اشفاق احمد کا گڈریا اور خالد مسعود خان

مسعود قمر

ایک زمانے میں اشفاق احمد میرے پسندیدہ ادیب تھے جب وہ ایک محبت کے سو سو رنگ دکھاتے تھے ، جب وہ ہندو ،مسلم ، سکھ اور مسیحی کو ایک ساتھ صحن میں کھیلتے دکھاتے، سالن کی ایک ہی کٹوری سے سب کو ایک ساتھ کھانا کھاتے دکھاتے تھے ۔ پھر بعد میں انہوں نے اپنےافسانوں اور خصوصی طور پہ ڈراموں میں مولوی کو ہیرو بنا لیا ۔

آج مجھے اشفاق احمد اور خاص طور پہ ان کا افسانہ گڈریا بہت یاد آئے اس کی وجہ ملتان کے کالم نگار خالد مسعود خان بنے (مجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی وہ کالم نگار کی وجہ سے شاعر بنے ہیں یا شاعر ہونے کی وجہ سے کالم نگار بنے ہیں ) وہ کیوں وجہ بنے یہ بعد میں بتاتا ہوں پہلے اشفاق احمد کے افسانہ گڈریا کی چند باتیں۔

اشفاق احمد بتاتے ہیں ان کے محلے میں ایک داو جی رہتے تھے جو ہندو ذات کے کتھری تھے اور ان کے ایک ہم جماعت امی چند کے والد تھے ۔ایک دن اشفاق احمد اپنے دوست امی چند کے گھر ایک کتاب لینے گیا تو امی چند کی بہن نے پہچان لیا کہ میں ڈاکٹر کا بیٹا اور آفتاب کا بھائی ہوں ، لڑکی نے اپنی بےبے کو بتایا ان کی آوازیں سن کر خصوصی طور پہ آفتاب کا نام سن اندر سے داو جی بھی باہر آگئے اور ایک دو جملوں کے بعد پوچھا۔

کونسے سپارے پہ ہو؟میں نے بتایا چوتھے پہ ، پھر پوچھا تیسرے سپارے کا کیا نام ہے؟ میں نے کہا پتا نہیں تو داو جی نے بتایا تیسرے سپارے کا نام “تلک الرسل” پھر کہا سورت فاتحہ سناؤ ، میں نے کہا نہیں آتی تو کہا الحمداللہ تو آتی ہے یا وہ بھی نہیں آتی تو میں نے کہا ہاں وہ تو آتی ہے تو داو جی نےبتایا بیٹا دونوں ایک ہی ہیں ۔ اور پھر جب میں کلاس میں فیل ہو گیا تو میرے والد جن کا داو جی سے کسی بات پہ جھگڑا ہو گیا تھا اور بول چال چند بند تھی مجھے پڑھنے کے لیےاور تعلیمی کمی دور کرنے کے لیے داو جی کے گھر شفٹ کر دیا ۔

اس کے بعد اشفاق احمد نے داو جی کے پڑھانے کا نقشہ کھینچا ہے کمال ہے ۔ اشفاق بتاتے ہیں کہ میں کس طرح داو جی کو ستاتا ، گالیاں دیتا حتی کہ ان کو کتا تک کہہ دیتا کہ مجھے نہیں پڑھنا مگر داو جی کہتے بس ایک دفعہ” تھانے والوں نے رانو کوگرفتار کرلیا ” کا فارسی میں ترجمہ کردو۔ اور جب میں بار بار کہنے پہ بھی ترجمہ نہ کیا تو آخر خود ہی بولے ” کارکناں گزمہ خانہ رانوتوقیف کروند” ۔۔

ایک ہندوذات کا کھتری کبھی اشفاق احمد کو قران کی آیات کے ترجمے کرکے سمجھاتا ہے اور یاد کراتا ہے کبھی انگریزی کی گرائمر درست کراتا اور کبھی فارسی پڑھاتا ہے۔ اور جب تقسیم پہ ہنگامے ہوتے پیں تو مسلمان غنڈوں کا ایک گروہ داو جی کو گھیر لیتا ہے جس کی قیادت رانو غنڈہ کر رہا ہوتا ہے وہ داو جی سے کہتا ہے
“کلمہ پڑھ پنڈتا” داو جی آہستہ سے بولتے کون سا
کونسا؟
رانونے ان کے ننگے سر پہ تھپڑمارا اور کہا
” سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہوتے ہیں:

ملتان کے کالم نگار خالد مسعود اپنے کالم میں غم سے نڈھال ہوتے یہ بتا رہے ہیں کہ عمران خان جو اس ملک کو مدینہ کی ریاست بنا رہے ہیں وہاں پنجاب میں محکمہ تعلیم نے 1206 مرد لیکچرار1772 خواتین لیکچرار کو نوکریاں دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ،ان میں سے 104 لیکچرار اسلامیات اور اسلامک سٹڈیز پڑھائیں گے ان میں سے پانچ اقلیتی لیکچرار بھی ہیں جو مسلمان طالب علموں کو اسلامیات پڑھائیں گے۔

میں سویڈن کی اوپسالا یونیورسٹی کے ایک سویڈئش لیکچرار کو جانتا ہوں جومسلمان نہیں ہے مگر وہ اسلامیات کا لیکچرار ہے اور اس کی کلاس میں مسلم اور غیر مسلم طالب علم ہوتے ہیں مگر خالد مسعود سر پہ دھتڑے مار مار کر دھائی دے رہے ہیں کہ عمران خان کی مدینہ کی ریاست میں یہ ظلم ہو رہا ہے کہ غیر مسلم لیکچرار مسلمان طالب علموں کو اسلامیات پڑھائیں گے۔
ان کی ایک دھائی اور بھی ذرا غور سے پڑھیں۔

کہتے ہیں یہ کیسی مدینہ کی ریاست ہے کہ جس میں اس سال سرکاری طور پہ کرسمس منائی گی ہے۔ ابھی ایک دو سال پہلے کی بات ہے کینیڈا میں عیدالفطر پہ کینیڈا کے وزیر اعظم نے شلوار قمیض پہن کر شرکت کی تھی ۔ مگر خالد مسعود اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا سرکاری طور پہ کرسمس منانا شرک ہے

اب خالد مسعود کے کالم کی ایک اور اٹھان کہا جو ملک مدینہ کی ریاست بننے جا رہا ہو وہاں سرکاری طور پہ بسنت کیسے منائی جا رہی ہے ۔ جناب خالد مسعود بسنت منانے کی مخالفت اس لیے نہیں کر تے کہ اس میں تار والی ڈور استعمال ہوتی ہے جس سے کئی ہلاکتیں ہو جاتی ہیں وہ کہتے ہیں یہ تقافتی تہوار نہیں ہے ورنہ یہ لاہور کے علاوہ بھی منایا جاتا مگر یہ ایک ہندو رسم ہے جو وہ ایک گستاخ رسول کو جس دن پھانسی ہوئی تھی اس دن اسی کی یاد منانے کے لیے بسنت منائی جاتی ہے ۔

اور اخر پہ وہ بد زبان وزیر فیاض چوہان کے خلاف اس لیے نہیں کہ وہ روز بہ روز لچر زبان بول رہا ہے وہ فیاض چوہان کے اس لیے مخالفت کرتے ہیں کہ اس نے نرگس سے معافی کیوں مانگی۔ میرا خیال ہے اب عمران خان کو پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جس قسم کا معاشرہ وہ مدینہ کی رہاست بنا کر قائم کر نا چاہتا ہے خالد مسعود اور اوریا مقبول جان اس کے بغیر ہی اس قسم کا معاشرہ بنا رہے پیں

Comments are closed.