فیض فیسٹیول ۔ ہاں زندگی کا یہ بھی ایک چہرہ ہے

فہد رضوان

حسب روایت فیض صاحب پر ڈھکے چھپے الفاظ میں، اور فیض صاحب کے خاندان پر تیروں کی بارش ہو رہی ہے۔ دوست آپ ٹکٹ خرید کر مائرہ خان کو نا سنتے، آپ مفت میں کامریڈ عمار رشید اور کامریڈ عمار علی جان کو سننے آ جاتے جنہوں نے پاکستان میں لیفٹ کے حوالے سے مستقبل کے لائحۂ عمل پر بہت اچھی بات کی۔ دونوں کو میں وکلا تحریک کے زمانے سے جانتا ہوں، گراونڈ پر کام کرنے والے شاندار سیاسی کارکن ہیں، اور دنیا کی اعلی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہیں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں۔

دوست آپ علی سیٹھی کو نا سنتے۔ اپ مفت میں وجیہہ نظامی کا ستار سننے آ جاتے، ستار کی دہن پر ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم اور امروز کا کلام سنتے۔ آپ ضیا محیی الدین صاحب کو ٹکٹ لے کر نا سنتے۔ اپ سموگ، ماحولیاتی آلودگی، وائلڈ لائف پر درپیش چیلنجز پر مجھے مفت میں سن لیتے۔تعجب کی بات ہے وہ دوست بھی، جو سرمایہ دارانہ نظام اور نیولبرل معیشت کے حامی ہیں، اس بات پر نوحہ خوانی کر رہے ہیں کہ فیض کو کارپوریٹ سیکٹر نے ہائی جیک کر لیا۔

بھائی ہم سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہیں۔ اس نظام کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ہر شےکے اندر سرمایہسرائیت کر جاتا ہے۔ کیا خدا ، رسول، علی، حسین، رام، بابا گرو نانک، عید، محرم، دیوالی، ہولی ، عاشورے، کرسمس، چودہ اگست، تئیس مارچ، یوم دفاع کے سیزن میں عقلمند لوگ سرمایہ کاری نہیں کرتے؟ کیا یہاں سیزننہیں لگتے؟ کیا آپ جب کوئی پروگرام کرتے ہیں، ایونٹ کرتے ہیں تو کیا سپانسر شپنہیں تلاش کرتے۔ ان کارپوریٹ اداروں کے لوگو اپنے بینرز نہیں چھپواتے؟ سرکار فنڈ کرے تو کہیں گے فیض صاحب سرکار نے، ریاست نے ہتھیا لیا، کارپوریٹ سیکٹر کرے تو کہیں گے کہ فیض کو کارپوریٹ سکیٹر نے ہتھیا لیا۔

ایک بات تسلیم کریں کہ ہم 2019کے اندر جس پاکستان میں رہتے ہیں کیا وہ سوویت پاکستان ہے؟ کیا یہ ایک کمیونسٹ ملک ہے؟ کیا یہ ایک سیکولر جمہوریت ہے، لبرل مملکت ہے؟ جہاں سکول میں ایک نارمل کنسرٹ ہونے کی بنا پر سکول بند ہو جاتے ہوں، جہاں ہر طرف خادم رضویوں، ضمیر اختر نقویوں، طارق جمیلیوں کے انبوہ ہوں۔ جہاں ممتاز قادری اور نیپال والے بابا جی کی حمایت کرنے والے لاکھوں نہیں ، کروڑوں کی تعداد میں ہوں۔ جہاں موسیقی، رقص، حسن سب حرام ہو، جہاں سرکاری سرپرستی میں سکولوں میں برقع تقسیم ہو رہے ہوں۔۔وہاں پاکستان بھر سے آئے چند ہزار زندگی سے پیار کرنے والے انسان اکٹھے ہو کر زندگیکا احساس کر لیں تو کیا جرم ہو گیا؟

باقی وہاں طلبا اپنے پمفلٹ تقسیم کرتے رہے، وہاں کمیونزم اور لیفٹ کے نعرے لگتے رہے، وہاں پر پاکستان میں سوشلزم کے حوالے سے گاہے بگاہے مختلف پروگرامز میں، موقع کی مناسبت سے بات ہوتی رہی۔ لیفٹ فیض امن میلہ کرواتا ہے، لیفٹ فیض گاتا ہے، فیض پاکستان میں ترقی پسندوں اور زندگیکی علامت ہے۔۔۔
آپ نعرے لگاتے رہیں اور غیر متعلقہ رہیں۔
آپ لبرلزم، فری مارکیٹ، سرمایہ داری کے حامی رہیں اور فیض فیسٹول پر سنگ باری کرتے رہیں۔۔

یا پھر اپنے ذاتی مفادات سائیڈ پر رکھ کر پاکستان میں پھیلی مذہبی، سماجی، ثقافتی رجعت پسندی کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ زندگی کا یہ رنگ ہمیں اپنے معاشرے، اپنے خاندانوں میں نظر آتا ہے؟ یہاں کس محفل میں، ٹی وی چینلز پر آرٹ، موسیقی، رقص، سوشلزم، جمہوریت، ماحولیات، تھیٹر ، شاعری پر بات ہوتی ہے۔ کس پبلک سپیس میں لڑکے، لڑکیاں ساتھ بیٹھ کر میوزک پلے کر سکتے، ناچ ، گا سکتے ہیں؟ فنکار اپنے فن کا اظہار کر سکتے ہیں؟

اب اگر یہ ایک ایونٹ ہوا ہے تو اسکے منتظمین کو سراھانا چاہئیے یا ان پر تبری پڑھنا چاہئیے؟ یا اوریائی سوچ کے برعکس سوچنے والوں کو بھی ایسے ایونٹ پلان کرنے چاہئیں جہاں نوجوان نسل کو دکھایا جا سکے کہ ہاں زندگی کا یہ بھی ایک چہرہ ہے۔

One Comment

  1. میں مضمون نگار سے واقف تو نیہں لیکن انکی رائے اور تحریر سے مکمل اتفاق کرتا ھوں
    اکرم قائم خانی
    صدر فیض کلچرل فاؤنڈیشن یوکے
    Kaimkhaniakram@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *