نیا ہولوکاسٹ

کوی شنکر

میں رات کو جیسے ہی گھرکے قریب پہنچا تو گلی کے نکڑ پر ہی ایک کتے نے روک لیا۔۔ میں نے اسے بھگانے کی بہت کوشش کی لیکن کتا ٹس سے مس نہ ہوا۔۔ کتا مجھے گھورے جا رہا تھا۔۔۔ اس کو یوں گھورتا دیکھ کر مجھے ڈرسا لگنے لگا۔۔۔ میں سوچنے لگا کہ آج کل کتے کاٹے کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں اینٹی ریبیز انجکیشن بھی نہیں ملتے۔۔۔ ایسا نہ ہو یہ کوئی پاگل کتا ہو اور مجھے کاٹ لے۔۔۔اور میں بے موت مارا جاؤں۔۔۔۔۔۔ یہ خیالات آتے ہی میں نے بھاگنے کا سوچا۔۔۔ لیکن کتے نے میری سوچ کو بھانپ لیا اور چوکنا ہوگیا۔۔

میں بھاگنے کے لئے جس طرف بھی لپکا کتے کو سامنے ہی پایا۔۔۔ اس تگ ودو میں، میں جان گیا کہ کتے نے مجھے ایک بار بھی کاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ نا مجھ پر غرایا۔۔۔۔اور نا ہی مانوس ہوکر میرے قدموں پر گرا۔۔۔۔ میں وسوسوں میں مبتلا ہوگیا۔۔ ۔ اچانک ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

’’ تم صحافی ہو نا۔ ۔ ۔ ‘‘ کتا مجھ سے مخاطب تھا۔۔

میں ہکا بکا رہ گیا، کسی کتے کو پہلی بار انسانوں کی طرح بات کرتے دیکھ رہا تھا۔ پہلے مجھے یہ وہم لگا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی یہ کتا ہی بول رہا تھا۔

پھرکتے کی آواز گونجی ’’ تم صحافی ہو نا ‘‘ میں نے ہاں میں سر ہلایا۔

میں نے اسے کہا ’’ تم بول کیسے سکتے ہو ؟ ‘‘

کتا۔۔ ’’ ہم سونگھ سکتے ہیں اور اپنے مالک کو پہچان سکتے ہیں، یہ تم انسان جانتے ہو لیکن ہم محسوس کرنے کے ساتھ بول بھی سکتے ہیں یہ تم کبھی سمجھ نہیں پاؤگے۔ آج جب تم مجھ کو بولتا دیکھ بھی رہے ہو لیکن پھر بھی تم کو یقین نہیں ہے۔ ۔۔ اور میں جانتا ہوں تم کو کبھی یقین ہوگا بھی نہیں۔

‘‘ وہ کچھ دیر رکا اور پھر کہنے لگا ’’ اس بحث کو چھوڑو، مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے،

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہماری نسل خطرے میں ہے۔ ۔ ۔ ۔۔‘‘

’’ کیا مطلب، میں سمجھا نہیں ۔۔!‘‘ میں نے کہا

کتا ’’ حیرت ہے تم خود کو صحافی کہتے ہو اور تم کو اس بات کا پتا ہی نہیں کہ ہماری نسل کشی کی جارہی ہے۔‘‘

’’ سچ میں۔ ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم تم مجھے بتاؤ ! ‘‘ میں نے اسے کہا

’’ حکومت نے ہمیں مارنے کے لئے کا حکم جاری کردیا ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ میں تمہارے پاس مدد کے لئے آیا ہوں کہ تم ہماری آواز بنو ‘‘ کتے نے کہا

’’ شکارپور میں تمہارے ایک کتے کے کاٹنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا ہے، جس پر حکومت پر بڑی تنقید ہوئی، اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دوسرے لوگ کتوں کے کاٹنے سے بچ سکیں‘‘ میں نے کہا

’’ ہاں بالکل شکارپور میں ایک کتے نے بچے کو کاٹا تھا، لیکن اس کی ہلاکت اس لئے ہوئی تھی کہ ایک ماہ تک اس کا علاج نہ ہوسکا۔۔۔ وہ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے چکر کاٹتا رہا۔۔۔ ڈاکٹر والدین سے پیسے بٹورتے رہے۔۔۔ کسی نے بچے کو اینٹی ریبیز انجکیشن نہیں لگایا۔۔۔ بچے کی ہلاکت انجیکشن نہ لگنے کی وجہ سے ہوئی۔۔۔ لیکن انسانوں نے اپنی کوتاہی کو چھپانے کے لئے ہمیشہ کی طرح سارا الزام ہم پر ڈال دیا۔۔۔ اور اب ہماری نسل کشی کا فیصلہ کرلیا۔ ۔۔ ‘‘۔

وہ توقف کے بعد پھر گویا ہوا ’’ مانا کہ ایک کتا اس کا ذمہ دار ہے لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک کتے کی سزا پوری کتا ذات کو دی جائے۔‘‘ وہ رُندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا۔

مجھے کتے پر رحم آنے لگا۔۔ اس کی باتوں میں حقیقت تھی۔ لیکن مجھے انسانوں کی تکلیف مقدم تھی۔ میں نے کتے سے کہا ’’ اگر تم انسانوں کو کاٹنا چھوڑ دو تو حکومت فیصلہ واپس لے لے گی‘‘۔

میری بات سن کر کتے کی آّنکھوں میں آنسو آگئے۔۔ کہنے لگا ’’ پوری دنیا میں کتے ہیں، کیا کوئی ان کی پوری نسل کو ختم کرتا ہے۔۔۔ ہمیں تو بڑے لاڈ اور پیار سے رکھا جاتا ہے‘‘۔

یہ بات کرتے کرتے وہ ارتقائی تاریخ میں چلا گیا اور کہنے لگا ’’کتا وہ واحد جانور ہے جس نے انسان سے سب سے پہلے دوستی کی اور پھر ہر دور میں اس دوستی کو نبھایا۔ انسان کو اب تک ان گنت دشمنوں سے بچایا اور آج تم صدیوں پرانی دوستی پر خودکش حملہ کرنے جا رہے ہو، اور ہماری نسل کے خاتمے پر تلے ہوئے ہو۔ ہٹلرکی طرح تم بھی آج ایک ہولوکاسٹ کرنے جارہے ہو۔‘‘

میں نے کہا ’’ میں تمہارا دکھ سمجھ سکتا ہوں لیکن میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں، تمہارے پاس ہے، کہ اس کو کیسے روکا جائے‘‘۔

’’ ہاں حل ہے ۔۔۔۔‘‘ کتے نے کہا

’’ کیا ہے بتاؤ۔۔۔‘‘

’’ہر کتے کو مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو پاگل ہے اسے بیشک ماردیں۔۔۔۔ لیکن ایک اور راستہ بھی ہے جس سے ہماری موت رائگاں نہیں جائے گی۔۔ ایک شہید کی موت ہوگی اور آپ کو پیسے بھی ملیں گے۔ ۔ ۔‘‘‘ کتے نے کہا

میں نے حیرانی سے کہا ’’ وہ کیا۔ ۔ ۔ ۔!! ‘‘۔

’’ کتوں کو چین بھیج کر۔ ۔ ۔ ۔ اگر حکومت ان کتوں کو چین ایکسپورٹ کرے تو اس سے انسانوں کو پیسے بھی ملیں گے اور دوسرا خود ہم کو بھی جینے کا ایک مقصد مل جائے گا اور ہم انسان دوستی پر قربان ہو جائیں گے۔‘‘۔

میں یہ باتیں سن کر چپ ہوگیا اور اسے تکنے لگا۔

وہ مجھے چپ دیکھ کر پھر کہنے لگا ’’ تم ہماری آواز بنو گے۔۔۔ ہمارا مقدمہ لڑوگے۔۔ ہمیں بے موت مرنے سے بچاؤ گے۔۔ !!!‘‘

ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے رہے ۔۔۔ وہ پھر گویا ہوا ’’ ایک تم ہی ہو جو ہماری آواز بن سکتے ہو ۔۔‘‘۔

میں نے کہا ’’ ٹھیک ہے، میں کوشش کرونگا‘‘۔

میرے حامی بھرنے پر اس کی آنکھوں میں ایک چمک آگئی جیسے اس نے منزل کو پالیا ہو۔۔۔ وہ آہستہ میرے قریب آیا اور میرے ہاتھ میں ایک لفافہ تھما کر آناً فاناً اندھیرے میں غائب ہوگیا۔۔۔

کتے کے جانے کے بعد میں یہ سوچتا ہوا گھر کی طرف بڑھنے لگا کہ آخر میں کتوں کی نسل کو بچانے کے لئے کر ہی کیا سکتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *