ترقی کے لیے سوچ کی آزادی ضروری ہے۔

بیرسٹرحمید باشانی

جہاں سوچ و فکر پر پہرے ہوں، وہاں قومیں ترقی کی طرف نہیں تنزل کا سفر کرتی ہیں۔ کئی قومیں اور ملک اس تجربے سے گزرے ہیں ۔ بنگلہ دیش کوروایتی اعتبارسےاس خطےکاغریب ترین ملک سمجھا جاتا رہا ہے۔  بنگلہ دیش کا نام آتے ہی انسان کےذہن میں جو تصویر ابھرتی تھی، اس میں سیلاب میں بہتے ہوئے لوگ، ڈوبتے ہوئے گھر، قحط سالی اور بھوک کے مارے ہوئے بچے، غربت زدہ اور بیماریوں کی شکارعورتیں نظر آتیں تھیں۔  یہ محض ماضی بعید کی ہی کہانی نہیں ہے۔  ماضی قریب میں بھی صورت حال یہی تھی۔

 پھر سال 2000 کے شروع میں صورت حال کچھ بدلنے لگی، اور کچھ اچھی اورخوشگوار تصاویربھی منظرعام پرآنا شروع ہوئیں۔  2006 میں جب یہ خبرآئی کہ بنگلہ دیش میں ترقی کی شرح پاکستان سے زیادہ ہوگئی ہے۔  تو پاکستان میں یہ خبرکچھ حیرت اورکچھ افسوس سے سنی گئی۔  اس کے بعد بنگلہ دیش سےاچھی بری خبریں آتی رہی، مگر معاشی ترقی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔  یہاں تک کہ ایک دن یہ خبر آئی کہ ہندوستان میں ترقی کی رفتار میں کمی کی وجہ سے بنگلہ دیش ایک دن اس خطے میں تیز رفتار ترین ترقی کرنے والا ملک بن جائے گا۔

دانشوروں اورماہرین معاشیات نےاس موضوع پر بڑی مغزماری کی،  اوربنگلہ دیش کی اس کایا پلٹ کا راز جاننے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے اس بڑی تبدیلی کے پیچھے کوئی ایک عنصر نہیں ہے،  بلکہ کئی عناصر کار فرما ہیں۔ مگر کچھ فیصلہ کن عناصر ایسے ہیں جن کے بغیربنگلہ دیش سمیت کوئی بھی ملک ترقی کے راستے پر تیز رفتاری سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ایک بڑاعنصر سماجی سوچ میں تبدیلی ہے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سماجی تبدیلی کا عمل شروع ہوا۔  روایتی اطوار سے ایک پسماندہ سماج ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش میں رجعتی قوتوں ، مذہبی شدت پسندوں اورقدامت پسند سوچ کا غلبہ رہا ہے۔  جس کی وجہ سے عورتوں کی آزادی، ان کی تعلیم اورسماجی کاروبارمیں ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

 اس سوچ میں تبدیلی اور اس سوچ کی وجہ سے آنے والی سماجی تبدیلی کی وجہ سےعورت کا گھر اورسماج میں کرداراورشراکت داری تسلیم کی جانے لگی۔   اس تبدیلی کی وجہ سے بڑے پیمانے پرعورتیں باہرنکلیں۔  اورانہوں نےمعاشی ترقی میں اپناکردار ادا کرنا شروع کر دیا۔  معاشی سرگرمی میں عورت کی شرکت کی ایک بڑی مثال بنگلہ دیش کی کپڑے کی صنعت ہے۔   لاکھوں عورتیں اس صنعت سے وابستہ ہوئیں۔  یہ وابستگی گارمنٹ انڈسٹری میں کھیت مزدوری سے لیکر، کپڑے کی ملوں اور کارخانوں سے ہوتی ہوئی سلائی کڑھائی، فیشن ڈیزائنگ ، کپڑے کی دوکانوں ، اور کپڑے کی ایکسپورٹ تک پھیل گئی۔  بنگلہ دیشی کپڑے کو پوری دنیا کی منڈیوں میں ایک سستی اور معیاری پراڈکٹ کے طور پھیلانے میں بنگالی عورت نے بنیادی کردارادا کرنا شروع کیا۔

عورت کے گھر سے باہرنکلنے، سماجی ومعاشی سرگرمی میں حصہ لینے سے اپنی بچیوں کے بارے میں بنگالی عورت کے رویے میں بنیادی تبدیلی آئی۔  اس کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو لازمی ترجیح کے طور پر اپنایا گیا۔  یہ تعلیم کی برکت تھی ، جس کی وجہ سے سماجی سوچ میں تبدیلی کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے  گھر میں اور سماج میں عورت کی آواز کو زیادہ جگہ ملنی شروع ہوئی۔

کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کی تیز رفتار ترقی کی ایک وجہ سستے مزدور اور مزدروں کا استحصال ہے۔ خصوصا گارمنٹ انڈسٹری پر یہ بات صادق آتی ہے۔  کیوں کہ گارمنٹ انڈسٹری میں محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، اوقات کار اور معاوضوں کو لیکر ملک میں مناسب قانون سازی نہیں ہے۔  چنانچہ زمینوں، ملوں  اورکارخانوں کے مالکان نے اس صورتحال سے بہت ناجائزفائدہ اٹھایا، اورمزدور کے مناسب اوقات کار، اور کام کی جگہ پر مناسب سہولیات، اور مناسب معاوضہ پراخراجات کیے بغیر زیادہ سے زیادہ منافع کمایا ہے۔   اس کی وجہ سے صنعت کاروں اور کاروباری لوگوں نے پیسہ بنایا اور ملک میں ترقی کے انڈیکیٹرز بھی بہتر ہوئے۔

 مگر اس سے عام آدمی ، اورغریب محنت کش کی زندگی میں فی الحال کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔  ماضی میں بنگلہ دیش میں کئی صنعتی حادثے ہوتے رہے۔  فیکٹریوں اور کارخانوں میں آگ لگنے کے کئی واقعات ہوئے۔   یہ صورت حال کام کرنے والے لوگوں کی سیفٹی کے لیےمناسب بندو بست نہ ہونے کی وجہ سے  کام کرنے  والوں کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔  اس صورت حال کا کچھ انسان دوست مغربی ممالک نے اور کچھ ایسی  مغربی تجارتی کمپنیوں نے نوٹس لیا، جو بنگلہ دیش کے ساتھ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔  ان کے دباو کی وجہ سے اس صورت حال میں قدرے بہتری ہوئی ہے۔  مگرابھی تک بنگلہ دیش میں روزگار سے متعلق قوانین کو بین الاقوامی معیار اور کنوینشنز کے مطابق لانے کی ضرورت ہے۔

ترقی کے راستے پر گامزن ہونے کے باوجود، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح بنگلہ دیش کو کئی ایسے سیاسی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے، جو اس کے پاوں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک سماجی مسئلہ کرپشن ہے۔  کرپشن کی تمام اشکال پاکستان،  بھارت اور بنگلہ دیش میں مشترک ہیں۔  ہمارے اس مشترکہ ورثے میں رشوت، سفارش، اقربا پروری جیسے گہرے روگ ہیں۔  ان مسائل کی وجہ سے سماج میں معاشی انصاف نہیں ہے۔

معیشت کی تیزرفتار ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی عدم مساوات میں بھی اسی تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے امیر امیر تر ہو رہے ہیں، مگر غریب کو اس کا وہ شئیر نہیں مل رہا جس کا وہ حق دار ہے۔ یہ صورت حال منفی اثرات مرتب کرتی ہے، اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اس صورتحال کی وجہ سے ترقی رک جاتی ہے۔  اور اس صورت حال کا شکار ملک یا قوم  زوال کی طرف چل پڑتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی طرح بنگلہ دیش کومذہبی انتہا پسندی کا بھی سامنا ہے۔  انتہا پسندوں اور قدامت پرستوں کے دباو کے زیر اثر بنگلہ دیش کئی قسم کی سماجی اصلاحات سے کترا رہا ہے۔  سوچ و فکر کی آزادی اور جدید دور کے فکری اورسماجی رحجانات سے گھبرا رہا ہے۔  یہ عمل ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔  مذہبی بنیاد پرستی تاریخی اعتبار سے نا صرف ترقی کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے، بلکہ اس نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قوموں اورملکوں کو تباہ کیا۔

 اس کی شہکار مثالیں دمشق اور بغداد ہیں۔  جب سوچ و فکر کی آزادی تھی تو یہ شہرعلم وتحقیق، سائنس و فلسفے کے مراکز تھے۔  مگر جب سوچ کا گلا گھونٹا جانے لگا تو یہ شہر کھنڈرات بن گئے۔  پاکستانی وزیر اعظم عمران خان ہر محفل میں پچاس اور ساٹھ کی دھائی کے پاکستان کی ترقی کی کہانی سناتے رہتے ہیں۔  وہ بڑے افسوس سے کہتے ہیں کہ وہ سلسلہ برقرار نہ رہ سکا۔  مگر وہ اس کی وجہ نہیں بتاتے کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔  حالاں کہ  اصل ضرورت یہی وجہ جاننے کی ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ وہ کیا عنصر تھا، جس نے پاکستان  کو ترقی کے راستے سے ہٹا کر تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔  وہ عنصرملک پرآمریت پسند قوتوں کی حکمرانی تھی۔  جس کی وجہ سے سوچ و فکر پر پہرے بٹھائے گئے۔ تعلیمی ادرواں میں علم و تحقیق اور بحث و مباحثوں کا رواج ختم ہو گیا۔  جس کی وجہ سے سوچ و فکر کے سوتے خشک ہوگئے۔

بنگلہ دیش کی کہانی سے ہم کئی سبق سیکھ سکتےہیں۔  مگرملتےجلتےحالات کی وجہ سے دوسبق سیکھنےتوبہت ہی ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ عورتوں کو گھر سے نکالے بغیراوراس کو گھر اور گھر سے باہر سماج میں مکمل شراکت داری دیے بغیر کوئی ملک ترقی کے راستے پر نہیں چل سکتا۔  اور دوسرا سبق یہ ہے کہ سماج میں مذہبی انتہا پسندی جب ایک روگ بن جائے تو یہ ترقی کے راستے کی دیوار بن جاتی ہے۔  مذہبی انتہا پسندی سے ڈر کر اس کو کھلی چھٹی دے دینا اپنے پاوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔  ملک کو امن و ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے انتہا پسندی کو روکنا اورسماج  میں عتدال پسند سوچ کو فروغ دینا بنیادی شرط ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *