جب لال لال  پرچم  لہرائے گا

غلام رسول

فیض فیسٹیول 2019 کافی ہنگامہ خیزیوں کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ اس تین روزہ فیسٹیول میں مختلف موضوعات پر گفتگو کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ یہ فیسٹیول فیض فاونڈیشن جو کہ فیض صاحب کی فیملی کا قائم کردہ ہے کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فروری میں فیض امن میلے کا انعقاد بھی ہوتا ہے جس کے روح رواں لیبر پارٹی کے رہنما فاروق طارق ہیں۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ فیض صاحب کی فیملی کا تعلق اشرافیہ سےہے۔ اور فیض صاحب کے چاہنے والے بڑی بڑی کارپوریشنوں اور بینکوں کے سربراہ ہیں۔ لہذا فیض فاؤنڈیشن ان کاروباری اداروں سے سپانسر شپ لے کر تین روزہ فیسٹیول کا انعقاد کر تی ہے ۔ جبکہ فاروق طارق ماڑے بندے ہیں وہ بھی ایک روزہ عوامی میلے کے لیے، جس کا خرچ کئی لاکھ روپے ہوتا ہے، بڑی منت ترلے کرکے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں اور یہ فنڈز بھی زیادہ تر مختلف این جی اوز کی طرف سے دیئے جاتے ہیں ۔عوامی میلے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں کچھ مزدور تنظیمیں بھی اپنے لال لال جھنڈے لہراتی ہوئی شرکت کرتی ہیں۔ فیض فاؤنڈیشن ہو یا فاروق طارق ایک بنیاد پرست سماج میں روشن خیال لوگوں کو اکٹھا کرنے کا بندوبست کر ہی لیتے ہیں۔ 

پچھلے سال بھی فیض فیسٹیول پر اس وقت اعتراضات ہوئے تھے جب منتظمین نے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیض الحسن چوہان کو کسی ایک سیشن میں بطور مہمان بلا لیا تھا۔اس دفعہ بھی کچھ اعتراضات اٹھے۔ لیکن اس بار ایک نوجوان لڑکی عروج اورنگزیب کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر کافی ہلچل مچائی ہے۔

ویسے تو ان میلوں میں نوجوان طالب علم ہمیشہ ہی پرجوش نعرے لگاتے ہیں گیت بھی گاتے ہیں لیکن ایک نوجوان لڑکی کی طرف سے بڑھ چڑھ کر نعرے لگانا ہمارےمعاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا۔ مذہبی عناصر تو اعتراض کرتے ہی ہیں لیکن کچھ انقلابیوں کو بھی اس نوجوان لڑکی کی جرات پسند نہیں آئی ۔اور اس پر این جی او طبقے سے تعلق رکھنے یعنی فارن فنڈنگ کا الزام لگایا ۔ کچھ سابقہ انقلابیوں کو اس نعرے بازی میں نیو لبرل ازم کے خلاف جدوجہد بھی نظر آگئی۔

ویسے تو لال بینڈ بھی پچھلے کچھ سالوں سے لال پرچم لہرا رہا ہے لیکن اس فیسٹول میں شاید انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا تھا۔ لال بینڈ والے بھی سوچتے ہوں گے کہ اسی تے نچدے ہی رہے لیکن ترکھاناں دی کڑی بازی لے گئی۔

پچھلے کچھ سالوں سے پورے ملک میں ادبی میلوں کا انعقاد کامیابی سے ہورہا ہے جہاں مختلف موضوعات پر لکھاری، شاعر اور فنکار گفتگو کرتے ہیں ۔فیض فیسٹیول کا انعقاد بھی اسی طرز پر ہوتا ہے جہاں فیض احمد فیض کے حوالے سے بھی گفتگو  ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ  فیض صاحب نے اپنی شاعری میں پسماندہ طبقات ، ریاستی ظلم و ستم اور سماجی ناانصافیوں کے شکار افتادگان خاک کی بات کی تھی۔

لیکن کیا ان ادبی میلوں خاص کر فیض فیسٹیول میں واقعی افتادگان خاک کو درپیش مسائل پر کوئی گفتگو ہوتی ہے؟ ریاست پاکستان کو فوجی محکمے نے یرغمال بنا رکھا ہے کیا اس پر کوئی بات ہوئی ؟ کیا کسی نے بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم پر بات کی؟ کیا مسنگ پرسن کے کسی نمائندہ کو وہاں مدعو کیا گیا اور بتایا گیا کہ بلوچستان کے عوام کسی جہنم میں رہ رہے ہیں؟ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام پاکستانی ریاست کے سٹریٹیجک اثاثے کررہےہیں کیا اس پر کوئی بات ہوئی؟ کیا سندھ میں جبری اغوا اور ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے خلاف کوئی آواز اٹھی؟ کیا خیبر پختونخواہ میں ریاستی محکموں کی طرف سے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بات ہوئی؟ جنھیں اپنے ہی گھر جانے تک دس بار شناختی کارڈ دکھانا پڑتا ہے؟ جہاں سینکڑوں افراد بارودی سرنگوں کا نشانہ بن رہے ہیں یا ان مظالم کے خلاف کھڑے ہونے پر نامعلوم گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں؟

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی و سماجی کارکن خاتون جلیلہ حیدر نے اس فیسٹیول میں شرکت کی۔ حال ہی میں بی بی سی نے انھیں دنیا کی سو بااثر خواتین میں شامل کیا ہے ۔ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتی ہیں بلکہ احتجاج بھی کرتی ہیں وہ بین الاقوامی اداروں میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں لیکن کیا  فیض فیسٹیول کے منتظمین نے انہیں بلوچستان میں جاری ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر بات کرنے کی اجازت دی ؟ کیا انھوں نے بلوچستان یونیورسٹی میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد کی موجودگی پر احتجاج کیا؟ بلوچستان میں خواتین طالب علموں کے ساتھ ہونے والے حالیہ واقعے پر کوئی بات ہوئی؟

چونکہ لال پرچم لہرانے والے ملک کی تمام خرابیوں کی ذمہ داری غیر ملکی سامراجی اداروں پر ڈال دیتےہیں اور پاکستانی ریاست کے بالا دست طبقے مطمئن رہتے ہیں کہ ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہم نہیں غیر ملکی قوتیں ہیں ۔

ایک بنیاد پرست سماج میں اگر کچھ روشن خیال چند دن اکٹھے بیٹھ کر اپنی حماقتوں کو یاد کر لیتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔میری تو دعا ہے کہ انقلاب نہ ہی برپا ہو تو اچھا ہے وگرنہ انقلابیوں نے سب سے پہلے ان لال لال پرچم لہرانے والوں کی کی بولتی ہی بند کرنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *