کیا سندھ کے لوگ سست، کاہل اور کام چور ہیں؟

جمیل خان

میں نے حیدرآباد شہر میں آنکھ کھولی، بچپن اسی شہر کی گلیوں اور محلوں میں گزرا، جس روز اسکول سے جلدی چھٹی ہوجاتی، سائیکل پر دریائے سندھ کے کنارے بندھ پر بیٹھ کر دریا کی موجوں پر بھینسوں کو تیرتے اور ان بھینسوں کی سینگھوں پر بیٹھے سپید بگلوں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا بہترین مشغلہ ہوتا تھا۔ پھر لڑکپن کا کچھ حصہ سادات کالونی (ڈرگ کالونی) اور کچھ صدیق گوٹھ ملیر کے قریب ایک ٹاؤن میں گزرا۔میں نے حیدرآباد میں بھی، اور یہاں ملیر میں بھی اس منظر کو محسوس کیا ہے کہ صدیوں سے آباد لوگ اپنی ہی دھرتی پر اجنبی اجنبی سے بن گئے ہیں، اپنے گوٹھ میں محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔

دراصل 47 کے بھونچال نے سب تتر بتر کرکے رکھ دیا تھا۔ وہ جن زمینوں پر مزدوری کیا کرتے تھے، ان زمینوں کے مالکان کو بالجبر نکال دیا گیا، جنہوں نے سندھو کو چھوڑنے کا کبھی سپنے میں بھی تصور نہ کیا ہوگا۔ وہ چلے گئے، ان کے بدلے وہی زمینیں، پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ اللہ پر یقین رکھنے والوں کو الاٹ کردی گئیں۔ زیادہ تر افراد ایسے تھے، جنہوں نے جعلی کلیم داخل کرکے وہ زمینیں حاصل کی تھیں، جو واقعی صاحب جائیداد تھے، اور حویلیوں کے مالک تھے، وہ یہاں چٹائی کی جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہوئے، جبکہ اکثریت حرامخور، دیّوث، پیداگیر، رسّہ گیر، بدمعاش، لٹیرے، ٹھگ اور پرلے درجے کی کمینی تھی، اس نے یہاں مالِ غنیمت کی لوٹ مار کے باعث طبقۂ اولیٰ میں جگہ بنالی۔

ملیر کے جس ٹاؤن میں ہمارا گھر تھا، اس میں کئی کنویں بھی تھے، جو اس قدر گہرے تھے کہ ان میں دیکھنے سے دماغ چکرا جاتا تھا۔ ان کنوؤں کی دیواروں پر سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ تہہ میں اترنے والا بندہ مکھی کے برابر دکھائی پڑتا تھا، اندر کبھی ہیوی موٹر نصب ہوگی، ایک کنواں تو ایسا تھا، جس پر ٹیوب ویل لگا ہوا تھا، جسے زنگ لگ چکا تھا۔ غیر ہموار زمین پر جا بجا کھجور کے درخت ایستادہ تھے۔ ہم جب وہاں منتقل ہوئے تو چند مکانات بن گئے تھے، نقشے کے مطابق گلیوں کے لیے نشانات لگادیے گئے تھے۔

گوٹھ کے لوگوں کی اکثریت صرف کھیتوں پر مزدوری کرنا جانتی تھی، چنانچہ غربت نے ان کے جسم سے خون نچوڑ لیا، کبھی جو اُن کے سرخ و سفید چہرے ہوتے ہوں گے جل کر سانولے پڑ گئے۔ ان کی اپنی دھرتی پر اجنبی زبان بولی جارہی تھی۔

اس کے باوجود صدیق گوٹھ میں ماسٹر خدابخش میموریل لائبریری موجود تھی۔ جبکہ اردو کمیونٹی کے متوسط اور گوٹھ کی بہ نسبت خوشحال آبادیوں نے زیاں الحق کا اس لام قبول کرلیا تھا۔ ان کی ٹاؤنز میں قرآن خوانیوں کا چلن تھا۔

پچھلے ہفتے عارف اجاکیا صاحب کا ایک وی لاگ دیکھنے کا موقع ملا، مجھے ان کی کبھی کسی بات سے اختلاف نہیں ہوا، یہاں تک کہ وہ اکثر الطاف حسین کی شان میں بھی کچھ لکھتے تھے تو میں نظرانداز کردیا کرتا تھا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنی سیاسی وابستگی کا اظہار کریں۔ لیکن جب میں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اردو کمیونٹی کے خون میں یہ جرثومہ گردش کررہا ہے کہ وہ مذہب پرستی سے اور اسٹیبلشمنٹ کی چمچہ گیری سے باز نہیں آئیں گے، تو انہوں نے مجھے بلاک کردیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ وی لاگ میں وہ خود اس بات کا اعتراف اس طرح کررہے ہیں، دہلی کے اس علاقے میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے، وہاں انہوں نے ایک ہوٹل پر گائے کے گوشت کی نہاری فروخت ہوتے دیکھی تو ہوٹل کے مالک سے پوچھا کہ بھائی تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ تو اس نے سینہ چوڑا کرکے کہا کہ کسی کی مجال ہے جو ہماری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ لے؟ …. یہ وہی کیڑا ہے، جس کی ہم اکثرنشاندہی کرتے رہتے ہیں۔

گجرات کے مسلمانوں کے بارے میں ایک دوست نے حقائق بیان کیے، جن کی رشتہ داریاں گجرات ہندوستان میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات کے مسلمان ایک نمبر کے حرامی اور بدمعاش ہیں، ہمیشہ یہی ہندوؤں کو مشتعل کرتے تھے۔ اقلیت میں ہونے کے باوجود اپنی ٹانگ ہمیشہ اوپر رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ہم نے ان کی اس بات کی تائید کی، کہ ہم ملیر میں گجرات سے آکر یہاں مقیم ہونے والے مسلمان ہنسوڈیوں کی غنڈہ گردی کو اچھی طرح بھگت چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پی پی کے ایم این ا ے عبداللہ مراد کو بھی کسی ہنسوڈی نے ہی قتل کیا تھا۔

میں نے 80 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ماسٹر خدابخش میموریل لائبریری سے خوب استفادہ کیا۔ مجھے ایسی لائبریری نہ تو سادات کالونی، ڈرگ کالونی، شاہ فیصل کالونی میں ملی نہ ہی پورے ملیر کی تمام اردو آبادیوں میںٕ…. چونکہ ان کی اکثریت کے پُرکھے گھٹیا اور نیچ رہے ہوں گے، چنانچہ ان میں، میں نے علم و فکر کی ایک ہلکی سی جھلک بھی نہیں پائی۔
اردو کمیونٹی کے بارے میں جو کچھ میں نے گزشتہ پیراگرافوں میں بیان کیا، اس پر مجھے یقین ہے کہ بہت اچھل کود ہونی ہے، ہوا کرے…. مجھے پروا نہیں، وہ تو میرے والدین اور نانا دادا کے مشاہدات

تھے، لیکن میرا اپنا مشاہدہ 80 اور 90 کی دہائی کا ہے، اس وقت جو لوگ حرامزادے تھے، آج فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کی میئری کے فیض سے صاحبزادے بن چکے ہیں۔قاتل، ڈاکو، لٹیرے اسمبلیوں میں پہنچ گئے ہیں، یہ اپنے ہی لوگوں کو لوٹتے، دھمکاتے، انہیں محصور کر دیتے یا پھر ان کی وجہ سے رینجرز کے ہاتھوں ہم اپنے گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہوجاتے تھے۔

یہ تمہید ابھی جاری ہے، اس سے وہ پس منظر واضح کرنا مقصود ہے، جس نے سندھ کے مقامی لوگوں کی نفسیات، معاشرت، معیشت اور ثقافت پر نہایت گہرے، انمٹ اور بدنما نقوش مرتب کیے۔شمالی ہندوستان سے نقل مکانی کرکے سندھ میں آباد ہونے والے گروہ کے انتہائی بدترین حصے نے معاشی لوٹ کھسوٹ میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا۔
عجیب بات یہ ہے کہ سندھ میں آباد ہونے والے غیرسندھیوں میں اکثریت راجستھان کے راجپوتوں، خانوں، قائم خانیوں اور ہریانویوں، گجراتیوں کی تھی، جو قدرتی طور پر سندھ سے زیادہ قریب ہیں،

لیکن یوپی سی پی کے لوگوں نے نہایت پُرفریب طریقے سے انہیں بھی اپنا حصہ بنالیا، اور انہیں مقامی آبادی میں مدغم ہونے نہ دیا۔

میرے بہت سے عزیز رشتہ دار پنجاب میں ابتداء سے مقیم ہیں، انہوں نے شمالی ہندوستان سے نقل مکانی کے بعد پنجاب کے شہروں کو اپنا مسکن بنایا، ایک گھرانہ پشاور میں بھی ہے۔ ان سب کی بول چال، رہن سہن، زبان غرضیکہ سب کا سب پنجابی ہوچکا ہے۔ پشاور کے گھرانے کے لوگ روانی سے پشتو بولتے ہیں۔ لاہور مغلپورہ کے قریب ایک عزیز کی اہلیہ کا چند برس قبل انتقال ہوا تھا، وہ ان کے گھرانے کی آخری فرد تھیں، جو خالص دہلوی زبان میں بات کرتی تھیں، لیکن مذکورہ عزیز اور ان کی اولادیں، ان کے بھائی، بھابھیاں، بہن بہنوئی، بھتیجے بھتیجیاں، بھانجے بھانجیاں، گھروں میں پنجابی لہجے میں اردو بولتے ہیں، لیکن گھر سے باہر اردو کے بجائے روانی کے ساتھ پنجابی زبان میں ہی بات چیت کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ٹیلی فون نمبرز بتاتے ہوئے بھی چھونجا56، اٹھونجا58، ویھ…. جیسے خالص پنجابی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔بات بات پر ‘‘ہانجی’’ (ہاں جی ) ضرور کہتے ہیں۔

لیکن سندھ میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟

اس کی کئی وجوہات و اسباب بیان کیے جاتے ہیں، تاویلات گھڑی جاتی ہیں۔ لیکن سچ صرف ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ سندھ مقبوضہ خطہ ہے۔ بلوچستان پر پاکستان نے قبضہ کیا، لیکن سندھ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس نے انگریزوں کی غلامی کا طوق جب اُتارا جارہا تھا تو اس وقت خود اپنی گردن پاکستان کے طوق میں ڈال دی تھی۔

یہ غلطی جی ایم سید نے کی تھی، اور انہیں اس بات کا احساس بھی ہوگیا تھا۔ بھٹو نے سندھ کے لوگوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ بھی سندھ کو خودمختاری نہ دلواسکے۔ میں ان کی اس کوشش سے شدید اختلاف رکھتا ہوں۔ میرے نزدیک 73 کا آئین انسانی قدروں کے سخت خلاف ہے۔ یہ ایک قوم کی برتری جسے بنگالیوں نے مسترد کردیا تھا، کی توثیق کرتا ہے۔ پاکستان کسی قوم کا نام نہیں ہے، یہ ریاست کا نام ہے، جبکہ مذہب قوم کو تشکیل نہیں دیتا، ایک قوم میں کئی مذاہب و عقائد کے ماننے والے ہوسکتے ہیں۔

چنانچہ 73 کے آئین کے بعد بھی اور اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی سندھ مقبوضہ ہے، بلوچستان کی طرح۔اسی لیے تو دیکھیے کہ ان دونوں خطوں سے تعلیم یافتہ نوجوانوں، اساتذہ، سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ان میں سے بہت سوں کی مسخ شدہ لاشیں بھی مل چکی ہیں، جبکہ اکثریت کے بارے میں آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ جبکہ دو سال قبل پنجاب سے چند بلاگرز اُٹھائے گئے، وہ ناصرف زندہ ہیں، بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں الباکستان کے شر سے بھی محفوظ ہوچکے ہیں۔

دنیا میں کون سا ملک ہے جہاں ڈرائی پورٹ ہوتی ہیں؟ فیصل آباد اور سیالکوٹ میں ڈرائی پورٹ ہیں، کنیٹینرز کراچی پورٹ پر اُتارے جاتے ہیں، لیکن ڈیوٹی کی ادائیگی پنجاب میں کی جاتی ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ سندھ کا نام جب بھی آتا ہے، اس کے ساتھ پسماندہ اور جاہل کا لاحقہ لگانا فرض سمجھا جاتا ہے۔لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سندھ کا ڈومیسائل، چاہے کوئی پنجابی ہو، پشتون ہو یا افغان پشتون ہو، حاصل کرنے کے لیے پانچ سے دس ہزار تک خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ کراچی میں تو کئی ڈپٹی کمشنر محض اس ڈومیسائل کی آمدنی سے ہی ارب پتی بن چکے ہیں، لیکن کشمور، گھوٹکی، لاڑکانہ، میرپورخاص، سانگھڑ، شکارپور، روہڑی، سکھر، بدین یہاں تک کہ جیکب آباد کے ڈومیسائل بھی پنجابی، پشتون اور افغان افراد خرید رہے ہیں۔

کیوں؟ آخر ایسا کیوں ؟ سندھ تو جاہل ہے، پسماندہ ہے؟

دراصل الباکستانی ریاست سندھ کو ایک مقبوضہ علاقہ خیال کرتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایم آر ڈی کی تحریک آج بھی کسی بھیانک خواب کی مانند یاد ہے۔ چنانچہ سندھ کا مزاج یکسر تبدیل کردیا گیا ہے۔ یعنی سندھ کا فکری بلاتکار کیا گیا۔

سندھ میں ہندو اقلیت میں ہونے کے باجود مالی طور پر خاصے مستحکم ہیں، کاروبار اور تجارت پر پے درپے ستم کے باوجود ان کی گرفت مضبوط ہے۔ پنجاب میں غیرمسلم اقلیت کا حال ایسا نہیں ہے، اس لیے کہ پنجاب کے مسلمانوں نے 45 فیصد غیرمسلموں کو تو 47ء میں ہی مار مار کر نکال دیا تھا، باقی رہ گئے مسیحی، تو انہیں وہاں چوڑا پکارا جاتا ہے۔

سندھ میں ایسا نہیں ہوا تھا، سندھ کے مسلمانوں نے ہندوؤں کو نکلنے پر مجبور نہیں کیا تھا، یہ حرامزادگی تھی نوابزادہ لیاقت علی خان کی، جسے میرے نانا حرامزادہ لیاقت علی خان کہا کرتے تھے۔سندھ کے ہندوؤں کو زیاں الحق (ضیا الحق )کے دور سے مسلسل دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ سندھ میں عدم برداشت کو فروغ دینے، رواداری اور اعلیٰ ظرفی کی روایت کے خاتمے کے لیے پنجاب سے آبادگاروں کو لاکر بسایا گیا۔ جرنیلوں کو زمینیں الاٹ کی گئیں۔ مدرسوں کی خود رَو کاشت کی گئی، ان میں افغان پشتونوں کو ٹھونسا گیا۔یہ سب قبضہ قائم رکھنے کی چالیں تھیں۔
سندھ جو کبھی یہ نعرہ لگاتا تھا….
تیرے سارے ملّاں، میرا ایک سچل

سندھ میں ملاں کی کسی طرح کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہاں کا پیش امام بھی شاہ کا کلام سن کر رقص کرنے لگتا تھا۔ آج سندھ کا یہ حال ہے کہ رواداری کی بات کرنے کے لیے کوئی ترقی پسند دانشمند چہرہ نہیں بلکہ اس بدبودار مولوی کا چہرہ سامنے آیا ہے، جس خبیث مولوی نے جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے بل کی شدید مخالفت کی تھی۔جی ہاں میں بات کر رہا ہوں مولوی خالد محمود کی۔

الباکستان میں مزاحمتی تحریکوں کا جڑ سے ہی خاتمہ کرنے کے لیے ابتداء سے مولویوں کو آگے کیا گیا، عام لوگوں کو محسوس ہوا کہ یہ لوگ ان کی ترجمانی کر رہے ہیں، جبکہ یہ تو کٹھ پتلی تھے، بلکہ پالتو کتے، یا شاید سؤر۔عام لوگ ان کے پیچھے چلتے رہے اور پستی میں گرتے رہے۔انٹرنیٹ کی وسعت سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کی وجہ سے معاشرے میں جدید طرززندگی کا معمولی سا رجحان جو پیدا ہونے لگا تھا، اس کو پی ٹی آئی کے پلے بوائے کے ذریعے اُچک لیا گیا۔ اب پلے بوائے عرف طالبان خان کی مسخرانہ پالیسیوں سے عوام کے اندر جو غصہ پیدا ہوا ہے، اس کو ٹھنڈا بھی ایک مولوی کے ذریعے کیا جارہا ہے۔

آپ سندھ کے قوم پرست ہوں، ترقی پسند ہوں، سُرخے ہوں، مارکسسٹ ہوں، یا لبرلز ہوں، خدارا آپ کو سندھ دھرتی کا واسطہ، شاہ سائیں کا واسطہ، شیخ ایاز کا واسطہ اپنی اپنی وابستگیوں سے بلند ہو کر حالات کا وسیع النظری کے ساتھ جائزہ لیجیے۔

سندھ میں غربت، جہالت اور پسماندگی ہے تو پھر یہ پنجاب کے لوگ کیوں یہاں کے شہروں کے ڈومیسائل بنوانے کے لیے مرے جارہے ہیں، کیوں افغانیوں نے سندھ کو اپنا مسکن بنالیا ہے؟ کیا آپ نے ہمیشہ غلام ہی رہنا ہے؟ کیا آپ کے لیے محض اجرک اورسندھی ٹوپی پر ہی فخر کرنا کافی ہے؟ سرکاری نوکری کے لیے پانچ سے دس لاکھ رشوت دے کر پھر اس عہدے پر براجمان ہوکر کروڑوں کمانے کی خواہش کیا سندھ سے غداری نہیں؟

میرا ایک نوجوان دوست ارشد علی ٹالپر بھی ہے، آپ اس کی مثال کیوں نہیں اپناتے؟وہ خلیج کی ریاست میں بہترین معاوضے پر کام کر رہا تھا، اس کو سب یہ کہہ کر چھیڑتے تھے کہ تُو سندھی نہیں ہے…. سندھی مر جائے گا، کسی کی چاکری نہیں کرے گا۔

چھیڑنے والوں کے سامنے ایسے سندھیوں کی مثالیں تھیں، جو 47ء میں سندھ سے ہندوستان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ہندوستان اور خلیج کی ریاستوں میں ان کے بڑے بڑے کاروبار ہیں۔
ارشد نے ملازمت سے استعفیٰ دیا اور کراچی آگیا۔ اب وہ اپنا بزنس کر رہا ہے۔

آپ دن رات سندھی ہونے پر فخر کرتے رہتے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ آپ خود سندھیوں کے بارے میں نہیں جانتے…. مجھ سے کئی دوستوں نے شکایت کی کہ ہمارے سندھی بھائی سخت محنت کے کام نہیں کرنا چاہتے، میں نے ان سے عرض کی کہ ایسا نہیں ہے، کراچی میں سندھی ٹیکنیشن، مشینسٹ، مکینیکس، مستری، مزدور یہاں تک کہ موچی تک کا کام کررہے ہیں۔

میں اپنے لوگوں کی مثال دوں تو میرے خاندان کے بہت سے لوگ شکایت کیا کرتے تھے کہ کراچی میں ہر جگہ پشتون قبضہ کر رہے ہیں، تو میں ان سے کہا کرتا تھاکہ آپ نے جگہ خالی ہی کیوں چھوڑی؟ پشتون ایک دکان کھولتا ہے تو اپنے چار رشتہ داروں کو اس میں بٹھادیتا ہے۔

سندھ میں بہت سے لوگوں کے پاس کافی دولت ہے، سیاسی اور دیگر طرز کا اثر و رسوخ رکھنے والے دوست انہیں مجبور کریں کہ وہ یہ پیسہ کاروبار میں لگائیں، اپنوں کے لیے روزگار کے ذرائع خود پیدا کریں۔ جیسے کہ تھر کے بارے میں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہاں ٹرانسپورٹ کا کاروبار مکمل طور مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔

اور آخر میں سب سے اہم بات۔۔۔اسٹیبلشمنٹ کی پالتو جماعتوں کی جانب سے سندھ کے حوالے سے منفی بیانات کو بالکل بھی اہمیت نہ دیں۔ اس طرح کی باتوں کا مقصد آپ کی توجہ کو حقائق سے بھٹکانا ہے۔اپنا جائزہ لیجیے کہ آپ کے اندر مذہبی اور حب الوطنی کا کیڑا تو نہیں ہے، اس کے خاتمے کے لیے مطالعہ کیجیے اور مظاہرِ فطرت پر غور کیجیے۔

دنیا گلوبل ولیج تو کب کی بن چکی ہے، آپ کب تک دیہی تمدن کی لاش سے چمٹے رہیں گے….؟

ترقی یافتہ دنیا میں تو سرحدوں کا وجود ختم ہوچکا ہے،ہمارے اندر بھی جب گلوبل ولیج کا تصور پیدا ہوگا تو کراچی سے بلٹ ٹرین ممبئی تک مسافروں کو لے جایا کرے گی۔

2 Comments

  1. You are correct but question arises why before 1947 Hindus were ahead of Muslim sindhis , though muslim sindhis were in majority.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *