افغانستان ميں جنگ بندی پر زور، انتخابی نتائج کا اعلان ملتوی

يورپی يونين نے افغانستان ميں جنگ بندی پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ امريکا کے ساتھ مذاکرات کی معطلی متحارب فريقين کے ليے ايک موقع ہے۔ دريں اثناء افغان صدارتی اليکشن کے نتائج کا اعلان تکنيکی مسائل کی وجہ سے ملتوی کر ديا گيا۔

 مذاکرات کی معطلی، قيام امن کے ليے نئے سرے سے کوششيں شروع کرنے کا ايک موقع ہے۔ افغانستان کے ليے يورپی يونين کے سفير رولينڈ کوبيا نے کہا کہ يہ پيش رفت ايک طرح سے ايک موقع اس ليے ہے کہ اگر افغانستان ميں داخلی سطح پر جنگ بندی کی کوششيں شروع ہو جائيں تو امريکا کے صدر کو بھی اس سے يہ پيغام ملے گا کہ افغان فريق قيام امن کے ليے سنجيدہ ہيں اور ممکن ہے کہ طالبان کے امريکا کے ساتھ امن مذاکرات بھی بحال ہو جائيں۔

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ افغانستان ميں ايک امريکی فوجی کی ہلاکت کے بعد اچانک امن مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کر ديا تھا۔ چند برسوں سے جاری اور کئی ادوار پر مشتمل يہ امن مذاکرات کا عمل اپنے آخری مراحل ميں تھا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں طالبان اور امريکا کے وفود کئی ملاقاتيں کر چکے تھے اور جب کوئی ڈيل طے ہونے ہی کو تھی تو مذاکرات ختم ہو گئے۔

افغان دارالحکومت کابل ميں اتوار بيس اکتوبر کو صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے رولينڈ کوبيا نے کہا کہ يہ درست وقت ہے کہ تشدد ميں کمی سے آگے کا سوچا جائے اور باقاعدہ جنگ بندی کے راستے تلاش کيے جائيں۔ ايک سوال کے جواب ميں کوبيا نے کہا طالبان آئندہ چند ماہ ميں ہی کسی نہ کسی صورت ميں حکومت کا حصہ ہو سکتے ہيں۔ ايسے ميں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد سے ان کی ساکھ بہتر ہو گی، جو مستقبل ميں يورپی بلاک کے ساتھ بھی بہتر تعلقات استوار کرنے ميں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان افغانستان میں جاری جمہوری عمل کا حصہ بننے کی بجائے افغانستان میں شریعت پر مبنی حکومت بنانا چاہتے ہیں جسے وہ امارات اسلامی کے نام سے پکارتے ہیں ۔افغان حکومت نے بھی کسی ایسے امن معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا جس میں طالبان ، اپنی حکومت کے لیے امارات اسلامی کا لفظ استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ مذاکرا ت طالبان اور امریکہ کے درمیان ہو رہے تھے جس کے مطابق امریکہ نے افغانستان سے بتدریج اپنی فوجیں نکالنا تھیں جبکہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کرنا تھا۔ اور اس کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہونے تھے۔ مگر مذاکرات کے دوران ہی طالبان کے حملوں میں شدت پیدا ہوگئی اور جب تازہ حملے میں ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا تو امریکہ نے ان مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا

دريں اثناء افغانستان ميں گزشتہ ماہ کے اواخر ميں منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ملتوی کر ديا گيا ہے۔ اٹھائيس ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کا اعلان ہفتے کو متوقع تھا تاہم اليکشن کميشن نے تکنيکی وجوہات کی بناء پر نتائج کا اعلان ملتوی کر ديا ہے۔

افغانستان ميں يورپی وفد کے سربراہ پيئرے مايادون کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے عمل کو درست طريقے سے مکمل کرنے کے ليے چند دن کی تاخير جائز ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کيا کہ تاخير چند دن ہی کی ہونی چاہيے نہ کہ چند ہفتوں کی تاکہ لوگ يہ نہ سمجھ بيٹھيں کہ دال ميں کچھ کالا ہے۔

ابتدائی غير حتمی انتخابی نتائج کے اعلان ميں تاخير کا اعلان افغانستان کے آزاد اليکشن کميشن کی خاتون سربراہ اوا عالم نورستانی نے ہفتے کی شب کيا۔ انہوں نے اس پر معذرت بھی کی تاہم يہ نہيں بتايا کہ اب ابتدائی نتائج کا اعلان کب تک متوقع ہے۔ اليکشن کميشن کے ابتدائی شيڈول کے مطابق حتمی نتائج کا اعلان سات نومبر کو متوقع ہے۔

DW/Web news

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *