بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دی جائے، بھارتی سپریم کورٹ

انڈیا کی سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کی ایک آئینی بنچ نے مندر مسجد کے اس تنازعے کا متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم فریق کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے ایک متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے۔ عدالت نے مرکز اور اتر پردیش کی ریاستی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس متبادل زمین کا انتظام کریں۔

دہلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ جسٹس گوگئی نے مندر مسجد کے اس تنازعے کا فیصلہ سناتے ہوئے کئی اہم باتیں کہیں جو انڈیا کی جمہوریت اور سیکولرزم کے مستقبل کے لیے کارآمد ثات ہوں گی۔

جسٹس گوگوئی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ‘زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ملیکت کا فیصلہ صرف قانونی بنیادوں پرکیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ایودھیا کی بابری مسجد 1528 میں کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی۔ آثار قدیمہ کے مطابق مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے اور محکمے نے اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ لیکن آثار قدیمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری سمجد کسی مندر کو توڑ کر اس کے اوپر تعیمر کی گئی تھی۔

جسٹس گوگوئی نے مزید کہا کہ سنہ 1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا اور سنہ 1992 میں اسے منہدم کیا جانا قانون کی خلاف ورزی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 1949 میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کیا جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازع زمین ایک ٹرسٹ کے حوالے کی جائے۔ یہ ٹرسٹ مرکزی حکومت تین مہینے کے اندر تشکیل دے۔

مندر مسجد کے اس پرانے تنازعے کا فیصلہ سنانے والے بینچ کی صدارت چیف جسٹس رنجن گوگئی کر رہے ہیں۔ باقی چار ججوں میں جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔

فیصلے کے اہم نکات:۔

جہاں بابری مسجد کے گنبد تھے وہ جگہ ہندوؤں کو دی گئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ سنّی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین نمایاں جگہ پر دی جائے۔

متنازع زمین پر ہندوؤں کا دعویٰ جائز ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے تین مہینوں میں ایودھیا کے بارے میں ایکشن پلان تیار کرنے کو کہا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ ایک مدعی نرموہی اکھاڑے کو ٹرسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مرکزی حکومت کرے گی۔

نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو مسترد کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عقیدے کی بنیاد پر مالکانہ حق نہیں دیے جا سکتے۔

بابری مسجد کے نیچے ایک ایسا ڈھانچہ ملا ہے جو اپنی ہیت میں اسلامی نہیں ہے۔

ایودھیا سے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ آثار قدیمہ کے شواہد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلہ سناتے ہوئے سب سے پہلے چیف جسٹس نے متنازع زمین پر شیعہ وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ خیال رہے کہ مسلمانوں کی جانب سے سنّی وقف بورڈ کے ساتھ شیعہ وقف بورڈ نے بھی اپنا دعوی پیش کیا تھا۔

.فیصلے پر کس نے کیا کہا؟

ہندو رہنماؤں نے عدالت عظمی کے فیصلے کی ستائش کی ہے جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نے مختلف ٹویٹس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ اس فیصلے کو کسی کی فتح یا شکست کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

رام بھکتی ہو یا رحیم بھکتی، یہ وقت ہم سبھی کی بھارت بھکتی کی روح کو مضبوط کرنے کا ہے۔ میری اہل وطن سے اپیل ہے کہ وہ امن، ہم آہنگی اور اتحاد کو برقرار رکھیں۔

انھوں نے مزید لکھا: ‘سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ متعدد وجوہات کے سبب اہم ہے۔اس سے پتا چلتا ہے تنازعات کو حل کرنے میں قانونی عمل کتنا ضروری ہے۔ہر کسی کو اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے کافی وقت اور موقع دیا گیا۔ انصاف کے مندر نے دہائیوں پرانے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر دیا ہے۔

بابری مسجد رام مندر کے فیصلے پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ اس فیصلے کا استقبال کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس بھگوان شری رام کے مندر کی تعمیر کے حق میں ہے۔دوسری جانب انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ شری رام جنم بھومی پر متفقہ طور پر آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں تمام برادری اور مذہب کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم اس فیصلہ کو آسانی سے قبول کرتے ہوئے پرامن اور خوشگوار انداز ایک بھارت شریسٹھ (عظیم) بھارتکے اپنے عہد کے پابند رہیں۔

جبکہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمی کا ایودھیا پر فیصلہ تاریخی ہے۔ اس فیصلے سے انڈیا کے سماجی تانے بانے مزید مضبوط ہوں گے۔میں تمام لوگوں سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اس فیصلے کو دلجمعی اور کھلے دل کے ساتھ لیں گے۔ اس تاریخی فیصلے کے بعد میں لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل بھی کرتا ہوں۔

مسلمانوں کے حق کی وکالت کرنے والے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ ہم مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ یہ ہماری شریعت میں نہیں ہے۔ لیکن عدالت کا فصلہ مانیں گے۔ہم فیصلے پر مشورہ کریں گے اور بعد میں طے کریں کہ اس کے جائزے کے لیے اپیل دائر کریں یا نہیں۔ اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں اس کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقائق کے بجائے عقیدے کی جیت بتایا ہے۔انھوں نے کہا: ‘آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرح میرا بھی یہ ماننا ہے کہ ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس سے غلطی نہ ہو۔ یہ بات جسٹس جے ایس ورما نے کہی تھی۔

مسٹر اویسی نے مزید کہا کہ جنھوں نے چھ دسمبر کو بابری مسجد گرائی تھی آج انھی کو سپریم کورٹ کہہ رہا ہے کہ ٹرسٹ بنا کر مندر کا کام شروع کیجیے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر مسجد نہیں گرائی گئی ہوتی تو کورٹ کیا فیصلہ دیتا؟‘ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے قانونی حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ مسلمان غریب ہے اور اس کے ساتھ تعصبات بھی ہوا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ اتنا گیا گزرا بھی نہیں کہ اپنے اللہ کے لیے پانچ ایکڑ زمین نہ خرید سکے۔ ہمیں کسی کے خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں۔

میری ذاتی رائے ہے کہ مسلمانوں کو اس تجویز کو مسترد کر دینا چاہیے۔ ملک اب ہندو ملک کے راستے پر جا رہا ہے۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی ایودھیا میں اسے استعمال کرے گی۔وہاں مسجد تھی اور رہے گی۔ ہم اپنی نسلوں کو یہ بتاتے جائیں گے کہ یہاں 500 سال تک مسجد تھی لیکن 1992 میں سنگھ پریوار نے اور کانگریس کی سازش نے اس مسجد کو شہید کر دیا۔

مرکزی وزیر اور بے جے پی کے سینیئر رہنما نتن گڈکری نے فیصلے پر کہا کہ سبھی کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا چاہیے اور امن و امان بحال رکھنا چاہیے۔ اس سے قبل اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو اسے قبول کریں اور ہر قیمت پر ریاست میں امن بر قرار رکھیں۔ انھوں نے اپنی اپیل میں کہا کہ ’امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری اجتماعی طور پر سبھی کی ہے‘۔

خیال رہے کہ ریاست میں احتیاطی طور پر سنیچر سے پیر تک سبھی سکول اور کالجز اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔ یو پی پولیس نے کئی شہروں میں فلیگ مارچ کیا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ اوم پرکاش سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کے ماہرین سوشل میڈیا پر خاص طور پر نظر رکھ رہے ہیں۔

حکومت نے گذشتہ دنوں مسلم اور ہندو مذہبی رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں ان سے درخواست کی گئی کہ وہ ملک میں امن وامان برقرا ر رکھنے کی اپیل کریں۔ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی حال میں مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

ہندو تنظیموں نے بھی اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ کوئی جشن نہ منائیں اور نہ ایسا کوئی بیان دیں جس سے کسی دوسرے فرقے کو تکلیف پہنچے اور اگر فیصلہ مندر کے حق میں نہیں آتا تو وہ حکومت پر بھروسہ رکھیں۔

رام مندر اور بابری مسجد کی تاریخ کیا ہے؟

ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازع کو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔

ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔ اور یہاں پر بابری مسجد کی تعمیر ایک مسلمان نے سولہویں صدی میں ایک مندر کو گرا کر کی تھی۔

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر 1949 تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں، جس کے بعد کچھ لوگوں نے رات کی تاریکی میں رام کے بت مسجد میں رکھ دیے تھے۔ مسلمانوں کے مطابق اس مقام پر بتوں کی پوجا اس واقعے کے بعد ہی شروع ہوئی ہے۔

اس کے بعد کے چار عشروں میں کئی مسلمان اور ہندو تنظیمیں اس زمین پر اختیار اور عبادت کے حق کے لیے عدالتوں کا رخ کرتی رہی ہیں۔

لیکن اس تنازع میں شدت 1992 میں اس وقت آئی تھی جب ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کو تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مذہبی ہنگاموں میں کم و بیش دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل دو ہندو ججوں نے کہا تھا کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے اس مقام پر جو عمارت تعمیر کی تھی وہ مسجد نہیں تھی، کیوںکہ ایک مندر کے مقام پر مسجد کی تعمیر اسلام کے اصولوں کے خلافہے۔

تاہم بینچ میں شامل مسلمان جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے اس مقام پر کسی مندر کو نہیں گرایا گیا تھا، بلکہ مسجد کی تعمیر ایک کھنڈر پر ہوئی تھی۔

بابری مسجد کیسے تباہ کی گئی؟

چھ دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور ان کی حامی تنظیموں کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تقریاً ڈیڑھ لاکھ رضاکاروں کے ہمراہ اس مقام پر چڑھائی کر دی۔ یہ جلوس وقت کے ساتھ ساتھ پرتشدد ہوتا گیا اور وہ کئی گھنٹے تک ہتھوڑوں اور کدالوں کی مدد سےمسجد کی عمارت کو تباہ کرتے رہے۔

اس واقعے کے بعد اس وقت کے انڈیا کے صدر شنکر دیال شرما نے ریاست اتر پردیش کی اسمبلی کو برخواست کرتے ہوئے ریاست کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اور پھر 1993 میں ایک صدارتی حکم کے تحت بابری مسجد کے ارد گرد زمین کا 67.7 ایکڑ رقبہ وفاقی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لیا۔

اس کے بعد بابری مسجد کے واقعے کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا جس میں بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں سمیت 68 افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *