ناروے میں قرآن جلانے کا واقعہ

خالد تھتھال

ناروے کے ایک شہر کرستیان سن میں قرآن جلانے کی کوشش کی گئی جس پر ایک مسلمان آبادکار نے جلانے والے پر حملہ کر دیا۔ پولیس نے مداخلت کی اور قرآن جلانے والے اور حملہ کرنے والے مسلمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

جونہی یہ خبر پاکستان پہنچی تو وزیر اعظم سمیت ہر سطح پر احتجاج ہوا۔ پاکستان میں ناروے کے سفیر کو طلب کر کے مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا گیا۔ ناروے کی پاکستان میں ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی تھیلے نور کے سم کارڈ توڑنے کی ویڈوز بھی سامنے آئیں۔ حملہ کرنے والے مسلمان کو اُمّت مسلمہ کے ایک ہیرو کی طرح پیش کیا گیا۔ فیس بک پر اکثر لوگوں نے اُس مسلمان مرد کی تصویر کو ڈی پی کے طور پر استعمال کر نا شروع کر دیا۔

کرستیان سن کی پولیس ڈائریکٹر بینی دکتے بیونن لاند نے فلٹر نیوز کو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے ” قرآن کی بے حرمتی“ کو روکنے کے لیے احکامات اُس دن سے ایک دن پہلے جاری کیے تھے۔ جب اسلام مخالف تنظیم (سیان) نے مظاہرہ کیا تھا ، اور انہوں نے پیشگی اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام کی مقدس کتاب کی ایک کاپی کو جلائیں گے۔

پاکستان میں پولیس افسر کے اس بیان پر بہت زیادہ خوشی منائی گئی ، اور اسے مسلمانوں کی فتح کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے جو بات قابل توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ ناروے کے لیے قرآن کو جلانے کی کوشش کوئی خبر نہیں تھی ، لہذا وہاں کے اخبارات میں اس واقعے کا ذکر مجھے نظر نہیں آ سکا۔

قرآن کو جلائے جانے کے واقعے کی بجائے مقامی پولیس کے ایکشن اور پولیس افسر خاتون کو ناروے میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور اس سے ناروے میں ایک بحث کو جنم لے رہی ہے۔ اس بحث کے سلسلے میں آفتن پوستن نامی اخبار میں کاتھرینے نورلی نامی ایک فلسفی کا مضمون شائع ہوا ہے۔ جہاں کاتھرینے نے چند سوالات اٹھائے ہیں، جو حسب ذیل ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ ناروے میں توہین مذہب پر اب کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ کیا ایک پولیس افسر اپنے طور پر توہین مذہب کے قانون کو لاگو کرنے کا مجاز ہے؟

ناروے میں 2015 میں توہین مذہب کا قانون ختم کر دیا گیا ہے۔جس کے خاتمے کے لیے ایک طویل جدوجہد ہوئی ۔ کہ اب مذہبی اور کلیسائی حکام کو مذہب اور مذہبی مواد پر تنقید کو قبول کرنا چاہئے۔ یوں اس قانوں کا خاتمہ ایک تاریخی پیش رفت تھی۔

واضح الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ پولیس افسر کا اُس دن کا رویہ اور بیان روشن خیالی کے دورکو واپس دھکیلنے کی ایک کوشش ہے۔ اور اس کا سیکولر معاشرے کے وجود پر بہت اثر پڑے گا، جو ہر کسی کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔

آج کے ناروے میں نہ تو خداؤں اور مذاہب کو کوئی قانونی تحفظ حاصل ہے، اور نہ ہی مذہبی نصوص اور کتابوں کو۔ ناروے کے قوانین اس بارے میں خاموش ہیں کہ آپ کسی قسم سطح پر تنقید کر سکتے ہیں اور کس قسم کی تنقید قابل قبول نہیں ہے، یا کس قسم کی تنقید نہیں کی جانی چاہیئے۔ چنانچہ مذہب پر تنقید کے حوالے سے آپ آزاد ہیں ۔ گو ذاتی طور میں مذہب پر تنقید کرنے کی لیے ماچس کی بجائے زبان کےاستعمال کو ترجیح دیتا ہوں۔

کسی کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے کئی مسلمہ یا قبول شدہ طریقےموجود ہیں۔ کسی بھی قوم یا ملک سے نفرت کے اظہار کے لیے اُن کا جھنڈا جلایا جاتا ہے۔ کسی ثقافتی رسم یا رواج کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے کسی خاص لباس کو جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی مذہب کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے اُن کی مذہبی کتاب جلائی جا سکتی ہے۔

مذہب پر تنقید کے حوالے سے ایک فرق کو جاننا بہت ضرور ہے کہ کسی بھی مذہب پر کوئی جیسے تنقید کرنا چاہے، وہ اس میں آزاد ہے۔ لیکن کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔ قانون ملک میں موجود ہر کسی کو قانونی تحفظ دینے کا پابند ہے۔

جب مقننہ توہین مذہب کے قانون کا خاتمہ کر دیتی ہے، لیکن کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے خلاف نفرت کو ممنوع قرار دیتی ہے ۔ تو یہ بالکل واضح ہے کہ مقننہ مذہب پر تنقید اور مذہب کے ماننے والوں پر تنقید کے فرق کو بخوبی جانتی ہے۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے خلاف نفرت پھیلائے بغیر اُن کے مذہبی عقائد اور مذہب پر تنقید کی جا سکتی ہے۔

یُون ویسل اوس اور آنینے کیئرولف جیسے آزادی رائے کے معروف ماہرین پہلے ہی زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ قرآن کو جلانا ہیٹ سپیچ کے زمرے میں نہیں، بلکہ یہ واضح طور پر توہین مذہب ہے۔ یہ کسی شخص پر نہیں بلکہ ایک مذہب پر حملہ ہے۔

پولیس چیف کے حکم کےبقول وہ مذہبی سمبل کو جلانے سے روکنا چاہتی ہیں۔ کیونکہ ایسا نہ کرنے سےیہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات ہونے کےنتیجے میں اُس مذہب کے ماننے والوں کو بعد میں دھمکیوں، نفرت، طنز و تضحیک کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جو پینل کوڈ کی شق 185 کے خلاف ہے۔ اور اس بات کو ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

ایک فلسفی ہونے کے ناطے میں یہ جاننا چاہتا ہوں ، کہ آپ کیسے جان سکتی ہیں کہ ایک چیز لامحالہ طور پر دوسری چیز کی طرف لے جاتی ہے ؟۔ کیا آپ پہلے سے جانتی ہیں کہ اس کے نتیجے میں ایسا ہو گا ؟۔ کون ہے جو اسے پہلے سے جاننے کی اہلیت رکھتا ہو، کہ فلاں کا م کا نتیجہ یہ ہو گا؟۔

پولیس افسر کے دعوے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اندازوں پر مبنی ، معروضیت سے دور اور اتنا مبہم ہے کہ اسے کسی بھی چیز کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس کے متعلق پیشگی کہا جا سکتا ہے کہ پولیس افسر کے عمل کو ناروے کے قانون کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہے۔جس طرح کی تفہیم پولیس افسر نے کہ ہے اس سے پولیس اصولی طور پر کافی چیزوں کی ممانعت کر سکتی ہے۔ اور ہم ایسا نہیں چاہتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تین مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کی اس تناظر میں نشاندہی ضروری ہے۔

اول: اس سے پولیس کو بہت زیادہ اختیارت مل جائیں گے، جس سے انہیں سیاست میں مداخلت کے لئے آزادانہ اختیارات ملیں گے۔ پولیس کسی بھی بہانے سے آزادی رائے پر قدغن لگانے کی اہل ہو جائے گی۔
دوم: اس سے انصاف کے تصور کو ٹھیس پہنچے گی۔ یہ تصور کرنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ اس طرز عمل سے طویل عرصے تک اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے رہیں گے کہ آپ نے فلاں مذہب پر تنقید کو روکا لیکن دوسرےمذہب کی تنقید کو نہیں روکا۔

اس قسم کے خدشات کا پہلے سے ہی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسلام کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔ ایسے خدشات میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مساوات کے اصول ایک بنیادی اخلاقی اصول ہے، اس سے شعوری طور پر پیچھے کی طرف قدم اٹھانے کا شبہ بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

سوم: یہ طرز عمل تشدد کو اظہار رائے کے کا سامنا کرنے کی دعوت کا کام دے گا۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اشتعال انگیز اور گستاخانہ بیانات کو پہلے سے ہی وسیع پیمانے پر اس طرح کی انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہے ۔ اگر ہم ان مسائل سے نمٹنے کی بجائے اس قسم کی پا پندیاں لگانا زیادہ آسان سمجھ رہے ہیں تو پھر ہم کہاں ہیں اور ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟

میں اس رویئے کے متعلق یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ آگ سے کھیلنے کا عمل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *