دنیا: گلوبل ویلیج سے گلوبل وارمنگ تک

محمد حسین ہنرمل

 جب سے دنیا عالمی گاؤں (گلوبل ویلیج) میں تبدیل ہوگئی ہے تب سے اس کے افق پر ماضی کے مقابلے میں حدت کے خطرات کہیں زیادہ منڈلانا شروع ہوئے ہیں ۔گلوبل وارمنگ کے مسئلے سے نمٹنا اس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کیلئے پچھلے چندسالوں سے عالمی سمیناروں میں معاہدے کیے جارہے ہیں۔

غور کیا جائے تو آج سے سو سال پہلے لوگ گلوبل وارمنگ اور نہ ہی گلوبل ویلیج جیسے اصطلاحات سے واقف تھے ۔گلوبل ویلیج کی اصطلاح سب سے پہلے کینیڈا کے ایک میڈیا تھیورسٹ مارشل میک لوہان نے 1962میں اپنی کتاب میں استعمال کی جبکہ گلوبل وارمنگ والی اصطلاح پہلے 1975میں کولمبیا یونیورسٹی کے ایک جیوکیمسٹ نے دنیا میں متعارف کروائی۔

دیکھا جائے تو بیسویں صدی کے ابتدائی بیس پچیس برسوں تک عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ محض ایک قیاس آرائی سمجھی جاتی تھی۔ بلکہ اسی دور میں کچھ سائنسدان ایسے بھی تھے جو حدت کو دنیا کیلئے نیک شگون تصور کرتے تھے۔ پچاس کی دہائی میں کچھ سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈکی مقدار بڑھتی جارہی ہے جو رواں صدی یعنی بیسویں صدی کے اختتام تک عالمی حدت میں غیر معمولی اضافہ کرسکتی ہے۔

بعد میں موسمیات کے سب سے بڑے محقق کار روگر ویولے نے اعلانیہ طور پر کہا کہ اکیسویں صدی میں گرین ہاوسز گیسوں کا اخراج عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کا موجب بنے گی جس سے انسانی آبادی ، سمندر، گلشیئرز اورحیوانات شدید متاثر ہونگے۔ تیل ،گیس، کوئلہ، گرین ہاوسز ، نت نئے ٹیکنالوجیزکا بے دریغ استعمال اور جنگلات کی بے رحم کٹائی گلوبل وارمنگ میں اضافے کاموجب بن رہاہے جو کہ سب دور حاضر کے سہولت پسند ، لالچی اور بے حس انسان کا کرتا دھرتا ہے۔

اپنی آسائش اور مفادات کیلئے انسان کے ہاتھوں بے دریغ احتراقی عمل کے نتیجے میں ٹنوں کے حساب سے کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں پھیل کر دنیا کی حدت میں اضافہ کر رہی ہے۔ حالانکہ یہی کاربن ڈائی آکسائڈاور دوسری گیسیں روز اول سے فضا میں موجود تھیں لیکن آج اس کا اخراج اتنی بڑی مقدار میں ہو رہا ہے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا ہے۔یعنی جوں جوں دنیا بے تحاشا صنعتی انقلابات اور ٹیکنالوجیز اس دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے توں توں ہمارے موسم بھی تغیرات سے دوچار ہورہے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت میں بنیادی طور پر جو چھ گیسیں اضافہ کررہی ہیں ان میں سب سے بڑاحصہ کاربن ڈائی اکسائیڈ کا ہے۔ جبکہ میتھین، نائٹڑس آکسائیڈ، ہائیڈرو فلورو کاربن اورسلفر اکسا فلورائیڈ باالترتیب دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہے۔کاربن ڈائی آکسائڈ ایک ایسا مرکب سالمہ ہے جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو عدد ایٹموں سے ملکر تشکیل پاتا ہے یوں یہ تین ایٹمی سالمہ سورج کی توانائی کوجذب کرکے اس کے اخراج کے نتیجے میں تپش میں اضافہ کرتاہے ۔کیمیادانوں کے ہاں یہ علامتی طور پر سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہَوا سے ڈیڑھ گنا وزنی یہ بے بُو اور بے رنگ گیس مختلف اشیاء کے جلنے کے علاوہ سانس لینے کے نتیجے میں پیداہوتی ہے۔

ایک سائنسی اندازے کے مطابق دنیا میں ہر انسان سانس کے ذریعے روزانہ لگ بھگ ایک کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جبکہ مجموعی طور پر دنیا کی کل آبادی سالانہ تین ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑتی ہے۔ انٹرنیشنل ایٹامک انرجی  نے اپنی 2016کی رپورٹ میں جن دس ملکوں کو فضا میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے ، ان ملکوں میں پہلے نمبر پر چین ہے جس نے 2016میں  9056.8میگاٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ خارج کی تھی جبکہ امریکہ،انڈیا ،روس ،جاپان، جرمنی، ساوتھ کوریا،ایران ، کینیڈا اور سعودی عربیہ کواس حساب سے باالترتیب دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، پانچویں ، چھٹے ، ساتویں ، آٹھویں ، نویں اور دسویں نمبر پر رکھاہے۔

چند سال پہلے ایک سائنسی تحقیق کے نتیجے میں یہ ہوش ربا انکشاف بھی سامنے آیا کہ سال 2012 میں عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج پینتیس اعشاریہ چھ ارب ٹن تھا جو کہ سال 2011 کے مقابلے میں دو اعشاریہ چھ فی صد زیادہ تھا۔ جب ان اعداد وشمار کا موازنہ 1990 میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی اکسائیڈ سے کیا گیاتو 2012 کی سطح 1990 کے مقابلے میں اٹھاون فی صد زیادہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا با الخصوص ترقی یافتہ ممالک زیادہ سے زیادہ معاشی ، دفاعی اور سائنسی ترقی کی دوڑ میں عالمی حدت میں اضافہ کرنے والی گیسوں کے اخراج میں ہر گزرتے مہ وسال کے ساتھ فیاضی سے کام لے رہی ہے۔ یہی وہ بنیادی اسباب ہیں کہ آج گلوبل وارمنگ کو صنعتی انقلاب کے زمانے سے قبل کی سطح کے قریب لانا اب محال اور ناممکن ہوگیا ہے۔

انٹرنیشنل پینل فارکلامیٹ چینج نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پہاڑوں پر گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کاجائزہ لیا ہے۔اس پینل نے پچھلے بیس برسوں کے دوران پہلی مرتبہ یہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہاگیاہے کہ ہمارے پہاڑ ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ گلوبل وارمنگ سے متاثر ہورہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہردس سال کے دوران امریکی ، یورپی اور ایشیائی پہاڑوں کے درجہ حرارت میں 0.54 ڈگری فارن ہائیٹ کا اضافہ ہورہا ہے جونہ صرف پہاڑوں میں گلیشیئرز ،جنگلی حیات ، پودوں کیلئے خطرہ بن رہاہے بلکہ سمندری طوفانوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پہاڑوں میں آباد انسانوں کیلئے بھی خطرات پیداکر رہی ہے۔

گلوبل وارمنگ کے خطرات سے نمٹنے کیلئے چار سال پہلے افریقی ملک روانڈا میں ایک سوپچاس ملکوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں ان ملکوں نے خاص قسم کی گرین ہاوس گیسوں (ہائیڈروفلوروکاربن )کا اخراج کم کرنے پر اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ ہائیڈرو فلورو کاربن وہ گیسیں ہیں جو ریفریجریٹر ز، اے سیز، ایئر کولرز وغیرہ کے بے تحاشا استعمال کے نتیجے میں خارج ہو کر موسموں میں تغیر اور عالمی حدت میں اضافہ کررہا ہے۔

فرانس کے شہر پیرس میں بھی چار سال پہلے گلوبل وارمنگ کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا کے مختلف ملکوں کے مندوبین نے گلوبل وارمنگ کو کم سطح پر لانے کا معاہدہ کیا۔ اس پُرخطر عالمی مسئلے سے نمٹنے کی سب سے بڑی ذمہ داری ان ترقی یافتہ ملکوں کی بنتی ہے جو اپنی ترقی میں روز افزوں اضافہ کر رہے ہیں ۔جبکہ دوسرے نمبر پر ترقی پذیر دنیا کو اس مسئلے کو سنجیدہ لینا چاہیے کہ تا بہ مقدور گرین ہاوس گیسز کے اخراج کا سبب بننے والی چیزوں کے استعمال میں کمی لائے۔

نیز ہر صاحب عقل انسان کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کیلئے حسب توفیق اپنا اپنا حصہ ڈالیں ، زیادہ سے زیادہ درخت لگا لیں اور توانائی کا کم سے کم استعمال کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *