مانگی تھی کہ ان کے بارہ میں یہ جان کر کہ وہ ایک ’’سرگرم قادیانی‘‘ہیں اور مبینہ طورپر ختم بنوت کے منکر ہیں،انہی عمران خان صاحب نے ایک انٹرویومیں ان کے کافراور غیرمسلم ہونے کا فتویٰ جاری فرمایااور پھرچارسال تک ان کا نام تک منہ سے نہ نکالا۔ادھرعاطف میاں نے جواباً ایک ٹویٹ کے ذریعہ عمران خان کو تنبیہ کی کہ وہ خدابننے کی کوشش نہ کریں،لاالٰہ الاللہ محمدالرسول اللہ (پر ان کا ایمان ہے)۔

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت تنبیہ کی ہے۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے گزشتہ حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے حلف نامے کی عبارت میں رد و بدل کرنے کی کوشش کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے لاہور سے اسلام آباد مارچ کیا تھا جو ایک دھرنے پر منتج ہوا تھا۔ کئی ہفتوں کے بحران کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت نے، عدالت کے حکم پر، پولیس کارروائی کی تھی جو فوج کی ثالثی کی بدولت ایک معاہدہ پر ختم ہوئی تھی، جس کے تحت حکومت کے وزیر قانون زاہد حامد کو استعفی دینا پڑا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ فوج کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف اس نوعیت کا احتجاج آسان نہیں ہو گا۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی رہنما اور سندھ اسمبلی کی سابقہ سپیکر شہلا رضا کا ٹویٹ سماجی حلقوں میں موضوع بحث بنا رہا۔ اس بیان کے مطابق، ’’پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریوں اور ایک سو دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ کا جھوٹ پہلے ہی سمجھ میں آ گیا تھا لیکن اس منافقت کی توقع شاید کسی کو بھی نہیں تھی کہ ریاست مدینہ کو آئیڈیل قرار دینے والے عمران مرزا غلام احمد قادیانی کے پڑپوتے کو اپنا مشیر مقرر کریں گے۔‘‘ بعدازاں انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا اعلان کیا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں نے انہیں یاد دلایا کہ 2016 میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی ’’قادیانیوں کی کمر توڑنے‘‘ کا دعوی کیا تھا اور ان کی جماعت نے ہی 1974ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے معروف سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹویٹ کی کہ، ’’پی ٹی آئی کی جانب سے عاطف میاں کو مشاورتی کمیٹی میں منتخب کرنے کا فیصلہ اور فواد چوہدری کی جانب سے اس کا بھرپور دفاع ایک خوش آئند امر ہے اور ملک کی تمام ترقی پسند قوتوں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔ ہم حکومت سے اسی نوعیت کے فیصلوں کی توقع اور مطالبہ کر رہے تھے اور جب اس نے یہ کیا ہے تو ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہئے۔‘‘۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ، ’’ہم حکومت کے اس موقف کی پرزور تائید کرتے ہیں لیکن مجھے خدشہ ہے کہ جس طرح حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے، وہ اس فیصلہ سے پیچھے نہ ہٹ جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومتی، ریاستی اور سیاسی امور میں مذہب اور عقیدہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور یہی بات قائد اعظم نے گیارہ اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی میں کی جانے والی اپنی پہلی تقریر میں کی تھی، جو پاکستان کے بارے میں ان کا وژن تھا۔‘‘ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ موجودہ پاکستان قائداعظم کا نہیں بلکہ ضیاالحق کا پاکستان ہے، جہاں مذہبی انتہا پسندی زوروں پر ہے اور معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اپنی سابقہ پانچ سالہ سیاست میں مذہبی کارڈ کا بطور ہتھیار بھرپور استعمال کیا ہے اور اسی کارڈ کی بدولت اقتدار میں آئے ہیں۔لہذا اب انہیں اس کے نتائج کا سامنا تو کرنا ہو گا۔

DW/News Desk

3 Comments